تازہ ترین
وزرا کی کھیپ کشمیر میں کیا کررہی ہے؟
مرکزی وزراء کی 36 رکنی ٹیم عوامی رابطہ مہم کے تحت 18 سے 25 جنوری تک جموں و کشمیر کا دورے پر ہے۔وزراء کی یہ ٹیم جموں کے 51 علاقوں کا دورہ کر رہی ہے جبکہ وادی کشمیر میں یہ ٹیم محض 8 علاقوں میں جائے گی۔
مرکزی حکومت کی جانب سے دفعہ 370 کی منسوخی اور ریاست کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد مرکزی وزراء کا یہ پہلا دورہ ہے۔ مرکزی حکومت کے مطابق اس دورے کا مقصد عوام کو دفعہ 370 کی منسوخی کے فوائد سے واقف کرانا ہے۔
حکام کے مطابق مواصلات، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر روی شنکر پرساد، مرکزی وزیر برائے انسانی وسائل اور ترقی رمیش پوکریال، اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی ، وزیر مملکت برائے دفاع شریپڈ نائک اور وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی 8 سرکاری اور عوامی پروگرامز میں شرکت کریں گے۔
منگل کو مرکزی وزیر مختار عباس نقوی سرینگر کے مضافات میں واقع فقیر گجری علاقے کا دورہ کریں گے اور دارا علاقے میں ایک ہائی اسکول کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس کے علاوہ ہارون کے سربند علاقے میں ایک پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔
جی کشن ریڈی بدھ سے دو روزہ دورے پر وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع جائیں گے۔ جمعہ کو وہ پولیس ٹریننگ کالج گاندربل میں ایک تقریب کی صدارت کریں گے۔
روی شنکر پرساد جمعرات کو کشمیر جائیں گے اور اپنے دو روزہ دورے کے دوران ضلع بارہمولہ کے ڈاک بنگلہ میں ایک تقریب میں شرکت کریں گے اور وہاں اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ ایک عوامی اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔
وزیر مملکت برائے دفاع شریپڈ نائک جمعرات کو ایس کے آئی سی سی سرینگر میں ایک تقریب میں شریک ہوں گے۔ مرکزی وزیر برائے انسانی وسائل اور ترقی رمیش پوکریال جمعہ کے روز شہر سرینگر میں ایک جلسہ عام میں شرکت کریں گے۔
مرکزی حکومت کے مطابق اس دورے کا مقصد عوام کو دفعہ 370 کی منسوخی کے فوائد سے واقف کرانا ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی مختلف مرکزی اسکیمز کے بارے میں زمینی سطح پر آگاہ کیا جائے گا۔
بی جے پی کے ریاستی ترجمان الطاف ٹھاکر کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 70 برسوں میں یہ پہلی بار مرکزی وزراء عام لوگوں کی پریشانیوں کے حل کے لیے دور دراز علاقوں کا دورہ کررہے ہیں۔بی جے پی کے ریاستی ترجمان الطاف ٹھاکر کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 70 برسوں میں پہلی بار مرکزی وزراء عام لوگوں کی پریشانیوں کے حل کے لیے دور دراز علاقوں کا دورہ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کی وجہ سے ہی ایسا ممکن ہوسکا اور جموں و کشمیر کے عوام تمام مرکزی اسکیمز سے مستفید ہونگے۔ادھر اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی لیڈران مرکزی وزراء کے اس دورے پر سخت نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے حکومت اپنے وزراء کو جموں و کشمیر کے دورے پر بھیج رہی ہے۔
کانگریس کے سینیئر رہنما منی شنکر ائیر نے کہا کہ ‘ان بزدلوں کی طرف دیکھو۔ 36 وزراء میں سے صرف 5 وزراء کشمیر جا رہے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘کشمیر میں کن سے بات کرنے جا رہے ہیں؟ سابق وزراء ئے اعلیٰ سے؟ ان سے بات چیت نہیں کریں گے، وہ جیل میں بند ہیں، فاروق عبداللہ جیل میں ہے۔ عمر عبداللہ جیل میں ہے۔ محبوبہ مفتی جیل میں ہے۔
وہاں جا کر کس سے بات کریں گے۔ یہ لوگ دھوکہ باز ہیں، یہ عوام کے نمائندے نہیں ہیں، اگر یہ نمائندے ہوتے تو بہت پہلے ہی منتخب ہوئے ہوتے’۔
جموں و کشمیر کانگریس کے صدر غلام احمد میر نے کہا نئے ترقیاتی پروجیٹکس کو لانے کے بجائے مرکزی وزراء پرانے پروجیکٹس کا افتتاح کر رہے ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے رہنما اور اننت ناگ سے رکن پارلیمنٹ حسنین مسعودی نے کہا کہ ‘بی جے پی حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ جموں و کشمیر میں ترقیاتی پروجیکٹس شروع ہو چکے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے’۔
پی ڈی پی نے بھی وزراء کے اس دورے پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ‘ جموں و کشمیر دیگر ان ریاستوں سے بہتر ترقی پذیر ہےجہاں ایک دہائی سے زائد عرصے سے بی جے پی برسر اقتدار ہے۔ وہ جموں وکشمیر میں کوئی بڑے پروجیکٹس شروع کرنے نہیں جا رہے ہیں بلکہ پرانے پروجیکٹس کا افتتاح کر رہے ہیں’۔(ای ٹی وی)
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر10 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا14 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا14 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا10 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا10 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا14 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا13 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
