تازہ ترین
منشیات اورنشیلی ادویات کی وباء نے واد ی کشمیرکواندرسے کھوکھلاکردیا
منشیات نشیلی ادویات کی لت نے کشمیر وادی کی بنیادوں کو کھو کھلا کرنا شروع کردیاہے جہاں سرکار نے افرادکے منشیات کی لت میں مبتلاہونے کی تصدیق کی وہی اس با ت کے خاتمے کے لئے سرکار اورعوام کے درمیان بھی تعاون اور تال میل کہی نظرنہیں آ رہاہے اورمنشیات کے خاتمے کیلئے جوبھی کارروائیاں یاتقریبات منعقد ہورہی ہے وہ فوٹوسیشن تک ہی محدود ہوا کرتی ہے۔
اس بات بات کاسنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ وادی کے دس اضلاع میں سینکڑوں بہو منشیات کی لت میں مبتلاپائی گئی اور ان کے سسرال والے اب خون کے آنسورونے پرمجبور ہوگئے ہے۔منشیات کی اس وباء کے خاتمے کے لئے مضبوط اور مستحکم اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔
اے پی آ ئی نیوز ڈیسک کے مطابق کشمیر وادی میں منشیات اور نشیلی ادویات کی وباء نے بنیادوں کواس طرح کھوکھلا کردیاہے کہ ہر مکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے والافراداس ناسور کو جڑسے اُکھاڑپھینکنے کیلئے سنجیدہ تو ہے مگر آگے آنے کے لئے تیار نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ ڈیڑھ ماہ پہلے سرکار یہ بات منظر عام پرلانے مجبور ہوگئی کہ اس بدعت نے چھ لاکھ افراد کو اپنی پیٹ میں لیاہے اور ہر دن منشیات اورنشیلی ادویات کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایاجارہاہے مختلف ڈاکٹروں ڈرگ دایڈشن سینٹروں سے جو اعدادشمار سامنے آئے ہے ان کے مطابق پچھلے تین برسوں سے وادی کے دس اضلاع میں شادی بیاہ کی سینکڑوں تقریباتمنعقد ہو ئی تاہم بڑی تعدادمیں بہویں بھی منشیات اورنشیلی ادویات کی لت میں مبتلاپائی گئی۔
ایک مزہبی عالم نے اپنانام مخفی رکھنے کی شرط پرخبررساں ادارے کے ساتھ گفتگوکے دوران اس بات کانکشاف کیاکہ چالیس سے پچاس کے قریب ایسی خواتین ان کے پاس تعویز لینے کے لئے آئی جن کی بہویں منشیات اور نشیلی ادویات کی لت میں مبتلاتھی اور انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کی بیٹیاں بہویں معلوم نہیں کب سے اس وباء کی شکار ہوچکی ہیں۔
کس قدر یہ بات سنگین ہے کہ دوشیزائیں ازواجی زندگی منسلک ہونے س پہلے منشیات اورنشیلی ادویات کی لت میں مبتلاہوچکی ہے اوران کے والدین کوبنک تک نہیں لگ گئی اب اسکے علاو ہ ہماری بنیاوی اورکیاکھوکھلاہوسکتی ہے منشیات اور نشیلی ادویات کی بنیادوں کو جڑسے اکھاڑپھینکنے کے لئے سرکاری سطح پراٹھائے جانے والے اقدامات بھی اب مزاق ثابت ہورہے ہے۔
قانون نافزکرنے والے ادارے کیساتھ ساتھ عوام اور انتظامیہ کے درمیان کوئی تال میل نہیں ہے کوئی بھی والداپنے بالغ بچے کے منشیات اور نشیلی ادویات کے لت میں مبتلاہونے کے بعد نہ توجانکاری فراہم کرتاہے اور نہ ہی اس بدعت کوجڑسے اکھاڑپھینکنے کے لئے آگے آرہاہے۔
سماج اس قدربے حس ہوچکاہے کہ اس بات کومنظر عام پرلانے میں ہم ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہے مزکورہ عالم دین نے یہ بھی کہاکہ اگرصرف تین برسوں کاباریک بینی سے جائزہ لیاجائیے تو تین سوکروڑروپے مالیت تلائی زیورات قیمتی سامان منشیات نشیلی ادویات میں مبتلاافرادنے اڑالی ہے اوریہ رقم انہوں نے اپنی ضروریات کوپوراکرنے کے لئے صرف کردی ہے اس سے بڑھ کرالمیہ اور کیاہوسکتاہے منشیات کی لت میں مبتلا افرادکواس بدعت سے چھٹکارا دلانے کے لئے چارسے پانچ سوروپے خرچ بھی کئے مگرحاصل کچھ نہیں ہوپارہاہے۔
دنیا
یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے خلاف تقریباً 500 فوجی کارروائیوں میں 1540 افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوجی ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا کہ فوج نے صنعا میں حوثیوں کے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں میزائل، ڈرون اور توپ خانے سے بھی حملے کیے گئے۔ ان کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں تعز گورنری میں ہوئیں، جہاں حوثیوں کی پیش قدمی روک دی گئی۔
الجزیرہ کے مطابق تعز کے مختلف محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے اور شہری علاقوں پر گولہ باری سے عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ صوبے کے ذُباب علاقے میں ایک گولہ رہائشی علاقے میں گرنے سے ایک شیرخوار بچہ ہلاک ہوگیا۔
دریں اثنا، حکومتی فوج نے حوثیوں کے زیر قبضہ الحوبان کو حکومتی کنٹرول والے تعز شہر سے ملانے والی اہم گزرگاہ بند کردی ہے۔ حکام کے مطابق یہ راستہ حوثیوں کی دراندازی کی کوشش، حملوں اور فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث بند کیا گیا۔
یمن میں حکومت اور حوثیوں کے درمیان 2022 میں قائم جنگ بندی رواں سال جولائی میں ختم ہونے کے بعد لڑائی میں تیزی آئی ہے۔ ستمبر کے وسط میں حوثیوں نے مغربی یمن کے بعض علاقوں، بندرگاہی شہر المخا اور باب المندب کے اہم جزیروں پر قبضہ کرلیا تھا۔ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
راجوری میں لائن آف کنٹرول پار کرکے ہندوستانی حدود میں داخل ہونے والی 17 سالہ لڑکی کو فوج نے حراست میں لے لیا
جموں، جموں و کشمیر کے راجوری ضلع میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرکے بھارتی حدود میں داخل ہونے والی 17 سالہ لڑکی کو بھارتی فوج کے جوانوں نے حراست میں لے لیا ہے۔ حکام نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خوئی رٹہ علاقے کی رہنے والی اس لڑکی کی شناخت سامیہ عظیم کے طور پر ہوئی ہے۔ فوجی جوانوں نے اسے لام سیکٹر (نوشہرہ) میں لائن آف کنٹرول کے قریب گشت کے دوران حراست میں لیا۔
ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد لڑکی کو مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ نوشہرہ پولیس فی الحال اس سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران لڑکی نے کہا کہ وہ غلطی سے لائن آف کنٹرول پار کرکے بھارتی علاقے میں داخل ہوگئی تھی۔
حکام نے کہا کہ معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور سکیورٹی ایجنسیاں تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مرکزی وزیر وی سومنا نے ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے آبی تحفظ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا
جموں، مرکزی وزیر مملکت برائے ریلوے اور جل شکتی وی سومنا نے ہفتہ کو جموں و کشمیر کے ریاسی ضلع کے کٹرا میں شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کی جانب سے آبی تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری کے لیے کیے جارہے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا۔
سرکاری بیان کے مطابق جائزہ اجلاس میں شرائن بورڈ کے ایڈیشنل چیف ایگزیکٹو آفیسر آلوک کے. موریہ نے وزیر کو پانی کے وسائل کے تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے کے لیے کیے جارہے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور زیر زمین پانی کی سطح بڑھانے سے متعلق بورڈ کی کوششوں کی تفصیلات بھی پیش کیں۔
وزیرموصوف کو گندے پانی کی نکاسی اور صفائی اور علاقے میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے شجرکاری کی اہمیت کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ اجلاس میں چھتوں سے بارش کے پانی کو جمع کرنے، زیر زمین پانی کی سطح بڑھانے، آلودہ پانی کی صفائی اور شجرکاری جیسے اقدامات کو نمایاں کیا گیا۔
مسٹر سومنا نے پانی کے تحفظ، گندے پانی کے انتظام اور شجرکاری کے لیے شرائن بورڈ کی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے خاص طور پر ایسے علاقوں میں پائیدار آبی انتظام اور ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت پر زور دیا جہاں سال بھر بڑی تعداد میں یاتری آتے ہیں۔
بعد میں مرکزی وزیر نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ شری ماتا ویشنو دیوی شرائن میں پوجا کی۔
یو این آئی۔ م س
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
-
کھیل1 week agoسروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
-
ہندوستان1 week agoووٹ چوری سے آئین اور جمہوریت ختم ہو رہی ہے، اقتدار مخالف لہر کا خاتمہ منصفانہ انتخابات پر بڑا سوال: راہل
-
ہندوستان1 week agoپی ایم مودی نے دین دیال اپادھیائے کو خراج عقیدت پیش کیا، انتودیہ اورشمولیت پرمبنی ترقی کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں 3 روزہ ہڑتال سے قبل بینک ملازمین کا مظاہرہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی شی جن پنگ کے ساتھ وائٹ ہاؤس عشائیے میں چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی اپیل
-
دنیا5 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
