جموں و کشمیر
وادی بھر میں دہشت گرد معاونین کے خلاف پولیس کا بڑا کریک ڈاون
سری نگر،جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کو وادی کے مختلف علاقوں میں ایک وسیع کارروائی انجام دیتے ہوئے اُن مقامی افراد کے خلاف چھاپے مارے جو پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں موجود دہشت گردوں کی مدد کر رہے تھے۔ یہ کارروائی ریاست بھر میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو جڑ سے ختم کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ بتائی جا رہی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق چھاپے اننت ناگ، شوپیاں، کولگام، بڈگام، گاندربل، سوپوراور ہندواڑہ کے علاقوں میں مارے گئے۔
اننت ناگ ضلع میں پولیس نے پہلگام کے لیور علاقے میں کالعدم تنظیم حزب المجاہدین کے خودساختہ آپریشنل کمانڈر غلام نبی عرف عامر خان اور تنظیم کے مالی سربراہ ظفر بٹ کے آبائی گھروں پر چھاپے مارے۔
حکام کے مطابق، خان اور بٹ 1990 کی دہائی میں اپنے گھروں سے فرار ہوکر پاکستان چلے گئے تھے اور وہیں سے ہند مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
ہندواڑہ میں پولیس نے اُن افراد کے گھروں اور احاطوں کی تلاشی لی جو اس وقت پاکستان سے سرگرم دہشت گردوں کے رشتہ دار یا قریبی ساتھی ہیں، یا جن کے روابط کالعدم تنظیموں سے پائے گئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ یہ کارروائیاں اس بات کا سراغ لگانے کے لیے کی گئیں کہ آیا علاقے کے اندر سے ان دشمن عناصر کو کسی قسم کی مالی، مادی یا مواصلاتی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
کولگام میں بھی ایسے افراد کو نشانہ بنایا گیا جو سرحد پار اپنے رشتہ داروں کے کہنے پر دہشت گردی کی مالی معاونت یا سہولت کاری میں ملوث تھے۔کئی ایسے رشتہ داروں اور ساتھیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں جو مسلسل بھارت مخالف سرگرمیوں میں مدد فراہم کر رہے تھے، جن میں لاجسٹک سپورٹ، پروپیگنڈا پھیلانا اور بھرتی میں تعاون شامل ہے۔
سوپور میں پولیس نے اوور گراؤنڈ ورکرز اور پاکستان میں بیٹھے دہشت گرد ہینڈلرز کے مقامی رابطوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا۔ متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے۔
حکام نے بتایا کہ ان افراد سے ان کے رابطوں، مالی ذرائع اور پاکستان میں موجود ہینڈلرز کے ساتھ مواصلاتی چینلز کے بارے میں تفصیلی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ کارروائیاں دہشت گردی کے مقامی انفراسٹرکچر اور مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کرنے کی طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متعدد مشتبہ افراد کو احتیاطی حراست کے تحت ذیلی جیلوں میں بند کیا گیا ہے، جبکہ دیگر کے خلاف سکیورٹی کی دفعات کے تحت کارروائی جاری ہے تاکہ وہ مستقبل میں دشمن عناصر کی مدد نہ کر سکیں۔
ذرائع کے مطابق سوپور پولیس ضلع کے متعدد مقامات پر چھاپے جاری ہیں اور ٹیمیں مقامی دہشت گرد نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کی نشاندہی کے لیے سرگرم ہیں۔
گاندربل پولیس نے ہفتہ کو پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں سرگرم کشمیری دہشت گردوں کے مقامی نیٹ ورکس کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا۔ یہ کارروائی اُن عناصر کے خلاف کی گئی جو ریاست میں تخریبی اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، مستند انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر ضلع گاندربل کے 60 مختلف مقامات پر بیک وقت تلاشی لی گئی۔
یہ کارروائیاں اُن افراد کو نشانہ بناتی ہیں جو سرحد پار موجود اپنے رشتہ داروں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ضلع میں دہشت گردی کی مالی معاونت، سہولت کاری اور فروغ میں ملوث پائے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق، کارروائی کے دوران متعدد ایسے افراد—جو پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کے رشتہ دار یا قریبی ساتھی ہیں—کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں جیسے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنا، دہشت گرد بھرتی میں مدد دینا اور بھارت مخالف پروپیگنڈا پھیلانا میں شامل تھے۔
پولیس نے چھاپوں کے دوران ڈیجیٹل آلات اور قابلِ اعتراض مواد کی ایک بڑی کھیپ بھی ضبط کی، جسے اہم سراغ حاصل کرنے کے لیے تفصیلی طور پر جانچا جا رہا ہے۔
گاندربل پولیس نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے پورے سپورٹ نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑنے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
پولیس ترجمان کے مطابق جو بھی عناصر دہشت گردوں کی مدد یا حمایت میں ملوث پائے جائیں گے، انہیں قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
پولیس نے مزید کہا کہ گاندربل ضلع میں امن، استحکام اور شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانا اُس کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
