ہندوستان
مودی حکومت بنتے ہی این ای ای ٹی میں دھاندلی سے نوجوانوں کے خوابوں پر حملہ شروع: کھڑگے-پرینکا
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وڈرا نے میڈیکل داخلہ امتحان این ای ای ٹی کے بہانے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے اسے نوجوان مخالف قرار دیا اور کہا کہ جب حکومت حلف لے رہی تھی این ای ای ٹی دھاندلی کرکے نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جارہا تھا مسٹر کھڑگے نے کہا کہ مودی حکومت نے وزیر تعلیم اور این ٹی اے کے ذریعہ این ای ای ٹی گھپلہ کو چھپانے کا کام شروع کیا ہے۔
حکومت کے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہ این ای ای ٹی امتحان میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی تھی، انہوں نے کہاکہ ’’اگر این ای ای ٹی میں پیپر لیک نہیں ہوا تھا تو بہار میں پیپر لیک ہونے کی وجہ سے 13 ملزمان کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ کیا پٹنہ پولس کے اقتصادی جرائم ونگ – ای او یو نے تعلیمی مافیا اور ریکیٹ میں ملوث منظم گروہوں کو کاغذات کے بدلے 30-50 لاکھ روپے تک کی ادائیگی کو بے نقاب نہیں کیا؟ گجرات کے گودھرا میں این ای ای ٹی۔یوجی دھوکہ دہی کے ایک ریکیٹ کا پردہ فاش کیا گیا ہے، جس میں تین افراد شامل ہیں، جن میں ایک کوچنگ سنٹر چلانے والا شخص، ایک استاد اور دوسرا شخص شامل ہے۔ گجرات پولیس کے مطابق ملزمان کے درمیان 12 کروڑ روپے سے زیادہ کا لین دین سامنے آیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ اگر مودی حکومت کے مطابق این ای ای ٹی میں کوئی پیپر لیک نہیں ہوا تو پھر یہ گرفتاریاں کیوں کی گئیں۔ اس سے کیا نتیجہ نکلا؟ مودی حکومت پہلے ملک کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی تھی یا اب؟ مودی حکومت نے 24 لاکھ نوجوانوں کی امنگوں کا گلا گھونٹنے کا کام کیا ہے۔ 24 لاکھ نوجوان ڈاکٹر بننے کے لیے این ای ای ٹی کا امتحان دیتے ہیں۔ ایک لاکھ میڈیکل سیٹوں پر داخلہ لینے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ ان ایک لاکھ نشستوں میں سے تقریباً 55,000 سرکاری کالجوں کی نشستیں ہیں جہاں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، جے ڈبلیو ایس کیٹیگریز کے لیے سیٹیں محفوظ ہیں۔
کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ اس بار مودی حکومت نے این ٹی اے کا غلط استعمال کیا ہے اور مارکس اور رینک میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی ہے جس کی وجہ سے ریزرو سیٹوں کی کٹوتی بھی بڑھ گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ رعایتی نرخوں پر باصلاحیت طلباء کو داخلہ دینے سے انکار کے لیے رعایتی نمبروں، پیپر لیکس اور دھاندلی کا کھیل کھیلا گیا۔
محترمہ وڈرا نے کہاکہ ‘نئی بی جے پی حکومت نے جیسے ہی حلف لیا، اس نے نوجوانوں کے خوابوں پر دوبارہ حملہ کرنا شروع کر دیا۔ این ای ای ٹی امتحان کے نتائج میں بے ضابطگیوں پر وزیر تعلیم کا متکبرانہ ردعمل 24 لاکھ طلباء اور ان کے والدین کی فریاد کو پوری طرح نظر انداز کرتا ہے۔ کیا وزیر تعلیم کو عوامی سطح پر دستیاب حقائق نظر نہیں آتے؟ کیا حکومت بہار اور گجرات میں کی گئی پولیس کارروائیوں اور پکڑے گئے ریکٹ کو بھی جھوٹا مانتی ہے؟ کیا یہ بھی جھوٹ ہے کہ 67 ٹاپرز کو پورے نمبر ملتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ لاکھوں نوجوانوں اور ان کے والدین کو نظر انداز کرکے حکومت سسٹم میں کس کو بچانا چاہتی ہے؟
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
سیتا رمن نے دوحہ میں نیپال، سعودی عرب کے وزرائے خزانہ کے ساتھ دوطرفہ اہمیت کی حامل میٹنگیں کیں
نئی دہلی/ دوحہ، وزیرِ خزانہ محترمہ نِرملا سیتا رمن نے قطر کے اپنے دورے کے دوران نیپال کے وزیرِ خزانہ سوَرن واگلے کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
محترمہ سیتا رمن دوحہ میں ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی سالانہ میٹنگ کے سلسلے میں وہاں گئی ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ اس میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن نے اتوار کے روز نیپال کے وزیرِ خزانہ مسٹر واگلے کے ساتھ ایک الگ میٹنگ کی۔ دونوں وزراء نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہوئی دونوں کے درمیان دوبارہ ہوئی اس ملاقات پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے نئی دہلی میں ہوئی پچھلی میٹنگ کے دوران ہوئی بات چیت کو آگے بڑھانے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔
میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن اور مسٹر واگلے نے نیپال میں حال ہی میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد بحالی اور اصلاحات کے موضوع پر نیپال کے اندازے اور ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا۔ ساتھ ہی، دونوں نے اس مشکل وقت میں ہندوستان جو بھی مدد دے سکتا ہے، اس کی باریکیوں پر کام کرنے کے لیے دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان مسلسل بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزراء نے نئی دہلی میٹنگ میں شروع کیے گئے پروجیکٹوں کی پیش رفت پر بھی بات چیت کی اور مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یو ٹی آئی-این پی آئی لنکج کو جلد شروع کرنے اور استعمال کرنے پر بھی بات چیت ہوئی، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند پہل ہے۔
محترمہ سیتا رمن نے اے آئی آئی بی کے بورڈ آف گورنرز کی دوحہ کانفرنس کے دوران سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے بھی ملاقات کی۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان کی مضبوط معاشی کارکردگی اور بہتر ہوتے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے سیتا رمن کو مبارکباد دی اور سعودی معیشت پر اپنی رائے رکھی۔
محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ سعودی عرب ہندوستان کا قابلِ اعتماد اور اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ ساتھ ہی، انہوں نے دفاع، سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر، تعلیم، ثقافت اور لوگوں کے درمیان باہمی تبادلے جیسے کئی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان جامع شراکت داری کا ذکر کیا۔ دونوں وزراء نے ہند- سعودی عرب دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (بی آئی ٹی) پر بات چیت کے کامیاب اختتام کا خیر مقدم کیا۔ اس سے دوطرفہ سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد ڈھانچہ ملے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا۔ مسٹر الجدعان نے کہا کہ سعودی عرب اس کے جلد نافذ ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ سعودی عرب کے دوران ظاہر کیے گئے نقطۂ نظر کو یاد کرتے ہوئے، دونوں وزراء نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے پر تبادلۂ خیال کیا۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان سے سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرنے میں گہری دلچسپی دکھائی۔
محترمہ سیتا رمن نے اسی دوران سوئٹزرلینڈ کے سفیر اور اے آئی آئی بی میں اس کے نمائندے گورنر پریکشتروں لازیری سے بھی الگ سے ملاقات کی۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
خواتین کو گھر میں بند کرکے رکھنے میں نہیں، مجرموں پر کارروائی ہے حل : راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے خواتین کی سکیورٹی کےتعلق سے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں گھر میں بند کرکے رکھنا حل نہیں ہے بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانے اور خواتین کے خلاف جرائم کرنے والوں کو سزا دینے کی ضرورت ہے۔
مسٹر گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ ملک بھر میں خواتین سڑکوں پر چلنے کے دوران ہراسانی اور عصمت دری کے واقعات سے خوفزدہ ہیں اور حکومت کا جواب ہے کہ انہیں گھر میں رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام متاثرہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے اور مجرم کو بچاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حل خواتین کو گھر کے اندر رکھنا نہیں، بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والی مردانہ ذہنیت کا سامنا کرنا اور حملہ کرنے والوں کو تیزی سے اور بغیر کسی استثنیٰ کے سزا دینا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہزاروں طلبہ اور نوجوان خواتین کی سکیورٹی کے مطالبے کے حق میں سڑکوں پر ہیں۔ انہوں نے ملک بھر کی زیادہ سے زیادہ نوجوان خواتین، خاص طور پر جین زی سے بڑی تعداد میں آگے آنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ حکومت خواتین کے درد کے تئیں بہری ہے اور دباؤ پڑنے پر ہی سنے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرہ جمہوری حق ہے اور وہ اس کے ساتھ پوری طرح کھڑے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انتخابی کمیشن کو کٹھ پتلی بن کر کام نہیں کرنا چاہیے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ میں شفافیت، انتخابی عمل میں غیر جانبداری اور الیکشن کمیشن کی آزادی کو یقینی بنا کر ہر شہری کا ووٹ محفوظ کرنا ضروری ہے۔
مسٹر کھرگے نے منگل کے روز یہاں پارٹی کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز اکائی کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے سامنے ملک کی جمہوریت اور آئین کو بچانے کی تاریخی ذمہ داری ہے، لیکن آج ملک کے شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر مودی حکومت کی کٹھ پتلی بن کر کام کر رہے ہیں اور حکام کی من مرضی سے ووٹروں کے نام کاٹے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے حقِ رائے دہی کو جمہوریت کی سب سے بنیادی چیز بتایا تھا۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس کی لڑائی کسی پارٹی، ادارے یا فرد کے خلاف نہیں، بلکہ ہندوستان کے ووٹروں کے حقوق، آئین اور جمہوری نظام کو بچانے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اتنا مضبوط اور قابلِ اعتماد ہونا چاہیے کہ اقتدار میں شامل طبقہ اور اپوزیشن دونوں اس کے فیصلوں پر یکساں بھروسہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کے پانچ واضح مطالبات ہیں کہ ووٹر لسٹ میں ہونے والی ہر بڑی تبدیلی کا پورا ڈیٹا عام کیا جائے، ہٹائے گئے ووٹروں کو اس کی اطلاع اور اپیل کرنے کا موقع ملے، سیاسی جماعتوں کو ووٹر لسٹ سے متعلق ضروری ڈیٹا وقت پر آسان فارمیٹ میں دستیاب ہو، سنگین بے ضابطگیوں کی آزادانہ اور مقررہ وقت کے اندر جانچ ہو نیز انتخابی عمل سے جڑے اہم ڈیٹا اور فیصلوں میں شفافیت رکھی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹروں کو یہ بھروسہ ہونا چاہیے کہ ان کا ووٹ محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات آتے جاتے رہتے ہیں اور حکومتیں بھی آتی جاتی ہیں، لیکن جمہوریت اور آئین مستقل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مہادیوپورا، آلند نیز ہریانہ اور مہاراشٹر میں ووٹر کے اعداد و شمار سے جڑے سنگین سوالات دستاویزات کے ساتھ اٹھائے تھے۔ اگر الیکشن کمیشن نے ان امور پر سنجیدگی دکھائی ہوتی تو اس کی ساکھ بچی رہتی۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دو کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کی سرگرمیوں کو من مانا اور نا مناسب بتایا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے نیز وزیرِ اعظم سے اخلاقیات کی بنیاد پر استعفے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کو دیکھتے ہوئے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ کسی ووٹر کا حق نہ چھینا جائے، ہر شخص کا ووٹ محفوظ رہے اور انتخابات غیر جانبدارانہ ہوں۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان5 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
