تازہ ترین
میڈیا پالیسی2020 کیخلاف صحافیوں کا احتجاج
صحافت پا بندی جمہوری اصولوں کے منافی ، ترمیم لازمی:مظاہرین
خبراردو:-
سرینگر: میڈیا پالیسی 2020کے خلاف سوموار کو سرینگر میں مختلف میڈیا اداروں وابستہ صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بتایا کہ صحافت پر پابندی جمہوری اصولوں کے منافی ہے جبکہ مذکورہ پالیسی میں قابل اعتراض نکات میں ترمیم لازمی ہے ۔ انہوں نے کہا ’صحافیوں کو قلم اٹھانے سے روکنا جمہوریت کے چوتھے ستون کو گرا نے کے مترادف ہے ‘ ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے کئی میڈیا اداروں سے وابستہ صحافیوں نے نئی میڈیا پالیسی کے خلاف صدا ئے احتجاج بلند کی ۔ جے اینڈ کے میڈیا گلڈ‘ کے بینر تلے صحافیوں کا ایک گروہ سوموار کوپریس کالونی میں جمع ہوا اور نئی میڈیا پالیسی کو ہدف تنقید بنایا جبکہ کئی میڈیا انجمنوں کا اشتراک بھی حاصل تھا ۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ،جن پر ’میڈیا پر پابندی ختم کرو ،قلم اٹھانے سے نہ روکو،میڈیا پالیسی کو واپس لو ‘جیسے نعر ے درج تھے-
احتجاجی صحافیوں کا کہنا تھا کہ نئی میڈیا پالیسی کا مقصد صحافت پرپابندیاں عائد کرنا ہے ۔ اْن کا مزید کہنا تھا کہ یہ پالیسی صحافیوں اور صحافتی اداروں کیخلاف ہے ۔ اس موقع پر جے کے میڈیا گلڈ کے سربراہ میر اعجاز نے موجود نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا جمہوریت کا اہم ستون ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی نئی پالیسی کا مقصد جموں و کشمیر میں صحافیوں کو مزید پریشان کرنا ہے ۔ جو کہ پہلے سے ہی پچھلے چالیس سال کے نامساعد حالات کے دوران بہت سارے عتاب و مظالم کے شکار ہو ئے ہیں ۔
اس دوران ھمارے اکیس سے، زائد محترم صحافی حضرات کو جرم بےگناھی کے عوض شہید کیا گیا اور درجنوں صحافیوں کو زخمی کیا گیا ۔ حکومت اور پالیسی تیار کرنے والوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ میڈیا بھی جمہوریت کا ایک اہم ستون ہے ۔ اس کو کمزور کرنے سے جمہوریت کا ڈھانچہ بھی خطرے میں پڑسکتا ہے ۔ جے کے میڈیا گلڈ کے سیکرٹری جنرل امتیاز احمد بزاز نے اس موقعہ پر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی وضع کردہ نئی میڈیا پالیسی تمام اخبارات ، نیوز چینلز اور دیگر تمام نیوز پلیٹ فارمز کے خلاف ہے ۔
اس پالیسی میں کسی بھی رپورٹ کو قلم بند کرنے سے پہلے حکومت اور پولیس کو پہلے آگاہ کرنے کو کہا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس پالیسی کو کالعدم قرار دے اور رول بیک کرے تاکہ ہ میں اپنے کام کو چلانے کے لئے آزادانہ ماحول مل سکے ۔ ہیڈ لائنز گروپ کے مدید اعلیٰ اور سینئر صحافی ارشید میر نے کے این ایس کو بتایا کہ میڈیا پالیسی2020پہلے سے موجود پالیسی کے متوازی ہے،تاہم اس پالیسی میں کئی ایسے نکات ہیں ،جو صحافیوں کے پیشہ ورانہ اصولوں اور جمہوری تقاضوں کے منافی ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ کوئی بھی خبر شاءع کرنے سے قبل اُس کوحکومتی کی نوٹس میں لانا یہ آزادیَ صحافت پر قدغن کے برا بر ہے ۔
ارشد میر نے کہا ’ہم بھی چاہتے ہیں زرد صحافت ختم ہو ،ہم بھی چاہتے ہیں صاف وشفاف صحافت ہو ،ہم بھی چاہتے ہیں صحافت بنیادوں اصولوں کے تحت ہو ،کوئی اس کے خلاف نہیں ،لیکن ایک صحافی کو قلم اٹھانے پر پابندی عائد کرنا کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہے ‘ ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پالیسی2020پر صحافیوں کو کئی خدشات اور تحفظات ہیں ،جنہیں دور کرنا جموں وکشمیر حکومت کی ذمہ داری ہے ‘ ان کا کہناتھا کہ جب تک صحافیوں کے تحفظات کو دور نہیں کیا جاتا ،تب تک وہ اس کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے ۔
ارشد میر نے بتایا کہ حکومت کو یا تو پالیسی فوری طور پر واپس لینی چاہئے یا پھر اس میں ضروری ترمیم کرنی چاہئے اور اُن نکات کو پالیسی سے حزف کرنا چاہئے ،جو ایک صحافی کو قلم اٹھانے سے روکتے ہیں ۔ بعد ازاں یہ مظاہرہ پرامن طور ختم ہوا ۔
ہندوستان
ترکیہ کے صدر کو ہندوستان کی خود مختاری سے جڑے معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، ہندوستان نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے جموں و کشمیر کے بارے میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندوستان کی خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور اس پر کسی بیرونی فریق کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان اس ناپسندیدہ تبصرے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، “ترکیہ کے صدر کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران جموں و کشمیر کے بارے میں ناپسندیدہ تبصرے کو ہندستان مسترد کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی سالمیت نیز خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور کسی بیرونی فریق کو اس پر بولنے کا حق نہیں ہے۔”
رپورٹوں کے مطابق مسٹر اردگان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کشمیر کے مسئلے سمیت تمام تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں رکنیت کے بارے میں تمام اراکین مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی رکنیت کا موضوع آتا ہے تو اراکین کو اجتماعی طور پر اس بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
ان سے میڈیا میں آئی ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا جن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ترکیہ کو ایس سی او کا مکمل رکن بنانے کے حق میں نہیں ہے۔
یواین آئی ایف اے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کے احتجاج کے بعد عمر نے ارکان اسمبلی اور وزراء کی تنخواہوں میں اضافے کے بل واپس لیے
سری نگر، بی جے پی کے احتجاج کے بعد منگل کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزراء، وزرائے مملکت اور قانون ساز ادارے کے ارکان کی تنخواہوں اور الاؤنس میں اضافے کی تجویز والے 2 بل واپس لے لیے۔
اتفاق سے جموں و کشمیر اسمبلی کی ایک ایوانی کمیٹی نے، جس کی سربراہی بی جے پی کے رکن اسمبلی سرجیت سنگھ سلاتھیہ کر رہے تھے، مجوزہ اضافے کی منظوری دی تھی۔
بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے ایوان میں کہا کہ حکومت کو یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین اور معاہدے پر کام کرنے والے ملازمین کو راحت فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
بل پیش کیے جانے کے بعد بی جے پی ارکان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایوانی کمیٹی میں کوئی اختلافی نوٹ نہیں تھا، جس نے تنخواہوں اور الاؤنس میں مجوزہ اضافے کی سفارش کی تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے ارکان ایک طرف تنخواہوں اور الاؤنس کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو درپیش مسائل کا حوالہ دے کر اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’میں کبھی اس کے حق میں نہیں تھا۔ اپنے ارکان اسمبلی سے پوچھ لیجیے۔ اگر ایک بھی رکن اس کی مخالفت کرتا ہے تو یہ کبھی منظور نہیں ہوگا۔ میں بل واپس لیتا ہوں۔‘‘
اس کے بعد ایوان نے اکثریت سے قانون سازی واپس لینے کے حق میں ووٹ دیا۔
وزیر اعلیٰ نے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے انچارج وزیر کی حیثیت سے یہ بل واپس لیے۔
تاہم، ایوان نے سابق ارکان قانون ساز ادارے سے متعلق ایک بل منظور کرلیا۔ حکمراں اور اپوزیشن دونوں جانب کے ارکان نے کہا کہ چونکہ یہ بل سابق ارکان سے متعلق ہے، اس لیے اسے واپس نہیں لیا جانا چاہیے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے بلدیاتی نظم و نسق، کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی، ٹیکس نظام، ٹیکسوں کو معقول بنانے اور جرائم کو غیر فوجداری بنانے سے متعلق وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیے گئے 4 بل منظور کر لیے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بل 24 ستمبر اور 28 ستمبر کو پیش کیے تھے اور متعلقہ تاریخوں پر ارکان میں تقسیم کیے گئے تھے۔ بعد ازاں اسمبلی کے جاری خزاں اجلاس کے دوران انہیں غور و خوض اور منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کیے گئے بلوں میں جموں و کشمیر میونسپل (ترمیمی) بل بھی شامل ہے، جسے انہوں نے مکان اور شہری ترقی کے انچارج وزیر کی حیثیت سے پیش کیا۔
وزیر اعلیٰ نے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے انچارج وزیر کی حیثیت سے جموں و کشمیر کاروبار کرنے میں آسانی بل، 2026 پیش کیا۔
اس بل کا مقصد اجازت پر مبنی نظام کی جگہ ضابطوں پر مبنی نظم و نسق قائم کرنے کے لیے قانون کو یکجا اور اس میں ترمیم کرنا اور شہریوں اور کاروباری اداروں کو اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور کام کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی کو اس طرح فروغ دینا ہے کہ روزگار پیدا ہو، سرمایہ کاری راغب ہو اور طویل مدتی اقتصادی ترقی برقرار رہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر خزانہ کے طور پر اپنی حیثیت میں جموں و کشمیر اشیا و خدمات ٹیکس (ترمیمی) بل، 2026 بھی پیش کیا، جس میں جموں و کشمیر اشیا و خدمات ٹیکس ایکٹ، 2017 میں ترمیم کی تجویز ہے۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیا گیا ایک اور قانون سازی کا مسودہ جموں و کشمیر جرائم کو غیر فوجداری بنانے اور معقول بنانے سے متعلق بل، 2026 تھا۔ اس بل کا مقصد بعض قوانین میں ترمیم کرکے جرائم کو غیر فوجداری بنانا اور انہیں معقول بنانا ہے تاکہ زندگی گزارنے میں آسانی اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بعض قوانین کو منسوخ کرنے اور اس سے متعلق یا ضمنی معاملات کو نمٹانے کی بھی تجویز ہے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سی آئی ایس ایف کیمپ میں فائرنگ، 4 اہلکاروں کی مبینہ موت
جموں، جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع کے بسوہلی علاقے میں منگل کی شام آپسی فائرنگ کے ایک واقعے میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ اور سب انسپکٹر سمیت سی آئی ایس ایف کے 4 اہلکاروں کی مبینہ طور پر موت ہوگئی۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق سی آئی ایس ایف اہلکاروں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی، جس کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔‘‘ بسوہلی کے مَشکا علاقے میں سیوا پروجیکٹ کے قریب واقع سی آئی ایس ایف کیمپ میں آج شام فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اہلکار پروجیکٹ کی حفاظت کے لیے تعینات تھے۔
اسسٹنٹ کمانڈنٹ، سب انسپکٹر اور 2 جوانوں سمیت سی آئی ایس ایف کے 4 اہلکار شدید زخمی ہوگئے اور انہیں پڑوسی ریاست ہماچل پردیش کے این ایچ پی سی اسپتال لے جایا گیا، لیکن انہوں نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔
مرنے والے اہلکاروں کی شناخت اسسٹنٹ کمانڈنٹ انکِت کمار پانڈے، سب انسپکٹر لکشمن سنگھ، کانسٹیبل رفیق احمد اور کانسٹیبل سندیپ کمار کے طور پر ہوئی ہے۔مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
کٹھوعہ ضلع کی سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس موہیتا شرما نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا7 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
