تازہ ترین
مسئلہ کشمیر کا آؤٹ آف بکس حل تمام فریقین کے ساتھ مل بیٹھ کر تلاش کیا جاسکتا ہے: میر واعظ
حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے بی بی سی (ہندی) کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران نئی دہلی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں جس کسی بھی ہندنواز سیاستی جماعت کی حکومت قائم ہو بہر حال راج نئی دہلی ہی کرتی ہے۔ انہوں نے گورنر ستیہ پال ملک کی طرف سے ریاستی اسمبلی کو تحلیل کئے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو اس بات سے کوئی بھی غرض نہیں ہے کہ حکومت نیشنل کانفرنس کی ہو یا پی ڈی پی کی کیوں کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اور گورنر نے تو بذات خود اس بات کا اعتراف کیا کہ یہاں صرف نئی دہلی کا سکہ چلتا ہے۔ ریاست میں امن و امان کی بحالی میں رول ادا کرنے پر میر واعظ نے بتایا کہ اگر ہم نے اٹل بہاری واجپائی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ بات کی تو ہمیں مودی سرکار کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کون سی ہچکچاہٹ ہوسکتی ہے۔ میر واعظ نے بتایا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ نئی دہلی میں براجمان مودی سرکار اصل میں حقیقت کو ماننے سے کترارہی ہے۔ وہ مسئلہ کشمیر کو حل طلب مانے سے انکار کررہے ہیں لہٰذا اس صورتحال میں مودی سرکار کے ساتھ بات چیت ناممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کی قیادت والی سرکار بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہمارا اصولی مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کے تین فریق ہے، ہندوستان ، پاکستان اور کشمیر ی عوام جو آر پار بٹے ہوئے ہیں اور جب تک نہ تینوں فریقین مل بیٹھ کر کوئی ایسا حل تلاش کریں گے جو لوگوں کی خواہشات کا آئنہ دار ہو ۔ میر واعظ نے بتایا کہ بی جے پی نے کبھی بھی نیک نیتی سے مذاکرات کی دعوت نہیں دی بلکہ انہوں نے فی الوقت ریاست جموں وکشمیر میں جبروزیادتیوں پرمبنی پالیسی کو جاری رکھا ہوا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ وہ اپنی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے کشمیری عوام کی جدوجہد کو دبانے میں کامیاب ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کے طریق کار نے نوجوانوں کو سیاسی طور پر مایوس کیا ہو اہے اور وہ بیگانگی کی مزید گہرائیوں میں چلے گئے ہیں ۔ میر واعظ نے بتایا کہ وادی میں 1990میں جب کہی کریک ڈاؤن کیا جاتا تھا یا کہی گولیاں چلتی تھی تو لوگ اپنی جانوں کو بچانے کی خاطر علاقوں سے بھاگ جاتے تھے لیکن اب صورتحال مختلف ہے ، آج نوجوان اور عام لوگ انکاؤنٹر والے مقامات کی طرف دوڑکر اپنے بھائیوں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں جوکھم میں ڈالتے ہیں۔ حکومت ہند کشمیریوں پر آج تک یہ الزامات عائد کرتا تھا کہ یہاں جاری عوامی تحریک کی پاکستان درپردہ حمایت کرتا ہے لیکن آج جو صورتحال ہمارے سامنے ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں بلکہ کشمیر یوں کی تحریک آزادی کا کوئی بیرونی معاون نہیں ہے بلکہ یہ سب کشمیریوں کی اپنی شروع کی ہوئی تحریک ہے۔وادی میں جاری قتل و غارت کے سلسلے پر بولتے ہوئے میر واعظ نے بتایا کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں اُس کے مطابق رواں سال کے جنوری مہینے سے اب تک فورسز نے 400کشمیریوں کو جاں بحق کردیا جن میں 160عسکریت پسند شامل ہیں اور جن میں 155مقامی نوجوان شامل ہیں۔ حریت کانفرنس کے غیر متعلق ہونے پر ایک سوال کے جواب میں حریت (ع) چیرمین نے بتایا کہ آج کے دور میں اگر چہ اس طرح کا شوشہ پھیلانے کی بے حد کوشش کی جارہی ہے تاہم اصل حقیقت تب واضح ہوجاتی ہے جب آپ کی نظریں زمینی حقائق پر ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ آج کی تاریخ میں حریت کانفرنس کی قیادت اور کارکنان کو اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ میر واعظ نے بتایا کہ ہمیں نہ ہی اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت ہیں، نہ ہمیں میڈیا کانفرنس بلانے اور نہ ہی کسی مذہبی پروگرام میں شامل ہونے دیا جارہا ہے لہٰذا ایسے میں حریت پر بلاوجہ الزامات عائد کرنا کہ ہم غیر متعلق ہوچکے ہیں ، صحیح نہیں ہوگا۔
انہوں نے بتایا نئی دہلی آپ کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے لہٰذا تالی ایک ہاتھ سے بج نہیں سکتی۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق حریت (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے بتایا کہ حریت کانفرنس 1993میں وجود میں لائی گئی تاکہ مسئلہ کشمیر کا حل سیاسی طور اور پرامن ذرائع سے نکالا جائے لیکن نئی دہلی نے ہمیشہ ظلم و جبر اور فوجی قوت کے ذریعے کشمیریوں کو دبانے کی کوششیں کیں لہٰذا ہم سمجھتے ہیں نئی دہلی ان جابرانہ پالیسیوں سے ہم ناکام ہوگئے۔ نئی دہلی نے آج کشمیری نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کیا ہوا ہے ، انہیں ہتھیار اُٹھانے پرمجبور کیا جارہا ہے جو کہ کشمیری قوم کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ نئی دہلی پر منحصر ہے کہ وہ ریاست جموں وکشمیر میں حالات کو پٹری پر لانے کا موقعہ فراہم کریں۔نئی دہلی کو چاہیے کہ یہاں فوجی قوت کے ذریعے کشمیریوں کو دبانے کا سلسلہ بند کرے۔ آئے روز نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، انہیں بدنام زمانہ قوانین کے تحت جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہے اوراب آئے روز نوجوانوں کو جاں بحق کیا جارہا ہے۔ لہٰذا اس طرح کی غیر یقینی صورتحال میں امن کا قیام کیسے ممکن ہوگا؟ انہوں نے بتایا کہ جب تک نہ حکومت ہند کشمیر میں فوجی بربریت پر باندباندھے گی اور یہاں کے نوجوانوں پر ظلم و جبر کا سلسلہ روک دے گی تب تک امن کی باتیں کرنا زمینی حقائق کو جھٹلانے کے مترادف ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی نے کشمیریوں کو سزا دینے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ فی الوقت نہ ہی قیادت کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت دی جارہی ہے اور ہمارے کارکنان کو بے بنیاد کیسوں میں ملوث دکھا کر بیرون ریاست کی جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ عوام پر بھی مصائب کا پہاڑ توڑ ا جارہا ہے ، آئے روز آبادیوں کا محاصرہ کرکے نوجوانوں پر بلاجواز تشدد روارکھا جارہا ہے۔
ریاست میں جاری پتھر بازی کی درپردہ معاونت پر بات کرتے ہوئے حریت (ع) چیرمین نے بتایا کہ یہ صرف اورصرف نئی دہلی کا پروپگنڈہ ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی نے متعدد بار آج تک سنگ باری کو ختم کرانے کے دعوے کئے ہیں لیکن آج جو پتھر بازی ہورہی ہے وہ کیسے دوبارہ شروع ہوگئی۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے حالات نئی دہلی کے سامنے عیاں ہے ، وہاں نہ حریت کانفرنس نوجوانوں کو سنگ بازی کے لیے روپے فراہم کررہے ہیں اور نہ ہی پاکستان یہاں آکرنوجوانوں کو پتھر بازی کے لیے پیسے فراہم کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کوئی بھی نوجوان اپنی آنکھیں یا جان 100یا 500روپے کے عوض جوکھم میں نہیں ڈال سکتا۔انہوں نے بتایا کہ کشمیری عوام کے اندر ایک جذبہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جائے لیکن نئی دہلی کشمیریوں کے جذبے کی قدر کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔انہوں نے بتایا بدقسمتی سے جب ریاست میں حالات کشیدہ ہوجاتے ہیں تو نئی دہلی کو بات چیت کی یاد آجاتی ہے اور جب یہاں حالات پرامن ہوتے ہیں تو بھارت مسئلہ کو اپنے ذہن سے نکال لیتا ہے۔ کشمیرنیو زسروس کے مطابق میر واعظ نے بتایا کہ بندوق مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے لیکن یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریاست میں بھارت کے لاکھوں بندوقیں راج کررہی ہے لہٰذابھارت کو اس حوالے سے کوئی ٹھوس قدم اُٹھانا چاہیے اور ہمیں اُمید ہے کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ میر واعظ نے بتایا کہ پاکستان نے بار ہا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پیش کش کی لیکن بھارت نے ہمیشہ ضد اور ہٹ دھرمی کی راہ اختیار کرتے ہوئے زمینی حالات سے نظریں چرائی ہیں۔میرواعظ نے بتایا کہ نئی دہلی نے گزشتہ دس برسوں سے حریت کانفرنس کی تمام سرگرمیوں پر قدغن عائد کی ہوئی ہے، ہمیں میڈیا کے ساتھ بات کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ ہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری سیاسی زمین کو تنگ کرنے سے پرہیز کیا جائے اور ہمیں سیاسی اسپیس دے کر عوام کے پاس جانے کا موقعہ دیا جائے۔ ہمیں پرامن طریقے سے عوام کے درمیان اپنی بات رکھنے کا موقعہ دیا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں میر واعظ نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر اور انتخابات الگ الگ معاملے ہیں اور دونوں کو خلط ملط نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے بتایا کہ یہاں پر درجنوں مرتبہ اسمبلی کے لیے انتخابا ت ہوئے ، یہاں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے الیکشن میں حصہ لیا ، لیکن مسئلہ کشمیر وہیں پر ہے جہاں پہلے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ این سی اور پی ڈی پی والے جنہوں نے متعدد بار یہاں انتخابات میں حصہ لیا ، آج نئی دہلی انہیں پاکستانی ایجنٹ قرار دے رہی ہے۔ میرواعظ نے بتایا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقعہ دیا جائے اور یہاں ریفرنڈم کرایا جائے ، اس کے بعد ہی الیکشن کوئی معنی رکھتے ہیں۔ انہوں نے صاف کردیا کہ انتخابات ریفرنڈم کا متبادل نہیں ہوسکتے کیوں کہ آج تک ہندوستان نے یہاں 10مرتبہ الیکشن کروائے لیکن مسئلہ کشمیر ہنوز حل طلب ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے عین مطابق تلاش کیا جائے یا پھر تینوں فریق مل بیٹھ کر اس کا ایک ایسا حل تلاش کریں جو کشمیریوں کے لیے قابل قبول ہو۔انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے دوران اگر لوگوں نے کسی موقعے پر شرکت بھی کی ، ووٹ بھی ڈالے لیکن وہ صرف بنیادی ضروریات کے حصول کی خاطر تھا تاہم درجنوں الیکشن کرانے کے بعد بھی مسئلہ کشمیر کی پوزیشن جوں کی توں ہے۔
دنیا
شمالی کوریا آئندہ امریکہ-جنوبی کوریا فوجی مشقوں پر برہم
پیانگ یانگ، شمالی کوریا نے اگلے ہفتے شروع ہونے والی امریکہ اور جنوبی کوریا کی بڑی فوجی مشقوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک اشتعال انگیز اقدام قرار دیا ہے جس سے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعہ کو سرکاری خبر رساں ایجنسی کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کے مطابق کہا کہ امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی تعاون ایک جوہری اتحاد میں تبدیل ہو رہا ہے، اور شمالی کوریا ’’خطرے کی نئی سطح کا جواب دفاعی صلاحیت کی نئی سطح سے دے گا‘‘۔
پیانگ یانگ معمول کے مطابق جنوبی کوریا میں ہونے والی فوجی مشقوں کو اشتعال انگیزی قرار دے کر ان کی مذمت کرتا ہے۔
’’الچی فریڈم شیلڈ‘‘ (Ulchi Freedom Shield) کے نام سے ہونے والی یہ فوجی مشقیں 17 اگست سے شروع ہو کر 27 اگست تک جاری رہیں گی۔ ان میں ڈرون حملوں، جی پی ایس میں خلل اور سائبر حملوں سے نمٹنے کی مشقیں بھی شامل ہوں گی، کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی شمالی کوریا کی بدلتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کے مطابق اپنی تیاریوں کو ڈھال رہے ہیں۔
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ مشقیں گزشتہ پانچ برس کی مشقوں سے کافی مختلف ہوں گی اور جدید جنگ کے نئے پہلوؤں کی بنیاد پر جنگ لڑنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے منعقد کی جائیں گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’سلامتی یقینی بنانے کا ہمارا مستقل اصول یہ ہے کہ خطرے کی نئی سطح کا جواب دفاعی صلاحیت کی نئی سطح سے دیا جائے۔‘‘
شمالی کوریا نے روس کی یوکرین کے خلاف جنگ میں لڑنے کے لیے اندازاً 12,000 سے 15,000 فوجی بھیجے تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اب وہ مزید 10,000 فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہزاروں شمالی کوریائی فوجی ہلاک ہوئے، تاہم اس معاہدے کے نتیجے میں شمالی کوریا کو جنگ کے میدان میں قیمتی تجربہ حاصل ہوا، جبکہ اسے ہتھیاروں، توانائی اور براہِ راست مالی امداد کی صورت میں بھی فائدہ ملا۔
امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ افواج کے کمانڈ کے ترجمان کرنل ریان ڈونلڈ نے اس ہفتے کہا کہ یورپ میں جاری جنگ میں شمالی کوریا کی فوجی تعیناتی نے جزیرہ نما کوریا میں امریکی اور جنوبی کوریائی فوجیوں کو درپیش خطرے کو تبدیل کردیا ہے۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’انہوں نے وہاں حاصل کیے گئے اسباق کو شمالی کوریا واپس پہنچایا ہے۔ ہماری فوجی تربیت میں اس خطرے کو مدنظر رکھا گیا ہے۔‘‘
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیں ایسے وقت میں کی جارہی ہیں جب یورپ، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر حصوں میں فوجی اور سیاسی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سنگین ہوتی جارہی ہے۔
شمالی کوریا نے جمعہ کو یہ بھی کہا کہ وہ اپنی جوہری دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط کرے گا۔ پیانگ یانگ نے امریکہ پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی حد کم کرنے اور دنیا کو ’’جوہری جنگ کے دہانے‘‘ پر پہنچانے کا الزام عائد کیا۔
بدھ کو شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی جانب ایک بیلسٹک میزائل فائر کیا تھا۔ یہ چھ روز کے اندر شمالی کوریا کی جانب سے کیا جانے والا دوسرا میزائل تجربہ تھا۔
’’الچی فریڈم شیلڈ‘‘ مشقوں میں جنوبی کوریا کے 18,000 فوجی اور ملک میں موجود 28,500 امریکی فوجیوں کے دستوں کے اہلکار حصہ لیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
میر واعظ کا الزام: ایک بار پھر نظر بند کیا گیا، ’معمول کی صورتِ حال‘ کے دعووں پر سوال اٹھائے
سری نگر، کشمیر کے میر واعظ اور حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے جمعہ کو کہا کہ انہیں ایک بار پھر نظر بند کر دیا گیا ہے اور سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے جانے سے روک دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں میر واعظ نے بتایا کہ یہ نئی پابندی مقدس ماہ ربیع الاول کے آغاز کی شب عائد کی گئی ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر میں حکام کی جانب سے ’معمول کی صورتِ حال‘ کے کیے جانے والے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں بار بار سری نگر کی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے سے روکنا انتظامیہ کے ان سرکاری دعووں کی ساکھ کو ختم کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر حکام خود اپنے معمول کی صورتِ حال کے دعووں پر اتنا اعتماد نہیں کرتے کہ مجھے بار بار جامع مسجد جانے سے روکتے ہیں، تو اس دعوے کی کیا ساکھ رہ جاتی ہے؟‘‘
انتظامیہ کی جانب سے میر واعظ پر عائد پابندیوں کی فوری طور پر کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی۔ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر، خاص طور پر جمعہ کے دن، ان پر اسی طرح کی پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں، جس کے باعث وہ تاریخی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے اور لوگوں سے خطاب کرنے سے محروم رہے ہیں۔
اس دوران میر واعظ نے ایک بیان جاری کرکے جموں و کشمیر اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ربیع الاول کے بابرکت ماہ کی مبارکباد دی۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
غزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
غزہ، تازہ اسرائیلی حملوں میں غزہ سٹی کے پولیس عہدیدار جمال ابو کامل اور خان یونس میں ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔
غزہ کی وزارت داخلہ کے مطابق 43 سالہ کرنل جمال ابو کامل جمعرات کو اس وقت ہلاک ہوئے جب اسرائیلی ڈرون نے غزہ سٹی کے جنوب مغرب میں الرشید اسٹریٹ پر ان کی گاڑی کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حملے میں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔
یہ ہلاکت اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی فضائی حملوں کی عارضی معطلی ختم کرنے کے ایک روز بعد ہوئی ہے۔ اس وقفے کے دوران بھی اسرائیلی زمینی حملے جاری رہے، جبکہ اسرائیل اکتوبر میں طے پانے والی نام نہاد ’جنگ بندی‘ کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ابو کامل کو ’’خطرے کو ختم کرنے‘‘ کے لیے نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ وہ حماس کے کمانڈر تھے، تاہم اس دعوے کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔
غزہ کی پولیس فورس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ابو کامل ’’اپنی پولیس کی ذمہ داریاں انجام دینے کے پابند تھے اور ان کا کسی دوسری سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا‘‘۔
غزہ کی وزارت داخلہ نے کہا کہ ابو کامل کو اسرائیلی حملے میں ’’شہید‘‘ کیا گیا۔
حماس نے بھی اس ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’قابض افواج کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے وحشیانہ جرائم کا تسلسل‘‘ قرار دیا۔ حماس نے کہا کہ یہ غزہ کی پٹی میں افراتفری اور بدامنی پھیلانے کی اسرائیل کی ’’ناکام اور قابلِ افسوس کوششوں‘‘ کا حصہ ہے۔
جمعرات کو اس سے قبل جنوبی غزہ کے خان یونس میں دو افراد کو لے جانے والی ایک موٹر سائیکل کو بھی اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ اسرائیل نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف حماس کا ایک کمانڈر تھا، تاہم اس دعوے کے لیے بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
بدھ کو اسرائیل نے غزہ میں 3 اگست کے بعد پہلا فضائی حملہ کیا۔ بیت لاہیا میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے حملے میں بلدیاتی ادارے کا ایک ملازم ہلاک اور پانچ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل نے ایک ہفتے سے زائد عرصے تک غزہ میں فضائی حملے روک رکھے تھے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے منصوبے میں ’’اہم پیش رفت‘‘ کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس نے ان کے 15 نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس پر غزہ بورڈ آف پیس کے ذریعے عمل درآمد کیا جانا تھا۔ منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کرنا تھا جبکہ حماس کو غیر مسلح ہونا تھا۔
حماس نے کہا تھا کہ وہ مکمل جنگ کی واپسی سے بچنے کے لیے معاہدے کو قبول کرتی ہے، تاہم اس کا اصرار تھا کہ منصوبے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے پہلے اپنی فوجیں واپس بلانے اور حملے روکنے سے مشروط ہوگا۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کو معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک واپس نہیں جائے گی جب تک حماس کو ’’حقیقی طور پر غیر مسلح‘‘ نہیں کردیا جاتا۔ اس اعلان کے تین روز بعد اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ شروع ہوگئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو ’’جنگ بندی‘‘ نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل کے تقریباً روزانہ ہونے والے حملوں میں 1,250 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔
جمعرات کو فلسطینی وزارت خارجہ و تارکین وطن نے امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
وزارت نے غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فورسز کے حملوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے مسلسل حملوں کی بھی مذمت کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
