کھیل
ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 120 رن سے شکست دی
ملتان، جومل واریکن (پانچ وکٹ)، کیون سنکلیئر (تین وکٹ) اور گڈاکیش موتی (دو وکٹ) کی شاندار گیند بازی کی بدولت ویسٹ انڈیز نے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن پاکستان کو 120 رنز سے شکست دے دی۔ اس جیت کے ساتھ ہی ویسٹ انڈیز نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔
اس ٹیسٹ سیریز میں مجموعی طور پر 19 وکٹیں لینے اور 85 رنز بنانے والے ویسٹ انڈیز کے جومل واریکن کو ‘مین آف دی میچ’ اور ‘پلیئر آف دی سیریز’ کے ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔
پاکستان نے کل چار وکٹوں پر 76 رنز سے کھیل دوبارہ شروع کیا۔ کیون سنکلیئر نے آج صبح پہلے سیشن کا آغاز سعود شکیل (13) کو آؤٹ کر کے کیا۔ جومل واریکن نے پھر کاشف علی (1) کو بولڈ کر کے پاکستان کو چھٹی وکٹ دلائی۔ پاکستان کی چھ وکٹیں گر چکی تھیں اور اس کا اسکور صرف 76 رنز تھا۔ آغا سلمان اور محمد رضوان نے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ 115 کے اسکور پر واریکن نے آغا سلمان (15) کو ایل بی ڈبلیو کرکے اس شراکت داری کو توڑا۔ واریکن نے پھر محمد رضوان (25) کو آؤٹ کرکے ویسٹ انڈیز کو آٹھویں کامیابی دلائی۔ نعمان علی (صفر) کو گڈاکیش موتی نے آؤٹ کیا۔
44ویں اوور میں واریکن نے ساجد خان (سات) کو آؤٹ کر کے پاکستان کی دوسری اننگز 133 پر سمیٹ دی۔
پہلی اننگز میں 4 وکٹیں لینے والے ویسٹ انڈین اسپنر جومل وریکین نے دوسری اننگز میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، کیون سنکلیئر نے 3 جبکہ گداکیش موتی نے 2 وکٹیں حاصل کیں، جومل وریکین میچ اور سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔
میچ کے تیسرے روز کھیل کے آغاز پر ہی سعود شکیل 13 اور نائٹ واچ مین کاشف علی ایک رن بناکر آؤٹ ہوگئے، جب کہ سلمان علی آغا بھی 15 رنز بناکر چلتے بنے، ساجد خان 7، نعمان علی 6 اور محمد رضوان 25 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔
دوسرے روز ویسٹ انڈیز کی ٹیم دوسری اننگز میں 244 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی اور پاکستان کو جیت کے لیے 254 رنز کا ہدف دیا۔
پاکستان نے دوسری اننگز میں 244 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ کا آغاز کیا تو کپتان شان مسعود 2 رنز بنانے کے بعد 3 رنز کے مجموعی اسکور پر کیون سنکلیئر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
اگلے اوور میں محمد ہریرہ بھی 2 رنز بنانے کے بعد گوداکیش موتی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے، کامران غلام بھی 19 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے، جومل وریکین کی گیند پر امیر جنگو نے ان کا کیچ لیا۔
پاکستانی ٹیم کو تجربہ کار بلے باز بابر اعظم سے امیدیں تھیں کہ وہ اس مشکل صورتحال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے لیکن سابق کپتان کی ناکامیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا اور وہ صرف 31 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے کیون سنکلیئر نے 2 جب کہ جومل وریکین اور کودا کیش موتی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
پہلی اننگز میں 6 وکٹیں لینے والے نعمان علی نے دوسری اننگز میں 4 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، ساجد خان نے بھی 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ ابرار احمد اور کاشف علی کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔
ویسٹ انڈیز کے اوپنرز نے دوسری اننگز میں مشکل بیٹنگ وکٹ پر ٹیم کو 50 رنز کا عمدہ آغاز فراہم کیا۔
کپتان کریگ بریتھویٹ نے 52 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ عامر جنگو نے بھی 30 رنز بنائے تاہم اس کے بعد نعمان علی نے 4 وکٹیں لے کر میچ دلچسپ بنادیا تاہم پہلی اننگز میں ذمے دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ کرنے والے ٹیل اینڈرز ایک بار پھر وکٹ پر جم گئے۔
ویسٹ انڈیز نے کھانے کے وقفے تک 5 وکٹوں پر 129 رنز بنائے اور اسے مجموعی طور پر پاکستان پر 138 رنز کی برتری حاصل تھی۔
کھانے کے وقفے کے بعد 145 کے مجموعی اسکو پر ویسٹ انڈیز کی چھٹی وکٹ گری جب جسٹن گریوز 10 رنز بنانے کے بعد ابرار احمد کی گیند پر ساجد خان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
اس کے بعد آنے والے وکٹ کیپر ٹیون ایمالاچ اور کیون سنکلیئر نے 51 رنز کی شراکت قائم کی جس کے بعد کیون سنکلیئر 28 رنز بنانے کے بعد ساجد خان کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔
35 رنز بنانے والے ٹیون ایمالاچ کو کاشف علی نے 208 کے مجموعی اسکور پر ایل بی ڈبلیو کیا جس کے بعد گداکیش موتی اور جومل وریکین کو ساجد خان ایل بی ڈبلیو کیا۔
ویسٹ انڈیز نے دوسری اننگز میں 244 رنز بنانے کے بعد پہلی اننگز میں 9 رنز کی برتری کی بدولت پاکستان کو جیت کے لیے 254 رنز کا ہدف دیا ہے۔
اس سے قبل ہفتے کو میچ کے پہلے روز پہلی اننگز میں پاکستان ٹیم ویسٹ انڈیز کے 163 رنز کے جواب میں 154 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی، محمد رضوان 49 رنز بناکر نمایاں بلے باز رہے تھے جبکہ 32 رنز بنانے والے سعود شکیل کے علاوہ کوئی اور بلے باز قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکا تھا۔
کپتان شان مسعود 15، محمد ہریرہ 9، بابر اعظم ایک اور کامران غلام 16 رنز بناسکے تھے جبکہ سلمان علی آغا 9، نعمان علی صفر، ابرار احمد 2 اور کاشف علی کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہوگئے تھے جبکہ ساجد خان 16 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے تھے۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے جومل وریکن نے 4، گداکیش موتی نے 3 اور کیمرروش نے 3 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
یواین آئی۔ م س
کھیل
سروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
آئیچی-ناگویا (جاپان)، ہندوستان کی سروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ کی جوڑی نے جمعہ کو ایشیائی کھیلوں کے نشانہ بازی مقابلے میں 10 میٹر ایئر پسٹل مکسڈ مقابلے میں جنوبی کوریا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ یہ ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کا دوسرا تمغہ ہے۔
آج یہاں ہوئے مقابلے میں ہندوستانی جوڑی نے مجموعی طور پر 484.6 اسکور کے ساتھ سرفہرست مقام حاصل کیا۔ کمل جیت اور سروچی نے شروعات سے ہی اچھی برتری بنا لی تھی، لیکن جنوبی کوریا مسلسل ہندوستانی نشانہ بازوں پر دباؤ بنائے ہوئے تھا۔ تاہم ہندوستانی جوڑی نے دباؤ میں کوئی غلطی نہیں کی اور جنوبی کوریا کو 6.6 پوائنٹس کے فرق سے شکست دے کر طلائی تمغہ اپنے نام کرلیا۔ جنوبی کوریا 478 اسکور کے ساتھ دوسرے جبکہ ایران 415.8 اسکور کے ساتھ تیسرے مقام پر رہا۔
یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
سلطان واریئرز بارہمولہ نے افتتاحی چنار پریمیئر لیگ کا خطاب جیت لیا
سری نگر، سلطان واریئرز بارہمولہ نے افتتاحی چنار پریمیئر لیگ (سی پی ایل) کرکٹ ٹورنامنٹ 2026 کا خطاب جیت لیا۔ اس نے بارہمولہ کے جنرل بپن راوت اسٹیڈیم میں کھیلے گئے شاندار فائنل میں رمزی اسپورٹس سری نگر کو شکست دی۔
پہلے بلے بازی کرتے ہوئے سلطان واریئرز نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز بنائے، جس کے جواب میں رمزی اسپورٹس سری نگر کی پوری ٹیم 142 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ اس طرح سلطان واریئرز نے شاندار کامیابی کے ساتھ خطاب اپنے نام کر لیا۔
سلطان واریئرز کے عاقب کھانڈے کو میچ جیتنے والی کارکردگی پر ’مین آف دی میچ‘ قرار دیا گیا، جبکہ ان کے ساتھی کھلاڑی عاصم بشیر کو پورے ٹورنامنٹ میں مسلسل عمدہ کارکردگی پر ’مین آف دی سیریز‘ کا اعزاز دیا گیا۔
فوج کی سری نگر چنار کور کی جانب سے منعقد کیے گئے اس ٹورنامنٹ میں ریکارڈ تعداد میں ٹیموں نے شرکت کی۔ مقابلے کے لیے 130 ٹیموں نے رجسٹریشن کرائی تھی، جن میں سے کشمیر وادی کے مختلف علاقوں سے 79 ٹیموں کا انتخاب کیا گیا۔
تقریب میں جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اتل ڈلو کے علاوہ بارہمولہ میں تعینات ڈیگر ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اور مقامی برادری کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
منتظمین نے کہا کہ سی پی ایل 2026 نے پوری کشمیر وادی کے کرکٹ ٹیلنٹ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا اور خاص طور پر نوجوانوں کے درمیان ہندوستانی فوج اور مقامی برادری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔
دفاعی ترجمان نے کہا کہ سی پی ایل 2026 کا کامیاب انعقاد خطے کے کھیلوں کے کیلنڈر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس کے ذریعے وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان کرکٹرز کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
بابر اعظم کی سات سال بعد ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی
اسلام آباد، پاکستان کے ٹیسٹ کپتان بابر اعظم موجودہ پریذیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی نمائندگی کریں گے۔ انہیں ٹیم نے بطور گیسٹ کھلاڑی شامل کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بابر نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے درخواست کی تھی کہ انہیں کسی ٹیم میں شامل کیا جائے تاکہ وہ طویل فارمیٹ میں اپنی فارم بہتر کرسکیں۔ اس کے بعد بورڈ نے انہیں او جی ڈی سی ایل کے ساتھ جوڑ دیا۔ بابر نے دسمبر 2022 کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی سنچری نہیں بنائی۔ اس کے بعد سے 39 اننگز میں وہ صرف آٹھ نصف سنچریاں بناسکے ہیں، جبکہ 2023 کے آغاز سے ٹیسٹ میں ان کی اوسط 30.43 رہی ہے۔
ان کی خراب فارم پاکستان کرکٹ میں مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ حالیہ انگلینڈ دورے میں پاکستان کو تین ٹیسٹ کی سیریز میں 0-3 سے شکست ہوئی، جبکہ لارڈز اور ایجبسٹن ٹیسٹ میں انگلینڈ کے تیز گیندبازوں نے شارٹ گیند کے خلاف بابر کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔ تاہم گزشتہ پانچ ٹیسٹ میں وہ چار نصف سنچریاں بناچکے ہیں اور گزشتہ ماہ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ان کا اسکور 88 رنز رہا، جس سے پاکستان نے جولائی 2023 کے بعد پہلی بار بیرون ملک ٹیسٹ جیتا۔
بابر نے آخری بار 2019 میں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کھیلا تھا، جب انہوں نے سینٹرل پنجاب کی کپتانی کرتے ہوئے فائنل میں ناردرن کو شکست دے کر قائداعظم ٹرافی جیتی تھی۔ حالیہ برسوں میں ٹیسٹ اور آئی سی سی ٹورنامنٹس میں پاکستان کی خراب کارکردگی کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں زیادہ حصہ لینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ اس سیزن میں شاہین شاہ آفریدی اور سلمان آغا سمیت کئی دیگر بین الاقوامی کھلاڑی بھی پریذیڈنٹس ٹرافی میں حصہ لے رہے ہیں۔
پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ کے تحت اے کیٹیگری کے ٹیسٹ ماہر کھلاڑیوں کے لیے سالانہ کم از کم چھ، اے بی کیٹیگری کے ٹیسٹ اور ون ڈے ماہر کھلاڑیوں کے لیے چار، جبکہ بی سی کیٹیگری کے وائٹ بال ماہر کھلاڑیوں کے لیے کم از کم دو فرسٹ کلاس میچ کھیلنا ضروری ہے۔ پاکستان اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں نویں نمبر پر ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی نو ٹیموں کی جدول میں آخری مقام پر ہے۔ وہ گزشتہ چار آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ناک آؤٹ مرحلے تک بھی نہیں پہنچ سکا ہے۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان5 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا7 days agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
