تازہ ترین
نوجوان اُستاد کی پولیس حراست میں موت،مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی میں ہمہ گیر ہڑتال: مکمل رپورٹ
خبراردو:
28سالہ نوجوان اُستاد رضوان اسعد پنڈت ساکن اونتی پورہ پلوامہ کی پولیس حراست میں موت واقع ہونے کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی کال پر بدھ کو وادی کے سبھی اضلاع میں ہوکا عالم رہا جس دوران شمال و جنوب میں معمولات زندگی مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئے۔ معلوم ہوا کہ مزاحمتی قائدین کی کال پر شہر سرینگر سمیت اننت ناگ، کولگا م، پلوامہ، شوپیان، بڈگام، گاندربل، کپوارہ، بارہمولہ، سوپور سمیت بانڈی پورہ میں نوجوان کی زیر حراستی موت کے خلاف سکوت کا عالم چھایا رہا جس کے نتیجے میں وادی بھر میں عوامی، تجارتی، کاروباری، تعلیمی اور غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طورپر ٹھپ رہیں۔ ادھر مزاحمتی قیادت کی جانب سے نوجوان کی موت کے خلاف پورے جموں وکشمیر میں ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کے پیش نظر عوامی احتجاج سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے شہر سرینگر سمیت پلوامہ، اونتی پورہ، ترال، کولگام، دیوسر، دمحال، شوپیان، اننت ناگ، سوپور، حاجن، رفیع آباد، کپوارہ، لنگیٹ، ترہگام، پٹن، خانصاحب بڈگام، بیروہ، چاڈورہ، چرار ، منی گام، لار، ددرہامہ، کنگن کے علاوہ متعدد حساس مقامات پر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کردیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ان علاقوں میں دن بھر سکوت کا عالم چھایا رہا جبکہ یہاں اہلکاروں کی تعیناتی کے نتیجے میں لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ نے شہر سرینگر کے حساس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات عمل میں لائے تھے جس دوران یہاں دن بھر تمام قسم کی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔
شہر خاص کے نوہٹہ، خانیار، رعناواری، راجوری کدل، صراف کدل، حول، نوشہرہ، صورہ، آنچار، صفاکدل، فتح کدل، قمر واری، نور باغ، پارمپورہ جیسے علاقوں میں سیکورٹی کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا تھا جو دن بھر یہاں سڑکوں پرالرٹ تھے۔ کے این ایس سٹی رپورٹر کے مطابق ہڑتالی کال کے نتیجے میں شہر کے قلب واقع لعل چوک اور ملحقہ علاقوں میں تجارتی اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر سے گاڑیوں کی نقل و حمل مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ لعل چوک کی سڑکوں پر بدھوار کو دن بھر سکوت کا منظر چھایا رہا جبکہ عام دنوں میں معمول کا کاروبار کرنے والے ریڈے بان اور فٹ پاتھ پر بیٹھے والے دیگر کاروباری اسٹال بھی بند پڑے رہے۔ جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ، پلوامہ، ترال، کولگام، اننت ناگ، کھنہ بل، شوپیان سمیت متعدد علاقوں میں مزاحمتی قیادت کی کال مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں تمام قسم کے معمولات متاثر رہے۔
نمائندے کے مطابق نوجوان استاد کی پولیس لاک اپ میں موت واقع ہونے کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے جس کے خلاف بدھ کو جنوبی کشمیر کے تمام علاقوں میں غیر معمولی ہڑتال کا مظاہرہ دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کی وجہ سے جنوبی کشمیر میں تمام قسم کی تجارتی، کاروباری، نجی، تعلیمی اور غیر سرکاری سرگرمیاں بند رہیں جبکہ جنوبی کشمیر کے اندرون و بیرونی راستوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بھی ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ادھر شمالی کشمیر کے کپوارہ، ہندوارہ، لنگیٹ، رفیع آباد، سوپور، بارہمولہ، پٹن، حاجن، بانڈی پورہ سمیت کئی علاقوں میں انتظامیہ نے فورسز کے اضافی دستوں کو تعینات کیا ہوا تھا جس کے نتیجے میں ان علاقوں میں دن بھر ہوکا عالم چھایا رہا۔ معلوم ہوا کہ نوجوان استاد رضوان اسعد پنڈت کی پولیس لاک اپ میں موت واقع ہونے کے خلاف شمالی کشمیر کے سبھی اضلاع میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں معمول کی سرگرمیاں مکمل طورپر ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال کے بیچ یہاں عوامی، تجارتی، کاروباری اور غیر سرکاری سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ سڑکوں پر سے گاڑیوں کی آوا جاہی بھی نہ ہونے کے برابر رہی۔
اس دوران نوجوان کی زیر حراست موت اور مزاحمتی قائدین کی طرف سے احتجاجی کال کے پیش نظر انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے چاروں اضلاع اننت ناگ،کولگام، پلوامہ اور شوپیان میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور بے بنیاد افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات کو مکمل طور پر بند کردیا جبکہ وسطی کشمیر کے سرینگر اور بڈگام علاقوں میں انٹرنیٹ کی تیز رفتار سروس پر لگام کستے ہوئے اسے 2Gمیں تبدیل کیا گیا جس کے نتیجے میں تجارت پیشہ افراد کے ساتھ ساتھ مختلف مسابقتی امتحانات کی تیاریوں میں مشغول طلبا و طالبات کی ایک بڑی تعداد کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔عوامی احتجاج کے پیش نظر ریلوے جائیداد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ ریلوے نے بھی بارہمولہ سے بانہال تک چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔
محکمہ ریلوے کے ایک سینئر افسر نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ منگل کو اونتی پورہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان اُستاد کی پولیس حراست میں موت واقع ہونے اور مابعد حریت کی طرف سے احتجاجی کال کے پیش نظر محکمہ نے صورتحال کو معمول کے مطابق بحال ہونے تک بارہمولہ سے بانہال تک چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر میں سیکورٹی صورتحال اورممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر ہی بانہال سے بارہمولہ تک ریل سروس کو معطل کیا گیا ہے۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
