کھیل
وارنر اور مارش کی طوفانی بلے بازی کی بدولت آسٹریلیا نے پاکستان کے سامنے جیت کےلئے 368 کا ہدف رکھا
بنگلورو، ڈیوڈ وارنر (163) اور مچل مارش (121) کے درمیان 259 رن کی شراکت کی بدولت آسٹریلیا نے جمعہ کو ایک روزہ ورلڈ کپ میچ میں پاکستان کے خلاف نو وکٹ پر 367 رن بنائے۔چناسوامی اسٹیڈیم میں وارنر اور مارش کی شراکت کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ آسٹریلیا باآسانی 400 سے زائد کا سکور کر لے گا لیکن پاکستان کے اسٹرائیک گیندباز شاہین شاہ آفریدی نے اپنے دوسرے اسپیل میں مارش اور نئے بلے باز گلین میکسویل کو ایک ہی اوور میں پویلین بھیج کر دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی۔ اس سے نہ صرف رنز بنانے کی رفتار کم ہوئی بلکہ وکٹیں گرنے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا اور باقی کھلاڑی ٹیم کےا سکور میں صرف 108 رنز کا اضافہ کر سکے۔آفریدی نے آسٹریلیا کے پانچ بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ آسٹریلیا نے آخری تین اوورز میں چار وکٹیں گنوائیں اور اسکور میں صرف نو رنز کا اضافہ ہو سکا۔ پاکستان کی ناقص فیلڈنگ بھی ایک بڑی وجہ رہی جس کے بدولت آسٹریلیا کی سلامی جوڑی ڈبل سنچری شراکت داری کرکے پاکستان کے سامنے بڑا ہدف رکھنے میں کامیاب رہی۔ ڈیوڈ وارنر دو مرتبہ آوٹ ہونے سے بچے جبکہ مارش کا بھی ایک کیچ پاکستانی کھلاڑی نے ڈراپ کیا۔ آفریدی نے 54 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں جبکہ حارث رؤف نے 83 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اسامہ میر نے اسٹیو اسمتھ کی وکٹ حاصل کی حالانکہ انہوں نے اپنے نو اوورز میں 82 رنز دیے۔وارنر نے 124 گیندوں کی اننگز میں 14 چوکے اور 9 چھکے لگائے۔ یہ ان کے ورلڈ کپ کیریئر کی پانچویں سنچری تھی۔ ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ سات سنچریاں بنانے کا ریکارڈہندوستانی کپتان روہت شرما کے پاس ہے۔ مچل مارش نے دس چوکوں اور نو چھکوں کی مدد سے اپنی پہلی سنچری مکمل کی۔آسٹریلیا نے اننگز کا آغاز کیا تو میچ کی پہلی ہی گیند پر شاہین شاہ آفریدی نے ڈیوڈ وارنر کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی لیکن امپائر نے ایل بی ڈبلیو قرار نہ دیا، پاکستان نے ریویو لینے کا فیصلہ کیا جو بالکل غلط ثابت ہوا کیونکہ گیند بلے سے لگنے کے بعد پیڈ پر لگی تھی۔پاکستان کو جلد ہی وکٹ لینے کا موقع اس وقت ملا جب پانچویں اوور میں شاہین کی گیند پر برا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں گیند ہوا میں گئی لیکن عالمی کپ میں اپنا پہلا میچ کھیلنے والے اسامہ میر نے ایک آسان کیچ گرا دیا۔اس موقع کا آسٹریلین اوپنرز نے خوب فائدہ اٹھایا اور پاکستانی باؤلرز کی درگت بنانا شروع کی اور 13ویں اوور میں سنچری مکمل کر لی جس کا سہرا مچل مارش کے سر رہا جنہوں نے اس عرصے میں اپنی نصف سنچری مکمل کر لی تھی۔وارنر نے بھی ڈراپ کیچ کا خوب فائدہ اٹھایا اور جارحانہ بلے بازی کرتے ہوئے نصف سنچری مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ مارش کے ہمراہ پہلی وکٹ کے لیے 150 رنز کی ساجھے داری بنائی۔نصف سنچری کے بعد ڈیوڈ وارنر نے جارحانہ انداز اپنایا اور مچل مارش کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چوتھی سنچری اسکور کی۔آسٹریلیا کے سلامی بلے بازوں نے تمام پاکستانی گیندبازوں کی جم کر پٹائی کی اور بالخصوص حارث رؤف کے خلاف جم کر بلے بازی کی اور پہلی وکٹ کے لیے 259 رنز کی شراکت قائم کی۔ڈیوڈ وارنر کو ایک اور موقع اس وقت ملا جب اسامہ میر کی گیند پر باؤنڈری پر کھڑے عبداللہ شفیق کیچ نہ لے سکے۔ پاکستان کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب 259 کے اسکور پر شاہین کی گیند پر مچل مارش اسامہ کو کیچ دے بیٹھے، انہوں نے 9 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے 108 گیندوں پر 121 رنز بنائے۔اس موقع پر گلین میکس ویل کو اوپری نمبروں پر بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا لیکن شاہین نے بابر کی مدد سے انہیں پہلی ہی گیند پر آوٹ کردیا۔پاکستان کو جلد ہی تیسری وکٹ لینے کا بھی موقع ملا لیکن سلپ میں کھڑے کپتان بابر اعظم آسٹریلین بلے باز اسٹیو اسمتھ کا کیچ نہ لےسکے۔دو ڈراپ کیچز کے بعد اسامہ میر نے آسٹریلین بلے باز اسمتھ کو اپنی ہی گیند پر آوٹ کر کے ان کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔دوسرے اینڈ سے وارنر نے شاندار بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور انہوں نے اسامہ میر کی گیندپر چھکا لگا کر اپنے 150 رنز مکمل کیے۔مایہ ناز اوپننگ بلے باز 124 گیندوں پر 9 چھکوں اور 14 چوکوں سے مزین 163 رنز کی باری کھیلنے کے بعد حارث رؤف کا شکار بنے۔اس کے بعد جوش انگلس بھی لمبی اننگز نہ کھیل سکے اور 13 رنز بنانے کے بعد حارث کی دوسرا شکار بنے۔شاہین شاہ آفریدی نے متاثر کن باؤلنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور 24 گیندوں پر 21 رنز بنانے والے اسٹوئنس کو ایل بی ڈبلیو کردیا۔حارث نے بھی میچ میں واپسی کرتے ہوئے مارنس لبوشین کو آؤٹ کر کے اپنی تیسری وکٹ لی۔شاہین آفریدی نے شاندار گیندبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اننگز کے آخری اوور کی ابتدائی دو گیندوں پر مچل اسٹارک اور ہیزل وُد کو آؤٹ کردیا۔آسٹریلیا نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 367 رنز بنائے۔پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں اپنے نام کیں جبکہ حارث نے بھی تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
یواین آئی۔ م س
کھیل
سروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
آئیچی-ناگویا (جاپان)، ہندوستان کی سروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ کی جوڑی نے جمعہ کو ایشیائی کھیلوں کے نشانہ بازی مقابلے میں 10 میٹر ایئر پسٹل مکسڈ مقابلے میں جنوبی کوریا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ یہ ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کا دوسرا تمغہ ہے۔
آج یہاں ہوئے مقابلے میں ہندوستانی جوڑی نے مجموعی طور پر 484.6 اسکور کے ساتھ سرفہرست مقام حاصل کیا۔ کمل جیت اور سروچی نے شروعات سے ہی اچھی برتری بنا لی تھی، لیکن جنوبی کوریا مسلسل ہندوستانی نشانہ بازوں پر دباؤ بنائے ہوئے تھا۔ تاہم ہندوستانی جوڑی نے دباؤ میں کوئی غلطی نہیں کی اور جنوبی کوریا کو 6.6 پوائنٹس کے فرق سے شکست دے کر طلائی تمغہ اپنے نام کرلیا۔ جنوبی کوریا 478 اسکور کے ساتھ دوسرے جبکہ ایران 415.8 اسکور کے ساتھ تیسرے مقام پر رہا۔
یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
سلطان واریئرز بارہمولہ نے افتتاحی چنار پریمیئر لیگ کا خطاب جیت لیا
سری نگر، سلطان واریئرز بارہمولہ نے افتتاحی چنار پریمیئر لیگ (سی پی ایل) کرکٹ ٹورنامنٹ 2026 کا خطاب جیت لیا۔ اس نے بارہمولہ کے جنرل بپن راوت اسٹیڈیم میں کھیلے گئے شاندار فائنل میں رمزی اسپورٹس سری نگر کو شکست دی۔
پہلے بلے بازی کرتے ہوئے سلطان واریئرز نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز بنائے، جس کے جواب میں رمزی اسپورٹس سری نگر کی پوری ٹیم 142 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ اس طرح سلطان واریئرز نے شاندار کامیابی کے ساتھ خطاب اپنے نام کر لیا۔
سلطان واریئرز کے عاقب کھانڈے کو میچ جیتنے والی کارکردگی پر ’مین آف دی میچ‘ قرار دیا گیا، جبکہ ان کے ساتھی کھلاڑی عاصم بشیر کو پورے ٹورنامنٹ میں مسلسل عمدہ کارکردگی پر ’مین آف دی سیریز‘ کا اعزاز دیا گیا۔
فوج کی سری نگر چنار کور کی جانب سے منعقد کیے گئے اس ٹورنامنٹ میں ریکارڈ تعداد میں ٹیموں نے شرکت کی۔ مقابلے کے لیے 130 ٹیموں نے رجسٹریشن کرائی تھی، جن میں سے کشمیر وادی کے مختلف علاقوں سے 79 ٹیموں کا انتخاب کیا گیا۔
تقریب میں جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اتل ڈلو کے علاوہ بارہمولہ میں تعینات ڈیگر ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اور مقامی برادری کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
منتظمین نے کہا کہ سی پی ایل 2026 نے پوری کشمیر وادی کے کرکٹ ٹیلنٹ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا اور خاص طور پر نوجوانوں کے درمیان ہندوستانی فوج اور مقامی برادری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔
دفاعی ترجمان نے کہا کہ سی پی ایل 2026 کا کامیاب انعقاد خطے کے کھیلوں کے کیلنڈر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس کے ذریعے وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان کرکٹرز کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
بابر اعظم کی سات سال بعد ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی
اسلام آباد، پاکستان کے ٹیسٹ کپتان بابر اعظم موجودہ پریذیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی نمائندگی کریں گے۔ انہیں ٹیم نے بطور گیسٹ کھلاڑی شامل کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بابر نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے درخواست کی تھی کہ انہیں کسی ٹیم میں شامل کیا جائے تاکہ وہ طویل فارمیٹ میں اپنی فارم بہتر کرسکیں۔ اس کے بعد بورڈ نے انہیں او جی ڈی سی ایل کے ساتھ جوڑ دیا۔ بابر نے دسمبر 2022 کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی سنچری نہیں بنائی۔ اس کے بعد سے 39 اننگز میں وہ صرف آٹھ نصف سنچریاں بناسکے ہیں، جبکہ 2023 کے آغاز سے ٹیسٹ میں ان کی اوسط 30.43 رہی ہے۔
ان کی خراب فارم پاکستان کرکٹ میں مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ حالیہ انگلینڈ دورے میں پاکستان کو تین ٹیسٹ کی سیریز میں 0-3 سے شکست ہوئی، جبکہ لارڈز اور ایجبسٹن ٹیسٹ میں انگلینڈ کے تیز گیندبازوں نے شارٹ گیند کے خلاف بابر کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔ تاہم گزشتہ پانچ ٹیسٹ میں وہ چار نصف سنچریاں بناچکے ہیں اور گزشتہ ماہ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ان کا اسکور 88 رنز رہا، جس سے پاکستان نے جولائی 2023 کے بعد پہلی بار بیرون ملک ٹیسٹ جیتا۔
بابر نے آخری بار 2019 میں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کھیلا تھا، جب انہوں نے سینٹرل پنجاب کی کپتانی کرتے ہوئے فائنل میں ناردرن کو شکست دے کر قائداعظم ٹرافی جیتی تھی۔ حالیہ برسوں میں ٹیسٹ اور آئی سی سی ٹورنامنٹس میں پاکستان کی خراب کارکردگی کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں زیادہ حصہ لینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ اس سیزن میں شاہین شاہ آفریدی اور سلمان آغا سمیت کئی دیگر بین الاقوامی کھلاڑی بھی پریذیڈنٹس ٹرافی میں حصہ لے رہے ہیں۔
پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ کے تحت اے کیٹیگری کے ٹیسٹ ماہر کھلاڑیوں کے لیے سالانہ کم از کم چھ، اے بی کیٹیگری کے ٹیسٹ اور ون ڈے ماہر کھلاڑیوں کے لیے چار، جبکہ بی سی کیٹیگری کے وائٹ بال ماہر کھلاڑیوں کے لیے کم از کم دو فرسٹ کلاس میچ کھیلنا ضروری ہے۔ پاکستان اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں نویں نمبر پر ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی نو ٹیموں کی جدول میں آخری مقام پر ہے۔ وہ گزشتہ چار آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ناک آؤٹ مرحلے تک بھی نہیں پہنچ سکا ہے۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
