ہندوستان
ناری شکتی وندن ایکٹ خواتین کی قیادت کے تئیں ہندوستان کے ترقی پسند نقطہ نظر کا عکاس ہے: لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی؛ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے آج ہندوستانی جمہوریت کو مضبوط بنانے میں خواتین کی قیادت کی تبدیلی کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی شمولیت اور انہیں بااختیار بنانا، خاص طور پر دیہی اور قبائلی برادریوں سے تعلق رکھنے والی خواتین، سماجی و اقتصادی تبدیلی کے لیے اہم ہیں۔ صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے ناری شکتی وندن ایکٹ کو خواتین کی قیادت کے تئیں ہندوستان کے ترقی پسند نقطہ نظر کا ثبوت قرار دیا۔
مسٹر نے برلا ایوان دستور کے تاریخی سنٹرل ہال میں منعقدہ ’پنچایت ٹو پارلیمنٹ 2.0‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ لوک سبھا سکریٹریٹ کے پارلیمانی ڈیموکریسی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ( پرائڈ ) نے قومی کمیشن برائے خواتین اور قبائلی امور کی وزارت کے اشتراک سے اس تقریب کا اہتمام کیا تھا۔
اس موقع پر مرکزی قبائلی امور کے وزیر جو ل اورم، خواتین اور بچوں کی بہبود کی وزیر مرکزی محترمہ اناپورنا دیوی، خواتین اور بچوں کی بہبود کی وزیر مملکت ساوتری ٹھاکر، لوک سبھا کے جنرل سکریٹری اتپل کمار سنگھ اور چیئرپرسن خواتین کے لیے قومی کمیشن کی محترمہ وجیا راہتکر بھی موجود تھیں۔
22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے پنچایتی راج اداروں ( پی آر آئی ایس ) کی 500 سے زیادہ قبائلی خواتین نمائندوں نے اس تقریب میں حصہ لیا۔ اس تقریب نے خواتین کی زیرقیادت ترقی اور نچلی سطح پر بااختیار بنانے کے تئیں ہندوستان کے عزم کی توثیق کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔ ہندوستان کے جمہوری اور ترقی کے سفر میں خواتین کی انمول شراکت کو اجاگر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے دستور ساز اسمبلی کی 15 خواتین اراکین کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کیا جن کے تعاون نے ہندوستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا ۔
ہندوستان کی آزادی کے 75 سال کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر نے پی آر آئی کے مندوبین سے مطالبہ کیا کہ وہ جھانسی کی رانی لکشمی بائی اور قبائلی رہنما بھگوان برسا منڈا جیسے عظیم انسانوں کی قربانیوں سے تحریک لیں، جو مساوات اور جدوجہد کی علامت رہے ہیں۔ . انہوں نے اس بات پرروشنی ڈالی کہ لارڈ برسا منڈا کی جدوجہد نہ صرف جنگلات اور زمین کے تحفظ کے لیے تھی بلکہ قبائلی برادریوں کے وقار اور عزت نفس کے تحفظ کے لیے بھی تھی۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ بھگوان برسا منڈا کی زندگی اور وراثت سے تحریک لیں۔
اس خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہ ہندوستان، جمہوریت کی ماں کے طور پر، حکمرانی میں خواتین کی شرکت کی ایک بھرپور وراثت رکھتا ہے جو دنیا کو متاثر کرتا رہتا ہے، مسٹر برلا نے کہا کہ پنچایتوں میں نچلی سطح سے لے کر پارلیمنٹ میں قومی میدان تک، خواتین کو قیادت حاصل رہی ہے۔ تبدیلی لانے، جوابدہی کو یقینی بنانے اور جامع ترقیاتی ماڈل بنانے میں ان کا اہم کردار رہا ہے ۔ انہوں نے پنچایتی راج اداروں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی تعریف کی، بہت سی ریاستیں خواتین کے لیے لازمی 33% ریزرویشن سے تجاوز کر چکی ہیں، بعض صورتوں میں یہ 50% سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ اقدامات علامتی نہیں ہیں بلکہ پائیدار اور جامع طرز حکمرانی کی جانب اہم اقدامات ہیں۔
مسٹر برلا نے پالیسی سازی میں محض حصہ لینے کی بجائے خواتین کو قیادت کے لیے جگہ دے کر 2025 کو خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک تاریخی سال بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے اس سال کو نئی قراردادوں کا سال بنانے پر زور دیا جس میں خواتین خود انحصار بنیں اور سماجی طور پر انصاف پسند، معاشی طور پر مضبوط قوم کی قیادت کریں اور اپنے خوابوں کو ملک کی تقدیر میں بدل دیں۔ مسڑ برلا نے خواتین کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ خواتین کی زیر قیادت ترقی اور دیہی خود انحصاری کو یقینی بنانے کے لیے آپس میں مقابلہ کریں۔ انہوں نے ان پر بھی زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت ( اے آئی )، مشین لرننگ اور جدت طرازی کو اپنائیں تاکہ اپنے حلقوں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں پر مبنی بنایا جا سکے۔ اس موقع پر مسٹر برلا نے سنساد بھاشینی کے ذریعے ان کے ساتھ بات چیت کی جو کہ 6 ہندوستانی زبانوں – گجراتی، مراٹھی، اوڈیا، تامل، تیلگو اور ملیالم میں تقریروں کا ترجمہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک اے آئی ٹول ہے۔
ینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی اور تعلیم جیسے دیہی مسائل سے نمٹنے میں خواتین کی قیادت سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مسٹر برلا نے قبائلی خواتین کے کاروباری جذبے کی تعریف کی جو روایتی دستکاری، آن لائن کاروبار اور مقامی پیداوار میں اقدامات کے ذریعے ابھر رہی ہیں۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
سیتا رمن نے دوحہ میں نیپال، سعودی عرب کے وزرائے خزانہ کے ساتھ دوطرفہ اہمیت کی حامل میٹنگیں کیں
نئی دہلی/ دوحہ، وزیرِ خزانہ محترمہ نِرملا سیتا رمن نے قطر کے اپنے دورے کے دوران نیپال کے وزیرِ خزانہ سوَرن واگلے کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
محترمہ سیتا رمن دوحہ میں ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی سالانہ میٹنگ کے سلسلے میں وہاں گئی ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ اس میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن نے اتوار کے روز نیپال کے وزیرِ خزانہ مسٹر واگلے کے ساتھ ایک الگ میٹنگ کی۔ دونوں وزراء نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہوئی دونوں کے درمیان دوبارہ ہوئی اس ملاقات پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے نئی دہلی میں ہوئی پچھلی میٹنگ کے دوران ہوئی بات چیت کو آگے بڑھانے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔
میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن اور مسٹر واگلے نے نیپال میں حال ہی میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد بحالی اور اصلاحات کے موضوع پر نیپال کے اندازے اور ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا۔ ساتھ ہی، دونوں نے اس مشکل وقت میں ہندوستان جو بھی مدد دے سکتا ہے، اس کی باریکیوں پر کام کرنے کے لیے دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان مسلسل بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزراء نے نئی دہلی میٹنگ میں شروع کیے گئے پروجیکٹوں کی پیش رفت پر بھی بات چیت کی اور مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یو ٹی آئی-این پی آئی لنکج کو جلد شروع کرنے اور استعمال کرنے پر بھی بات چیت ہوئی، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند پہل ہے۔
محترمہ سیتا رمن نے اے آئی آئی بی کے بورڈ آف گورنرز کی دوحہ کانفرنس کے دوران سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے بھی ملاقات کی۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان کی مضبوط معاشی کارکردگی اور بہتر ہوتے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے سیتا رمن کو مبارکباد دی اور سعودی معیشت پر اپنی رائے رکھی۔
محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ سعودی عرب ہندوستان کا قابلِ اعتماد اور اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ ساتھ ہی، انہوں نے دفاع، سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر، تعلیم، ثقافت اور لوگوں کے درمیان باہمی تبادلے جیسے کئی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان جامع شراکت داری کا ذکر کیا۔ دونوں وزراء نے ہند- سعودی عرب دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (بی آئی ٹی) پر بات چیت کے کامیاب اختتام کا خیر مقدم کیا۔ اس سے دوطرفہ سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد ڈھانچہ ملے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا۔ مسٹر الجدعان نے کہا کہ سعودی عرب اس کے جلد نافذ ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ سعودی عرب کے دوران ظاہر کیے گئے نقطۂ نظر کو یاد کرتے ہوئے، دونوں وزراء نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے پر تبادلۂ خیال کیا۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان سے سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرنے میں گہری دلچسپی دکھائی۔
محترمہ سیتا رمن نے اسی دوران سوئٹزرلینڈ کے سفیر اور اے آئی آئی بی میں اس کے نمائندے گورنر پریکشتروں لازیری سے بھی الگ سے ملاقات کی۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
خواتین کو گھر میں بند کرکے رکھنے میں نہیں، مجرموں پر کارروائی ہے حل : راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے خواتین کی سکیورٹی کےتعلق سے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں گھر میں بند کرکے رکھنا حل نہیں ہے بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانے اور خواتین کے خلاف جرائم کرنے والوں کو سزا دینے کی ضرورت ہے۔
مسٹر گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ ملک بھر میں خواتین سڑکوں پر چلنے کے دوران ہراسانی اور عصمت دری کے واقعات سے خوفزدہ ہیں اور حکومت کا جواب ہے کہ انہیں گھر میں رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام متاثرہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے اور مجرم کو بچاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حل خواتین کو گھر کے اندر رکھنا نہیں، بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والی مردانہ ذہنیت کا سامنا کرنا اور حملہ کرنے والوں کو تیزی سے اور بغیر کسی استثنیٰ کے سزا دینا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہزاروں طلبہ اور نوجوان خواتین کی سکیورٹی کے مطالبے کے حق میں سڑکوں پر ہیں۔ انہوں نے ملک بھر کی زیادہ سے زیادہ نوجوان خواتین، خاص طور پر جین زی سے بڑی تعداد میں آگے آنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ حکومت خواتین کے درد کے تئیں بہری ہے اور دباؤ پڑنے پر ہی سنے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرہ جمہوری حق ہے اور وہ اس کے ساتھ پوری طرح کھڑے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انتخابی کمیشن کو کٹھ پتلی بن کر کام نہیں کرنا چاہیے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ میں شفافیت، انتخابی عمل میں غیر جانبداری اور الیکشن کمیشن کی آزادی کو یقینی بنا کر ہر شہری کا ووٹ محفوظ کرنا ضروری ہے۔
مسٹر کھرگے نے منگل کے روز یہاں پارٹی کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز اکائی کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے سامنے ملک کی جمہوریت اور آئین کو بچانے کی تاریخی ذمہ داری ہے، لیکن آج ملک کے شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر مودی حکومت کی کٹھ پتلی بن کر کام کر رہے ہیں اور حکام کی من مرضی سے ووٹروں کے نام کاٹے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے حقِ رائے دہی کو جمہوریت کی سب سے بنیادی چیز بتایا تھا۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس کی لڑائی کسی پارٹی، ادارے یا فرد کے خلاف نہیں، بلکہ ہندوستان کے ووٹروں کے حقوق، آئین اور جمہوری نظام کو بچانے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اتنا مضبوط اور قابلِ اعتماد ہونا چاہیے کہ اقتدار میں شامل طبقہ اور اپوزیشن دونوں اس کے فیصلوں پر یکساں بھروسہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کے پانچ واضح مطالبات ہیں کہ ووٹر لسٹ میں ہونے والی ہر بڑی تبدیلی کا پورا ڈیٹا عام کیا جائے، ہٹائے گئے ووٹروں کو اس کی اطلاع اور اپیل کرنے کا موقع ملے، سیاسی جماعتوں کو ووٹر لسٹ سے متعلق ضروری ڈیٹا وقت پر آسان فارمیٹ میں دستیاب ہو، سنگین بے ضابطگیوں کی آزادانہ اور مقررہ وقت کے اندر جانچ ہو نیز انتخابی عمل سے جڑے اہم ڈیٹا اور فیصلوں میں شفافیت رکھی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹروں کو یہ بھروسہ ہونا چاہیے کہ ان کا ووٹ محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات آتے جاتے رہتے ہیں اور حکومتیں بھی آتی جاتی ہیں، لیکن جمہوریت اور آئین مستقل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مہادیوپورا، آلند نیز ہریانہ اور مہاراشٹر میں ووٹر کے اعداد و شمار سے جڑے سنگین سوالات دستاویزات کے ساتھ اٹھائے تھے۔ اگر الیکشن کمیشن نے ان امور پر سنجیدگی دکھائی ہوتی تو اس کی ساکھ بچی رہتی۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دو کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کی سرگرمیوں کو من مانا اور نا مناسب بتایا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے نیز وزیرِ اعظم سے اخلاقیات کی بنیاد پر استعفے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کو دیکھتے ہوئے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ کسی ووٹر کا حق نہ چھینا جائے، ہر شخص کا ووٹ محفوظ رہے اور انتخابات غیر جانبدارانہ ہوں۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
