تازہ ترین
وادی میں 24گھنٹوں کے دوران 3حملے،پولیس کی طرف سے ایڈوائزری جاری؛ عوام سے تعاون طلب
خبراردو:
یوم جمہوری کی آمد سے قبل جنگجوؤں نے اپنی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے شہر سرینگر اور جنوبی ضلع شوپیان میں پولیس و فورسز اہلکاروں پر دو الگ الگ ہتھ گولے داغے جو زار دار دھماکوں کے ساتھ پھٹ گئے تاہم دھماکوں میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ادھر شہر کے گھنٹہ گھر کے قریب گرنیڈ حملے میں 4دکانوں اور ایک آلٹو گاڑی کے شیشے چکنا چور ہوگئے۔ دونوں حملوں کے فوراً بعد فوج، پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے افسران نے جائے حادثات کا دورہ کرتے ہوئے یہاں حالات کا گہرائی سے جائزہ لیا۔
فورسز اہلکاروں نے گرنیڈ حملوں کے فوراً بعد شہر کے ریذیڈنسی روڑ، ایم اے روڑ، کوکر بازار، بنڈ، گونی کھن، مہارج بازار، بتہ مالو سمیت کئی علاقوں میں فورسز کی اضافی کمک طلب کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کردیا۔ ادھر فورسز اہلکاروں نے حملہ آور جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے شہر میں جگہ جگہ جامہ تلاشی کا سلسلہ تیز کردیا جبکہ حساس اور اہم تنصیبات کے ارد گرد سیکورٹی فورسز کو الرٹ کردیا گیا۔ادھر 26جنوری کے پیش نظر جنگجوؤں کی طرف سے ممکنہ حملوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی پولیس نے محکمہ کے افسران اور اہلکاروں کو ہمہ وقت چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے۔پولیس نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے تعلیمی اداروں، عام لوگوں ، ڈیفینس کمیٹی ممبران، لمبرداروں اور چوکیداروں کو یوم جمہوریہ کی تقریب پرامن طور پر منعقد کرنے کے حوالے سے بھر پور تعاون کی اپیل کی ہے۔
یوم جمہوریہ کی آمد سے ایک ہفتہ قبل وادی کشمیر میں جنگجوؤں نے اپنی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے جمعہ دوپہر کو سرینگر اور شوپیان میں پولیس و سی آر پی ایف کو نشانہ بناتے ہوئے دو الگ الگ گرنیڈ داغے جس کے نتیجے میں دونوں مقامات پر افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ تفصیلات کے مطابق نامعلوم جنگجوؤں نے جمعہ دوپہر 01:40پر گھنٹہ گھر کے قریب سی آر پی ایف کے موبائل بنکر کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ہتھ گولہ داغا جو سڑک پر گر کر زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔معلوم ہوا ہے کہ جمعہ کو جونہی لوگ نماز کی تیاریوں میں مصروف تھے تو اسی اثنا میں گھنٹہ گھر کے بالکل سامنے واقع سی آر پی ایف کے موبائل بنکر پر نامعلوم سمت سے جنگجوؤں نے گرنیڈ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ معلوم ہوا کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ آس پاس موجود گاڑیوں تجارتی ادارے لرز گئے اور یہاں موجود کئی دوکانات کے شیشے چکنا چور ہوئے۔ پولیس نے واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ بعد دوپہر جنگجوؤں نے یہاں موجود سی آر پی ایف اہلکاروں پر گرنیڈ داغا جو سڑک پر زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا تاہم دھماکے میں کسی بھی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرنیڈ حملے میں یہاں چار دوکانات کے شیشے چکنا چور ہونے کے علاوہ ایک آلو گاڑی زیر نمبر JK01AH-0279کے معمولی نقصان ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد فورسز افسران نے یہاں دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا جبکہ اس دوران حملہ آور جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی شروع کی گئی۔ پولیس کے مطابق شہر سرینگر میں گزشتہ دنوں کے دوران ہوئے پے در پے گرنیڈ حملوں کے نتیجے میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے جبکہ اہم اور حساس تنصیبات کے ارد گرد سیکورٹی گرڈ کو مزید مضبوط کرنے کی فورسز کو ہدایت جاری کی گئی ہے۔ادھر گھنٹہ گھر کے قریب ہوئے حملے کے فوراً بعد یہاں یہاں موجود لوگوں نے اپنی سلامتی کویقینی بنانے کی غرض سے محفوظ مقامات کی راہ لی تاہم دوکانات اور دیگر تجارتی اداروں نے شٹر گرائے جس کے ساتھ یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ معلوم ہوا کہ گرنیڈ حملے کے فوراً بعد یہاں کچھ وقفے کے لیے ٹریفک کی نقل وحمل بند ہوگئی ۔
ادھر شہر کے ریذیڈنسی روڑ، ایم اے روڑ، پولو ویو، ڈلگیٹ، ریگل چوک، پرتاپ پارک، مہاراجہ بازار، گونی کھن، امیر کدل،کورٹ روڑ اور مضافاتی علاقوں میں فورسز نے اضافی نفری تعینات کرتے ہوئے حملہ آوروں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر تلاشی راہ گیروں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ ان کے شناختی کارڈ چیک کئے تاہم آخری اطلاعات ملنے تک کسی بھی شخص کی گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ دریں اثنا سرینگر کے بعد نامعلوم جنگجوؤں نے جنوبی کشمیر کے پہاڑی ضلع شوپیان میں پولیس پوسٹ گاگرن کو نشانہ بناتے ہوئے ہتھ گولہ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ پولیس کے مطابق جمعہ دوپہر کو نامعلوم سمت سے جنگجوؤں نے پولیس پوسٹ گاگرن کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ہتھ گولہ داغا جو زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا تاہم واقعے میں کسی بھی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ جنگجوؤں کی طرف سے داغے گئے ہتھ گولے کے بعد یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جس دوران فوج، پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران نے گاگرن پولیس پوسٹ کا دورہ کرتے ہوئے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ ادھر فورسز اہلکاروں نے حملہ آور جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کردیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد فورسز اہلکاروں نے گاگرن کی کئی بستیوں میں گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی تاہم اس دوران کسی بھی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔
ادھر حملے کے فوراً بعد جموں کشمیر اسلامک فرنٹ نامی عسکری جماعت کے ترجمان نے کشمیر نیوز سروس کو فون کرکے گھنٹہ گھر کے پاس ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کی تاہم دیگر میڈیائی ذرائع کے مطابق شوپیان حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی۔ جیش ترجمان نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ شوپیان حملے میں کئی فورسز اہلکار زخمی ہوئے۔خیال رہے 26جنوری کی تقریب نزدیک آنے کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں جنگجو کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ادھر 17جنوری جمعرات کو نامعلوم جنگجوؤں نے شہر کے راجباغ زیروبرج کے نزدیک پولیس پوسٹ پر ہتھ گولہ داغا جس کے نتیجے میں اے ایس آئی سمیت پولیس کے 3اہلکاروں بری طرح زخمی ہوئے۔ اس سے قبل 11جنوری 2019جمعہ کی شام دیر گئے جنگجوؤں نے لعل چوک میں واقع پلیڈیم گلی پر قائم 132بٹالین کے سی آر پی ایف بنکر پر ایک ہتھ گولہ داغا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔واضح رہے دونوں حملوں کی ذمہ داری جیش محمد نامی عسکری تنظیم نے قبول کی تھی۔
ادھر 26جنوری کے پیش نظر جنگجوؤں کی طرف سے ممکنہ حملوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی پولیس نے محکمہ کے افسران اور اہلکاروں کو ہمہ وقت چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے۔پولیس نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے بتایا کہ جنگجوؤں کی طرف سے کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کی خاطر محکمہ کے افسران اور اہلکار چوبیسوں گھنٹے الرٹ رہیں۔ پولیس نے جاری ایڈوائزری میں عوام سے ناکوں پر تلاشیوں کے دوران بھر پور تعاون کی اپیل کی ہے۔ایڈوائزری میں تعلیمی اداروں کو بھی واضح ہدایت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ کسی اجنبی شخص کو ادارے میں داخل نہ ہونے دیں اور اس حوالے سے طلبا کو خصوصی ہدایات دیں۔پولیس نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اجنبی اور لاوارث چیزوں کو ہاتھ نہ لگائیں اور کسی بھی مشکوک چیز یا شخص کو دیکھنے پر پولیس کو اطلاع فراہم کریں۔پولیس نے مسافر گاڑیوں میں سفر کرنے والوں سمیت جملہ لوگوں کو بازار،شاپنگ مالوں، ریلوے سٹیشنوں، بس اسٹینڈوں اور دیگر عوامی مقامات پر چوکسی برتنے کی ہدایت دی ہے۔پولیس نے تمام پولیس تھانوں کے سٹیشن ہاؤس افسران اورپوسٹ انچارجوں کو چوبیسوں گھنٹے ڈیوٹی پر حاضر رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔پولیس نے ولیج ڈیفینس کمیٹی ممبران، لمبرداروں، چوکیداروں کو بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ آنے والے یوم جمہوریہ کے سلسلے میں لوگوں کی حفاظت یقینی بنائی جاسکے۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoہندوستان پر 100 فیصد امریکی برآمدی ڈیوٹی کے خدشے کے درمیان مودی اور ٹرمپ نے کی ٹیلی فون پر بات چیت
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
