تازہ ترین
مرکزی حکومت نے بڈگام کے کانہامہ ماگام گاوں کو” ہینڈ لوم ولیج ”کے طور پر ترقی دینے کو دی منظوری
ہینڈ لوم کے فروغ اور اسے نئے سرے سے آگے لے جانے کی غرض سے مرکزی سرکار نے یہ قدم اٹھایا ہے۔
منیرحسین حرہ
مرکزی سرکار کی وزارت برائے ٹیکسٹائلز نےچند ماہ پہلے وسطی ضلع بڈگام کے کانہامہ ماگام گاوں کو ہینڈ لوم ولیج کے طور پر ترقی دینے کو منظوری دی ہے تاکہ کشمیر میں روایتی کانی شال اور پشمینہ کی بُنائی کو ترقی دی جا سکے۔ گزشتہ چند مہینے پہلے بڈگام میں اس سلسلے میں ضلع تر قیاتی کمشنر بڈگام کی صدارت میں ایک میٹنگ بھی منعقد ہوئی تھی۔جس میں پروجیکٹ کیلئے ایکشن پلان کی تشکیل اور کام کی تقسیم کاجائزہ لیا گیا۔
کانہامہ گاوں ہینڈ لوم اور ہینڈی کرافٹس کے لئے کافی مشہور ہے۔ لاکھو ں قیمت والا کانی شال یہاں تیار ہوتا ہے۔ کشمیری کانی شال کا استعمال پوری دنیا میں کیا جاتا ہے۔ ہینڈ لوم کے فروغ اور اسے نئے سرے سے آگے لے جانے کی غرض سے مرکزی سرکار نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ حکومت اب کانہامہ کا نقشہ ایک ماڈل نمونے کے طور پر بنانے جارہی ہے تاکہ عالمی سطح پر اس ماڈل ولیج کو دکھایا جاسکے ۔کانہامہ گاوں کی اپنی ایک پرانی تاریخ ہے۔ کہا جاتاہے کہ کانی شال کی بنائی کی وجہ سے ہی کانہامہ کو کانہامہ کا نام دیا گیا ہے۔
سجاد احمد نامی ایک مقامی کاریگر نے نیوز 18اردو کو بتایا کہ کانہامہ کا پرانانام گنڈ کارہامہ تھا اور کانی شال کی بنیاد پڑنے کے بعد اس گاوں کا نام کانہامہ پڑا۔کیونکہ کانی شال کی شروعات کانہامہ سے ہی ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ غلام محمد کانہامی اپنے دور کی ایک جلیل القدر شخصیت تھی جنہوں نے کانہامہ میں کانی شال اور پشمینہ شال کی صنعت کے فروغ میں کافی اہم رول ادا کیا۔ مرکزی سرکار کے اس اعلان سے کانہامہ میں مقامی لوگوں میں کافی خوشی پائی جارہی ہے۔ کانہامہ میں بیشتر لوگ کانی شال بنانے کا فن جانتے ہیں اور بہت سارے لوگ آج بھی اس کام سے وابستہ ہیں۔ اس صنعت سے وابستہ لوگوں میں روزگار کی وسعت اور ترقی کی ایک کرن جاگ اٹھی۔
کئی لوگوں نے نیوز18اردو کو بتایا کہ حکومت کے اس اعلان سے نئی نسل کے لئے روزگار کے وسائل کھلیں گے۔ وہیں دوسری جانب لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مرکزی سرکار کی جانب سے جاری کردہ یہ اعلان صرف کاغذات تک ہی محدود نہیں رہنا چاہئے ۔بلکہ اس اعلان پر عمل پیرا ہو کر کانہا مہ میں اس صنعت کی بنیادی سطح پر اس کے ڈھانچے استوار کرنے کا کا م شروع کیا جانا چاہئے۔ حبیب اللہ وانی نامی ایک مقامی کاریگر نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ مرکزی سرکار نے اعلان تو کیا ہے لیکن ابھی تک اس کے لئے کوئی پہل شروع نہیں کی گئی وہ چاہتے ہیں کہ جلد اس پروجیکٹ کا کام شروع کیاجائے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی والدہ کیلئے پشمینہ شال ہی کا تحفہ دیا تھا۔(نیوز 18 اردو)
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
