تازہ ترین
وباؤں کا انسان کیلئے سبق
کورونا نے چین کو اس کی خواہش اور دنیا کو اپنی گرفت میں رکھنے کی رفتار کا سیاہ چہرہ دکھایا ۔اس نے دنیا کو امریکہ اور یورپ کی غذائیت، صحت اور ترقی میں برتر ہونے کے دعوے کا خالی پن دکھایا ہے۔کورونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی وائرس غریب ممالک اور غریب لوگوں تک محدود نہیں رہتا ہے، بلکہ یہ سب کو یکساں طور پر تباہ کرنے کا دم رکھ سکتا ہے۔اس نے سکھایا کہ ترقی کی بھی اپنی ایک حد ہوتی ہے ۔
ایک فٹبال کھلاڑی کو ماہانہ دس لاکھ یوروز دئے جاتے ہیں اور لوگ انہیں ایک دیوتاؤں کی طرح پیار کرتے ہیں لیکن ایک بیالوجی کے ریسرچر کو محض 1800یوورز ماہانہ ادا کئے جاتے ہیں ۔
اب جائیے اور کرسٹیانو رونالڈو سے پوچھئے کہ کورونا وائرس کی دوا کیا ہے ۔اس جیسے کئی وٹس ایپ پیغامات اسپین کے ایک لائف سائنس ریسرچر کی طرف سے دیے گئے بیان کو بھیجا گیا ہے ۔فٹبالروں کیخلاف کوئی غصہ یا ان سے کوئی حسد نہیں ہے ۔لیکن ممالک، حکومتوں اور لیڈروں کی غلط ترجیحات اورتنگ نظری پر مبنی اپروچ پر ضرور ناراض ہے جو آفات اور کورونا وائرس جیسی وبا کے وقت بے بسی کو ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے فضول ہیں اور وہ کسی کام کے لائق نہیں ہیں۔ہمارے وجود کو اس وقت جو خطرہ لاحق ہے ‘ہم اس کا احساس نہیں کر پا رہے ہیں۔
وبائیں دنیا کیلئے کوئی نئی با ت نہیں ہے
اس کی شروعات 430 سال قبل از مسیح ایتھنز میں طاعون سے ہوئی اور حال ہی میں سارس اور ایبولا جیسی خطرناک بیماری سے ہمارا سامنا ہوا ۔زندگی میں درپیش ان لاحق خطرات کے باوجود انسان ثابت قدم رہا اور ان پر قانو بھی پایا گیا ۔ان وباہؤں نے زیاہ سے زیادہ ہمیںڈرایا آور ہمیں تکلیف پہنچائی لیکن کسی وبا نے کبھی بھی پوری انسانیت کا صفایا نہیں کیا اور کورونا اس سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔
لیکن ایک ایسے وقت پر جب ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ہر شعبہ میں بہت آگے بڑھے ہیں یہاں تک جب ہمیں 5G اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہے لیکن پھر بھی کورونا نے امریکہ، یورپ اور چین جیسے ترقی یافتہ مماملک کو جو چیلنج دیا ہے وہ بحث گفتگو ہے۔ وائرس کچھ دنوں میں ختم ہو سکتا ہے یاہم کوئی ویکسین بنا کر اس کو محدود کر سکتے ہیں لیکن یہ سوچنا غلط ہو گا کہ ہم نا قابل تسخیر ہیں ۔
انسانیت کے سامنے در پیش کئی سوالات
ہم کورونا سے کیا سبق حاصل کر سکتے ہیں ؟کورونا کے بعد ہم انسانوں کا کیسا برتاؤ ہونا چاہئے؟ہماری فطرت اور لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہئے ۔نئی نسل، جو زندگی کو تیار بہ تیار اور کافی پینے جیسا آسان سمجھتی ہے اب اس کے تئیں ان کا کیسا رویہ ہونا چاہئے ؟ حکومت اب کاروبار کو کیسے چلائے گی، سیاسی لیڈر کی قیادت کیسی ہو گی، ریسرچوں کا ردعمل کیسا ہو گا؟ ان جیسے سوالات کا جواب انسانیت کی بقاء کا فیصلہ کریگا۔ایک ایسے وقت میں جب دنیا ترقی یافتہ، ترقی پذیر اورپسماندہ ممالک، سپر پاور، جدیدیت، سفید فام، سیاہ فام، ذات، مذہب، سرمایہ، کمیونزم، مصنوعی اور مجازی ذہانت میں تقسیم ہوگئی ہے۔جس سے ہم صرف خود کو برتر اور دوسروں کو ابتر سمجھتے تھے لیکن کورونا وائرس ہمیں ہماری اصل اوقات دکھا رہا ہے ۔ہماری نام نہاد ترقی کی حقیقی قیمت اور قدر دکھا رہا ہے ۔تنے ہی واضح انداز میں جتنی ہمیں اب مریخ کی تصویر دکھائی دے رہی ہے ۔
کورونا نے چین کو اس کی خواہش اور دنیا کو اپنی گرفت میں رکھنے کی رفتار کا سیاہ چہرہ دکھایا ۔اس نے دنیا کو امریکہ اور یورپ کی غذائیت، صحت اور ترقی میں برتر ہونے کے دعوے کا خالی پن دکھایا ہے۔کورونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی وائرس غریب ممالک اور غریب لوگوں تک محدود نہیں رہتا ہے، بلکہ یہ سب کو یکساں طور پر تباہ کرنے کا دم رکھ سکتا ہے۔اس نے سکھایا کہ ترقی کی بھی اپنی ایک حد ہوتی ہے ۔ہر ایک وبا انسان کی غلطیوں کی طرف اشارہ کرکے ان کو درست کرنے کا موقع دیتی ہے ۔
جن لوگوں نے اس اشارے کو نہیں سمجھا انہیں اس سے بہت بڑی سبق سیکھنی پڑی ہے۔تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ’سیاہ موت‘ نامی وبا جو 1346-1353میں یورپ میں شروع ہوئی اور وسطی ایشیا تک پھیل گئی اس نے اکیلے ہی نصف یورپ کا صفایا کردیا تھا اور جس نے تاریخ کا رخ ہی بدل دیا تھا۔اُس وقت تنخواہوں میں رائج جاگیردارانہ نظام کو اس وبا نے ختم کرکے رکھ دیا ۔اموات کی وجہ سے ان لوگوں کی تنخواہیں بڑھ گئیں جو اس وبا سے محفوظ رہے ۔کہا جا رہا ہے کہ اس وبا کی وجہ سے ہی بعد میں ٹیکنالوجیکل دریافتیں ہوئیں ۔تاریخ ایسی وباؤں کی بھی گواہ ہے ‘ جیسی پہلی جنگ عظیم میں طاعون‘بھی ممالک کی ایک دوسرے پر اجارہ داری حاصل کرنے کی خواہش اورلالچ پر قابو نہیں پاسکا۔
فطرت کو سمجھ کر ہی ترقی ممکن
ایک گروپ’کلب آف روم‘کا قیام اٹلی میں سنہ 1960 کی دہائی میں آیا، جو اس وقت کورونا وائرس سے جوجھ رہا ہے ۔دنیا کے بیشترسائنسدان، ماہرین اقتصادیات، صنعت کار اور سیاسدان اس گروپ کے ممبران تھے ۔سنہ 1972 میں گروپ نے ایک رپورٹ جس کا عنوان تھا ’ترقی کی حدیں‘ منظر عام پر لائی ۔گروپ نے اس بات کو واضح کیا کہ ترقی کی کچھ اپنی حدیں ہو تی ہیں ۔ دنیا کے ساتھ رشتہ رکھے بغیر انسان کی ترقی کا سفر آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ہمارا ماحولیاتی نظام 2100 کے بعد آبادی میں اضافہ اور تیز معاشی ترقی بر داشت نہیں کر پائیگا۔
ریسرچ میں کرڑوں روپے صرف کرنے کے باوجود بھی نادیدہ مائیکرو micro-organisms سے لڑ نہیں پا رہے ہیں ۔ہم تا حال ملیریا کا موثر ویکسین بنا نہیں سکے ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں بھی خسرہ بار بار حکومت کو پریشان کرتا رہا ہے ۔آخر دنیا کی بایو میڈیکل ریسرچ کا کیا ہو رہا ہے ؟گرچہ ہم اسے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا نام دے رہے ہیں لیکن بیشتر طلباء صرف ٹیکنالوجی میں ہی دلچسپی لے رہے ہیں۔آجکل کے اس تیز رفتار دور میں طلباکالج سے فارغ ہوتے ہی صرف ٹیکنالوجی والی نوکریاں کرنا چاہتے ہیں جن میں لاکھوں روپے کی تنخواہیں ہوتی ہیں‘ ۔ ان میں سے کسی میں نہ سائنس کے تئیں لگاؤ اور دلچسپی ہے اور نہ ریسرچ میں اپنے کئی سال صرف کرنے کا صبر۔
ترقی کا ثمر ہر ایک تک پہنچ جانا چاہیے
موجودہ حالات میں حکومتوں، سربراہان، مملکتوں اور عالمی قیادت کی تمام تر توجہ انتخابات جیتنے پر ہو تی ہے ۔اس کے علاوہ تجارتی تعلقات، جنگیں اور دنیا پر اپنا دبدبہ قائم کرنا ان کی ترجیح ہوتی ہے ۔کون اپنے کھلے دل اور دور اندیشی سے انسانیت کی بقا، فلاح اور بہبودی کے بارے میں سوچتا ہے ؟بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں، جن سے دشمن کو ہلاک کیا جا سکتا ہے، ڈرون کے ذریعے کنٹرول ہونے والے ہتھیاروںکے حصول میں دلچسپی لی جا رہی ہے لیکن ہمارے لوگوں کی صحت میں بہتری لانے پر کوئی توجہ نہیں دیا جا رہا ہے ۔
انسانیت کی یہ ایک بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے سیاسی پنڈت کسی کام نہ آنے والے ڈاکٹرین اور نظریات پر بحث کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی فلسفہ، کوئی بھی مذہب انسانیت سے بڑا نہیں ہے ۔یہ ایک ایسا سچ ہے جو تاریخ ہمیں بتانے کی کوشش کرہی ہے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔لیکن اس کے باوجود سرمایہ داری، کمیونزم، دایاں بازو، بایاں بازو اور تمام مذاہب کے نام پر ہم خود فریبی میں مبتلا ہیں۔یہ امریکہ اور چین جیسے ترقی یافتہ ممالک کیلئے محاسبہ کا وقت ہے کہ وہ سوچیں کہ وہ کس راستے پر چل کر دنیا کی رہنمائی کریں گے، تاکہ ضرورت کے وقت انسانیت کی مدد کی جا سکے ، اپنے ذاتی فائدے کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کی مدد کی جائے ۔معیار زندگی میں کسی بہتری کے بغیر ترقی کسی کام کی نہیں ہے ۔
ترقی جس میں بقائے باہم کی گنجائش نہیں رکھی گئی ہو وہ صحیح معنوں میں کوئی ترقی ہے ہی نہیں ۔تمام ممالک بغیر کسی امتیاز کے تنگ نظر سیاسی نظریات کی وجہ سے تکالیف سے دو چار ہیں ۔کم از کم اب لوگوں کیلئے ایک جامع صحت کو تجارتی خواہشات پر ترجیح ہونی چاہیے ۔ ممالک کو پبلک ہیلتھ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے ۔ایک ساتھ یا انفرادی طور پر صحت مند دنیا تمام ممالک کی پہلی ترجیح ہو نی چاہئے ۔دنیا کو اب چونکہ کرونا دبا کا سامنا ہے ‘ اس لئے تمام اختلافات کو بھلا کر تمام ممالک کو ایک ساتھ آگے آ کر ‘ ایک دوسرے سے اشتراک کرکے ریسرچ شیئر کرکے اس بحران پر قابو پانا چاہئے ۔شکوک و شبہات ‘الزامات‘ دغابازیوں سے صرف انسانیت کا خاتمہ ہو گا‘ اس سے خوشی میسر ہو گی اور نہ خوشحالی آئیگی ۔کورونا اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر بھی اپنے سوچنے کا انداز بدلنا ہو گا ۔کورونا نے ثابت کیا کہ انسان فانی ہے ۔اس نے ہمیں خبر دا ر کیا کہ ہمیں روبوٹوں اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ رہنے سے پہلے فطرت اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھ لینا چاہئے ۔اگر ہم تلخ حقائق سے اپنی آنکھیں پھیر لیں گے تو ہم ایک مہلک بحران کی گرفت میں آئیں گے ۔تاریخ کا حوالہ دیتے وقت قبل از مسیح اور بعد از مسیح کے بجائے قبل از کورونا اور بعد از کورونا کہا جائیگا ۔اب جبکہ کورونا وائرس حملہ آور ہوا ہے ہمیں ایک اچھا انسان بن جانا چاہئے … جس میں انسانیت ہو لیکن کیا ہم ایسا بن سکتے ہیں ؟
وائرس سے ہوا بھاری نقصانان
وائرسوں کے نام مختلف ہو سکتے ہیں لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں میں ان کے حملے تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں ۔ یول فیور، جائیکا، مرس، ایبولا، سوائن فلو، سارس یا کوئی دیگر وائرس انسانیت کو چیلنج کررہا ہے۔عالمی صحت ادارے کو ہر ماہ 5,000 نئی علامات ملتی ہیں یہ اس کا ایک ثبوت ہے ۔عالمی بینک کے تخمینوں کے مطابق ان وباؤں کی وجہ سے ہو ئے نقصانات کا حجم سالانہ 57 بلین ڈالر ہے ۔یہ سوچنا غلط ہو گا کہ صرف دو ماملک میں جنگوں سے بھاری نقصان ہوتا ہے ۔
ان نادیدہ مائیکرو آرگنزم کیخلاف جد وجہد کی زیادہ قیمت چکانی پڑیگی اگر دانشمندگی سے کام نہیں لیا گیا۔
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے دہلی پولیس کے انکار کو چیلنج کرنے والی یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہو سکتی ہے۔
یوتھ کانگریس نے بتایا کہ تنظیم کے سینئر ایڈوکیٹ سنجے گھوش نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی بنچ کے سامنے عرضی کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے اس کے بعد معاملے کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملے پر جمعہ کے روز سماعت ہوگی۔
عرضی یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کے ذریعے تنظیم کے لیگل سیل کے چیئرمین ایڈوکیٹ روپیش سنگھ بھدوریا نے دائر کی ہے۔ اس میں دہلی پولیس کے یکم اکتوبر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں 25 ستمبر کو مجوزہ 100 سے 150 لوگوں کے پرامن مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
یوتھ کانگریس نے کہا کہ اس نے مظاہرے کے دوران سکیورٹی، ٹریفک، نظم و ضبط اور امن و قانون سے جڑی تمام شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
عرضی کے مطابق پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو انتظامی صوابدید کی بنیاد پر من مانے طریقے سے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ ایسے امتناع آئینی، ضرورت کے مطابق اور متناسب ہونے چاہئیں۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
