پاکستان
مہدی حسن جن کا تھا، وہ لے گئے
پاکستان نے اپنے مہدی حسن کو بھلا دیا ہے لیکن بھارت کے موسیقی نوازوں نے اسے اپنا لیا ہے۔ شہنشاہ کے فن کی لو بھارت کے طول و عرض میں ستارے روشن کر رہی ہے اور پاکستان گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوب رہا ہے۔
خبراردو:-
گزشتہ ماہ شہنشاہ غزل، مہدی حسن کا جنم دن خاموشی سے گزر گیا۔ انفرادی سطح پر بھی اور قومی سطح پر بھی۔ انفرادی تخصیص تو بجا ہے کہ اس میں میلان طبع کا عمل دخل ہے۔ کوئی موسیقی سے لگاؤ نہیں رکھتا، کوئی غزل یا گیت کو در خور اعتنا نہیں سمجھتا، کوئی کن رس ہی نہیں، یا کوئی سرے سے موسیقی کو حرام سمجھتا ہے۔ لیکن قومی سطح پر حاصل ہونے والی توقیر ایک ہمہ گیر، طویل اور کثیرجہتی سماجی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کچھ بت وقت تراشتا ہے جو بارود اور ہتھوڑوں سے نہیں ٹوٹتے۔
کچھ تمغے روحوں اور دلوں کی کھٹالی میں ڈھلتے ہیں۔ کچھ نام زمانہ اپنے ماتھے پر لکھتا ہے، قومیں اپنی نسلوں کو ورثہ میں ان کا احترام دیتی ہیں، ان پر فخر کرنا سکھاتی ہیں، ان کے میوزیم بناتی ہیں، کتابیں، تحقیقی مقالے، ڈاکومنٹری فلمیں، اداریے، خصوصی ضمیمے، مضامین، مباحثے، مذاکرے، ان کے ورثہ اور فن کو آگے بڑھانے والوں کی حوصلہ افزائی اور معاونت۔
کیا ہم نے کسی اور شعبہ میں مہدی حسن جتنا بڑا آدمی پیدا کیا ہے؟ شاعری کو لیجئے۔ یہ گویا ایک پہاڑی سلسلہ ہے، جہاں فیض، راشد، میرا جی، منیر نیازی، ناصر کاظمی، مجید امجد، قاسمی نامی کئی چوٹیاں تھوڑے بہت فرق سے برابر کھڑی ہیں۔ کم وبیش یہی تناسب کلاسیکی گائیکوں، ستار نوازوں، طبلہ نوازوں، فلمی موسیقاروں، مصوروں، خطاطوں، افسانہ نویسوں، ناول نگاروں، اداکاروں وغیرہ پر صادق آتا ہے۔ لیکن چند نام ایسے ہیں، جو اپنے شعبوں کے درخشاں ستاروں کے ماہتاب ہیں۔ جن کے بعد کی چوٹی ان سے کہیں نیچے ہے۔
شاعری میں اختر حسین جعفری، افسانہ میں سعادت حسن منٹو اور غزل گائیگی میں مہدی حسن۔ ملکہ ترنم نور جہاں کے سامنے لتاجی کھڑی ہیں، استاد سلامت کے سامنے استاد فتح علی، استاد شوکت کے سامنے استاد اللہ رکھا، استاد شریف خان کے سامنے روی شنکر، لیکن مہدی حسن کے سامنے کون ہے؟ کوئی بھی نہیں، دور دور تک کوئی نہیں، کندن لعل سہگل بھی نہیں۔
پاکستان دو عظیم تہذیبوں کا وارث تھا۔ بنگال کی تہذیب اور وادی سندھ کی تہذیب۔ بنگالیوں کے عجز، علم دوستی، رواداری، اصول پسندی اور جمہوریت نوازی نے ہمیں خوف زدہ کر دیا اور وادی سندھ کی ہمہ گیر آشتی اور تحیرعشق سے پھوٹتے تخلیقی وفور نے ہمیں وسوسوں سے بھر دیا۔ خود راستی میں ڈوبے، اندھے نخوتیوں کی نظر میں قائد اعظم کی سمجھ بوچھ مشکوک تھی اور فاطمہ جناح کی حب الوطنی۔ جمہوریت، مذہبی آہنکی اور ثقافتی تنوع جیسی خرافات ان کے لیے قابل قبول نہ تھی۔ سو، آزادی کے ابتدائی برسوں میں ہی سوال اٹھ گیا کہ ہماری اپنی ثقافت کیا ہے، جو ہندو مت، بدھ مت اور نصرانیت کے نجس عناصر سے پاک ہو؟ پاک لوگوں کے پاک ملک کی پاک تہذیب۔
مگر تہذیب اور قوموں کا اجتماعی تخلیقی ذہن مفلسی اور انتشار تو جھیل سکتا ہے لیکن نظریے کی جکڑ بندی برداشت نہیں کر پاتا۔ یہ کونپل کڑکتی چلچلاتی دھوپ تو سہہ لیتی ہے لیکن بھاری بوٹ تلے کچلی جاتی ہے۔ نظریہ دماغوں پر پہرے بٹھاتا ہے، خوابوں کو حق و باطل کے پیمانوں پر جانچتا ہے اور فنکار سے سوال اور انکار کی بجائے تابعداری اور خدمت کا تقاضا کرتا ہے۔ نظریہ باغی دیوتا نہیں بلکہ ذمہ دار بالشتیے مانگتا ہے۔
راگوں کی قدیم بندشوں کی صفائی ستھرائی کا فیصلہ کیا گیا، سعادت حسن منٹو فحش نگار قرار پایا، انتظار حسین ماضی پرست، فیض غدار، جالب باغی اور فراز ملحد، سنگ تراشی کفر اور رقص فحاشی، آخر کار ہمارے بیشتر لیجنڈ مفلسی اور کسمپرسی میں، ناقدری کا رونا روتے مر گئے۔ بابا چشتی، ماسٹر عنایت، بخشی وزیر، ماسٹر عبدللہ، ماسٹر منظور، عظیم طبلہ نواز، استاد بھلی خان کے گلے میں بڑھا ہوا غدود تھا، اسے چھوٹی سی ایک سرجری درکار تھی، اسی بیماری میں مرگیا، حامد علی بیلہ آخری عمر تک گھروں میں سفیدیاں کرتا رہا، پٹھانے خان، ریشماں، طفیل نیازی، پرویز مہدی، بیشتر کلاسیکی گائیک اور سازندے صدیوں کی میراث دل میں لیے، اپنے بچوں کو کوئی ‘عزت دار‘ کام کرنے کی تلقین کرتے دفن ہو گئے۔
لوک فنکاروں کا تو ذکر ہی چھوڑیے۔ پشاور، کراچی اور لاہور کی فلم انڈسٹری برباد ہو گئی، ٹی وی ڈرامہ منافقت کی رسی پر جھول گیا، تھیٹر جگت بازی کی نظر ہو گیا، افسانہ، ناول، شاعری، آج پاکستان کا تخلیقی و تہذیبی منظر نامہ اوسط درجے کی خود پرستی کے نامختتم دہراو کا مضحکہ ہے یا کسی نامعلوم عہد زریں کے نوحہ کی خود لذتی۔
مجھے کولن ڈیوڈ کی نماتش پر ہونے والا حملہ یاد ہے۔ پنجاب یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی و ثقافتی اداروں میں موسیقی کے پروگراموں پر ہونے والے حملے ابھی رکے نہیں، میلے ٹھیلے ختم ہوگئے۔ ایک وقت میں میاں میر، شاہ جمال، بری امام کی دھمالیں اور ڈھول کی تھاپ روک دی گئی تھی۔ داتا صاحب، لعل شہباز قلندر، رحمان بابا پر بم دھماکے ہو گئے، بسنت کا تہوار منظم سازش کے تحت قتل کر دیا گیا، لاہور میں ہارس اینڈ کیٹل شو، جشن بہاراں کہاں گئے؟
آج کسی غزل گائیک سے پوچھیے! غلام عباس یا حسین بخش گلو جیسے نابغوں سے پوچھ لیں، وہ آپ کو بتائیں گے کہ اب لوگ نہیں سنتے، نجی محفلوں کے زمانے گئے، چلے گئے۔ ہمیں نظریاتی گہرائی کے دفاع کے لیے تزویراتی گہرائی درکار تھی، سو تہذہبی گہرائی کے لیے گنجائش نہیں نکلی۔
مہدی حسن کو ہندوستان نے لازوال خراج تحسین پیش کیا ہے۔ حکومتی اور ریاستی سطح پر نہیں، انفرادی اور تہذیبی سطح پر۔ میں گزشتہ ایک ماہ سے اس خراج تحسین پر مبنی ویڈیوز اور فیس بلک لائیو پروگرام دیکھ رہا ہوں۔ انتہائی سریلے ہری ہرن سے لیکر پنکج ادھاس اور انوپ جلوٹا تک، سبھی نے شایان شان بات کی اور نذر نیاز کے طور پر ان کی غزلیں گائیں۔
اپنی طرز کے مہان غزل گائیک، انوپ جلوٹا نے کہا کہ جس طرح اکبر بادشاہ کے نو رتن تھے لیکن بادشاہ ایک ہی تھا، اسی طرح مجھ جیسے غزل گانے والے بہت سے ہیں لیکن شہنشاہ ایک ہی ہے۔
اور لاتعداد سریلی لڑکیاں اور لڑکے پرتبھا سنگھ بیگھل، منجری، سبھاسنا دتہ، پونم چوہان، ریتو شرما، ریچا شرما، ارن اشیش، مکیش تیواری، ہردھیندر شری دھر، چرن راج بھاٹیہ، جسوندر سنگھ، ہرشرن دیپ سنگھ، ڈاکٹر انیل مہتہ۔ دلی کا ایک بہت سریلا لڑکا یورپ کے مختلف شہروں میں کنسرٹ کرتا ہے، اس نے اپنا نام ہی مہدی حسن رکھ لیا ہے۔ اور نجانے کتنے مہدی حسن کے عشق میں ڈوبے ہوئے، اس کے امانت دار، اس کی روحانی اولادیں، اس کا ذکر کر کے آب دیدہ ہو جانے والے، کانوں کو ہاتھ لگا کر اس کا الاپ اٹھانے والے، درجنوں نہیں، سینکڑوں ہیں ہندوستان بھر میں۔
مہدی حسن جن کا تھا وہ لے گئے، اس سورج سے چراغ ہندوستان میں جلے ہیں۔(قومی آواز)
پاکستان
بلوچستان میں خوفناک حادثہ، مسافر بس کھائی میں گرنے سے 39 افراد جاں بحق
کوئٹہ،بلوچستان کے ضلع ژوب میں خوفناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں بس گہری کھائی میں گرنے سے 39 مسافر جاں بحق ہو گئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے نمائندے رفیق ژوب مطابق حادثہ شیرانی کے علاقے دانہ سر میں اس وقت پیش آیا، جب موڑ کاٹتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث بس کے بریک فیل ہو گئے، جس کے نتیجے میں بس گہری کھائی میں جا گری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ضلع انتظامیہ اور ریسکیو ادارے جائے حادثہ پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔
حادثہ اتنا سنگین تھا کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور بس کے حصوں کو کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالنا پڑا۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام نے لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال پہنچایا، جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ڈی سی ژوب حضرت ولی کاکڑ کے مطابق حادثے میں 16 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ باقی افراد نے امدادی سرگرمیوں اور اسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، 29 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان نے افغانستان کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنا کر فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں کی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستان کی سرحد کے اندر ہونے والے مہلک حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ کاروائیوں کے نتیجے میں 29 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ “پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین اہداف کو انتہائی درست فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے”۔ تارڑ کے مطابق یہ فضائی حملے ایک وسیع آپریشن کا حصہ تھے جس میں پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
انہوں نے کہا ہےکہ اس آپریشن کا ہدف جماعت الاحرار تھا جسے عموماً تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا ہےکہ رات کے وقت کی جانے والی یہ کارروائی کراچی میں ہفتے کے روز ہونے والے اور تین نیم فوجی اہلکار وں کی ہلاکت کا سبب بننے والےحملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سرحدی صوبوں میں حالیہ پُرتشدد واقعات بھی اس کارروائی کا سبب بنے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی آپریشن کیا جس کے بعد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر “انتہائی درست حملے” کیے گئے، جن میں 29 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ پاکستان نے رواں مہینے کے آغاز میں کئے گئے حملے سمیت حالیہ مہینوں میں افغانستان کے اندر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحد اکتوبر میں تشدد میں اضافے کے بعد سے بڑی حد تک بند ہےاور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا
اسلام آباد،جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں اور تیسری عالمی جنگ کے بادل چھٹ گئے، پاکستان جمعہ 19 جون 2026، کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی کرے گا وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ تقریب میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا، عظیم کامیابی پر مؤرخ پاکستان کا نام سنہرے حروف سے لکھے گا۔
شہباز شریف نے پیر کے روز کہا ہم بالآخر آنے والے جمعہ کو جنیوا میں امن معاہدے پر دستخط ہوتے دیکھنے جا رہے ہیں۔
انھوں نے پیر کی صبح اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور گہری مذاکراتی کوششوں کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان 8 اپریل کو جنگ بندی کرانے میں کامیابی کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور اب فریقین کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت الیکٹرانک طور پر دستخط بھی ہو گئے ہیں، اور امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی ختم کر دی ہے جس کے سبب ایرانی تیل بردار بحری جہاز گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
