تازہ ترین
مبینہ توہین آمیز پوسٹ،بنگلورو میں پر تشدد احتجاج،پولیس فائرنگ سے3ہلاک
متعدد زخمی،100سے زائد گرفتار
خبراردو:-
سرینگر:کرناٹک کے شہر بنگلورو میں گزشتہ شب پیغمبراسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ایک متنازعہ ومبینہ توہین آمیزپوسٹ کے خلاف لوگوں نے صدائے احتجاج بلند کی،جس دوران یہاں پُرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔
پولیس کی جانب سے مشتعل بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے فائرنگ کی گئی جسکے نتیجے میں 3افراد ہلاکت اور متعدد زخمی ہوئے۔اس دوران پوسٹ کرنے والے سمیت100سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق کر ناٹک کے شہر بنگلور میں ایک مبینہ توہین آمیز پوسٹ کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس کی فائرنگ سے کم از کم3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور تقریباً110 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک مقامی سیاستدان کے گھر کے سامنے ہجوم اکٹھا ہوگیا۔ سیاستدان کے ایک رشتہ دار پر پیغمبرِ اسلام کے خلاف ’جارحانہ‘ پوسٹ لکھنے کا الزام تھا۔
پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ مشتعل بھیڑ نے پولیس پر خلاف پتھر برسایے اور ان کی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔بنگلور کے پولیس کمشنر کمل پنت کے مطابق ڈی جی ہللی اور کے جی ہللی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ پورے شہر میں دفعہ144 نافذ ہے۔مشتعل ہجوم نے دو پولیس سٹیشن اور ایک قانون ساز کے گھر پر حملہ بھی کیا جس کے بعد پولیس کو گولی چلانی پڑی۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے بنگلور کے جوائنٹ پولیس کمشنر (کرائم) سندیپ پاٹل کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس معاملے میں اب تک110 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔پولیس کمشنر کمل پنت نے بتایاکہ گذشتہ رات پولیس فائرنگ میں زخمی ہونے والے تیسرے شخص کی موت ہو گئی ہے۔
ساڑھے بارہ بجے شب سے یہاں کی صورتحال تقریباً قابو میں ہے۔اطلاعات کے مطابق ایک ایم ایل اے کے رشتہ دار نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر ایک قابل اعتراض پوسٹ شائع کی تھی جس کے خلاف منگل کی شام لوگوں کی بڑی تعداد پولیس اسٹیشن پہنچی اور پوسٹ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔پولیس کے مطابق مشتعل ہجوم کا مطالبہ تھا کہ ایف آئی آر درج کی جائے اور ایم ایل اے کے رشتہ دار کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے کیونکہ اس نے ان کے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں۔دیکھتے ہی دیکھتے ہجوم بے قابو ہوگیا اور پولیس اسٹیشن کے باہر کھڑی کچھ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا جبکہ ایم ایل اے کے گھر باہر جمع ہونے والے ہجوم نے بھی وہاں کھڑی کچھ گاڑیوں کو آگ لگا دی۔
پولیس کمشنر کے مطابق سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والے شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔پولیس کمشنر نے کہا’پولیس اہلکاروں پر (ہجوم نے) بڑے پتھروں سے حملہ کیا۔ پھر اچانک بجلی چلی گئی اور ہمیں ہجوم سے نمٹنے میں کچھ وقت لگا۔ چونکہ تھانے پر چاروں طرف سے حملہ کیا جارہا تھا اس لیے پولیس کو گولی چلانے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا۔‘کرناٹک کے وزیر داخلہ بسوراج بومئی نے بھی پولیس فائرنگ میں دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔مذکورہ ایم ایل اے کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں مسلمانوں سے پر امن رہنے کی اپیل کی گئی ہے اور انھیں یقین دلایا ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں اور اس معاملے میں کارروائی کی جائے گی۔
ایم ایل اے نے ویڈیو میں کہا’جو بھی معاملہ ہو ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جو بھی اس کے ذمہ دار ہیں انھیں صحیح سزا ملے۔ میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں۔ میری گذارش ہے کہ آپ امن قائم رکھیں‘۔کرناٹک کے وزیر داخلہ نے بھی ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں کہا گیا کہ آتشزدگی اور تشدد قانون کے خلاف ہیں۔ جو بھی معاملہ ہے اسے قانون کے دائرے میں ہی حل کرنا ہوگا۔ میں نے پولیس کو امن کی بحالی کا حکم دیا ہے۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کتنے ہی بڑے شخص ہوں، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ سخت کارروائی کی جائے۔ جو بھی اس کا ذمہ دار ہے اسے سخت سزا دی جائے گی۔ میں آپ کویقین دلاتا ہوں کہ کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔
کرناٹک کے امیر شریعت مولانا صغیر احمد نے بھی مسلمانوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے کیونکہ پولیس نے وعدہ کیا ہے کہ جس نے بھی یہ قابل اعتراض حرکت کی ہے اسے سزا دی جائے گی۔انہوں نے لوگوں سے کہا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں، حکومت کارروائی کرے گی۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
