تازہ ترین
ویڈیو:اہلخانہ سے فرار سعودی لڑکی کو تھائی لینڈ میں قیام کی اجازت
خبراردو:
تھائی لینڈ کی عدالت سے ڈی پورٹ نہ کیے جانے کی استدعا مسترد ہونے کے باوجود آسٹریلیا میں پناہ کی خواہشمند سعودی لڑکی کو وقتی طور پر تھائی لینڈ میں قیام کی اجازت دے دی گئی ہے۔
18 سالہ رحاف محمد القنون کو گزشتہ روز نامکمل دستاویزات کے سبب بنکاک ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’اگر انہیں آسٹریلیا میں سیاسی پناہ نہ ملی تو انہیں اپنے ہی اہلخانہ سے جان کا خطرہ لاحق ہے‘۔
تھائی لینڈ کی امیگریشن پولیس کے سربراہ نے کہا کہ آسٹریلیا میں پناہ کی خواہشمند لڑکی کو کچھ وقت کے لیے تھائی لینڈ میں داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
میجر جنرل سراچاتے ہکپارن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی 18سالہ لڑکی کی درخواست کا جائزہ لے گی اور انہی کی جانب سے تحفظ فراہم کیے جانے پر انہیں تھائی لینڈ میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی ایجنسی کو رحاف کے کیس کا جائزہ لینے میں کم از کم پانچ سے ساتھ 7دن لگیں گے۔
تھائی حکام کی جانب سے اقوام متحدہ کی ٹیم کو رحاف سے ملنے کی اجزت دیے جانے کے بعد امیگریشن پولیس کے سربراہ نے اس بات کا اعلان کیا۔
لڑکی کو بنکاک ایئرپورٹ کے ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اپنا کمرہ پہلے ہی چھوڑ چکی ہیں اور ان کی موجودہ رہائش گاہ کے مقام کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ رحاف کو عالمی سطح کا تحفظ درکار ہے اور ہم ان کی صورتحال کا فوری حل نکالیں گے اور اسی وجہ سے ہم نے ان کی رہائش گاہ کے مقام کو خفیہ رکھا ہے۔
Very worried on news that #Rahaf's father, senior #SaudiaArabia gov't official Mohammed al-Qunun from Ha'il province is now traveling to #Thailand. This is the person that #Rahaf fears most. She is 18 years old adult, & has right to decide whether to meet him or not. #SaveRahaf pic.twitter.com/dcEbQGIgbv
— Phil Robertson (@Reaproy) January 7, 2019
امیگریشن پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ رحاف محمد القنون کے والد پیر کی رات تھائی لینڈ پہنچ رہے ہیں اور ان سے ملاقات کے بعد حکام فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے اور یہ دیکھنا ہو گا کہ لڑکی اپنے والد کے ساتھ جانے پر رضامند ہوتی ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں پناہ کی خواہشمند نوجوان لڑکی کو اس کی خواہشات کے برعکس کہیں نہیں بھیجا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل رحاف کو تھائی لینڈ سے ڈی پورٹ کرنے کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیم کے وکیل نیڈتھسیری برگ مین نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی لیکن بنکاک کی کرمنل کورٹ نے ان کی استدعا کو مسترد کردیا تھا۔وکیل نے بتایا کہ عدالت نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کردی تھی کہ ان کے پاس موجود ثبوت ناکافی ہیں ۔
اس کے بعد رحاف کو واپس کویت بھیجنا تھا لیکن کویت ایئرویز کی فلائٹ ان کے بغیر ہی روانہ ہو گئی تھی۔
رحاف محمد القنون کون ہیں؟
18 سالہ رحاف محمد القنون اپنے اہلخانہ کے ہمراہ کویت کی سیاحت پر تھیں جہاں سے وہ بنکاک کے راستے آسٹریلیا جانے کی کوشش میں گرفتار ہوئیں۔
اپنے اہلخانہ کی جانب سے قتل کیے جانے کے خطرے سے دوچار رحاف نے کہا تھا کہ ’میں نے مذہب سے متعلق کچھ باتیں کیں اور مجھے خوف ہے کہ سعودی عرب واپس بھیجنے کی صورت مجھے قتل کردیا جائے گا‘۔
انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی سفارتخانے نے ان کا پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے لیا جس پر آسٹریلیا کا ویزا موجود ہے‘۔نوجوان لڑکی نے اپنے اہلخانہ پر ذہنی و جسمانی ایذیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میرے اہل خانہ شدت پسند ہیں اور محض بال تراشنے پر 6 ماہ کے لیے کمرے میں بند کردیا‘۔
سعودی لڑکی نے کہا کہ ’مجھے سو فیصد یقین ہے کہ جیسے ہی میں سعودی جیل سے باہر آؤں گی وہ لوگ مجھے قتل کردیں گے‘۔
امیگریشن حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ’رحاف شادی کی خواہش مند نہیں اور اسی لیے اپنے اہل خانہ سےراہ فرار اختیار کی اور اب انہیں سعودی عرب واپس جانے پر تحفظات ہیں‘۔
واضح رہے کہ اس طرح ایک واقعہ اپریل 2017 میں پیش آیا جب 24 سالہ ڈینا علی لسلوم نامی سعودی خاتون کو فلپائن میں روک لیا گیا تھا۔وہ بھی اپنے اہلخانہ سے فرار چاہتی تھیں تاہم انہیں سعودی عرب کے حوالے کردیا گیا تھا۔
انہوں نے کینیڈا کے سیاح کا فون استعمال کرکے ویڈیو پیغام ٹوئٹر پر پوسٹ کیا کہ ’ان کے اہلخانہ انہیں قتل کردیں گے‘۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
