جموں و کشمیر
نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کا بڈگام اور نگروٹہ کی سیٹوں کے ضمنی انتخابات میں تاخیر پر سوال
سری نگر، حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس اور اپوزیشن جماعت پی ڈی پی نے جموں و کشمیر کی بڈگام اور نگروٹہ اسمبلی نشستوں کے ضمنی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔مذکورہ پارٹیوں کا یہ رد عمل اس وقت سامنے آیا ہے جب الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے اتوار کو کیرالہ، گجرات، پنجاب اور مغربی بنگال میں پانچ اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کا اعلان کیا۔ یہ انتخابات 19 جون کو ہوں گے اور گنتی 23 جون کو ہوگی۔
واضح رہے کہ وسطی کشمیر میں بڈگام اسمبلی نشست اس وقت سے خالی پڑی ہے جب سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گاندربل کے حق میں اس سیٹ سے استعفیٰ دے دیا۔عمر عبداللہ نے گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں دونوں حلقوں سے الیکشن لڑا تھا اور کامیابی حاصل کی تھی۔جموں کی نگروٹہ سیٹ انتخابات کے فوراً بعد بی جے پی رکن اسمبلی دیویندر رانا کی موت کے بعد خالی ہوئی تھی۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور رکن اسبملی تنویر صادق نے سوال کرتے ہوئے کہا: ‘بڈگام اور نگروٹہ کے بغیر باقی ریاستوں میں اسمبلی نشستوں کے ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں صرف جموں وکشمیر میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے’۔انہوں نے الیکشن کمیشن سے جموں وکشمیر کی راجیہ سبھا سیٹوں کے لئے بھی انتخابات کرانے کی اپیل کی’۔ان کا کہنا تھا: ‘اسمبلی انتخابات کے زائد از 6 ماہ گذر گئے لیکن یہ انتخابات نہیں ہو رہے ہیں’۔
ادھر پی ڈی پی نے جموں و کشمیر میں خالی ہونے والی اسمبلی نشستوں کے ضمنی انتخابات کے اعلان میں طویل تاخیر پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے جمہوری اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
پارٹی کے ترجمان اعلیٰ ڈاکٹر محبوب بیگ نے بتایا: ‘ جموں و کشمیر کے عوام صبر سے نمائندہ حکومت کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔ جہاں الیکشن کمیشن اتر پردیش، کیرالہ اور پنجاب جیسی ریاستوں میں ضمنی انتخابات کا اعلان کرنے میں تیزی سے کام کر رہا ہے وہیں جموں و کشمیر پر اس کی خاموشی پریشان کن اور امتیازی ہے’۔نہوں نے کہا: ‘ یہ تاخیر نہ صرف ہمارے لوگوں کی جمہوری امنگوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ انہیں انتخابی عمل سے مزید دور کرنے کا بھی خطرہ ہے’۔
ڈاکٹر بیگ نے کہا: ‘ای سی آئی کے نقطہ نظر میں تضاد جموں اور کشمیر کے جمہوری عمل کے لئے ترجیح کی کمی کی عکاسی کرتا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘کمیشن کو عوام کی نمائندگی کے حق کو برقرار رکھنے کے لئے مزید تاخیر کے بغیر کام کرنا چاہئے’۔انہوں نے کمیشن سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تاخیر کے پیچھے وجوہات کی وضاحت کرے۔ان کا کہنا تھا: ‘اگر لاجسٹک یا سیکورٹی کے خدشات ہیں تو الیکشن کمیشن کو ان کو عوام تک واضح طور پر بتانا چاہیے۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کو اندھیرے میں رکھنا ناقابل قبول ہے۔ ہم ای سی آئی پر زور دیتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے ساتھ بھی اسی طرح کی عجلت اور اہمیت کے ساتھ برتاؤ کرے جس طرح دوسری ریاستوں میں کیا گیا’۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
