تازہ ترین
محبوبہ مفتی کی نظر بندی میں 3ماہ کی توسیع،پروفیسرسوز پولیس پر برہم
مین اسٹریم لیڈران کی نظر بندی،کوئی رہا تو کسی کی نظر بندی جاری
سجاد لون کی خانہ نظر بندی ختم
خبراردو:-
سرینگر:انتظامیہ نے مین اسٹریم لیڈران کی نظر بندی ختم کرنے کا عمل شروع کردیا ہے اور اس سلسلے میں جمعہ کو پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون کی خانہ نظر بندی تقریباً ایک سال ختم کر دی گئی۔تاہم حیرت انگیز طور پر پی ڈی پی،صدر محبوبہ مفتی کی خانہ نظر بندی میں مزید3ماہ کی توسیع کی گئی۔
ادھر پروفیسر سیف الدین سوز پولیس ایکشن پر برہم ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق کم و بیش ایک سال کی حراست کے بعد پیپلز کانفرنس کے چیئر مین سجاد لون کو جمعہ کے روز خانہ نظر بندی سے رہا کیا گیا۔اپنی رہائی کے فوراً بعد سجاد لون نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا’آخر کار 5 دن سے کم ایک سال بعد مجھے مطلع کیا گیا کہ میں آزاد ہوں،بہت کچھ تبدیل ہوا ہے، میں بھی۔
جیل میرے لئے کوئی نیا تجربہ نہیں تھا۔اس سے قبل کے تجربے سخت تھے جن کے دوران جسمانی اذیت بھی پہنچائی گئی۔لیکن یہ والا نفسیاتی طور تھکادینے والاتھا۔اور بھی بہت کچھ بتانے کیلئے ہے،عنقریب بتاؤں گا‘۔سجاد غنی لون کو ایم ایل اے ہوسٹل سرینگر سے رواں سال کے ماہ فروری میں منتقل کیا گیا تھا،جہاں وہ کئی اور سیاست دانوں کے ہمراہ مقید تھے۔بعد ازاں اْنہیں وہاں سے منتقل کرکے خانہ نظر بند کیا گیا تھا۔
سجاد لون اْن بہت سارے سیاست دانوں، وکلاء،تاجروں اور کارکنوں میں شامل تھے جنہیں گذشتہ بر س دفعہ370منسوخ کئے جانے کے موقع پر گرفتار کیا گیا تھا،اب بھی بہت سارے نظر بندی ہیں۔اس دوران ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک آرڈر جاری ہوا،جسکے تحت محبوبہ مفتی کی نظر بندی میں مزید 3ماہ توسیع کی گئی۔موصوفہ گزشتہ برس4اگست2019کی شب سے مسلسل نظر بند ہے۔
کئی لیڈران کی رہائی عمل میں لائی گئی ہے،لیکن اب بھی بیشتر لیڈران نظر بند ہیں۔ ادھر سابق مرکزی وزیر،پروفیسر سیف الدین سوز نے ایک تحریری بیان میں کہا ’آج میں گلبرگ کالونی حیدر پورہ سرینگر میں اپنی بیمار بہن سے ملنے کے لئے گیا۔ چونکہ پولیس مجھے اپنی گاڑی کے بغیر سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے، اس لئے دو پی ایس او میرے ساتھ لگائے گئے تھے‘۔
ان کا کہناتھا ’جب میں گھر واپس آیا تو پولیس نے ایک ویوڈیو تیار کرکے سوشل میڈیا پر جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ میں آزاد شہری ہوں۔ پولیس کی طرف سے ایسی حرکت غلط بیانی کے سوا کچھ نہیں ہے!‘۔انہوں نے کہا ’دریں اثنا، میں نے آج دوپہر 12بجکر35پر باہر جاکر اپنی بیٹی کے پاس جانے کی کوشش کی،جو پڑوس میں ہی رہتی ہے، مگر مجھے پولیس نے باہر جانے سے روکا!‘۔
پروفیسر سوز ’اس سلسلے میں پولیس نے ایک بچگانہ حرکت کی اور ایک ویڈیو بنایا اور یہ بتانے کیلئے مشتہر کیا کہ میں ایک آزاد شہری ہوں۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔ اگر یہ صحیح ہے کہ میں ایک آزاد شہری ہوں، تو پھر مجھے باہر جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟‘۔انہوں نے کہا ’حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے گھر میں نظر بند ہوں اور میں پولیس کی اجازت کے بغیر باہر نہیں جا سکتا!‘۔
انہوں نے کہا ’اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے جو بیان دیا گیا ہے وہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ مجھے معلوم نہیں ہے کہ حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے؟ جموں و کشمیر انتظامیہ کا سب سے غلط طریقہ کار یہ ہے کہ وہ اپنا بہت سارا کام کاج زبانی احکامات کے ذریعے چلا رہی ہے اور اس طرح وہ اپنی بہت ساری غلط کارکردگی کو چھپاتی رہتی ہے!،میری نظربندی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر میں شہری آزادیاں کس طرح سلب کی گئی ہیں!‘۔
دنیا
ایندھن کی قیمتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر امریکہ روس سے ڈیزل درآمد کرے گا: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکہ میں ایندھن کی قیمتں کم کرنے کے دباؤ بڑھنے کی وجہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے کہا ہے کہ پوتن “امریکی اور عالمی مارکیٹ” کے لیے فوری طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں، جس کے بعد نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور اس کے بعد دس لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ جمعہ کے روز اٹھائے گئے اس قدم سے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی ناراض ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اسے پوتن کے لیے ایک تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ “ایک ایسی جنگ میں سرمایہ کاری ہے جسے ختم کیا جانا چاہیے، نہ کہ طویل کھینچا جانا چاہیے۔”
مبصرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے تحت امریکی ٹریژری 7 اپریل تک روسی ڈیزل کی برآمد پر عائد پابندیوں کو ہٹا رہی ہے، لیکن امریکی بینکوں میں موجود دیگر اثاثے ابھی بھی منجمد ہیں۔
اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ روس کی جانب سے مزید تیس لاکھ ٹن ڈیزل “کم وقت میں” دستیاب کرایا جائے گا، جو وہاں کی ریفائنریز کی صورتحال پر منحصر ہوگا جن پر یوکرین نے حملے کیے ہیں۔
بعد میں پوتن نے کہا کہ روس-جس نے رواں سال کے آغاز میں ڈیزل کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی-امریکہ اور عالمی منڈیوں کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے لیے تیار ہے، لیکن ان کے بیان میں مقدار کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
تاہم، تجزیہ کاروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا روس اتنی بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، اور ایسا کرنے سے امریکی صارفین کے لیے قیمتوں میں کس حد تک کمی آئے گی۔
دریں اثنا، برطانوی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کا مؤقف “بالکل واضح” ہے اور وہ یوکرین کی حمایت جاری رکھنے اور پائیدار امن قائم کرنے کے لیے عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔
“ہم برطانیہ کی جانب سے اب تک عائد کردہ سخت ترین پابندیوں کے ذریعے روس پر دباؤ برقرار رکھیں گے، پوتن کی جارحیت کی قیمت بڑھائیں گے اور ایک منصفانہ اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔”
جمعہ کا یہ اعلان امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں کو کم کرنے کی سمت میں ٹرمپ کی تازہ ترین کوشش ہے، کیونکہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے سیاسی نتائج اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر اس کے اثرات سے نمٹنے میں کئی مہینوں سے مصروف ہیں، جس کا آغاز فروری میں ہوا تھا۔ اس تنازع کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں امریکہ میں پیٹرول اور بالخصوص ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے عوام میں ان کی مقبولیت کو دھکا لگا ہے؛ لوگ پمپوں پر بلند قیمتوں اور مہنگائی کے اثرات سے شدید پریشان ہیں۔
اے اے اے کے مطابق، امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت فی الحال 6.28 ڈالر فی گیلن ہے، جو کہ ستمبر کے آخر میں درج کیے گئے 6.53 ڈالر کی ریکارڈ بلند سطح سے کچھ کم ہے۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے فوراََ بعد امریکی وزارتِ خزانہ نے باضابطہ طور پر ایک عارضی لائسنس جاری کر دیا، جس سے روسی ڈیزل کی مارکیٹ میں آمد کی راہ ہموار ہو گئی۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
