تازہ ترین
مسئلہ کشمیر کو دہشت گردی کےساتھ جوڑنا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی:او آئی سی
خبراردو: او آئی سی نے بھارت کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنے کی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہمارے دل کے قریب ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر ی عوام کی طرف سے جاری جدوجہد آزادی ”جائز جدوجہد“ ہے جو اقوام متحدہ کی جانب سے پاس شدہ قرار دادوں اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔
آگنائزیشن آف اسلامک کاپریشن (او آئی سی) نے جمعرات کو مسئلہ کشمیر کے تئیں ایک بار پھر اپنے مو¿قف کا اعادہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنے کی کارروائی سراسر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے صاف کردیا کہ مسئلہ کشمیر عالمی ایجنڈے پر ایک دیرینہ حل طلب معاملہ ہے اور او آئی سی کے دل کے قریب ہے۔او آئی سی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر یوسف بن احمد نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر ہمارے دلوں میں زندہ ہے ۔ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی جائز اور مبنی بر حقیقت ہے۔بھارت کی طرف سے اس کو دہشت گردی کےساتھ منسلک کرنا بین الااقوامی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر ہمارے دلوں میں زندہ ہے اور او آئی سی کے ایجنڈے میں ایک اہم شق کے طور پر شامل ہے۔ ڈاکٹر یوسف بن احمد کا کہنا تھا کہ او آئی سی اس بات کی وعدہ بند ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے عین مطابق حل کیا جانا چاہیے اور اس حوالے سے او آئی سی کے مو¿قف میں نہ ماضی اور نہ ہی مستقبل میں کوئی لچک آئےگی۔
جنرل سیکرٹری کے مطابق کشمیرکی جدوجہد آزادی جائز اور مبنی بر حقیقت ہے تاکہ وہاں کے لوگ اپنی بنیادی حق کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سیاسی مستقبل کا اپنی خواہشات کے عین مطابق تعین کریں۔کشمیری عوام کی جانب سے شروع کی گئی جدوجہد اقوام متحدہ کی پاس شدہ قرار دادوں اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔ڈاکٹر یوسف بن احمد کے بقول بھارت کی جانب سے کشمیرکی جدوجہد آزادی کوطاقت کے بل پر دبانے یا اسے دہشت گردی کےساتھ جوڑنے کی کوششیں لاحاصل ہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی سرار خلاف ورزی ہے۔مسئلہ کے پائیدار اور بامعنی حل کی خاطر ہندوپاک مملکتوں کے درمیان مذاکرات کی وکالت کرتے ہوئے او آئی سی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر یوسف بن احمد کا کہنا تھا کہ میں اُمید کرتا ہوں کہ پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کو پائیددار بنیادوں پر حل کرنے کی خاطر مذاکراتی عمل کو پھر سے بحال کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام حل طلب مسائل کو پرامن اور سازگار فضا میں حل کرنے کی خاطر مذاکراتی عمل ایک بہترین متبادل ہے۔ڈاکٹر یوسف کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر او آئی سی کے ایجنڈے میں شامل ہیں ۔
انہوں نے بھارتی حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں غیرمسلح عام شہریوں پر طاقت کے وحشیانہ استعمال پر فوری طور پر پابندی عائد کرے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق ڈاکٹر یوسف نے بتایا کہ او آئی سی نے بین الاقومی سطح پر تمام فورموں پر اس بات کو بڑے زور و شور سے اُٹھایا ہے کہ بھارت کی جانب سے پرامن اور نہتے کشمیریوں پر جاری جبر اور تشدد کو فوری طور پر بند کیاجانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ او آئی سی نے تمام بین الاقوامی فورموں پر اس بات کو ایڈرس کیا کہ بھارت کشمیر میں عام شہریوں پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کو جاری رکھتے ہوئے انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں انجام دے رہا ہے۔او آئی سی جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ ہم مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی خاطر اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
انہوں نے بتایاکہ او آئی سی کے خودمختار انسانی حقوق کمیشن کی سیل کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں پر گہرائی سے آگے بھی نظر گزر رکھے گی اور ایسی پامالیوں کو بین الاقوامی سطح پر حقوق انسانی کی انجمنوں کے ساتھ اُٹھایا جائےگا۔خیال رہے او آئی سی کی جانب سے کشمیر معاملے پر ماضی میں متعدد مرتبہ تشویش ظاہر کرنے کا بھارت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے او آئی سی کو ایسی کوششوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ بھارت کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ کشمیر اُن کا اندرونی معاملہ ہے جس میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت بھارتی مفادات کے خلاف ہے۔
جموں و کشمیر
لداخ میں زلزلے کے دو مسلسل ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے، کشمیر تک لرزش محسوس ہوئی
سری نگر، مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں جمعرات کی صبح چار گھنٹے کے اندر زلزلے کے دو جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت بالترتیب 5.5 اور 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلے کا پہلا جھٹکا صبح 6 بج کر 5 منٹ پر محسوس کیا گیا، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز لیہہ-لداخ کے علاقے میں 36.881 ڈگری شمالی عرض البلد اور 74.402 ڈگری مشرقی طول البلد پر زمین کی سطح سے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔
اس کے تقریباً چار گھنٹے بعد، صبح 9 بج کر 54 منٹ پر دوسرا جھٹکا محسوس کیا گیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
ان دونوں زلزلوں کے جھٹکے کشمیر اور لداخ کے مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ فی الحال اس واقعے میں کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان یا کسی کے ہلاک و زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
کولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا نے پیر کے روز آنے والے 7.4 شدت کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 265 ہو گئی ہے، جب کہ کم از کم 3,494 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 496 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری عمارتوں اور سفارتی مشنز پر قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔
پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 07:34 بجے چوکو صوبے کے شہر سان ہوزے ڈیل پلمار کے قریب 107 کلومیٹر کی گہرائی میں آنے والا یہ زلزلہ، گزشتہ ایک صدی کے دوران کولمبیا میں آنے والا سب سے مہلک زلزلہ بن گیا ہے۔
ایمرجنسی ٹیموں نے پریرا اور کالی جیسے بڑے شہروں میں بھاری مشینری، کھوجی کتوں اور انسانی زنجیروں کا استعمال کرتے ہوئے دن رات کام کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔”
نیشنل یونٹ فار ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ (یو این جی آر ڈی) کی جانب سے جاری کردہ نقصانات کی تشخیصی رپورٹ کے مطابق، زلزلے میں 9,215 مکانات تباہ اور 45,457 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے ملک میں قومی سطح پر آفت (ڈیزاسٹر) کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
یو این جی آر ڈی کے ڈائریکٹر ڈیوڈ سانتیاگو تامایو نے سخت آپریشنل معیارات کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت چار شراکت دار ممالک: امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے آنے والی تکنیکی ریسکیو ٹیموں کو ترجیح دے گی۔
زلزلے کے اثرات مرکزِ زلزلہ کے قریب دیہی علاقوں میں انتہائی شدید تھے۔
مقامی ایمرجنسی یونٹس نے ویلے ڈیل کاؤکا کے شہر ال کائرو میں رپورٹ کیا ہے کہ وہاں کے شہری انفراسٹرکچر کا 80 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے اور مقامی عمارتوں کا تقریباً 10 فیصد حصہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
مسقط، عمان کے ماحولیاتی حکام نے کہا ہے کہ تباہ حال آئل ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا خام تیل ملک کے ساحل تک پہنچ گیا ہے، جس سے مرکزی ساحلی علاقے میں 40 کلومیٹر تک ساحلی پٹی آلودہ ہو گئی ہے۔
عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق جون میں عمان کے ساحل کے قریب پھنسنے کے بعد سے خام تیل خارج کرنے والے ٹینکر کا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ تیل کے مسیرہ جزیرے کے جنوبی ساحل تک بھی پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ جزیرہ عمان کے ساحل سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ہے اور وہاں مزید 10 سے 20 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی اتھارٹی نے کہا کہ خصوصی ٹیمیں آلودگی کی نگرانی، صورتحال کا جائزہ لینے اور تیل کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترجیح ان علاقوں کو دی جا رہی ہے جو ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ حساس ہیں۔
عمانی حکام کے مطابق اس ہفتے کے آغاز تک تیل کا پھیلاؤ تقریباً 400 مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا تھا، جبکہ تیل کا زیادہ ارتکاز ہالانیات جزائر کے اطراف میں ہے۔ یہ علاقہ سمندری حیات کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے میرین ریزرو کا حصہ ہے، جہاں سمندری کچھوؤں اور دیگر آبی حیات کے مسکن موجود ہیں۔
تاہم ماحولیاتی تنظیم گرین پیس سمیت بعض اداروں کا کہنا ہے کہ تیل کا پھیلاؤ عمانی حکام کے اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ گرین پیس نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ایک غیر معمولی ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
کیرولین بیزینگی 8 جون کو عمان کے ال ہالانیات جزائر کے قریب ناکارہ ہو گیا تھا، جب عملے نے ممکنہ دھماکے کی اطلاع دی تھی۔ واقعے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔
مغربی حکومتوں کے مطابق یہ ٹینکر روس کے اس نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ تھا جس کے ذریعے روسی تیل کی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ روس کے یوکرین پر 2022 کے حملے کے بعد اس کے تیل پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
2001 میں تعمیر کیا گیا یہ ٹینکر اس وقت یورپی یونین، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اور یوکرین کی پابندیوں کی زد میں ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹینکر میں موجود تقریباً 8 لاکھ بیرل خام تیل کا اخراج ایک بڑے پیمانے کی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن سکتا ہے۔ لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیل کے اخراج کے ماہر کرسٹوفر ڈیلیا نے اسے ایک خاصا بڑا تیل کا اخراج قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی یا پابندیوں سے بچنے والے ٹینکروں کے معاملے میں صفائی کے اخراجات کی ذمہ داری طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے آلودگی کی صورت میں متاثرہ علاقوں کی صفائی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
