تازہ ترین
مودی اور بی جے پی-آر ایس ایس نے ہر ادارے پر قبضہ کر لیا – سونیا
شہید ویر نارائن سنگھ نگر (رائے پور)، 25 فروری (یو این آئی) کانگریس کی سبکدوش ہونے والی صدر سونیا گاندھی نے موجودہ وقت کو کانگریس اور ملک کے لیے خاصا چیلنجنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی-آر ایس ایس نے ہر ادارے پر قبضہ کر لیا ہے اور انہیں تباہ کررہی ہیں۔
آج یہاں کانگریس کے 85ویں مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت بے رحمی کے ساتھ اپوزیشن کی کسی بھی آواز کو دبا رہی ہے، اس نے عام لوگوں کی قیمت پر چند چنندہ تاجروں کی حمایت کرکے معاشی تباہی مچا دی ہے۔ اور اقلیتوں کی شاطر طریقہ سے نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف، عورتوں کے خلاف، دلتوں کے خلاف اور آدیواسیوں کے خلاف جرائم اور امتیازی سلوک کو نظر انداز کیا گیا۔
1998 میں سیاست میں آنے کے وقت کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے حالات کئی لحاظ سے مجھے اس وقت کی یاد دلاتے ہیں جب میں پہلی بار سیاست میں آئی تھی۔ ہمیں آگے بڑھنے کے لیے سخت جدوجہد کا سامنا کرنی پڑی۔ اس نازک وقت میں ہم میں سے ہر ایک کی اپنی پارٹی اور اپنے ملک کے تئیں ایک خاص ذمہ داری ہے، کانگریس صرف ایک سیاسی جماعت نہیں ہے۔ ہم تمام ریاستوں، مذاہب، زبانوں، ذاتوں اور جنسوں کے لوگوں کی آوازوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
محترمہ گاندھی نے کہا کہ ہم وقار کو برقرار رکھنے اور ہر ہندوستانی کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے کام کرتے ہیں۔ ایسے میں آگے کا راستہ آسان نہیں ہے۔ لیکن میرا تجربہ اور کانگریس کی بھرپور تاریخ بتاتی ہے کہ جیت ہماری ہی ہوگی، کھڑگے جی کی قیادت میں اس کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں حکمرانی سے بے خوفی اور جوش سے نمٹنا ہوگا، اور جن لوگوں پر یہ حملہ کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا چاہیے۔ ہمیں لوگوں تک پہنچنا چاہیے، اور اپنا پیغام واضح اور ہم آہنگی کے ساتھ پہنچانا چاہیے۔
ہندوستان
الیکشن کمیشن تنازع کے درمیان کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کل، کھرگے نے کی چیف انتخابی کمشنر کے استعفے کی مانگ
نئی دہلی، الیکشن کمیشن آف انڈیا سے جڑے بڑھتے ہوئے تنازع پر منگل کے روز کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ منعقد ہوگی۔ کانگریس کے قومی صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے اس معاملے کو “سنجیدگی سے لڑنے” کا عزم ظاہر کرتے ہوئے چیف انتخابی کمشنر گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر کھرگے نے بتایا کہ الیکشن کمیشن سے متعلق ابھرتے ہوئے حالات پر بحث کرنے اور پارٹی کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز اکائی سے مشورے حاصل کرنے کے لیے سی ڈبلیو سی کی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، “میں نے کل کے لیے ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلائی ہے، جہاں ہم اس مسئلے پر بات چیت کریں گے اور تمام اراکین اپنی رائے پیش کریں گے۔”
مسٹر کھرگے نے اس معاملے کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے کہا، “یہ معاملہ پورے ملک، ہماری جمہوریت کی بقا اور ہمارے ملک کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہیں۔”
یہ میٹنگ ووٹرفہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری نیز اس کے کام کاج پر اپوزیشن کے الزامات کے بعد کانگریس اور الیکشن کمیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔ کانگریس نظرِ ثانی کے عمل پر مسلسل تنقید کر رہی ہے اور کمیشن سے زیادہ جواب دہی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
مسٹر کھرگے نے کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن کے ان الزامات کا حوالہ دیا، جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گیانیش کمار نے انہیں 2019 کے لوک سبھا انتخاب میں پتنمتٹا سے بی جے پی کے امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کی ترغیب دی تھی—جسے تھامسن نے مبینہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔ اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے اور مسٹر کمار نے اس پر اعلانیہ کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
کانگریس صدر نے الزام لگایا، “خود الیکشن کمیشن کے لوگوں نے ان کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ کیرالہ کے ایک سابق چیف سکریٹری نے کہا ہے کہ خود سی ای سی نے ان سے الیکشن لڑنے کو کہا تھا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بی جے پی کے نظریہ کو فروغ دیتے ہیں اور ان کے کارکن کے طور پر کام کرتے ہیں۔”
انہوں نے مسٹر کمار کے استعفے کی مانگ کی اور کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی کارروائی جاری رہے گی۔ مسٹر کھرگے نے کہا، “گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہم ان کے استعفے کے بعد بھی ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔”
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایس آئی آر کے عمل کے دوران ووٹر فہرستوں سے ناموں کے اخراج اور ووٹروں کی اہلیت میں الیکشن کمیشن کے کردار پر اپوزیشن کی تشویش کے باعث تنازع شدید ہو گیا ہے۔ دوسری طرف، الیکشن کمیشن نظرِ ثانی کو ایک آئینی ذمہ داری قرار دے کر اس کا دفاع کر رہا ہے اور کسی بھی سیاسی جانب داری سے انکار کر رہا ہے۔ اس دوران، بی جے پی اور حکومت نے کانگریس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ آئینی اداروں کو سیاسی حملوں سے دور رکھا جانا چاہیے۔
توقع ہے کہ سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر کے عمل کو چیلنج کرنے کے لیے کانگریس کی حکمتِ عملی طے کی جائے گی، جس میں مسٹر کھرگے نے ملک کی انتخابی جمہوریت کی حفاظت کے لیے ایک طویل سیاسی اور ادارہ جاتی مہم چلانے کا اشارہ دیا ہے۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
تہران، بتایا گیا ہے کہ ایران کا امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکراتی منصوبہ موجود نہیں ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک جانے والے ایرانی وفد کے ایک اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ اس وقت امریکہ میں موجود وزیر خارجہ عباس عراقچی باقاعدہ طے شدہ ملاقاتیں مکمل کرنے کے بعد منگل کو ایران واپس لوٹیں گے اور امریکہ کے ساتھ کسی نوعیت کا مذاکراتی منصوبہ موجود نہیں ہے۔
خبر میں یہ بھی کہا گیا کہ قطر کی ثالثی کے ذریعے ایران کی طرف سے امریکہ کو پہنچائے گئے شرائط کے بارے میں ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے ایران کی جانب سےآبنائے ہرمز میں آمدورفت کے لیے پیش کردہ شرائط کو انہوں نے مسترد کر دیا ہے اور اس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس ہفتے ایران کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کی توقع رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
کٹھوعہ میں ٹرک ڈرائیور سے مبینہ انٹری فیس وصول کرنے والے پولیس اہلکار کی ویڈیو وائرل، پولیس تحقیقات میں مصروف
جموں، جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں وردی پہنے ایک پولیس اہلکار کی جانب سے ٹرک ڈرائیور سے مبینہ طور پر انٹری فیس وصول کرنے کی ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگئی ہے، جس کے بعد آن لائن حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
ٹرک ڈرائیور کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو میں مبینہ طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ لکھن پور چیک پوائنٹ پر ایک پولیس اہلکار اس سے رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ڈرائیور بلٹی پیش کرنے میں ناکام رہا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ ٹرک میں لدا سامان بلٹی کا متقاضی نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ انٹری پوائنٹ کٹھوعہ ضلع کے اسٹیٹ ٹیکسز انفورسمنٹ ونگ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
لاری رسید، جسے عام طور پر ٹرک بلٹی کہا جاتا ہے، ایک قانونی دستاویز ہوتی ہے جو ٹرانسپورٹ کمپنی یا مال بردار ادارہ سڑک کے ذریعے سامان کی ترسیل کے لیے سامان وصول کرنے کے ثبوت کے طور پر جاری کرتا ہے۔
ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹرک ڈرائیور پولیس اہلکار کو 30 روپے دینے کی پیشکش کر رہا ہے، جبکہ اہلکار 100 روپے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ڈرائیور بلٹی پیش کرنے میں ناکام رہا تھا۔
ویڈیو کے مطابق، ڈرائیور نے بالآخر پولیس اہلکار کو مطلوبہ رقم ادا کی اور چیک پوائنٹ سے روانہ ہوگیا۔
کٹھوعہ کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) سنیل کیسر نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’یہ معاملہ ہمارے علم میں آیا ہے اور اس کی تصدیق کی جا رہی ہے۔‘‘
کٹھوعہ کے ڈپٹی کمشنر، اسٹیٹ ٹیکسز انفورسمنٹ، جوگندر سنگھ نے یو این آئی کو بتایاکہ ’’اس معاملے کا ہمارے محکمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہماری ٹیمیں ای وے بلوں کی بے ترتیب جانچ اور تصدیق کے لیے تعینات ہیں اور انہیں مناسب وردی میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoواپس آنے کی خواہش ہے، لیکن بنگلہ دیش حکومت رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے: شیخ حسینہ
-
دنیا7 days agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
