تازہ ترین
مرکزی بجٹ2020،مودی حکومت کی دوسری مدت کا دوسرا بجٹ
جموں وکشمیر کیلئے30,757اور لداخ کیلئے5,958کروڑ روپے کا التزام
عام بجٹ پُرعزم ہندوستان، اقتصادی ترقی اور حساس سماج کی روح پر مرکوز:مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن
سرینگر: مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارامن ہفتہ کو نریندر مودی حکومت کی دوسری مدت کا دوسرا بجٹ پیش کیا۔یہ نرملا سیتا رمن کا پہلا بجٹ ہے، جو اندرا گاندھی کے بعد آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایسا کرنے والی دوسری خاتون وزیر خزانہ بن گئیں۔اس دوران جموں و کشمیر کی تقسیم وتنظیم نوکے بعد مرکزی بجٹ 2020میں مودی حکومت نے جموں کشمیر کیلئے30,757اور لداخ کیلئے5,958کروڑ روپے کا التزام کیاجارہا ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رامن نے ہفتہ کو عام بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عام بجٹ پُرعزم ہندوستان، اقتصادی ترقی اور حساس سماج کی روح پر مرکوز ہے۔سیتا رمن نے پارلیمنٹ میں بجٹ تقریر کا آغاز صبح11بجے کیا۔یاد رہے کہ وزیر خزانہ نے جمعہ کو پارلیمنٹ میں 2020-21کے لئے بجٹ سے پہلے کا معاشی سروے پیش کیا، جس نے معیشت کی حالت کا پیش گوئی کیا اور اس کے چیلنجوں کا خاکہ پیش کیا۔ یہ سروے چیف اقتصادی مشیر کرشنامورتی سبرامنیم نے جاری کیا تھا۔مرکزی بجٹ حکومت کا مالی بیان ہے، اس میں ماضی میں ہونے والے اپنے محصولات اور اخراجات کے ساتھ ساتھ آنے والے سال کے تخمینے والے اخراجات اور تخمینوں کی بھی تفصیل ہے۔
2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی زیر اقتدار حکومت مرکز میں برسر اقتدار آنے کے فورا بعد ہی سیتارامن نے اپنا پہلا بجٹ گذشتہ سال جولائی میں پیش کیا تھا۔2016 تک یونین بجٹ فروری کے آخری کاروباری دن پیش کیا گیا تھا۔ سابق وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے یکم فروری کو جب مرکزی بجٹ پیش کیا تھا تو2017 میں اس روایت کو تبدیل کردیا تھا۔جموں و کشمیر کی تقسیم وتنظیم نوکے بعد سے مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر اور خطہ لداخ کی ترقی پر خاص زور دے رہی ہے۔
بجٹ2020-21میں جموں و کشمیر کیلئے30,757کروڑ اور لداخ کیلئے 5,958کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے ہفتے کو لوک سبھا میں اگلے سال کیلئے عام بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کیلئے30757کروڑ روپے اور لداخ کیلئے 5959کروڑ روپے کا التزام کیاجارہا ہے۔اس رقم کو دونوں مرکزکے زیرانتظام علاقوں جموں وکشمیر اور خطہ لداخ کی ترقی پر خرچ کیاجائیگا۔واضح رہے کہ گزشتہ پانچ اگست کو حکومت جموں و کشمیرکی تقسیم وتنظیم نو کا فیصلہ لیا گیا۔
مرکزی وزیر خزانہ نے پانچویں معیشت کے عزم کا اظہار کیا:اس دوران مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ہندوستان کو دنیا کی پانچویں بڑی معیشت قرار دیتے ہوئے کہا’ہماری معیشت کی بنیاد مضبوط ہے اور 2020-21کا بجٹ پرعزم ہندوستان، اقتصادی ترقی اور حساس سماج کی روح پر مرکوز ہے۔انہوں نے آنجہانی ارون جیٹلی کو گڈز اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) کا فنکاراور معمار بتاتے ہوئے کہا کہ جی ایس ٹی سے ملک کی معیشت مربوط ہوئی ہے اور اس سے انسپکٹر راج ختم ہوا ہے۔
مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ سادہ جی ایس ٹی رٹرن عمل آئندہ اپریل سے لاگو کی جائے گی۔ان کا کہناتھا کہ جی ایس ٹی کے تحت صارفین کو ایک لاکھ کروڑ روپے کے فائدے دیئے گئے ہیں۔مرکزی وزیر خزانہ مختلف مصنوعات پر جی ایس ٹی میں کمی کئے جانے سے ہر خاندان کو ماہانہ اخراجات میں چار فیصد کی بچت ہوئی ہے جبکہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے16 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان جڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معیشت کو باضابطہ بنانے کے لئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں اور جی ایس ٹی بھی انہی میں سے ایک ہے۔مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ سال2006-16 کے دوران27 کروڑ 10 لاکھ لوگوں کو غربت کی لکیر سے اوپر اٹھایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے قرض میں قابل ذکر کمی آئی ہے اور یہ مارچ 2014 کے52.5 فیصد سے مارچ 2019 میں گھٹ کر 48.7 فیصد پر آ گیا۔شیئر بازار میں مایسی:اس دوران ایک طرف مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن بجٹ پیش کیا اور دوسری طرف شیئر بازار میں اس مایوس کن بجٹ سے کہرام مچا ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سنسیکس 582.87 پوائنٹ نیچے چلا گیا ہے۔ نفٹی میں بھی گراوٹ کا دور دیکھنے کو مل رہا ہے اور دوپہر دو بجے وہ100 سے زیادہ پوائنٹ نیچے چلا گیا تھا۔
تعلیمی شعبہ کیلئے99300 کروڑ روپے الاٹمنٹ:نرملا سیتارمن نے نئی تعلیمی پالیسی جلد منظر عام پر لانے کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ کہا ہے کہ تعلیمی شعبہ کے لیے99 ہزار300 کروڑ روپے الاٹ کیے جائیں گے۔ مرکزی وزیر مالیات نے تعلیمی شعبہ میں ایف ڈی آئی لانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘:بجٹ تقریر کے دوران نرملا سیتارمن نے ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ منصوبہ کی تعریف کی اور کہا کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان کے ذریعہ دیے گئے اس بیان سے لوک سبھا میں موجود اپوزیشن پارٹی اراکین ناراض ہوئے اور ہنگامہ کرنے لگے۔
مرکزی وزیر مالیات نے اپنی بات لوک سبھا مین رکھتے ہوئے کہا’تعلیمی معاملہ میں ہر سطح پر لڑکیوں کا تناسب بہتر ہوا ہے اور ان کی تعداد اب لڑکوں سے زیادہ ہو چکی ہے۔‘صنعتوں کی ترقی:مرکزی وزیر مالیات نے صنعتوں کی ترقی کے لیے 27 ہزار300 کروڑ روپے بجٹ فراہم کرنے کی تجویز کا تذکرہ اپنی بجٹ تقریر کے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ انڈسٹری کے ڈیولپمنٹ کے لیے سال 2020-21کے دوران وہ27 ہزار300 کروڑ روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔’کسان ریل‘:مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے ’کسان ریل‘ چلانے کا وعدہ کرتے ہوئے بتایا کہ کسان ریل دودھ، مچھلی اور گوشت کی تجارت کے مدنظر چلائی جائے گی جس کی وجہ سے کسانوں کو بہت آسانیاں میسر ہوں گی۔ماہی پروری کے لیے ’ساگر متر‘ منصوبہ چلانے کا بھی نرملا سیتارمن نے وعدہ کیا۔
اپنی تقریر کے دوران مرکزی وزیر مالیات نے کہا کہ ”ہماری حکومت 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔‘جی ایس ٹی سے تجارت کو فائدہ پہنچا:مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کا کہنا ہے کہ یہ جی ایس ٹی کا ہی نتیجہ ہے کہ ٹرانسپورٹیشن اور رسد سیکٹر میں مضبوطی حاصل ہوئی ہے۔ انسپکٹر راج ختم ہو گیا ہے۔
اس نے انتہائی چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے صنعت (ایم ایس ایم ای) کو فائدہ پہنچایا ہے۔ جی ایس ٹی سے صارفین کو ایک لاکھ کروڑ روپے کا سالانہ فائدہ ملا ہے۔مرکزی کابینہ کی مہر:اس سے قبل مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں بجٹ 2020 کو منظوری دی گئی۔بجٹ پیش کر نے کے دوران وزیر اعظم نریندرا مودی سمیت بھاجپا اور این ڈی اے سبھی ممبران پار لیمنٹ،ایوان پار لیمنٹ میں موجود رہے۔صدر ہندسے منظوری:بجٹ پیش کرنے سے متعلق صدرہند کے ذریعہ منظوری ملنے کے بعد مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن پارلیمنٹ پہنچ گئیں،وہ یہاں پہلے کابینہ میٹنگ میں شریک ہوئیں اور اس کے بعد پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کیا۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا10 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا10 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا9 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان7 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا6 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
