تازہ ترین
ویڈیو: بھارت نے آر پار تجارت بند کیوں کی؟؟
خبراردو:
ایک طرف جہاں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک بار پھر سے بھارت کا وزیر عظم دیکھنا چاہتے ہیں ،لیکن دوسری طرف پلوامہ حملے کے بعد مرکز میں موجود بھاجپا سرکار پاکستان کے خلاف کڑے سے کڑا فیصلہ لینے میں کوئی بھی موقع نہیں گنوا نا چاہتی ۔
اسی کو جاری رکھتے ہوئے اب وزارت داخلہ نے سلام آباد اوڑی اور چکاں داباغ پونچھ سے آر پار تجارت کو۱۹ اپریل سے معطل کر دیا ہے ۔ اور اس آر پار تجارت کو بند کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ حکومت کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ان راستوں سے پاکستان میں مقیم عناصر ہتھیار ، نشیلی ادویات ، اور غیر ملکی کرنسی جیسے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں ۔ حکم نامے میں مزید بتایا گیا کہ سخت قوانین کے نفاذ تک آر پار تجار ت کے میکنیزم کو معطل کیا جائے گا ۔ نئے نظام کے زریعے ایسا یقینی بنایا جائے گا کہ ایسی جائز تجارت ہو جو جموں کشمیر کے عوا م کے لئے فائدہ مند ہو ۔
ریاستی لیڈران نے اس فیصلے کی سخت تنقید کی ہے ۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی نے جو کچھ کیا سے مودی ختم کرنا چاہتے ہیں اور کشمیر کو انتخابات کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ مودی نے ایک اور واجپائی کے دور کا اعتماد بڑھانے کے اقدام دفن کر دیا ۔
میر واعظ عمر فاروق نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی کی سبھی حصولیابیوں کو ختم کیا جا رہا ہے ۔آر پار تجارت کو روکنا کشمیریوں کے لئے بھاری نقصان کا باعث ہو گا ۔
ادھر شدید تنقید کے بعد وزارت داخلہ نے فیصلے کے پیچھے ۵ ٹھوس وجوہات بیان کئے ، جن میں تیسرے فریق کی اشیاء میں دراندازی ، دہشت گردی کیلئے فنڈس کا چینل نشیلی ادویات کی تجارت ، وادی میں عسکریت پسندوں کیلئے ہتیاروں کی سپلائی اور جعلی کرنسی شامل ہیں ۔
پلوامہ حملے کے بعد د ونوں ممالک کے مابین تعلقات میں مزید کشیدگی دیکھی گئی ،وہیں بھارت میں لوک سبھا انتخابات کے ہوتے ہوئے ہمیشہ سے ہی جہاں بھاجپا نے ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے پاکستان کارڈ کھیلا ، اور اس بار اسکے لئے موقع بھی تھا ۔
اسی کو دیکھتے ہوئے بھارت نے پاکستان کو دیا گیا پسندیدہ ملک کا درجہ بھی واپس لے لیا ، مزید بھار نے اپنے تین دریاؤں کے حصے کا پانچ فیصدی پاکستان جانیو الے پانی کو بھی کو روکنے کی بات کہی ہے۔
۲۰۰۵ میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے تب کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور پاکستان کے صدر پرویز مشرف کے درمیان ’کافڈنس بلڈنگ میجر‘ کے تحت اوڑی مظفرآباد بس سروس شروع کرنے پر مذاکرات شروع ہوئے ، جس سے آر پار بچھڑے رشتے داروں کو ایک بار پھر سے آپس میں جڑنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ جس کے لئے بعد میں منموہن سنگھ کے دور میں اوڑی اور پونچھ میں دو ٹرانزٹ پونٹ اس بس سروس کیلئے رکھے گئے ۔
اسکے بعد ۲۰۰۸ میں منموہن سنگھ کی سرکار میں ایک اور بڑا فیصلہ لیتے ہوئے دنوں سرکاروں نے ان ہی دو ٹرانزٹ پوئنٹس پر آر پار تجار ت بھی شروع کر دی ۔ جسے آج مزرکزی سرکار نے دس سال کے بعد بند کر دیا ۔
بھارت کے کاروبای کالی مرچ کپڑا الائچی ، انار جیسے اشیاء بر آمد کرتے ہیں وہیں پاکستان سے جائے نما ز ، کپڑا ، میوے وغرہ امپورٹ ہوتی ہیں ۔
۲۰۱۷ ۔۱۸ میں بھارت نے ۱۹۲۴ ملین کا ایکسپورٹ کیا وہیں ۲۰۱۸ ۔۱۹ میں ۱۷۶۸ ملین کا ایکسپورٹ رہا ۔
وہیں امپورٹ اتنے ہی عرصے میں ۴۸۸ ملین اور ۴۷۳ ملین رہا ۔
اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ آرپار تجارت بند ہونے کے کیا نتائج نکلتے ہیں ۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر23 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا23 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا23 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان1 day agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا20 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
