ہندوستان
نائب صدر انتخاب: مودی، سونیا، راہل، راجناتھ سمیت کئی لیڈران نے ووٹ ڈالے
نئی دہلی، نائب صدرجمہوریہ کے عہدےکے انتخاب میں وزیراعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، کانگریس کی سینئر رہنما سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی سمیت کئی لیڈران ووٹ ڈال چکے ہیں نائب صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ منگل کی صبح 10 بجے شروع ہوئی اور سب سے پہلے مسٹر مودی نے ووٹ ڈالا، جب وہ ووٹ ڈالنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تو ان کے ساتھ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو، قانون کے وزیر ارجن رام میگھوال، وزیراعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور شہری ہوا بازی کے وزیر کے۔ رام موہن نائیڈو موجود تھے۔
مرکزی وزیر گریراج سنگھ، نتن گڈکری، جی کشن ریڈی، رونییت سنگھ بٹو نے بھی ووٹ ڈال دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو، مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی، وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن، مرکزی وزیر جیوترا دتیہ سندھیا نے بھی ووٹ ڈال دیا ہے۔
اس کے علاوہ رکن پارلیمنٹ بانسری سُوراج، رام ویر بدھوڑی، منوج تیواری، مرکزی وزیر ہرش ملہوترا اور رکن پارلیمنٹ کمل جیت سہراوت نے بھی ووٹ ڈال دیا ہے۔
نائب صدر کے انتخاب میں لوک سبھا کے 542 موجودہ اراکین اور راجیہ سبھا کے 239 موجودہ اراکین ہی ووٹ ڈال سکیں گے، اس طرح الیکٹورل کالج میں اس وقت 781 ارکان ہیں اور کسی بھی امیدوار کو جیتنے کے لیے کم از کم 391 ووٹ کی ضرورت ہے۔ ووٹنگ صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگی اور ووٹوں کی گنتی کا آغاز شام 6 بجے سے ہوگا۔
نائب صدر کے انتخاب کے لیے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے مہاراشٹر کے گورنر سی پی رادھا کرشنن کو جبکہ انڈیا اتحاد نے سپریم کورٹ کے سابق جج بی سدرشن ریڈی کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں عددی طاقت کی بنیاد پر این ڈی اے کو واضح اکثریت حاصل ہے، اسی وجہ سے اس کے امیدوار کا پلڑا بھاری ہے۔
لوک سبھا کی کل رکنیت 543 ہے، لیکن ایک نشست خالی ہونے کی وجہ سے 542 اراکین ہی ووٹ ڈال سکیں گے۔ راجیہ سبھا میں کل رکنیت 245 ہے، جبکہ چھ نشستیں خالی ہیں، اس وجہ سے 239 اراکین ہی ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ اس طرح ووٹ ڈالنے کے اہل اراکین کی موجودہ کل تعداد 781 ہے۔
دونوں ایوانوں میں عددی طاقت کو دیکھتے ہوئے این ڈی اے کے لوک سبھا میں 293 اور راجیہ سبھا میں کم از کم 134 رکن ہیں، اس طرح این ڈی اے کے پاس کم سے کم 427 ووٹ ہیں، جو اکثریت کے لیے درکار 391 ووٹوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس طرح این ڈی اے کے امیدوار مسٹر رادھا کرشنن کے جیتنے کے قوی امکانات ہیں۔
انڈیا اتحاد کے لوک سبھا میں 249 اور راجیہ سبھا میں 105 رکن ہیں، اس طرح اتحاد کے پاس کل 354 ووٹ ہیں، جو اکثریت کے لیے درکار 391 سے کم ہیں۔
نائب صدر کے انتخاب کا نوٹیفکیشن 7 اگست کو جاری کیا گیا تھا، نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 21 اگست تھی، جبکہ نامزدگی فارم کی جانچ 22 اگست کوکی گئی تھی، جب کہ نام واپسی کی آخری تاریخ 25 اگست مقرر تھی۔
یو این آئی۔ ایس اے۔ایف اے
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
