ہندوستان
’مسلم پٹی تاریخ کے آئینہ میں‘ اور’وکیل احمد اعظمی سعادت کی زندگی ، شہادت کی موت‘ کااجراء
نئی دہلی ڈاکٹر مرزاندیم بیگ نے ’مسلم پٹی تاریخ کے آئینہ میں‘ اور’وکیل احمد اعظمی سعادت کی زندگی ، شہادت کی موت‘ کتاب مرتب کرکے اپنی مٹی کاحق ادا کر دیا،جو بالخصوص وہاں کے باشندگان کا فرض کفایہ بھی تھا خصوصاً وکیل احمد اعظمیپر مبنی کتاب اس لیے بھی اہم ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے گمنام افراد ہیں، جن کے کارنامے غیر معمولی نوعیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے اپنے مقاصد کی تکمیل میں اپنی پوری زندگی وقف کردی یہ کتاب ان کے لئےبہترین خراج عقیدت ہے۔ان خیالات کا اظہارمعروف اسلامی اسکالر سابق وائس چانسلر پدم شری اخترالواسع نے مذکورہ دونوں کتابوں کے رسم اجراءکے موقع پر کیا۔
روزنامہ انقلاب کے ایڈیٹر ود ود ساجد نے اس موقع پرکہا آج ا یسے وقت میں عرب و عجم میں تاریخ مٹانے اور تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،ڈاکٹر مرزا ندیم نے اعظم گڑھ کے معروف گاﺅں مسلم پٹی کی تاریخ کو کتابی شکل دے کر اسے محفوظ کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے، جس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اس کتاب میں عہد جہانگیر سے موجودہ عہد تک چا ر سو برس کے شجرہ نسب کونقل کیا گیا ہے ،جوبذات خوددیدہ ریزی کا کام ہے۔
اس موقع پرجماعت اسلامی ہندکے رکن مجلس شوریٰ و’ر یڈینس‘ کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر اعجاز اسلم نے کہا کہ موجودہ عہد میں مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ اور تبدیل کرنے کی منظم و دانستہ طور پر کوششیں کی جارہی ہیں ، ایسے میں یہ دونوںکتابیں ہمارے اسلاف کی روشن تاریخ کے تحفظ و بقا کی جانب بڑا قدم ہے۔
سینئر صحافی اور کالم نگار معصوم مرادآبادی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہاکہ یہ دونوں کتابیں اپنی جگہ منفرد مقام رکھتی ہیں بالخصوص خطہ اعظم گڑھ کے لوگوں کے لیے مشعل راہ بنیں گی۔
اس موقع پر معروف صحافی و کالم نگار صحافی سہیل انجم نے دونوں کتابوں کا تفصیلی خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپنی نو عیت و معنویت کے لحاظ سے مذکورہ کتابیں منفرد ہیں اور مرزاندیم نے اس کتاب میں جس جانفشانی کا سہارا لیا ہے و ہ کسی کوہ پیمائی سے کم نہیں کیونکہ تاریخ نویسی میں اکثر ایسے مقامات آتے ہیں جب کسی واقعہ اور دستاویز کے بارے میں کوئی مستند ثبوت نہیں ملتا ۔لہٰذازبانی گفتگو پر ہی انحصار کرناپڑتا ہے اور مصنف کے لیے یہ آزمائش سے بھراوقت ہوتا ہے کہ کس طر ح ان واقعات کو مدلل انداز میں رقم کرے ،مگر ایسے نازک وقت میں بھی انہوں نے پوری دیانت داری سے کام لیاہے۔ آج کل جس طرح کی پی ایچ ڈی ہورہی ہے اور جو اس کا معیار ہے، اگر ہم ان کتابو ں کو سامنے رکھیں تو ڈاکٹرندیم کی کتابیں بھاری نظر آئیں گی۔
معروف ادیب حقانی القاسمی نے کہا کہ ڈاکٹر مرزا ندیم بیگ کی دونوں کتابیں ایسی تحریک ہیں جس کی روشنی میں نوجوانوں کو اپنے آباءو اجداد کی تاریخ کو مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔مسلم پٹی اعظم گڑھ کاایک چھوٹا سا گاﺅں ہے مگر رشک اصفہان ہے، اس گاﺅں سے عالمی شہرت کی حامل مقتدر و معتبر شخصیات کاوطنی رشتہ ہے مغل مرزا مسلم بیگ آبادکردہ اس گاﺅں کی ایک زریں تاریخ ہے جس کا شجرہ چیچنیاسے جا کر ملتا ہے اور آزادی کی تحریک میں بھی اس گاﺅں کا اہم کردار رہا ہے۔
مرزا ندیم مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس گاﺅں پر کتاب مرتب کی ہے تاکہ اس کے تہذیبی وتمدنی اور تاریخی علامات کا تحفظ ہوسکے اور نئی نسل اس گاﺅں کی قابل فخر وراثت سے روشناس ہوسکے۔
پروفیسر قطب الدین نے کہا کہ مذکورہ کتابیں خاص اہمیت کی حامل اس لیے بھی ہیں کہ یہ تاریخی بھی ہیں اور تحقیقی بھی۔ تاریخ نویسی کے طلبہ کو شارٹ کٹ کی بجائے ڈاکٹر ندیم بیگ کی کاوشوں سے بہت کچھ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے تبھی ان کی تحقیق میں پائیداری آئےگی۔
کتاب کے مصنف ڈاکٹر مرزا ندیم بیگ نے اپنی دونوں کتابوں کے مقاصدکوبیان کرتے ہوئے کہاکہ تاریح نویسی کا کام کوئی نیا نہیں بلکہ کتاب اللہ میں تار یخوں کو یاد رکھنے اور قابل تقلید انبیائے کرام کے کارناموں سے روشنی حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی تلقین متعد د مقامات پر کی گئی ہے۔ یہ دونوں کتابیں اسی فکر کی جانب مثبت پہل ہے۔ وکیل احمد اعظمی کی سادہ زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو ذکر کرتے ہوئے مصنف نے کہا کہ کسی تحریک کا قائد و رکن بننے کے لیے نہ تو پڑھا لکھا یا سند یافتہ ہونا ضروری ہے اور نہ ہی کسی خاندانی پس منظر کی ضرورت درکار ہوتی ہے بس آدمی کے اندر ایک واضح نصب العین ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی زندگی کو با مقصد مشن کے تحت گزار سکے۔
خیال رہے کہ آئی ایچ ایف اوردلی اوورسیز کے اشتراک سے مر کزجماعت اسلامی کے کانفرنس ہال میں ڈاکٹرمرزا ندیم بیگ کی ان دونوں کتابوں کا اجراءعمل میں آیا،جس میں دہلی و اطراف کی ادبی وعلمی شخصیات مو جود تھیں۔ نظامت کے فرائض نعمان قیصر نے انجام دےے۔
یو این آئی۔ ایف اے۔م الف
ہندوستان
ہندوستان پر 100 فیصد امریکی برآمدی ڈیوٹی کے خدشے کے درمیان مودی اور ٹرمپ نے کی ٹیلی فون پر بات چیت
نئی دہلی، روس-ایران پابندیوں کے قانون کے تحت امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر مجوزہ 100 فیصد برآمدی ڈیوٹی کے تعلق سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تبادلۂ خیال کے درمیان وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز بات چیت کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔
اس بات چیت کے بعد مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
انہوں نے کہا، “صدر ٹرمپ کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی۔ ہم نے تجارت، دفاع، توانائی، اہم ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں اپنے باہمی تعاون کا جائزہ لیا۔ ہم اپنی ‘جامع اسٹریٹجک شراکت داری’ کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر متفق ہوئے۔ ہم نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا، جن میں عالمی امن اور سکیورٹی کو فروغ دینے کے لیے جاری کوششیں بھی شامل ہیں۔”
وزیرِ اعظم کے دفتر نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ہند-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے تئیں اپنے عزم کو دہرایا اور دونوں ممالک کے لوگوں کے فائدے کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے قریب رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ امریکی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور شدہ یہ قانون امریکی صدر کو روس سے خام تیل یا قدرتی گیس خریدنے والے سرفہرست پانچ ممالک پر 100 فیصد تک برآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
بیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ بیلا کلسٹر کچی آبادیوں کے ووٹر لسٹ سے 729 میں سے 728 ووٹروں کا نام ہٹانا ووٹ چوری کا واضح ثبوت ہے، اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
مسٹر گاندھی نے بدھ کو سوشل میڈیا پر کہا کہ ہندوستانی شہریت کے تمام دستاویزات اور ثبوت ہونے کے باوجود یہ لوگ دفاتر اور عہدیداروں کے ارد گرد چکر لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ نسلوں سے وہاں رہ رہے ہیں، زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں اور ہر الیکشن میں ووٹ دیتے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی شہری سے ووٹ کا حق صرف اس لیے چھین لیا جا سکتا ہے کہ وہ غریب یا بے گھر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین ایک شخص، ایک ووٹ کی ضمانت دیتا ہے اور ایک ووٹ کو بھی حذف کرنا محض ایک فعل نہیں بلکہ ووٹ چوری ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ 728 ووٹوں کے حذف ہونے پر افسوس کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہے اور اسی ڈھٹائی کے ساتھ ملک بھر میں لاکھوں ووٹوں کی چوری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایک ووٹ کو بھی حذف نہیں ہونے دیں گے” اور ذمہ داروں کو نتائج کا سامنا کرنے کی تنبیہ کی۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
ہندوستان
شیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
نئی دہلی، گھریلو شیئر بازاروں میں بدھ کو مسلسل تیسرے دن گراوٹ دیکھی گئی اور بی ایس ای کا سینسیکس تقریباً پورے دن سبز نشان میں رہنے کے بعد آخر میں 49 پوائنٹس نیچے بند ہوا سینسیکس 88 پوائنٹس گر کر 72,441.15 پوائنٹس پر کھلا، لیکن کچھ ہی دیر میں سبز نشان میں پہنچ گیا۔ تاہم آخری گھنٹے میں ہوئی فروخت سے یہ 48.78 پوائنٹس (0.07 فیصد) کے نقصان کے ساتھ 72,480.29 پوائنٹس پر بند ہوا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کے نفٹی-50 انڈیکس میں سینسیکس کے مقابلے میں زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ یہ 95.75 پوائنٹس یعنی 0.42 فیصد نیچے 22,620.45 پوائنٹس پر بند ہوا۔ یہ دونوں انڈیکس کا اس سال 30 مارچ کے بعد کی نچلی سطح ہے۔
وسیع تر بازار میں ملا جلا رخ رہا۔ نفٹی مڈ کیپ-50 انڈیکس 0.01 فیصد پھسل گیا۔ اسمال کیپ-100 انڈیکس 0.27 فیصد کی برتری میں رہا۔ سیکٹر پر مبنی انڈیکسوں میں نفٹی ہیلتھ 2.57 فیصد، نفٹی فارما 1.84 فیصد اور نفٹی میٹل 1.50 فیصد ٹوٹ گیا۔ پائیدار صارف مصنوعات کے گروپ میں 1.35 فیصد اور ایف ایم سی جی میں 0.63 فیصد کی گراوٹ رہی۔
میڈیا گروپ کا انڈیکس 2.74 فیصد، ریئلٹی گروپ کا 1.62 فیصد اور کیمیکل گروپ کا 1.19 فیصد چڑھا۔ بینکنگ، آئی ٹی اور آئل اینڈ گیس گروپ بھی سبز نشان میں رہے۔
سینسیکس میں ایٹرنل کا شیئر سب سے زیادہ سوا دو فیصد ٹوٹا۔ سن فارما اور ٹائٹن میں دو فیصد سے زیادہ کی گراوٹ رہی۔ اڈانی پورٹس، ٹاٹا اسٹیل، ایچ ڈی ایف سی بینک، بجاج فائنینس، انفوسس اور بھارتی ایئرٹیل کے شیئرز ایک سے دو فیصد تک پھسل گئے۔ ٹرینٹ، بجاج فن سروس، این ٹی پی سی، آئی ٹی سی اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا بھی نقصان میں رہے۔
کوٹک مہندرا بینک کا شیئر پونے تین فیصد اوپر رہا۔ آئی سی آئی سی آئی بینک اور انڈیگو میں بھی دو فیصد سے زیادہ کی تیزی رہی۔ ایکسس بینک اور الٹرا ٹیک سیمنٹ کے شیئرز ایک سے ڈیڑھ فیصد کی برتری میں رہے۔ ٹیک مہندرا، ہندوستان یونیلیور، بی ای ایل، ٹی سی ایس، ماروتی سوزوکی، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرز بھی سبز نشان میں رہے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان7 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
دنیا7 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا7 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
