تازہ ترین
میر واعظ عمر فاروق کی طویل نظر بندی قابل تشویش
تمام اسیران کو بھی فوری طور اور بلا مشروط رہا کیا جائے:بلال غنی لون
سرینگر: حریت کانفرنس (ع)کے ایگزیکٹو رکن اور سینئررہنما بلال غنی لون نے کہا ہے کہ میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل اور طویل ترین نظر بندی قابل تشویش ہے۔انہوں نے موصوف سمیت سبھی کشمیری اسیران کی فوری طور پر رہائی کا مطالبہ کیا جبکہ حکومتی میڈیا پالیسی کو پریس کی آزادی کا گلا گھونٹنے کے مترادف قرار دیا۔
کشمیر نیوز سروس کو موصولہ بیان کے مطابق حریت کانفرنس (ع)کے ایگزیکٹو رکن اور سینئررہنما بلال غنی لون نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حریت چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو مسلسل 10 مہینے سے یعنی گزشتہ سال5 اگست2019 سے اپنی رہائش گاہ واقع نگین میں نظربند کررکھا گیاہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پولیس کی گاڑیاں موصوف کے گھر کے باہر کھڑی رکھی گئی ہیں اور میرواعظ کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔بلا غنی لون نے کہا کہ اگرچہ میر واعظ کو گذشتہ دو دہائیوں سے بار بار حکام کی جانب سے اپنے طور پر من مانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکثر و بیشتر انہیں نظر بند رکھا جاتا رہا ہے لیکن رواں نظر بندی مسلسل اور طویل عرصے تک محیط ہے جو تشویشناک ہے۔
بلال غنی لون نے یہ بات زور دیکر کہی کہ متعلقہ حکام کو چاہئے کہ وہ میرواعظ کی خانہ نظر بندی کو فوری طور منسوخ کریں اور قدغن اورپابندیاں ہٹائیں۔انہوں نے حریت کانفرنس کے اس دیرینہ مطالبے کا بھی اعادہ کیا کہ ہزاروں کشمیری نوجوان، سیاسی کارکن اور معزز شہری اوردیگر تمام سیاسی رہنما جو گذشتہ سال اگست سے جموں و کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں قید و بند کی زندگی گزار رہے ہیں اور پچھلے تین دہائیوں سے مقید دیگر تمام افراد کو بھی فوری طور اور بلا مشروط رہا کیا جانا چاہئے۔
بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ حریت قیادت اور کارکنو ں کو اپنے سیاسی نظریے اور سیاسی عقائد کی بنیاد پر جیلوں میں ڈالے رکھنا غیر انسانی ہے اور غیر اخلاقی عمل ہے کیونکہ اظہار رائے اور اختلاف رائے کی آزادی ایک بنیادی انسانی حق ہے۔
بلال لون نے حریت کانفرنس نے فرضی خبروں اور غلط معلومات فراہم کرنے کے نام پر پریس کی آزادی پر روک لگانے کے لئے حکام کی جانب سے اعلان کردہ میڈیا کی نئی پالیسی پر سختی سے تنقید کرتے ہوئے کہاکہ گذشتہ سال اگست سے ہی کشمیر میں پہلے سے موجود سنسرشپ کو قانونی شکل دینا اور پیشہ ورصحافیوں کو مجرم گرداننا دراصل پریس کی آزادی کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے،جو حد درجہ افسوسناک ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی انسانی حقوق اور میڈیا تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس سنسر شپ قانون کا نوٹس لیں اور اس کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ یہ قانون فوری طور پر واپس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس اور جموں و کشمیر کے عوام آئے روز فورسز کے ہاتھوں معرکہ آرائیوں میں کشمیری نوجوانوں کے جاں بحق ہونے اور ایل او سی کے دونوں جانب فائرنگ اور گولہ بھاری کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پر شدید غم و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سمیت بین الاقوامی حقوق انسانی کیتنظیموں سے پر زوراپیل کی کہ وہ اس خونریزی کو بند کرانے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرا نے کے اقدامات یقینی بنا کر موجودہ غیر یقینی صورتحال اور ظلم و جبر کا خاتمہ ممکن بنائیں۔
جموں و کشمیر
بڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
سری نگر، جموں و کشمیر کے بڈگام ضلع کے یوسمرگ کے بالائی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک جھڑپ کے دوران پاکستانی لشکر طیبہ کے مشتبہ دہشت گرد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔
یہ جھڑپ منگل کی دیر رات یوسمرگ کے کورگ علاقے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر مشترکہ تلاشی مہم شروع کیے جانے کے بعد شروع ہوئی۔
فوج نے بتایا کہ ہندوستانی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور مرکزی ریزرو پولیس فورس نے یوسمرگ کے کورگ کے عمومی علاقے میں مشترکہ تلاشی مہم شروع کی تھی۔
سری نگر میں قائم چنار کور نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا، ’’چوکس فوجیوں نے مشتبہ سرگرمی دیکھی اور جب انہیں چیلنج کیا گیا تو دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا۔ کارروائی جاری ہے۔‘‘
فوج اور پولیس نے ابھی تک ہلاک ہونے والے جنگجو کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے، تاہم سکیورٹی ذرائع کو شبہ ہے کہ وہ پاکستانی شہری تھا اور لشکر طیبہ سے وابستہ تھا۔اس ماہ بڈگام کے جنگلات میں یہ دوسری جھڑپ ہے۔
4 ستمبر کو یاسر نامی ایک پاکستانی شہری، جو لشکر طیبہ سے وابستہ تھا اور مبینہ طور پر کئی برس سے جموں و کشمیر میں سرگرم تھا، بڈگام کے بلند پہاڑی علاقے اشدر گلی میں ایک جھڑپ کے دوران مارا گیا تھا۔
سکیورٹی فورسز کو شبہ تھا کہ اس جھڑپ کے دوران ایک اور جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ 4 ستمبر کی جھڑپ کے بعد سکیورٹی فورسز نے بڈگام کے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں مشتبہ جنگجو کا سراغ لگانے کے لیے تلاشی مہم مزید تیز کر دی تھی۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
برطانیہ کے وزیر اعظم نے انتخابی اصلاحات کے لیے قومی کمیشن بنانے کا اعلان کیا
ماسکو، برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے ملک کے انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
برنہم نے منگل کو لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میں انتخابی اصلاحات کے لیے ایک نئے قومی کمیشن کے قیام کا اعلان کر رہا ہوں۔ میں تمام سیاسی جماعتوں کو اس کام میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔ ہم اگلا انتخاب انتخابی نظام میں تبدیلی کے عزم کے ساتھ لڑیں گے، تاکہ ہر شخص کے ووٹ کی اہمیت ہو اور ہر شخص کی آواز سنی جائے۔‘‘
برنہم نے زور دے کر کہا کہ صرف 30 فیصد ووٹروں کی حمایت سے حکومت بننا ملک کے سیاسی نظام کی ناکامی کی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ سیاسی عدم استحکام کی سطح کے پیش نظر برطانیہ نہ تو اپنے داخلی مسائل حل کر سکتا ہے اور نہ ہی عالمی سطح پر ایک باوقار کردار ادا کر سکتا ہے۔ برنہم نے بتایا کہ وہ 10 برس میں ملک کے ساتویں وزیر اعظم ہیں۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
ٹرمپ کا مصنوعی ذہانت کے شعبے کی نگرانی کے لیے کمیٹی بنانے کا منصوبہ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے 10 افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے کہا، ’’ہم کسی طرح کی ایک کمیٹی بنانے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں، جس میں شاید 10 افراد ہوں… تاکہ یہ کمیٹی پورے شعبے کی نگرانی کر سکے۔‘‘
صدر نے یقین ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت کے نمونوں کو ’’اچھے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا‘‘ اور مزید کہا کہ اگر انہیں برے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کو اپنی نگرانی اور ضابطے کے لیے ’’بہت بڑے پیمانے پر‘‘ اقدامات کرنے ہوں گے۔
حالیہ ہفتوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق خطرات کے بارے میں عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ اینتھروپک کے 2 ملازمین نے اپنی رائے ظاہر کی کہ آئندہ 10 برس کے دوران مصنوعی ذہانت کے انسانیت کو تباہ کرنے کا امکان 10 فیصد ہے۔
12 ستمبر کو اینتھروپک کے سربراہ داریو امودی نے زیادہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے نمونوں کی تیاری میں عالمی سطح پر رفتار کم کرنے کی اپیل کی تھی اور اس کے لیے سلامتی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا تھا۔
امریکی ارب پتی ایلن مسک اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے بھی اس خیال کی حمایت کی تھی۔
14 ستمبر کو ٹرمپ نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا کہ مصنوعی ذہانت دنیا پر قبضہ کر لے گی اور انسانیت کو تباہ کر دے گی۔ انہوں نے انہیں من گھڑت قرار دیا تھا۔ صدر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مسلسل ترقی کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ چین کو اس میدان میں سبقت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
