تازہ ترین
میڈیا پالیسی ،میڈیا مخالف نہیں ، حکومت کو جوابدہ بنانے کےلئے میڈیا مثبت رول ادا کرے :لیفٹیننٹ گور نر
لوگ امن وامان قائم کرنے میں تعاؤن دیں ،ترقیاتی کام جاری
مؤثر ،صاف وشفاف اور جوابدہ انتظامیہ پہلی ترجیح
خبراردو:-
سرینگر: جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گور نر گریش چندر مرمو نے لوگوں سے امن وامان برقرار رکھنے کےلئے تعاءون طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنکی حکومت مءوثر ،صاف وشفاف اور جوابدہ انتظامیہ کےلئے وعدہ بند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیاپالیسی 2020میڈیا مخالف نہیں ہے بلکہ اس پالیسی میں غیرجانبداری کو برقرار رکھا گیا ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر امرمونے سوموار کے روز راج بھون سرینگر میں کے این ایس کیساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمگیر وبا ’کووڈ ۔ 19‘ ابھی ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی دوا یا ویکسین دستیاب ہے ،ایسے میں احتیاط ہی وبا سے محفوظ رہنے کا ایک ذریعہ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ لوگ حکومت کی جانب سے جاری کی گئیں گائیڈ لائنز(قواعد وضوابط ) اور طبی معالجین کی جانب سے جاری کردہ مشوروں پر سختی کیساتھ عمل کریں ۔ ان کا کہناتھا’لوگ کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہئے ،کورونا ایک عالمگیر وبا ہے ،جسکی ابھی نہ تو کوئی موثر دوا یا ویکسین دستیاب نہیں ،ایسے میں احتیاط ہی بچاءو کا ذریعہ ہے ‘ ۔ لیفٹیننٹ گور نر نے کہا ’لوگ ماسک کا استعما ل کریں ،سوشل ڈسٹنس (سماجی دوری) کو یقینی بنائیں ‘ ۔ ان کا کہناتھا کہ لوگ ضروری کام کے وقت ہی گھروں سے باہر آئے ہیں کیونکہ حکومت جو بھی اقدامات کررہی ہے ،وہ لوگوں کی حفاظت کےلئے کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا’اس وقت ایک ایسا مرحلہ چل رہا ،جس دوران کورونا وائرس مزید لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے ‘ ۔
لیفٹیننٹ گور نر نے کہا ’لوگوں کو قوتِ مدافعت بڑھانے کےلئے آیوش کی جانب سے تجویز کردہ ادویات کا استعمال کرنا چاہئے جبکہ یہ ادویات پہلے ہی لوگوں میں تقسیم کی گئی ہیں اور لوگ (;65;arogya setu ) ایپ کو ڈاءون کرنا چاہئے ‘ ۔ انہوں نے مذہبی رہنما ءوں سے اپیل کی کہ وہ وبا کے اس حساس مرحلے پر اپنا کلیدی رول ادا کریں ،وہ کریں کہ لوگ حکومتی اور طبی معالجین کے مشوروں عمل کریں ۔ ان کا کہناتھا ’مشکل کی اس گھڑی میں ہم سب کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ‘ ۔ انہوں نے کہا کہ امن وامان کے قیام کےلئے لوگوں سے تعاءون طلب کیا تاکہ کورونا کے خلاف جنگ میں ہم سب کی فتح ہو ۔ انہوں نے جموں وکشمیر کے عوام کو یہ یقین دہانی کرائی کہ آنے والے دنوں میں لوگوں کی توقعات کے مطابق مزیدتعمیر وترقی ہوگی ۔ انہوں نے کہا’لوگوں سے میری واحد توقع ہے کہ وہ انتظامیہ کو تعاءون دیں اور امن کو برقرار رکھیں ‘ ۔
انہوں نے کہا’ میں لوگوں کو یہ یقین دیتا ہوں کہ جموں وکشمیر میں صاف وشفاف اور مءوثر وجوابدہ انتظامیہ فراہم ک ی جائیگی ‘ ۔ ایک سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ گو ر نر نے کہا ’سیکیورٹی سبھی لوگوں کےلئے ہوتی ہے نہ کہ صرف پنچوں اور سرپنچوں کےلئے ہوتی ہے ،ہم مختلف اسکیموں کے ذریعے پنچوں اور سر پنچوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے پر کام کررہے ہیں ‘ ۔ ان کا کہناتھا ’نچوں اور سرپنچوں کے خطرے سے متعلق تاثرات کا مسلسل جائزہ لیا جارہا ہے اور جہاں بھی ضرورت ہے اس کے مطابق تحفظ فراہم کیا گیا ہے‘ ۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ دار ہے ۔ کے این ایس کیساتھ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بانڈی پورہ ہلاکت بدقسمتی ہے ۔ انہوں نے کہا’اس ہلاکت خیز واقعہ کےلئے گمراہ کن افراد ذمہ داری ہے ‘ ۔ انہوں نے کہا’ میں اس واقعہ کی مذمت کرتا ہوں اور ہم سبھی لوگوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے پر کوششیں کررہے ہیں ‘ ۔
میڈیا پالیسی پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ گور نر جی سی مرمو نے کہا ’میڈیا پالیسی پر تنقید میڈیا میں آئی ہے ،ہم اس پر غور وخوض کریں گے ،تاہم اس میں میڈیا مخالف کوئی چیز نہیں ہے ،پالیسی میں غیرجانبداری کو برقرار رکھا گیا ہے‘ ۔ ان کا کہناتھا کہ میڈیا کو لوگوں کی بہتری کے لئے ہمیشہ مثبت کردار ادا کرنا چاہئے اور حکومت کو جوابدہ بنانا چاہئے‘‘ ۔
تعمیر وترقی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’ترقیاتی کام جاری ہیں ،ہم نے سال2012سے زیر التواء 40فیصد منصوبوں کو صرف ایک سال میں مکمل کرلیا ہے ،ہم اب ان منصوبوں کا افتتاح کررہے ہیں ‘ ۔ توانائی کے شعبہ میں کام کیا جارہا ہے اور سڑکو ں پر میکڈم بچھانے کا عمل بڑے پیمانے پر جاری ہے ،تین ماہ تک مزدور اور ٹھیکیداروں کی کمی رہی ،تاہم اب ترقی زور وں پر چل رہی ہے اور زمینی سطح پر عیاں ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت جلد ہی 20ہزار سے25ہزار سے زیادہ اسامیوں کی تشہیر کرے گی،اس عمل کو تیز کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے،ہم نے پہلے10ہزار اسا میوں کی تشہیر کی ،یہ سب سے بڑی بھرتی مہم ہے ‘ ۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر7 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا11 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان9 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا7 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا7 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا11 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا11 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
