جموں و کشمیر
میں کشمیری عوام کے دل جیتنے میں کامیاب ہوا ہوں:نریندر مودی
سری نگر، وادی کشمیر کے حسن و جمال کے لئے رطب اللسان ہوتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر ہمارے ملک کا تاج ہے انہوں نے کہا: ‘کشمیریوں کے دل جیتنا میرا مشن ہے اور میں اپنے اس مشن میں کامیاب ہوا ہوں’ ان کا کہنا تھا ‘جب بھی میں یہاں آتا ہوں تو لوگوں کے دل جیتنا میری ترجیح ہوتی ہے وزیر اعظم نے باتوں کا اظہار جمعرات کے روز یہاں بخشی اسٹیڈیم میں ایک عظیم الشان عوامی ریلی سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘ جب بھی میں یہاں آتا ہوں تو لوگوں کے دل جیتنا میری ترجیح ہوتی ہے اور آج آپ (لوگوں کے ہجوم) کو دیکھ کر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں کشمیریوں کے دلوں کو جیتنے میں کامیاب ہوا ہوں لیکن میں یہیں پر نہیں رکوں گا بلکہ آگے بھی میری کاوشیں جاری رہیں گی’۔
کشمیر کی خوبصورتی کی تعریفیں کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ‘دھرتی کے سورگ یعنی کشمیر کی سر زمین پر قدم رکھنے کے بعد میں اپنے احساسات و جذبات کو بیان کرنے سے قاصر ہوں، میرے پاس الفاظ نہیں ہیں یہاں کے خوبصورت پہاڑ اور ماحول دل کو چھو لیتے ہیں’۔
نریندر مودی نے کہا: ‘آج جو جموں وکشمیر منظر نامے پر نمو دار ہوا ہے ملک کے ہر شہری کا خواب تھا، صرف آپ نہیں بلکہ ملک بھر کے 285 بلاکوں میں لوگ میرا خطاب سن رہے ہیں’۔انہوں نے کہا: ‘آج ڈاکٹر شیام پرساد مکھر جی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ہےاور ان کی قربانی ثمر آور ثابت ہو رہی ہے اور آج میں سمجھ سکتا ہوں کہ میں کسی بھی مشکل چلینج پر قابو پا سکتا ہوں اور آج ملک کے 140 کروڑ لوگ وکست جموں و کشمیر دیکھ ر راحت کی سانس لے رہے ہیں’۔ان کا کہنا تھا: ‘کشمیری عوام کی طرف سے مجھے یہاں جو پیار ملا میں اس پیار کو واپس کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑو گا یہ مودی کی گارنٹی ہے’۔انہوں نے مودی کی گارنٹی کو کشمیری میں دہرا کر کہا: ‘یہ چھ مودی سنز گارنٹی’۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جموں میں، میں نے حال ہی میں 32 سو کروڑ روپیوں کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔انہوں نے کہا: ‘اور آج مختصر وقت میں، میں سری نگر میں 64 سو کروڑ روپیوں کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کروں گا’۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر بھارت کا تاج ہے اور کوئی بھی اس کو کامیابیوں کی بلندیوں کو چھونے سے نہیں روک سکتا ہے۔انہوں نے کہا: ‘ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب ترقیاتی منصوبوں کو ملک کے باقی حصوں میں تو عملی جامہ پہنایا جاتا تھا لیکن یہاں نہیں، لیکن آج وقت نے کروٹ بدلی ہے اور میں نے آج یہاں سے ملک کے باقی حصوں کے لئے اسکیموں کا افتتاح کیا ہے’۔
کانگریس اور دوسری سیاسی جماعتوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا: ‘دفعہ 370 سے ہمیشہ صرف ان ہی پارٹیوں کوفائدہ پہنچتا تھا عام لوگوں کو نہیں اور اب اس دفعہ کی تنسیخ کے بعد لوگوں کے خواب پورے ہو رہے ہیں اور ان کے دروازوں پر نئے مواقع دستک دہے رہے ہیں’۔
انہوں نے کانگریس کے بغیر کسی پارٹی کا نام نہ لیتے ہوئے کہا: ‘کچھ سیاسی جماعتیں دفعہ 370 کو اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے استعمال کر رہی تھیں لیکن اب وہ ختم ہوگیا ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘جموں و کشمیر کے خصوصی درجے کے خاتمے کے بعد پہلی بار مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں، اور دوسرے مستضعف طبقوں سے وابستہ لوگوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا یہ لوگ گذشتہ 70 برسوں سے اپنے حقوق کا انتظار کر رہے تھے’۔
جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں کو جموں و کشمیر بینک کو خراب کرنے کا قصور وار ٹھہراتے ہوئے نریندر مودی نے کہا: ‘یہ بینک ڈوبنے والا تھا اور لوگوں کو کروڑوں روپیوں کا نقصان ہو سکتا تھا’۔
انہوں نے کہا: ‘لیکن ہم نے اس بینک کو جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں کے چنگل سے آزاد کیا آج یہ بینک 17 سو کروڑ روپیوں کا منافع کما رہا ہے اس کا شیئر ریٹ 140 روپیے تک بڑھ گیا اور آج یہ بینک 2.25 لاکھ کروڑ روپیوں کی تجارت کر رہا ہے’۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جموں وکشمیر کو آج شادی بیاہ کی تقریب انجام دینے کے لئے سب سے زیادہ مطلوب جگہ کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا: ‘میں خود اس کے لئے مہم چلا رہا ہوں اور اب یہ پیغام پھیل چکا ہے کہ جموں وکشمیر میں شادی بیاہ کی تقریبات انجام دی جائیں اور یہاں کچھ دنوں کے لئے ٹھہرا جائے تاکہ یہاں مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچ سکے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ ما بعد جی ٹونٹی ٹورزم اجلاس جموں وکشمیر میں سیاحوں کا رش غیر معمولی طور پر بڑھ گیا ہے اور سال گذشتہ زائد از 2 کروڑ سیاحوں نے جموں و کشمیر کی سیر کی’۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ درج ہوا ہے۔
نریندر مودی نے کہا کہ سال گذشتہ شری امرناتھ جی یاترا کے لئے بھی ریکارڈ تعداد میں یاتری آئے اور یہی حال جموں میں ویشنو دیوی مندر کا بھی تھا۔انہوں نے کہا: ‘کچھ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ مودی کی کوئی فیملی نہیں ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے یں کہ پوری قوم میری فیملی ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘آج جموں وکشمیر کے لوگ میرے حریفوں کو یہ کہہ کر کہ ہم ان کی فیملی یں، بھر پور جواب دے رہے ہیں
انہوں نے کہا: ‘چونکہ ماہ رمضان آ رہا ہے جموں وکشمیر بھی امن اور خوشحالی کے ساتھ آگے بڑھے گا’۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آنے والے پانچ برسوں کے دوران جموں وکشمیر ترقیاتی منظر نامے پر نمایاں تبدیلی دیکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو ترقی اور خوشحالے کے منازل طے کرنے سے کوئی بھی روک نہیں سکتا ہے۔
یو این آئی – ایم افضل
جموں و کشمیر
پیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید پیرا نے بدھ کو جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں اعلیٰ افسران نے اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرارداد کے متن اور زبان پر سوال اٹھایا تھا۔
اسپیکر کو دیے گئے اپنے نوٹس میں پیرا نے ایوان میں وزیر اعلیٰ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ ’’قانون ساز ادارے کے استحقاق سے متعلق ایک سنگین سوال‘‘ اٹھاتا ہے۔
پیر کو عمر عبداللہ نے ایوان میں کہا تھا کہ قانون سکریٹری نے اسپیکر کو ایک خط لکھ کر وزیر اعلیٰ کی ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ دینے کی درخواست کی ہے۔ قانون سکریٹری کی جانب سے لکھا گیا خط چیف سکریٹری کے ذریعے اسپیکر تک پہنچایا گیا تھا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان اسمبلی کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی پیرا نے دلیل دی کہ کسی منتخب قانون ساز ادارے کو قراردادیں پیش کرنے، ان پر غور کرنے، ان میں ترمیم کرنے اور انہیں منظور کرنے کا اختیار پارلیمانی عمل کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی جانب سے انتظامی یا قانونی مشورہ ایوان کے قانون سازی کے اختیار پر ’’سوال اٹھانے، اسے محدود کرنے یا اس میں مداخلت کرنے‘‘ کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
پیرا نے اپنے نوٹس میں کہا، ’’اگر معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ قانون ساز ادارے کے استحقاق اور منتخب قانون ساز ادارے اور انتظامی بیوروکریسی کے درمیان آئینی علیحدگی سے متعلق ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ کسی بھی غیر منتخب افسر کو ایسی پوزیشن میں نہیں رکھا جانا چاہیے جہاں اس ایوان کے قانون سازی کے اختیار یا اس کے منتخب ارکان کے سامنے معاملات پیش کرنے اور ان پر بحث کرنے کے حق کو مؤثر طور پر بیوروکریسی کی منظوری سے مشروط کر دیا جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’لہٰذا میں اس ایوان کے وقار اور آئینی اختیار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس کے مراعات کے دائرۂ اختیار کا استعمال کر رہا ہوں۔ یہ صرف ایک قرارداد یا ایک رکن سے متعلق معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس ایوان کے ادارہ جاتی حقوق اور جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے ہمیں دیے گئے نمائندگی کے اختیار سے متعلق معاملہ ہے۔‘‘
ساتھ ہی پیرا نے واضح کیا کہ ان کی تحریک کو وزیر اعلیٰ کی قرارداد کی حمایت کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے اس کے متن، زبان اور وضاحت کی کمی پر شدید تحفظات ہیں اور میں نے ایک منتخب رکن کی حیثیت سے ان اعتراضات کو ایوان کے سامنے رکھنے کے اپنے حق کا استعمال کیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہمارے سامنے موجود معاملہ بنیادی طور پر مختلف ہے: سوال یہ ہے کہ کیا منتخب قانون ساز ادارے کو اپنے قانون سازی کے اختیارات استعمال کرتے وقت بیوروکریسی کی جانب سے جانچ، منظوری یا پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘
پیرا نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر سے معاملے کا نوٹس لینے، اعتراضات اٹھائے جانے کے حالات کا جائزہ لینے اور ایوان کے طریقۂ کار و کارروائی کے قواعد اور ایوان کے مراعات سے متعلق قابلِ اطلاق قانون کے تحت مناسب کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
پیرا نے کہا، ’’قانون ساز ادارے کے مراعات انفرادی ارکان کے مراعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایوان کے اختیار اور عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔‘‘
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
فوج نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی ایک طاقت کے طور پر ابھری ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی بنی ہے۔ وہ ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت منعقدہ 11ویں میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کی اختتامی تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ خدمت، ہمدردی، حوصلے اور عزم کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سری نگر کے کیمپ میں 144 کامیاب آپریشن کیے گئے، جبکہ کپواڑہ ضلع کے ٹنگدھر کیمپ نے سرحد پر منعقد ہونے والے پہلے میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کے طور پر ایک تاریخی سنگ میل قائم کیا۔
مشکل جغرافیائی حالات اور مسلسل خطرے کے باوجود ڈاکٹروں اور فوجیوں نے زیر زمین آپریشن تھیٹر قائم کیا اور صرف 2 دن میں 220 مریضوں کی بینائی بحال کی۔
انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے ٹنگدھر کے جغرافیائی حالات دیکھے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں مدد لے کر پہنچنا بھی ایک چیلنج ہے۔ پہاڑوں کو عبور کرنا، دشوار گزار علاقوں سے گزرنا اور بعض اوقات خطرے کے درمیان بھی آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اسی مشکل اور غیر یقینی ماحول میں بریگیڈیئر سنجے مشرا کی قیادت میں ہمارے ڈاکٹروں اور بہادر فوجیوں نے امید کا ایک مرکز قائم کیا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جدید جراحی آلات کو فضائی راستے سے ٹنگدھر پہنچایا گیا، جس سے ایسے علاقے میں آنکھوں کا جدید علاج ممکن ہوا جہاں پہلے اس طرح کی سہولیات کا تصور بھی مشکل تھا۔
کھیورپورہ، تنگدھر، باگ بیلا اور آس پاس کے گاؤں کے مریضوں نے اس کیمپ سے فائدہ اٹھایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’یہی حقیقی حوصلہ، فرض کے تئیں لگن اور خدمت کا حقیقی مفہوم ہے۔ اس پوری کوشش نے ایک بات بلا شبہ ثابت کر دی ہے کہ جہاں عزم مضبوط ہو، وہاں کتنی ہی بڑی مشکل کیوں نہ ہو، وہ ہندوستانی فوج کی انسانی خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر اور ٹنگدھر میں کیے گئے 364 آپریشن محض طبی اعداد و شمار نہیں بلکہ بدلی ہوئی زندگیوں کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج کے ڈاکٹروں کی قیادت میں ہر آپریشن عزتِ نفس کی بحالی اور امید کے دوبارہ جاگنے کی ایک داستان بن گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی بتایا کہ قومی سطح پر ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت 10 شہروں میں اب تک 1.5 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی آنکھوں کا معائنہ کیا جا چکا ہے اور 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ نے فوج اور مقامی برادریوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستانی فوج نہ صرف دفاعی طاقت ہے بلکہ ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے معاون عملے، فضائیہ کے پائلٹوں اور ان فوجیوں کی بہادری کو سلام پیش کیا جنہوں نے آلات پہنچانے، زیر زمین آپریشن تھیٹر تیار کرنے اور نامساعد حالات میں پیچیدہ آپریشنوں کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا، ’’ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی طاقت ہے بلکہ ضرورت کے وقت جموں و کشمیر کے عام شہریوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔ بینائی بحال کرکے فوج نے مریضوں کو امن، اعتماد اور باہمی یکجہتی کا ایک نیا نظریہ دیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر میں منعقدہ 11واں کیمپ اختتام نہیں بلکہ اس سفر کا ایک تسلسل ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ’آپریشن درشٹی‘ ملک بھر کے مزید گاؤں اور قصبوں تک پہنچے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ معیاری طبی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹنگدھر کیمپ ہندوستان کے دور دراز علاقوں کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’آپریشن درشٹی کے تجربے سے ہمیں اعتماد ملتا ہے کہ عزم، بہتر منصوبہ بندی اور ہمدردی کے ساتھ جدید طب کو ملک کے ہر کونے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کا عزم ہے اور معزز وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی شہری پیچھے نہ رہ جائے۔‘‘
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کیمپ کے دوران قابل قدر خدمات انجام دینے والے دفاعی افواج کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو اعزاز سے نوازا۔
انہوں نے مستفید ہونے والوں کو آپریشن کے بعد استعمال ہونے والی طبی کٹس بھی حوالے کیں۔
لیفٹیننٹ جنرل بلبیر سنگھ، جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)، چنار کور؛ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا، سینئر کنسلٹنٹ اور شعبۂ امراضِ چشم، آرمی ہاسپٹل آر اینڈ آر کے سربراہ؛ بریگیڈیئر بی وی راؤ، کمانڈنٹ، 92 بیس ہاسپٹل، اور سینئر سول و دفاعی افسران نے اختتامی تقریب میں شرکت کی۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
جاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
سری نگر، وزیر برائے محکمہ زرعی پیداوار جاوید احمد ڈار نے بدھ کو قانون ساز اسمبلی میں ہندوستان کے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی 2 رپورٹیں ایوان کی میز پر پیش کیں۔
وزیر نے یہ رپورٹیں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے مارچ 2023 اور مارچ 2024 کو ختم ہونے والی مدت کے لیے ایوان میں پیش کیں۔
ایوان کے سامنے پیش کی گئی رپورٹوں میں مارچ 2023 کو ختم ہونے والی مدت کے لیے ہندوستان کے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ (رپورٹ نمبر 03، 2026، جامع آڈٹ رپورٹ—شہری اور سرکاری شعبے کے ادارے) اور مارچ 2024 کو ختم ہونے والی مدت کے لیے ہندوستان کے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ (رپورٹ نمبر 04، 2026، جامع آڈٹ رپورٹ—شہری) شامل ہیں۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
دنیا6 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
ہندوستان6 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
