تازہ ترین
وادی میں دو الگ جھڑپوں میں 4 عسکریت پسند جاں بحق : مکمل رپورٹ
خبراردو: پلوامہ، کوکرناگ اور سوپور میں فوج اور جنگجوﺅں کے مابین خونین معرکہ آرائیاں واقع ہوئی جن میں4جنگجو جاں بحق ہوئے جبکہ پولیس نے مارے گئے جنگجوﺅں کی تحویل سے قابل اعتراض مواد کےساتھ ساتھ اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوج و فورسز نے پلوامہ کے پنزگام علاقے میں دوران شب جنگجوﺅں سے متعلق مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد کارڈن اینڈ سرچ آپریشن عمل میں لاتے ہوئے علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی کا آغاز کیا۔پولیس ذرائع کے مطابق فوج کی 55آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹی نے جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو پنزگام علاقے کا محاصرہ عمل میں لاکر یہاں جنگجو مخالف آپریشن شروع کردیا۔ پولیس کے بقول فورسز نے جونہی علاقے میں داخل ہوکر گھر گھر تلاشی شروع کی تو اسی اثنا میں یہاں موجود مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے تلاشی پارٹی پر بندوق کے دہانے کھول دئے جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے جوابی کارروائی شروع کی اور اس طرح علاقے میں جھڑپ کاآغاز ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ رات کے 1بجے تا صبح ساڑھے 9بجے طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ جاری تھاتاہم صبح 10بجے کے قریب جائے جھڑپ کے نزدیک گولیوں کا تبادلہ تھم گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس موقعے پر فورسز اہلکاروں نے جائے جھڑپ کے نزدیک پہنچنے کی کوشش کی اور یہاں ملبے کی باریک بینی سے تلاشی شروع کی جس کے بعد ملبے سے 3جنگجوﺅں کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ پولیس کے مطابق مارے گئے جنگجوﺅں کی شناخت شوکت احمد ڈار ولد غلام رسول ڈار ساکن پنزگام، مظفر احمد شیخ ولد عبدالعزیز ساکن ٹہب اور عرفان احمد وانی ساکن سوپور کے طورپر ہوئی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مارے گئے جنگجوﺅں کا تعلق حزب المجاہدین کے ساتھ ہیں جن کی تحویل سے قابل اعتراض مواد کے علاوہ اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کرلیا گیا۔ادھر علاقے میں جھڑپ کے اختتام پر نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز پارٹی پر پتھراﺅ کیا جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔فورسز نے احتجاج کررہے نوجوانوں کو منتشر کرنے کی خاطر آنسو گیس کے گولوں کےساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی ۔ ادھر شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ کے ہتھ لنگو علاقے میں سنیچر کو فوج اور جنگجوﺅں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک جنگجو مارا گیا۔ معلوم ہو اکہ فوج کی 23آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف نے مشترکہ طور پر سوپور کے ہتھ لنگو علاقے کا محاصرہ عمل میں لاکر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔ فورسز نے علاقے میں جنگجوﺅں سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد علاقے کا چہار سو سخت محاصرہ عمل میں لاکر یہاں کسی بھی شخص کے عبور و مرور پر قدغن عائد کی۔ اس دوران فورسز نے علاقے کے کھیت اور باغات میں سخت پہرہ بٹھاتے ہوئے جنگجوﺅں کے تماممکنہ فرار راستوں کو سیل کردیا۔ فورسز نے اس موقعے پر علاقے میں مزید کمک طلب کرتے ہوئے جگہ جگہ بلٹ پروف گاڑیوں کو تعینات کردیا۔ اس دوران فورسز نے جنگجوﺅں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی شروع کی جس کے ساتھ ہی علاقہ گولیوں کی گن گرج سے لرز اُٹھا۔ معلوم ہوا کہ جھڑپ کے اختتام پر یہاں ایک جنگجو مارا گیا جس کی شناخت وسیم احمد نائک ساکنہ اونتی پورہ کے بطور ہوئی ہے ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے مارے گئے جنگجو کی تحویل سے اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا ۔
ادھر پولیس نے سنیچر کو مارے گئے جنگجوﺅں سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ وہ پولیس ، سی آر پی ایف اور عام شہریوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ مارے گئے جنگجو پولیس کے کئی عرصے سے مطلوب تھے ۔ اس دوران جنوبی کشمیر کے کوکرناگ علاقے میں سنیچر کی صبح فورسز نے پرانے قصبے کا محاصرہ عمل میں لاکر یہاں گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی۔ علاقے میں محاصرہ قائم ہونے کے ساتھ ہی یہاں نوجوانوں کی چند ٹولیوں نے فورسز کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی خاطر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں علاقے میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ معلوم ہوا کہ فوج، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹی نے دہرونہ کوکرناگ علاقے کامحاصرہ عمل میں لاکر یہاں جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا۔ ذرائع کے مطابق فورسز کو مصدقہ اطلاع موصول ہوچکی تھی کہ علاقے میں لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے طارق احمد خان نامی جنگجو پناہ لئے ہوئے ہے ۔اس دوران فورسز نے جونہی مشتبہ مقام کے نزدیک پہنچنے کی کوشش کی تو یہاں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے فورسز پارٹی پر کئی گولیاں چلائی جس کے ساتھ ہی علاقے میں مختصر وقفے تک طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ تاہم چند منٹ بعد جونہی فورسز نے جائے جھڑپ کے ارد گرد تلاشی لی توانہوں نے یہاں پر کسی کو نہیں پایاجس کے ساتھ ہی فورسز نے علاقے سے جنگجو مخالف آپریشن کو منسوخ کردیا۔ اس دوران علاقے میں آپریشن کے دوران مقامی جنگجو کے پھنسے ہونے کے ساتھ ہی ہڑتال ہوئی جس کے نتیجے میں یہاں معمول کی سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔
معلوم ہو اکہ اولڈ ٹاﺅن کوکرناگ میں انتظامیہ نے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی خاطر سخت بندشیں عائد کیں جس کے بعد عوام میں یہ افواہ گشت کرنے لگی کہ علاقے میں مقامی لشکر جنگجو پھنسا ہوا ہے۔ اس دوران انتظامیہ نے تینوں علاقوں میں افرا تفری سے پاک ماحول کو یقینی بنانے کی غرض سے موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ادھر پنزگام جھڑپ کے مابعد عوامی مظاہروں کے پیش نظر ریلوے حکام نے بھی سرینگر سے بانہال چلنے والی ریل سروس کو بند رکھنے کا فیصلہ لیاہے۔ادھر پلوامہ اور سوپور جھڑپ میں جنگجوﺅں کی ہلاکت کے خلاف پلوامہ کے متعدد جبکہ سوپور کے چند علاقوں میں ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میںیہاں معمولات کی سرگرمیاں ماند پڑگئیں۔ نمائندے کے مطابق پنزگام جھڑپ میں جاں بحق جنگجوﺅں کی یاد میں پلوامہ کے ٹہب، ملنگ پورہ، نیوہ، اونتی پورہ علاقوں میں سخت ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں زندگی کی جملہ سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ ہڑتال کی وجہ سے یہاں عوامی، کاروباری، تجارتی اور غیر سرکاری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی روانی میں مکمل طور پر بند ہوئی.
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ہندستان اور لائبیریا نے خلیجی خطے اور اس کے آس پاس کے علاقوں نیز بحیرہ اسود میں گزشتہ چند دنوں میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہوئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندستان کے مستقل مشن نے جمعرات کی دیر رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سمندری تجارت متاثر ہوتی ہے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ ایسے افعال کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دونوں ملکوں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی۔
ہندستان اور لائبیریا نے کہا ہے کہ وہ ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور ملاحوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
ہندستان اور لائبیریا نے حملوں میں جان گنوانے والے ملاحوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندستان اور لائبیریا نے گزشتہ ماہ سمندری جہازوں اور ملاحوں کی سکیورٹی کے لیے دوست ممالک کے گروپ ایس 4 کی شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ عام لوگ امریکی فوج کے ایک سابق میجر کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کو دیکھ سکیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ندال حسن کو دی جانے والی سزائے موت کی ‘لائیو اسٹریمنگ’ کی جائے گی۔ حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 نہتے امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
مانا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں دی جانے والی پہلی عوامی سزائے موت ہوگی۔ موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا کہ اس کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ “جدید دور میں غیر معمولی” ہے اور یہ “قانونی طور پر غیر یقینی صورتحال” والا معاملہ ہے۔
ہیگسیتھ نے کہا، “ہم یہ بات یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، تاکہ یہ عوامی ہو۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔”
پینٹاگن نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ حسن کو سزائے موت دے گا، جو 60 سے زائد برسوں میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ہیگسیتھ نے کنزرویٹو ٹی وی چینل ‘ریئل امریکاز وائس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو “فوجیوں کے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔”
جب ہیگسیتھ سے پوچھا گیا کہ کیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: “کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اسے 3 دسمبر کو دیکھیں گے۔”
پینٹاگن کے ترجمان شان پارنیل نے پیر کو کہا تھا کہ وزیر دفاع نے اس کی سفارش کی تھی اور ٹرمپ نے اسے منظوری دے دی ہے۔ بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں تبصرہ مانگا ہے کہ کیا ٹرمپ لائیو اسٹریم کے ذریعے عوامی سطح پر سزائے موت دیے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ سال 17 ممالک میں 2,700 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، لیکن صرف دو ممالک نے ہی اسے عوامی طور پر انجام دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں گیارہ اور افغانستان میں چھ افراد کو عوامی طور پر سزائے موت دی گئی تھی۔
امریکی فوج کے سکریٹری نے منگل کو بتایا کہ یہ سزا 3 دسمبر کو ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں دی جائے گی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد فائرنگ اسکواڈ سے دی جانے والی یہ پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ورجینیا کے امریکی فوج کے ماہرِ نفسیات حسن نے عدالت میں اعتراف کیا کہ امریکی فوجی اڈے پر ہوئے اب تک کے سب سے مہلک غیر جنگی حملے میں وہی بندوق بردار تھا۔
گولی باری 5 نومبر 2009 کو ایک بھیڑ بھاڑ والی میڈیکل عمارت میں ہوئی تھی، جہاں تعینات ہونے والے فوجی طبی معائنے اور ویکسین کا انتظار کر رہے تھے۔
عدالت میں حسن نے “کسی بھی غلطی” کے لیے معافی مانگی۔ 2013 میں اپنے کورٹ مارشل کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ مسلمانوں اور افغانستان میں طالبان کا دفاع کر رہے تھے۔
فوجی قانون کے مطابق، فوجی سزائے موت کے لیے امریکی صدر کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے لیے اپیل کی جائزہ کارروائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جس میں ایک ہائی کورٹ فیصلے کی جانچ کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اس کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ لیتی ہے۔
ملز نے کہا کہ حسن کے لیے اپیل کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اپنی سزا اور سزا پر نظرثانی کے لیے فیڈرل کورٹ میں اپیل کریں گے، جس سے شاید سزائے موت پر روک لگ سکتی ہے۔ اس لیے، ملز نے کہا کہ اگر سزائے موت دی جاتی ہے تو انہیں حیرت ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ٹرمپ انتظامیہ کا فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کو لائیو اسٹریم کرنے کا خیال صرف توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ہونے کا امکان کم ہے، اور اس سے انصاف ملنے کی تو کوئی امید ہی نہیں ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
