جموں و کشمیر
منتخب حکومتوں کے تابوت میں آخری کیل:اسدالدین اویسی
اپوزیشن ارکان کی مخالفت، بل کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں
ملک کو پولیس ا سٹیٹ میں تبدیل کرنے کاالزام
ریاستی مشینری کے ذریعہ سیاسی غلط استعمال کا دروازہ:تیواری
وینوگوپال اورامت شاہ کے درمیان اخلاقیات پر زبانی تکرار
سری نگر:جے کے این ایس: اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے بدھ کے روز لوک سبھا میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی طرف 3 بلوں کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں، جووزرائے اعلیٰ اوروزراءکو ہٹانے کا قانونی ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں ۔بل میں ایسے وزرائے اعلیٰ اوروزراءکوہٹانے کی تجویز دی گئی ہے ۔جن پر بدعنوانی یا سنگین جرائم کے الزامات ہیں اور انہیں لگاتار30 دنوں تک حراست میں رکھا گیا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق وزیرداخلہ امت شاہ نے آئین (130ویں ترمیم) بل2025 پیش کیا، جس میں ہندوستان کے آئین اور حکومت کے زیر انتظام علاقوں (ترمیمی) بل2025 میں مزید ترمیم کی جائے گی، اس کے علاوہ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ2019 میں ترمیم کرنے کے بل کے علاوہ، انہوں نے پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز بھی پیش کی۔
جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل2025 جموں اور کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے سیکشن 54 میں ترمیم کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ سنگین مجرمانہ الزامات کی وجہ سے گرفتاری یا حراست میں رکھے جانے کی صورت میں وزیر اعلیٰ یا وزیر کو ہٹانے کے لیے قانونی ڈھانچہ فراہم کیا جا سکے۔اپوزیشن کے کئی ارکان پارلیمنٹ نے زبردست نعرے بازی کے درمیان بل کی مخالفت کی، جس سے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی کارروائی3 بجے تک ملتوی کردی۔بل کی مخالفت کرتے ہوئے، اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہاکہ میں جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل2025، مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومت (ترمیمی) بل2025، اور آئین (ایک سو تیسویں ترمیم کے اس بل کے اصولوں کے مطابق) کی مخالفت کرتا ہوں۔ اور حکومت کو منتخب کرنے کے لوگوں کے حق کو مجروح کرتا ہے، یہ ایگزیکٹو ایجنسیوں کو گھٹیا الزامات اور شکوک و شبہات کی بنیاد پر جج اور جلاد کے طور پر کام کرنے کی آزادی دیتا ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ حکومت پولیس اسٹیٹ بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ یہ منتخب حکومتوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ اس ملک کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کے لیے ہندوستانی آئین میں ترمیم کی جا رہی ہے۔ اسد الدین اویسی نے مزید کہا کہ چیف منسٹر اور وزراءعوام کے سامنے جوابدہ نہیں ہوں گے۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے دعویٰ کیا کہ یہ بل آئین کے بنیادی ڈھانچے کے لیے تباہ کن ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستانی آئین کا بنیادی ڈھانچہ کہتا ہے کہ قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے، اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ جب تک کوئی فرد جرم ثابت نہ ہو جائے، اسے بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ منیش تیواری کاکہناتھاکہ یہ بل ایک تفتیشی افسر کو وزیر اعظم ہند سے زیادہ طاقتور بناتا ہے۔ یہ آرٹیکل 21 (حق زندگی اور ذاتی آزادی) کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بل پارلیمانی جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے کو مسخ کرتا ہے، جو ایک بار پھر پارلیمانی جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے کو بگاڑتا ہے۔ منیش تیواری کاکہناتھاکہ ریاستی مشینری کے ذریعہ سیاسی غلط استعمال کا دروازہ کھولتا ہے جس کی سپریم کورٹ نے بار بار مذمت کی ہے اس نے تمام موجودہ آئینی تحفظات کو ہوا میں پھینک دیا ہے۔کانگریس کے ممبرپارلیمنٹ کے سی وینوگوپال اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے درمیان بلوں کے بارے میں اخلاقیات پر زبانی جھگڑا ہوا۔وینوگوپال نے کہاکہ اس بل کا مقصد آئین کے بنیادی اصولوں کو سبوتاڑ کرنا ہے۔
بی جے پی ممبران کہہ رہے ہیں کہ یہ بل اخلاقیات کو سیاست میں لانے کےلئے ہے۔ کیا میں وزیر داخلہ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟ جب وہ گجرات کے وزیر داخلہ تھے، انہیں گرفتار کیا گیا تھا، کیا اس وقت انہوں نے اخلاقیات کی پاسداری کی؟۔وینوگوپال کو جواب دیتے ہوئے امیت شاہ نے یاد دلایا کہ ان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے سے پہلے میں نے اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دیا تھا اور جب تک مجھے عدالت بے گناہ قرار نہیں دیتی میں نے کوئی آئینی عہدہ قبول نہیں کیا۔امیت شاہ نے اسپیکر سے مزید درخواست کی کہ وہ تینوں بلوں کو ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی کے پاس بھیجیں جس میں لوک سبھا کے 21 ممبران ہوں جو اسپیکر کے ذریعہ نامزد کیے جائیں اور راجیہ سبھا کے 10 ممبران ڈپٹی چیئرمین کے ذریعہ نامزد کیے جائیں۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
