اہم خبریں
وادی بھر میں ولادت باسعادتؐ عقیدت واحترام کے ساتھ منایاگیا
سر ینگر: پیغمبر آخر زماں اور محسن انسانیت حضرت محمدمصطفیٰؐ کی ولادت باسعادت کے سلسلے میں وادی بھر کی درگاہوں، خانقاہوں،امام باڑوں اور مساجد و عبادت گاہوں میں درود و اذکار کیساتھ ساتھ روح پروراجتماعات اور محفلیں آراستہ ہوئیں۔ وادی میں سب سے بڑی تقریب آثار شریف درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوئی جہاں سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے نمازفجرسے نمازعشاء تک ہزاروں فرزندان توحید موئے مقدس سروردوعالمؐ کے دیدارسے فیضیاب ہوئے۔
اس دوران وادی کے مختلف علاقوں میں جشن میلادؐ کے جلوس برآمد ہوئے جن میں عاشقان رسولﷺ بارگاہ رسالت کے تئیں اپنا والہانہ عقیدت پیش کیا۔ سی این ایس کے مطابق پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد مصطفےٰؐ کا یوم ولادت باسعادت منگل کو پوری دنیا کے ساتھ ساتھ وادی بھر میں بھی بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا جس دوران جموں وکشمیر کے طول و عرض میں روح پرور مجالس کا اہتمام کیا گیاجس میں عاشقان رسول نےؐ بارگاہ رسالت کے تئیں والہانہ عقیدت پیش کیا۔دماغوں کو روشن دلوں کو منور اور طبعیتوں کو محسور کرنے والی ان مجالس میں علماء اور ایماء مساجد و خطباء نے فلسفہ میلاد کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے عالم اسلام کیلئے خصوصی دعائیں مانگیں اور اس دن کو پوری کائنات کیلئے نوید کا دن قرار دیتے ہوئے مقررین نے اسلام کو انسانیت کی بقا اور فلاح و بہبود کا مضمر قرار دیااور آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نذ رانہ عقیدت کے پھول نچھاور کئے گئے۔
ماہ ربیع الاول کی آمد کے سلسلے میں سرینگر اور وادی کے ہر چھوٹے بڑے، قصبے اور گاؤں کی گلیاں، کوچے، بازار اور چوراہے برقمی قمقموں سے منور ہیں اور ہر سو سبز پرچموں کی بہار ہے، اس کے علاوہ نیم سرکاری اور نجی عمارتوں، مارکیٹوں اور بازاروں کو انتہائی خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔ ولادت با سعادت کے سلسلے وادی میں سب سے بڑی تقریب آثار شریف حضرت بل سرینگر میں منعقد ہوئی جہاں دوردراز علاقوں سے آئے ہوئے فرزندان توحید جن میں خواتین کی خاصی تعداد بھی شامل تھی صبح سے ہی درودو اذکار اور ختمات المعظمات میں محو رہنے کے علاوہ اللہ کے حضورسربسجود رہے اوراپنے حق میں مغفرت کی دعا ئیں مانگتے رہے اور یہاں ہزاروں فرزندان توحید بشمول مرد وزن نماززفجر،نماز ظہرعصر،مغرب اور نماز عشاء کے بعد دیدار موئے مقدس ﷺ کا فیض حاصل کیا۔ نمائند ئے کے مطابق صبح سے ہی تقریب میں شرکت کیلئے وادی کے اطراف واکناف سے ہزاروں کی تعداد میں عاشقان رسولؐ نے درگاہ حضرتبل کا رْخ کیا۔
نماز ظہر سے قبل ہی حضرتبل کا پورا علاقہ رْوح پرور اسلامی نعروں اور درودحضورؐ سے گونج رہا تھا۔نمائندے کے مطابق نماز ظہر ادا کرنے کے فوراً بعد موئے مقدس ﷺ کی جلوہ نمائی کاعمل شروع ہواجس کے دوران عقیدت مندوں کا جم غفیر نظر آیا جو اپنے گناہوں کی مغفرت کیلئے روز قطار رو رہے تھے۔ اس موقعے پر خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی وہاں موجود تھی اور ان کے آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے جبکہ عقیدت مندوں کی آہ وزاری سے حضرت بل کی فضائیں گونجتی رہیں اور ہر طرف نالہ و زاری کی صدائیں بلند ہورہی تھی
عقیدت مند زیارت کے دیواروں، وہاں موجودپیڑوں اور مکانوں کی چھتوں پر موئے شریفؐ کی زیارت کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ اس دوران نماز عصر، نماز مغرب اور نماز عشاء کے موقعہ پر بھی دیدار موئے مقدس ﷺکا فیض حاصل کیااور اس طرح شام تک حضرتبل اور اس کے گرد ونواح میں عاشقان رسول ﷺکا اژدھام نظر آرہا تھا۔درگاہ میں لاتعداد زائرین اور عاشقان رسولﷺ کو سہولیات بہم رکھنے کیلئے صوبائی وضلع انتظامیہ اور وقف بورڈ کے ساتھ ساتھ کئی سرکاری محکموں اور نجی اداروں و تنظیموں نے بھی خصوصی انتظامات کئے تھے.
زائرین کے بھاری رش کے پیش نظر مختلف علاقوں سے یہاں پہنچنے والی گاڑیوں کی پارکنگ کیلئے نگین اور یونیورسٹی احاطہ میں انتظامات رکھے گئے تھے جبکہ نقب زنوں اور چوروں کی سرگرمیوں پر نظر گذر رکھنے اور علاقہ میں میلاد تقریب کے دوران صورتحال کو قابو میں رکھنے کیلئے پولیس کی اضافی نفری جگہ جگہ تعینات کی گئی تھی اور سرینگر پولیس نے علاقہ میں خصوصی گشتی اسکارڈ بھی تعینات کئے تھے۔ محکمہ صحت کی طرف سے حضرتبل علاقہ میں خصوصی طبی کیمپ لگائے گئے تھے جبکہ بوقت ضرورت بیماروں کو اسپتال پہنچانے کیلئے کئی ایمبولنس گاڑیوں کو بھی یہاں رکھا گیا تھا جبکہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز نے بھی یہاں ہنگامی طور پر کئی گاڑیوں اور درجنوں ملازمین کو ہمہ وقت سریع الحرکت رکھا تھااور اس کے ساتھ ساتھ محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے یہاں واٹر ٹینکر بھی جگہ جگہ تیار رکھے گئے تھے۔
عید میلاد النبی ؐ کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں علماء اور ایماء مساجد و خطباء نے حضرت محمد مصطفیٰ ؐکی ولادت باسعادت کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ دن پورے عالم انسانیت کے لئے ایک خوشی کا دن ہے کیونکہ اسی روز پیغمبر آخر الزمانؐ اس دنیا میں مبعوث ہوئے جن کیلئے اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو وجود میں لایا۔علماء نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ رسول اللہؐکی حیات طیبہ کو اپنی مشعل راہ بناتے ہوئے آپؐ کے فرمودات پر عمل کریں اور اسی میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے علام انسانیت کی بقاء،فلاح اور بہبود ہے۔ سی این ایس کے مطابق شہر سرینگر میں جناب صاحب صورہ،شہری کلاشپورہ،سید صاحب سونہ وار کے ساتھ ساتھ بارہمولہ،پنجورہ شوپیان،کھرم سرہامہ،سیر ہمدان،کعبہ مرگ اور دیگر کئی مقامات پرواقع زیار ت گاہوں،آستانوں اور مساجد میں بھی روح پرور تقاریب کا اہتمام ہوا۔
سرینگر شہر میں جناب صاحب صورہ، شہری کلاش پورہ کے علاوہ آستان عالیہ سید صاحب سونہ وار میں بھی عید میلاد النبی ؐ کی مناسبت سے خصوصی اور روح پرور اجتماعات کا انعقاد کیا گیا اور ان اجتماعات میں بھی ہزاروں فرزندان توحید نے شرکت کر کے نبی آخر الزماں ؐکے تئیں اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کیا۔ دریں اثناء سرینگر کے خانقاہ معلی نماز جمعہ کے بعد ختمات المعظمات، درود ازکار اور اوراد خوانی کی روح پرور مجالس کا انعقاد ہوا۔ آثار شہری کلاش پورہ میں نماز ظہر کے بعد موئے پاک آنحضورؐکے دیدار کے ساتھ ساتھ دیگر تبروکات سے فیضیاب ہوئی۔ بارہمولہ، کھرم سرہامہ، سیر ہمدان، آثار شریف پنجورہ شوپیاں میں بھی عید میلاد النبی ؐ کے سلسلے میں خصوصی تقاریب اور اجتماعات کا انعقاد ہوا جن میں ہزاروں عاشقان رسولؐ نے شرکت کی۔پلوامہ سے نمائندے نے بتایا کہ پانپور اور ترال میں واقع آستان عالیہ میں عید میلاد النبی ؐکے سلسلے میں روح پرور تقریب کا انعقاد ہوا جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ یہاں کئی تبرکات کی نشاندہی کرنے کے دوران فرزندان توحید کے فلک شگاف نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور درود حضورؐ سے پوری فضاء معطر ہوئی۔
اْدھر کھرم سرہامہ، سیر ہمدان اور آثار شریف پنجورہ شوپیاں کے علاوہ دیگر کئی علاقوں میں واقع زیارتگاہوں میں بھی عید میلاد النبیؐکی مناسبت سے خصوصی اور بابرکت مجالس و تقاریب کا اہتمام کیا گیا جن میں ہزاروں فرزندان توحید نے شرکت کر کے حضور پْر نور ؐ کے تئیں اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کیا۔ ادھرجموں میں واقع مسلم اکثریتی اضلاع و علاقوں بشمول ڈوڈہ،بھدرواہ،کشتواڑ،بانہال،رام بن،راجوری،تھنہ منڈی،پونچھ،سرنکوٹ اور جموں شہر کے کئی علاقوں میں بھی عیدمیلادالنبی ؐکی اختتامی تقریب کے موقعہ پر روح پرور اور بابرکت مجالس کا انعقاد ہوا،جن میں لاکھوں فرزندان توحید نے تزک و احتشام کے ساتھ شرکت کی۔
دریں اثنا آج شہر سرینگر سمیت وادی کے مختلف قصبوں اور دیہات میں جشن میلاد النبی ﷺ کے جلوس نکالے گئے جن میں عقیدت مندوں نے حضرت محمدؐ کے ولادت کے تئیں اپنے والہانہ عقیدت کا اظہار کیا۔ گاندربل ماگام بڈگام، ہارون، سرینگر میں بھی جشن میلاد کے جلوس نکالے گئے جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اس کے علاوہ وادی کے مختلف اسکولوں اور دینی مدرسوں و دارلعلوموں سے بھی جشن میلاد کے جلوس برآمد ہوئے۔اس مناسبت سے صوبہ جموں کے مسلم علاقوں میں بالعموم خصوصی مجالس کا اہتمام کیا گیا۔ جبکہ اس مناسبت سے دینی مدرسوں، دانشگاہوں اور خانقاہوں میں خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
