تازہ ترین
مسئلہ کشمیر کا آؤٹ آف بکس حل تمام فریقین کے ساتھ مل بیٹھ کر تلاش کیا جاسکتا ہے: میر واعظ
حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی (ہندی) کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران نئی دہلی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں جس کسی بھی ہندنواز سیاستی جماعت کی حکومت قائم ہو بہر حال راج نئی دہلی ہی کرتی ہے۔ انہوں نے گورنر ستیہ پال ملک کی طرف سے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کئے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو اس بات سے کوئی بھی غرض نہیں ہے کہ حکومت نیشنل کانفرنس کی ہو یا پی ڈی پی کی کیوں کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اور گورنر نے تو بذات خود اس بات کا اعتراف کیا کہ یہاں صرف نئی دہلی کا سکہ چلتا ہے۔ ریاست میں امن و امان کی بحالی میں رول ادا کرنے پر میر واعظ نے بتایا کہ اگر ہم نے اٹل بہاری واجپائی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ بات کی تو ہمیں مودی سرکار کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کون سی ہچکچاہٹ ہوسکتی ہے۔ میر واعظ نے بتایا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ نئی دہلی میں براجمان مودی سرکار اصل میں حقیقت کو ماننے سے کترارہی ہے۔ وہ مسئلہ کشمیر کو حل طلب مانے سے انکار کررہے ہیں لہٰذا اس صورتحال میں مودی سرکار کے ساتھ بات چیت ناممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کی قیادت والی سرکار بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہمارا اصولی مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کے تین فریق ہے، ہندوستان ، پاکستان اور کشمیر ی عوام جو آر پار بٹے ہوئے ہیں اور جب تک نہ تینوں فریقین مل بیٹھ کر کوئی ایسا حل تلاش کریں گے جو لوگوں کی خواہشات کا آئنہ دار ہو ۔ میر واعظ نے بتایا کہ بی جے پی نے کبھی بھی نیک نیتی سے مذاکرات کی دعوت نہیں دی بلکہ انہوں نے فی الوقت ریاست جموں وکشمیر میں جبروزیادتیوں پرمبنی پالیسی کو جاری رکھا ہوا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ وہ اپنی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے کشمیری عوام کی جدوجہد کو دبانے میں کامیاب ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کے طریق کار نے نوجوانوں کو سیاسی طور پر مایوس کیا ہو اہے اور وہ بیگانگی کی مزید گہرائیوں میں چلے گئے ہیں ۔ میر واعظ نے بتایا کہ وادی میں 1990میں جب کہی کریک ڈاؤن کیا جاتا تھا یا کہی گولیاں چلتی تھی تو لوگ اپنی جانوں کو بچانے کی خاطر علاقوں سے بھاگ جاتے تھے لیکن اب صورتحال مختلف ہے ، آج نوجوان اور عام لوگ انکاؤنٹر والے مقامات کی طرف دوڑکر اپنے بھائیوں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں جوکھم میں ڈالتے ہیں۔ حکومت ہند کشمیریوں پر آج تک یہ الزامات عائد کرتا تھا کہ یہاں جاری عوامی تحریک کی پاکستان درپردہ حمایت کرتا ہے لیکن آج جو صورتحال ہمارے سامنے ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں بلکہ کشمیر یوں کی تحریک آزادی کا کوئی بیرونی معاون نہیں ہے بلکہ یہ سب کشمیریوں کی اپنی شروع کی ہوئی تحریک ہے۔وادی میں جاری قتل و غارت کے سلسلے پر بولتے ہوئے میر واعظ نے بتایا کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں اُس کے مطابق رواں سال کے جنوری مہینے سے اب تک فورسز نے 400کشمیریوں کو جاں بحق کردیا جن میں 160عسکریت پسند شامل ہیں اور جن میں 155مقامی نوجوان شامل ہیں۔ حریت کانفرنس کے غیر متعلق ہونے پر ایک سوال کے جواب میں حریت (ع) چیرمین نے بتایا کہ آج کے دور میں اگر چہ اس طرح کا شوشہ پھیلانے کی بے حد کوشش کی جارہی ہے تاہم اصل حقیقت تب واضح ہوجاتی ہے جب آپ کی نظریں زمینی حقائق پر ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ آج کی تاریخ میں حریت کانفرنس کی قیادت اور کارکنان کو اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ میر واعظ نے بتایا کہ ہمیں نہ ہی اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت ہیں، نہ ہمیں میڈیا کانفرنس بلانے اور نہ ہی کسی مذہبی پروگرام میں شامل ہونے دیا جارہا ہے لہٰذا ایسے میں حریت پر بلاوجہ الزامات عائد کرنا کہ ہم غیر متعلق ہوچکے ہیں ، صحیح نہیں ہوگا۔
انہوں نے بتایا نئی دہلی آپ کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے لہٰذا تالی ایک ہاتھ سے بج نہیں سکتی۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق حریت (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے بتایا کہ حریت کانفرنس 1993میں وجود میں لائی گئی تاکہ مسئلہ کشمیر کا حل سیاسی طور اور پرامن ذرائع سے نکالا جائے لیکن نئی دہلی نے ہمیشہ ظلم و جبر اور فوجی قوت کے ذریعے کشمیریوں کو دبانے کی کوششیں کیں لہٰذا ہم سمجھتے ہیں نئی دہلی ان جابرانہ پالیسیوں سے ہم ناکام ہوگئے۔ نئی دہلی نے آج کشمیری نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کیا ہوا ہے ، انہیں ہتھیار اُٹھانے پرمجبور کیا جارہا ہے جو کہ کشمیری قوم کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ نئی دہلی پر منحصر ہے کہ وہ ریاست جموں وکشمیر میں حالات کو پٹری پر لانے کا موقعہ فراہم کریں۔نئی دہلی کو چاہیے کہ یہاں فوجی قوت کے ذریعے کشمیریوں کو دبانے کا سلسلہ بند کرے۔ آئے روز نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، انہیں بدنام زمانہ قوانین کے تحت جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہے اوراب آئے روز نوجوانوں کو جاں بحق کیا جارہا ہے۔ لہٰذا اس طرح کی غیر یقینی صورتحال میں امن کا قیام کیسے ممکن ہوگا؟ انہوں نے بتایا کہ جب تک نہ حکومت ہند کشمیر میں فوجی بربریت پر باندباندھے گی اور یہاں کے نوجوانوں پر ظلم و جبر کا سلسلہ روک دے گی تب تک امن کی باتیں کرنا زمینی حقائق کو جھٹلانے کے مترادف ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی نے کشمیریوں کو سزا دینے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ فی الوقت نہ ہی قیادت کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت دی جارہی ہے اور ہمارے کارکنان کو بے بنیاد کیسوں میں ملوث دکھا کر بیرون ریاست کی جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ عوام پر بھی مصائب کا پہاڑ توڑ ا جارہا ہے ، آئے روز آبادیوں کا محاصرہ کرکے نوجوانوں پر بلاجواز تشدد روارکھا جارہا ہے۔
ریاست میں جاری پتھر بازی کی درپردہ معاونت پر بات کرتے ہوئے حریت (ع) چیرمین نے بتایا کہ یہ صرف اورصرف نئی دہلی کا پروپگنڈہ ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی نے متعدد بار آج تک سنگ باری کو ختم کرانے کے دعوے کئے ہیں لیکن آج جو پتھر بازی ہورہی ہے وہ کیسے دوبارہ شروع ہوگئی۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے حالات نئی دہلی کے سامنے عیاں ہے ، وہاں نہ حریت کانفرنس نوجوانوں کو سنگ بازی کے لیے روپے فراہم کررہے ہیں اور نہ ہی پاکستان یہاں آکرنوجوانوں کو پتھر بازی کے لیے پیسے فراہم کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کوئی بھی نوجوان اپنی آنکھیں یا جان 100یا 500روپے کے عوض جوکھم میں نہیں ڈال سکتا۔انہوں نے بتایا کہ کشمیری عوام کے اندر ایک جذبہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جائے لیکن نئی دہلی کشمیریوں کے جذبے کی قدر کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔انہوں نے بتایا بدقسمتی سے جب ریاست میں حالات کشیدہ ہوجاتے ہیں تو نئی دہلی کو بات چیت کی یاد آجاتی ہے اور جب یہاں حالات پرامن ہوتے ہیں تو بھارت مسئلہ کو اپنے ذہن سے نکال لیتا ہے۔ کشمیرنیو زسروس کے مطابق میر واعظ نے بتایا کہ بندوق مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے لیکن یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریاست میں بھارت کے لاکھوں بندوقیں راج کررہی ہے لہٰذابھارت کو اس حوالے سے کوئی ٹھوس قدم اُٹھانا چاہیے اور ہمیں اُمید ہے کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ میر واعظ نے بتایا کہ پاکستان نے بار ہا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پیش کش کی لیکن بھارت نے ہمیشہ ضد اور ہٹ دھرمی کی راہ اختیار کرتے ہوئے زمینی حالات سے نظریں چرائی ہیں۔میرواعظ نے بتایا کہ نئی دہلی نے گزشتہ دس برسوں سے حریت کانفرنس کی تمام سرگرمیوں پر قدغن عائد کی ہوئی ہے، ہمیں میڈیا کے ساتھ بات کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ ہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری سیاسی زمین کو تنگ کرنے سے پرہیز کیا جائے اور ہمیں سیاسی اسپیس دے کر عوام کے پاس جانے کا موقعہ دیا جائے۔ ہمیں پرامن طریقے سے عوام کے درمیان اپنی بات رکھنے کا موقعہ دیا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں میر واعظ نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر اور انتخابات الگ الگ معاملے ہیں اور دونوں کو خلط ملط نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے بتایا کہ یہاں پر درجنوں مرتبہ اسمبلی کے لیے انتخابا ت ہوئے ، یہاں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے الیکشن میں حصہ لیا ، لیکن مسئلہ کشمیر وہیں پر ہے جہاں پہلے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ این سی اور پی ڈی پی والے جنہوں نے متعدد بار یہاں انتخابات میں حصہ لیا ، آج نئی دہلی انہیں پاکستانی ایجنٹ قرار دے رہی ہے۔ میرواعظ نے بتایا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقعہ دیا جائے اور یہاں ریفرنڈم کرایا جائے ، اس کے بعد ہی الیکشن کوئی معنی رکھتے ہیں۔ انہوں نے صاف کردیا کہ انتخابات ریفرنڈم کا متبادل نہیں ہوسکتے کیوں کہ آج تک ہندوستان نے یہاں 10مرتبہ الیکشن کروائے لیکن مسئلہ کشمیر ہنوز حل طلب ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے عین مطابق تلاش کیا جائے یا پھر تینوں فریق مل بیٹھ کر اس کا ایک ایسا حل تلاش کریں جو کشمیریوں کے لیے قابل قبول ہو۔انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے دوران اگر لوگوں نے کسی موقعے پر شرکت بھی کی ، ووٹ بھی ڈالے لیکن وہ صرف بنیادی ضروریات کے حصول کی خاطر تھا تاہم درجنوں الیکشن کرانے کے بعد بھی مسئلہ کشمیر کی پوزیشن جوں کی توں ہے۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
