ہندوستان
وقف ترمیمی بل 2024: اسلامی تعلیمات میں اختلافِ رائے کی گنجائش: شاہ عمار احمد احمدی
نئی دہلی، وقف ترمیمی بل 2024؍کے معاملہ میں اب ملت اسلامیہ ہند درگاہی اور دیوبندی کی شکل میں دو حصوں میں تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے ۔خانقاہ حضور شیخ العالم علیہ الرحمہ کے سجادہ نشین اور آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ و آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کے نائب صدر شاہ عمار احمد احمدی عرف نیر میاں کا شدید رد عمل سامنے آیا ہے انھوں نے جاری اپنے بیان میں اس پورے معاملہ کو دیوبندی اور وہابی تحریکوں کی جانب سے درگاہ بورڈ کی مخالفت کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔
وقف ترمیمی قانون پر وضاحت وقف ترمیمی قانون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہ عمار احمدی نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل یا خانقاہی تنظیموں نے اس قانون کی مکمل حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حمایت صرف مخصوص شرائط اور قیودات کے تحت کی گئی ہے، اور ان شرائط کی عدم موجودگی میں ان کا موقف حمایت کے بجائے مخالفت کا ہوگا۔ مکمل حمایت کا دعویٰ جھوٹ اور الزام تراشی ہے، جس سے وہ اور تمام خانقاہی تنظیمیں براءت کا اظہار کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اختلافات کو ذاتی دشمنی اور بے بنیاد الزامات میں تبدیل کرنا نہ صرف غیر شرعی ہے بلکہ معاشرے میں انتشار کا سبب بنتا ہے۔ صحافت کی اخلاقیات اور غیر جانبداری شاہ عمار احمدی نے ذرائع ابلاغ کے کردار پر افسوس کا اظہار کیا، جہاں بعض صحافتی اداروں نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی خبریں شائع کیں جو فرقہ واریت کو بڑھاوا دے سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، صحافت کا بنیادی مقصد سچائی اور غیر جانبداری پر مبنی ہونا چاہیے، مگر بعض میڈیا ادارے مذہبی تقسیم کو ہوا دے رہے ہیں جو معاشرتی اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ وقف بورڈ پر تنقید وقف بورڈ کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے شاہ عمار احمدی نے کہا کہ وقف بورڈ نے خانقاہوں کے حقوق کو مسلسل پامال کیا ہے اور ان کے مالی و انتظامی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرکے خانقاہی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسیاں دراصل دیوبندی اور وہابی تحریکوں کے ایجنڈے کو فروغ دیتی ہیں، جو خانقاہوں کی روحانی اور تاریخی حیثیت کو ختم کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔ درگاہ بورڈ کے قیام کی ضرورت شاہ عمار احمدی نے درگاہ بورڈ کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خانقاہوں کے حقوق اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے سخت الفاظ میں اس مخالفت کی مذمت کرتے ہوئے اسے خانقاہوں کے روحانی اور تاریخی کردار کو کمزور کرنے کی کوشش کا حصہ قرار دیا۔ اختلافِ رائے کا حق اور اس کی حدود شاہ عمار احمدی نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی تعلیمات میں اختلافِ رائے کی گنجائش ہے اور ہر شخص کو اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ وہ اخلاقی اور اسلامی حدود میں رہے۔ تاہم، کسی شخص یا ادارے کو محض اختلافِ رائے کی بنیاد پر غدار کہنا یا اسے ملت فروش قرار دینا اسلامی اقدار اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے اس مطالبے کو غداری سے تعبیر کرنے والوں کی مذمت کی اور کہا کہ درگاہ بورڈ کا قیام خانقاہوں کے مالی اور انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق کے تحفظ کا ضامن ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ درگاہ بورڈ کا قیام تمام خانقاہوں کے سجادگان اور نمائندگان کا متفقہ مطالبہ ہے، اور یہ ان کا حق ہے۔ حقیقی غدار کون؟ شاہ عمار احمدی نے اپنی گفتگو میں ان افراد کو “حقیقی غدارِ ملت” قرار دیا جو ماضی میں خانقاہوں کے حقوق کی پامالی پر خاموش رہے اور آج جب خانقاہی نظام کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تو بے جا تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو ہمیشہ خانقاہی نظام کو کمزور کرنے کے درپے رہے ہیں اور آج بھی اس نظام کی مضبوطی کے خلاف ہیں۔
حتمی پیغام شاہ عمار احمد احمدی نے اپنے بیان کے اختتام پر اہل سنت والجماعت کے افراد کو دیوبندی اور وہابی تحریکوں کی سازشوں سے خبردار رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ درگاہ بورڈ کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، اور اس سے نہ صرف خانقاہی نظام کی خودمختاری اور روحانی حیثیت محفوظ رہے گی بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔م ا
ہندوستان
ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام میں زیادہ سے زیادہ انضمام، ڈیجیٹل کاری اور شفافیت پر زور دیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے جمعرات کے روز یہاں ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کی 279ویں سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فوج، بحریہ اور فضائیہ کے مالیاتی نظام کو زیادہ سے زیادہ مربوط کرنے نیز مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے اعداد و شمار کو حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت بتائی۔ انہوں نے کہا کہ روایت سے ہٹ کر بجٹ کا ‘سالانہ جائزہ’ لینے کے بجائے کسی بھی وقت جائزہ لینے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کو ملک کی دفاعی تیاریوں کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اس کے تقریباً تین صدیوں کے تعاون کی ستائش کی۔
وزیرِ دفاع نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے ڈیجیٹل نیز مربوط اکاؤنٹنگ اور ادائیگی کے نظام ‘سکشم’ کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اسے ہندوستانی فوج کے مالیاتی معلومات کے نظام سے جوڑنے سے بجٹ، منظوری اور بلوں سے متعلق معلومات کا ڈیجیٹل تبادلہ ممکن ہوا ہے اور بلوں کا عمل مکمل طور پر بغیر کاغذ ہو گیا ہے۔
انہوں نے سال 26-2025 میں بجٹ کے 100 فیصد اخراجات پر شعبے اور تینوں افواج کی مشترکہ کوششوں کی ستائش کی۔ پنشن سے متعلق شکایتوں کے ازالے کے لیے بات چیت پر مبنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نظام تیار کرنے کی تجویز دیتے ہوئے انہوں نے شکایتوں اور عدالتی معاملات کے جلد تصفیے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع میں زندگی وقف کرنے والوں کے جائز بقایا جات اور سروس حقوق کے معاملات میں نظام مضبوط، غیر جانبدار، حساس اور ذمہ دار ہونا چاہیے۔
مسٹر سنگھ نے مکمل طور پر خودکار محصولات کی خریداری کے نظام ‘سمپورن’ کو جلد نافذ کرنے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر انہوں نے دفاعی مالیاتی معلومات کے نظاموں کے انضمام، دفاعی اخراجات کی نگرانی اور وزارتِ دفاع میں فنڈز کے سنگل اکاؤنٹ کے نظام سے جڑی تین اہم پہل قدمیوں کا بھی آغاز کیا۔
ان میں ‘سکشم’ کو ہندوستانی فوج کے مالیاتی معلومات کے نظام سے جوڑنا، وزارتِ دفاع میں فنڈز کے سنگل اکاؤنٹ کا نظام اور دفاع کے لیے نیا قومی کمپائلیشن سسٹم شامل ہیں۔ نئے کمپائلیشن سسٹم سے بجٹ اور اخراجات کی مزید دقیق نگرانی نیز وزارتِ مالیات، وزارتِ دفاع اور متعلقہ حکام کے لیے تفصیلی رپورٹنگ میں مدد ملے گی۔
تقریب میں ڈیفنس منسٹرز ایکسیلنس ایوارڈز-2026) بھی دیے گئے۔ یہ ایوارڈز دفاعی مالیاتی انتظام میں سدھار، جدت، اہلیت اور شفافیت کے لیے دیے گئے۔ انہوں نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کی تین مطبوعات کا بھی اجراکیا۔ ان میں دفاعی اخراجات پر جامع اعداد و شمار کے کتابچہ-2026، رکشا لیکھا بھارتی اور مارکیٹ انٹیلی جنس رپورٹ 25-2026 شامل ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
راہل نے آن لائن فارم-6 میں تبدیلی پر الیکشن کمیشن، ٹی سی ایس سے پوچھے سوالات
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے نئے ووٹرز کے لیے آن لائن فارم-6 میں کی گئی تبدیلی پر الیکشن کمیشن اور ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) سے ضروری سوالات پوچھے ہیں۔
راہل نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا، “آن لائن فارم-6 میں غیر قانونی طریقے سے تبدیلی کی گئی، جیسا کہ الیکشن کمیشن کے اپنے کمشنروں نے درج کیا ہے۔ الیکشن کمیشن میں کس نے ٹی سی ایس کو یہ تبدیلی کرنے کا حکم دیا؟ ٹی سی ایس میں کس نے اسے منظوری دی اور کیا ان پر ایسا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا؟”
قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے فارم-6 میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) سے متعلق اضافی اعلان کو شامل کیے جانے پر اعتراض درج کرایا تھا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کمرشیل ایل پی جی گیس سلنڈر مہنگا ہوا
نئی دہلی، تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں نے جمعرات سے کمرشیل ایل پی جی ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے، حالانکہ گھریلو سلنڈر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
دہلی میں ریستوران، ہوٹل وغیرہ میں استعمال ہونے والا 19 کلوگرام کا ایل پی جی سلنڈر آج سے 2810 روپے کا ہوگیا ہے۔ ستمبر میں اس کی قیمت 2747.50 روپے تھی۔ اس طرح یہاں 62.50 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
ممبئی میں تجارتی ایل پی جی سلنڈر 63.50 روپے مہنگا ہوکر اب 2764.50 روپے کا ہوگیا ہے۔ چنئی میں اب یہ 66.50 روپے بڑھ کر 2983 روپے اور کولکاتا میں 70 روپے بڑھ کر 2954 روپے کا ہوگیا ہے۔ اسی طرح دوسرے شہروں میں بھی نقل و حمل کی لاگت وغیرہ کے حساب سے قیمتوں میں تقریباً اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔
یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے، جب کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کے دام بڑھے ہیں۔ اس سے پہلے ستمبر میں دہلی میں 9.50 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔
گھریلو ایل پ جی سلینڈروں کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ دہلی میں اس کی قیمت 942 روپے، کولکاتا میں 968 روپے، ممبئی میں 941.50 روپے اور چنئی میں 957.50 روپے پر برقرار ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا6 days agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
ہندوستان1 week agoترقی پذیر ممالک کو فیصلہ ساز اداروں میں جگہ دی جانی چاہیے: جے شنکر
-
دنیا7 days agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
