ہندوستان
وزیراعظم مودی کل دہلی میں کچی آبادیوں کو فلیٹوں کی چابیاں دیں گے، تین پروجیکٹ ڈی یو کو دیں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی ’’ سبھی کے لیے گھر کے اپنی حکومت کے عہد کے ایک حصے کے طور پر جمعہ کو اشوک وہار کے سوابھیمان اپارٹمنٹ میں جھگی جھوپڑی کلسٹرز کے رہائشیوں کے لیے جھگی جھونپڑیوں کی بازآبادکاری پروجیکٹ کے تحت نئے تعمیر شدہ فلیٹوں کا دورہ کریں گے، جہاں کچی آبادیوں کے رہائشیوں کے لیے 1,675 فلیٹ بنائے گئے ہیں وزیر اعظم کے دفتر سے آج جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق مسٹر مودی کل تقریباً 12.15 بجے غریبوں کے لیے بنائے گئے اپارٹمنٹس کا معائنہ کریں گے۔ اس کے بعد وہ تقریباً 12.45 بجے اسی علاقے میں منعقدہ ایک عوامی تقریب میں دہلی میں کئی ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ان میں دہلی یونیورسٹی کے لیے 600 کروڑ روپے کے تین پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا جائے گا۔
ریلیز کے مطابق، وزیر اعظم اشوک وہار میں کچی آبادیوں کے لیے نئے تعمیر شدہ فلیٹوں کا افتتاح کریں گے اور سوابھیمان اپارٹمنٹس کی چابیاں بھی اہل مستحقین کے حوالے کریں گے۔ یہ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( ڈی ڈی اے ) کی طرف سے اس طرح کا دوسرا کامیاب بازآادکاری کا منصوبہ ہے جو کچی آبادیوں کی جگہ پر تیار کیا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد دہلی میں کچی آبادیوں کے رہنے والوں کو مناسب سہولیات سے آراستہ ایک بہتر اور صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔
اس اسکیم کے تحت مرکزی حکومت ایک فلیٹ کی تعمیر پر 25 لاکھ روپے خرچ کرتی ہے۔ اہل استفادہ کنندگان کل رقم کا سات فیصد سے کم ادائیگی کرتے ہیں، جس میں 1.42 لاکھ روپے برائے نام شراکت اور 30,000 روپے پانچ سال کی دیکھ بھال کے لیے شامل ہیں۔
اس موقع پر وزیر اعظم دہلی میں دو شہری تعمیر نو کے پروجیکٹوں – نوروجی نگر میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر ( ڈبلیو ٹی سی) اور سروجنی نگر میں جنرل پول رہائشی رہائش ( جی پی آر اے ) ٹائپ II کوارٹرز کا بھی افتتاح کریں گے۔
نوروجی نگر میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر نے 600 سے زیادہ خستہ حال کوارٹرز کو جدید ترین کمرشل ٹاورز سے بدل کر اس علاقے کو تبدیل کر دیا ہے۔ اس نے جدید سہولیات کے ساتھ تقریباً 34 لاکھ مربع فٹ پریمیم کمرشل جگہ فراہم کی ہے۔ اس منصوبے میں گرین بلڈنگ کے طریقوں کو شامل کیا گیا ہے، جس میں زیرو ڈسچارج تصور، شمسی توانائی کی پیداوار اور بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے کا نظام شامل ہے۔ سروجنی نگر میں جی پی آر اے ٹائپ ۔II کوارٹر میں 28 ٹاورز ہیں، جن میں 2,500 سے زیادہ رہائشی یونٹس ہیں۔
مسٹر مودی دہلی کے دوارکا میں سی بی ایس ای کے مربوط آفس کمپلیکس کا بھی افتتاح کریں گے جس پر تقریباً 300 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس میں دفاتر، آڈیٹوریم، ایڈوانسڈ ڈیٹا سینٹر، واٹر مینجمنٹ کا جامع نظام وغیرہ شامل ہیں۔
اس میں وہ دہلی یونیورسٹی میں 600 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت والے تین نئے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ یہ سورج مل وہار، مشرقی دہلی کے مشرقی کیمپس میں ایک اکیڈمک بلاک اور دوارکا کے مغربی کیمپس میں ایک اکیڈمک بلاک پر مشتمل ہے۔ اس میں نجف گڑھ کے روشن پورہ میں ویر ساورکر کالج کی عمارت بھی شامل ہے جس میں تعلیم کے لیے جدید ترین سہولیات ہوں گی۔
دہلی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا جلد اعلان ہونے کا امکان ہے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
سیتا رمن نے دوحہ میں نیپال، سعودی عرب کے وزرائے خزانہ کے ساتھ دوطرفہ اہمیت کی حامل میٹنگیں کیں
نئی دہلی/ دوحہ، وزیرِ خزانہ محترمہ نِرملا سیتا رمن نے قطر کے اپنے دورے کے دوران نیپال کے وزیرِ خزانہ سوَرن واگلے کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
محترمہ سیتا رمن دوحہ میں ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی سالانہ میٹنگ کے سلسلے میں وہاں گئی ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ اس میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن نے اتوار کے روز نیپال کے وزیرِ خزانہ مسٹر واگلے کے ساتھ ایک الگ میٹنگ کی۔ دونوں وزراء نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہوئی دونوں کے درمیان دوبارہ ہوئی اس ملاقات پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے نئی دہلی میں ہوئی پچھلی میٹنگ کے دوران ہوئی بات چیت کو آگے بڑھانے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔
میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن اور مسٹر واگلے نے نیپال میں حال ہی میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد بحالی اور اصلاحات کے موضوع پر نیپال کے اندازے اور ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا۔ ساتھ ہی، دونوں نے اس مشکل وقت میں ہندوستان جو بھی مدد دے سکتا ہے، اس کی باریکیوں پر کام کرنے کے لیے دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان مسلسل بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزراء نے نئی دہلی میٹنگ میں شروع کیے گئے پروجیکٹوں کی پیش رفت پر بھی بات چیت کی اور مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یو ٹی آئی-این پی آئی لنکج کو جلد شروع کرنے اور استعمال کرنے پر بھی بات چیت ہوئی، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند پہل ہے۔
محترمہ سیتا رمن نے اے آئی آئی بی کے بورڈ آف گورنرز کی دوحہ کانفرنس کے دوران سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے بھی ملاقات کی۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان کی مضبوط معاشی کارکردگی اور بہتر ہوتے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے سیتا رمن کو مبارکباد دی اور سعودی معیشت پر اپنی رائے رکھی۔
محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ سعودی عرب ہندوستان کا قابلِ اعتماد اور اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ ساتھ ہی، انہوں نے دفاع، سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر، تعلیم، ثقافت اور لوگوں کے درمیان باہمی تبادلے جیسے کئی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان جامع شراکت داری کا ذکر کیا۔ دونوں وزراء نے ہند- سعودی عرب دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (بی آئی ٹی) پر بات چیت کے کامیاب اختتام کا خیر مقدم کیا۔ اس سے دوطرفہ سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد ڈھانچہ ملے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا۔ مسٹر الجدعان نے کہا کہ سعودی عرب اس کے جلد نافذ ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ سعودی عرب کے دوران ظاہر کیے گئے نقطۂ نظر کو یاد کرتے ہوئے، دونوں وزراء نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے پر تبادلۂ خیال کیا۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان سے سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرنے میں گہری دلچسپی دکھائی۔
محترمہ سیتا رمن نے اسی دوران سوئٹزرلینڈ کے سفیر اور اے آئی آئی بی میں اس کے نمائندے گورنر پریکشتروں لازیری سے بھی الگ سے ملاقات کی۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
خواتین کو گھر میں بند کرکے رکھنے میں نہیں، مجرموں پر کارروائی ہے حل : راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے خواتین کی سکیورٹی کےتعلق سے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں گھر میں بند کرکے رکھنا حل نہیں ہے بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانے اور خواتین کے خلاف جرائم کرنے والوں کو سزا دینے کی ضرورت ہے۔
مسٹر گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ ملک بھر میں خواتین سڑکوں پر چلنے کے دوران ہراسانی اور عصمت دری کے واقعات سے خوفزدہ ہیں اور حکومت کا جواب ہے کہ انہیں گھر میں رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام متاثرہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے اور مجرم کو بچاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حل خواتین کو گھر کے اندر رکھنا نہیں، بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والی مردانہ ذہنیت کا سامنا کرنا اور حملہ کرنے والوں کو تیزی سے اور بغیر کسی استثنیٰ کے سزا دینا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہزاروں طلبہ اور نوجوان خواتین کی سکیورٹی کے مطالبے کے حق میں سڑکوں پر ہیں۔ انہوں نے ملک بھر کی زیادہ سے زیادہ نوجوان خواتین، خاص طور پر جین زی سے بڑی تعداد میں آگے آنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ حکومت خواتین کے درد کے تئیں بہری ہے اور دباؤ پڑنے پر ہی سنے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرہ جمہوری حق ہے اور وہ اس کے ساتھ پوری طرح کھڑے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انتخابی کمیشن کو کٹھ پتلی بن کر کام نہیں کرنا چاہیے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ میں شفافیت، انتخابی عمل میں غیر جانبداری اور الیکشن کمیشن کی آزادی کو یقینی بنا کر ہر شہری کا ووٹ محفوظ کرنا ضروری ہے۔
مسٹر کھرگے نے منگل کے روز یہاں پارٹی کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز اکائی کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے سامنے ملک کی جمہوریت اور آئین کو بچانے کی تاریخی ذمہ داری ہے، لیکن آج ملک کے شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر مودی حکومت کی کٹھ پتلی بن کر کام کر رہے ہیں اور حکام کی من مرضی سے ووٹروں کے نام کاٹے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے حقِ رائے دہی کو جمہوریت کی سب سے بنیادی چیز بتایا تھا۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس کی لڑائی کسی پارٹی، ادارے یا فرد کے خلاف نہیں، بلکہ ہندوستان کے ووٹروں کے حقوق، آئین اور جمہوری نظام کو بچانے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اتنا مضبوط اور قابلِ اعتماد ہونا چاہیے کہ اقتدار میں شامل طبقہ اور اپوزیشن دونوں اس کے فیصلوں پر یکساں بھروسہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کے پانچ واضح مطالبات ہیں کہ ووٹر لسٹ میں ہونے والی ہر بڑی تبدیلی کا پورا ڈیٹا عام کیا جائے، ہٹائے گئے ووٹروں کو اس کی اطلاع اور اپیل کرنے کا موقع ملے، سیاسی جماعتوں کو ووٹر لسٹ سے متعلق ضروری ڈیٹا وقت پر آسان فارمیٹ میں دستیاب ہو، سنگین بے ضابطگیوں کی آزادانہ اور مقررہ وقت کے اندر جانچ ہو نیز انتخابی عمل سے جڑے اہم ڈیٹا اور فیصلوں میں شفافیت رکھی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹروں کو یہ بھروسہ ہونا چاہیے کہ ان کا ووٹ محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات آتے جاتے رہتے ہیں اور حکومتیں بھی آتی جاتی ہیں، لیکن جمہوریت اور آئین مستقل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مہادیوپورا، آلند نیز ہریانہ اور مہاراشٹر میں ووٹر کے اعداد و شمار سے جڑے سنگین سوالات دستاویزات کے ساتھ اٹھائے تھے۔ اگر الیکشن کمیشن نے ان امور پر سنجیدگی دکھائی ہوتی تو اس کی ساکھ بچی رہتی۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دو کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کی سرگرمیوں کو من مانا اور نا مناسب بتایا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے نیز وزیرِ اعظم سے اخلاقیات کی بنیاد پر استعفے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کو دیکھتے ہوئے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ کسی ووٹر کا حق نہ چھینا جائے، ہر شخص کا ووٹ محفوظ رہے اور انتخابات غیر جانبدارانہ ہوں۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان5 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
