تازہ ترین
ویڈیو: کیا ریاست کو اس بار مستحکم سرکار مل پائے گی؟؟
خبراردو: جموں کشمیر واحد ریاست ہے جہاں وزیر اعلی چھ سال کے لئے رہتا ہے ۔ شیخ عبداللہ کے پانچ سال پورے کرنے کے بعد ہی ان انتقال ہو گیا ، اسکے بعد انکی جگہ ان کے فرزند ڈاکٹر فاروق عبداللہ براجمان ہوئے ۔
ریاست میں اسمبلی انتخابات سے پہلے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس بار ریاست کو ایک مستحکم حکومت مل پائے گی جو ریاست میں ترقی بھی لائے امن بھی قائم کرے اور ہلاکتیں بھی نہ ہوں ۔ اور اس سے بھی اہم کہ کیا اگلی بننے والی سرکار اپنے چھ سال حکومت کے پورے کرے گی ، جو کہ آج تک ریاست میں کم ہی دیکھنے کو ملا ہے ۔ اور آج تک ریاست میں سرکار کے چھ سال پورے نہ کرنے کے کیا وجوہات رہے ان پر نظر ڈالتے ہےں ۔
1971 میں ریاست کے پہلے وزیر اعلی غلام محمد صادق کے انتقال کے بعد کانگریس کے ہی دوسرے لیڈر سید میر قاسم کو وزیر اعلی بنایا گیا ، جو تین سال تک رہے ۔ تین سال ہی رہنے کی وجہ بنی اندرا ۔ عبداللہ ایکارڈ اس معاہدے کے فوراََ بعد مرکز میں موجود کانگریس نے میر قاسم کو استعفی دینے کا حکم دیا اسکے بعد کانگریس ممبران اسمبلی کے ساتھ سے شیخ عبداللہ کو وزیرا علی بنایا گیا ۔ لیکن اسکے دو سال کے بعد ہی کانگریس نے اپنا ساتھ واپس لے لیا ۔ لیکن پھر سو دن کے بعد اسمبلی انتخابات ہوئے ، جو ریاست میں پہلے صاف شفاف انتخابات تصور کئے جاتے ہےں ، ان چناﺅ میں نیشنل کانفرنس کانگریس کے مقابلے میں کھڑی تھی جہاں تب 72 سےٹوں میں سے اےن سی نے 47 سیٹوں پر جیت درج کر کے شیخ محمد عبداللہ پھر سے وزیراعلی بنے ۔
جموں کشمیر واحد ریاست ہے جہاں وزیر اعلی چھ سال کے لئے رہتا ہے ۔ شیخ عبداللہ کے پانچ سال پورے کرنے کے بعد ہی ان انتقال ہو گیا ، اسکے بعد انکی جگہ ان کے فرزند ڈاکٹر فاروق عبداللہ براجمان ہوئے ۔
لیکن وہ بھی ۲ سال کے قریب ہی وزیر اعلی رہ پائے، وجہ ان کے اپنے ہی غلام محمد شاہ نے کانگریس کے ساتھ مل کر فاروق عبداللہ کی 44 ممبران پر مشتمل اکثرےت کو کم کر کے 34 پر لا دیا اور کانگریس کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے وزیر اعلی کی کرسی حاصل کر لی ۔لیکن وہ بھی ڈھیڑسال تک ہی رہی جس کی وجہ بنی کشمیر کے اننت ناگ میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد انہیں استعفی دینا پڑا ۔
اسکے بعد 1987 کے انتخابات جن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا گیا۔این سی نے کانگریس کےساتھ مل کر سرکار بنائی ۔یہ انتخابات کشمیر میں شورش اور پنڈتوں کی انخلا کی وجہ بنے ۔ چھ سال مکمل کرنا تو دور فاروق عبداللہ نے مشکل سے تین سال پورے کئے ، استعفی کی وجہ بنی گو کدل قتل عام جہاں 200 سے زائد افراد جاں بحق کئے گئے ۔چھ سال صدر راج رہنے کے بعد پھر سے اسمبلی انتخابات ہوئے این سی 75 سیٹیں حاصل کیں ، فاروق عبداللہ پھر سے وزیراعلی بنے ، اور پہلی بار غلام محمد صادق کے بعد ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنی وزارت اعلی ٰکے چھ سال مکمل کئے ۔
اسکے بعد 2002 کے انتخابات میں باری آئی نئی پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک کی ۔ ان انتخابات میں این سی کو ناکامی ہاتھ لگی ، کانگریس ۔ پی ڈی پی نے اتحاد بنا لیا ۔پہلے تین سال کے مفتی محمد سعید معائدے کے تحت پورے کرنے میں کامیاب ہوئے ، اور ان کے بعد تین سال کےلئے غلام نبی آزاد کو سی ایم بنایا گیا ۔ لیکن2008 میں امرناتھ زمین منتقلی تنازعے کے بعد پی ڈی پی نے کانگریس سے اتحاد واپس لے لیا ، اور غلام نبی آزاد کو2سال آٹھ ماہ کے بعد ہی استعفی دینا پڑا ۔ گورنر راج کے چھ ماہ کے بعد پھر سے اسمبلی انتخابات ہوئے اور کسی کو بھی اکثریت حاصل نہیں ہو ئی۔ کانگریس اور این سی اتحاد بنا لیا ۔ عمر عبداللہ سب سے کم عمر ریاست کے وزیراعلی رہے ۔، اور بڑی بات یہ کہ انہوں نے اپنے چھ سال مکمل کئے ۔
اسکے بعد 2015 کے چناﺅ میں پی ڈی پی نے28 سیٹیں حاصل کیں اور بھاجپا نے 25 ۔ جس کے بعد پی ڈی پی نے بھاجپا کےساتھ کبھی نہ بھولنے والا اتحاد بنا لیا ۔ اس اتحاد کے دس ماہ بعد ہی وزیر اعلی بنے مفتی محمد سعید کا انتقال ہو گیا ۔ پھر ٹھیک تین ماہ بعد پھر سے پی ڈی پی نے بھاجپا کےساتھ ہی اتحاد بنایا اور محبوبہ مفتی وزیرا علی بن گئی ۔ وہ دو سال تک رہیں ۔ جس کے بعد بھاجپا نے اتحاد واپس لے لیا ۔ اور تب سے ریاست میں صدر راج قائم ہے ۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 1965 کے بعد ریاست کو تیرہ وزیراعلی ملے ؛لیکن چھ سال کی میعاد صرف تین ہی وزیرعلی مکمل کر سکے ۔
بھارت کی آزادی کے بعد سے ریاست پر سب سے زیادہ حکم رانی شیخ خاندان کی ہی رہی ہے ۔ 1947 کے بعد سے اب تک شیخ خاندان کی تیس سال تک حکم رانی رہی ہے ۔لیکن 1998 میں پیپلز پارٹی کے وجود میں آنے کے بعد ریاست میں ووٹ بٹتے گئے اور اکثریتی سرکار نہیں مل پائی اور اس کے بعد بھی کئی نئی جماعتیں وجود میں آئی ۔
اوراب ہونے والے اسمبلی انتخابات میں سب سے اہم یہ ہو گا کہ کیا کوئی جماعت 44 کے ٹارگٹ کو حاصل کر پائے گی اور اگر نہیں تو کیا اتحا د ی حکومت ریاست کو ایک مستحکم سرکار دے پائے گی جو کہ ماضی میں کم ہی دےکھا گیا ۔
دنیا
معاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
واشنگٹن، یکم اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اطمینان بخش معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد تہران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ دیرپا امن کے امکان پر بھی سوال اٹھایا۔
ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کردی کیونکہ اس کی شرائط ان کی توقعات کے مطابق نہیں تھیں۔ ان کے بقول ایران نے آبنائے کے صرف ’’کچھ حصوں‘‘ کو کھولنے کی پیشکش کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے کہا تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز سات روز میں دوبارہ کھولنے کا منصوبہ امریکہ کو پیش کیا ہے۔ بعد میں ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے بتایا کہ واشنگٹن نے جوابی تجویز دی ہے جس پر تہران غور کررہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی حالیہ ہفتوں میں بڑی حد تک رک گئی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ وسط مدتی انتخابات کے بعد نئے حملوں کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ’’یہ ممکن ہے‘‘، اور امریکہ کے پاس ’’بہت سے ہتھیار‘‘ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہیں توقع تھی کہ جنگ چھ سے آٹھ ہفتے جاری رہے گی، لیکن ایران کی جوہری صلاحیتوں کی تباہی کے بعد انہوں نے کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ تہران اپنی صلاحیتیں کسی اور شکل میں دوبارہ بحال نہ کرسکے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، باوجود اس کے کہ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایران پر تین حملے کیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے۔‘‘
پیزشکیان نے کہا کہ ایران اقتصادی مسائل حل کرنے اور پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شامل ہے۔ 2025 میں روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات اس راستے سے گزرتی تھیں، جو عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ عالمی ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد تجارت بھی آبنائے سے ہوتی ہے، جس میں قطر کا نمایاں حصہ ہے۔
ایران کے شمال میں واقع آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات ہیں اور یہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ آبنائے توانائی کے علاوہ ایل این جی، کھاد، خوراک، ادویات اور دیگر اشیا کی عالمی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ عالمی کھاد تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ معمول کے حالات میں اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
تہران، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دوران ایران پر تین حملوں کے باوجود تہران واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کی کوشش جاری رکھے گا۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق کاروباری شخصیات سے ملاقات میں پیزشکیان نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے، اگرچہ امریکہ نے ہمارے ملک کو تین بار نشانہ بنایا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری شعبے کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کررہی ہے اور ایرانی قیادت معاشی مشکلات سے نمٹنے کی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کررہی ہے۔
پیزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں رکاوٹوں کے پیش نظر ایران پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان سمیت پڑوسی ممالک کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں جاری رکاوٹوں پر عالمی سطح پر توانائی اور غذائی تحفظ کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل اور آبنائے ہرمز ٹاسک فورس کے سربراہ جارج موریرا دا سلوا نے یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا کہ بحران عالمی توانائی اور غذائی تحفظ کو متاثر کررہا ہے، جبکہ خلیج سے کھاد کی درآمد پر انحصار کرنے والے ترقی پذیر ممالک خاص طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے سوڈان، صومالیہ، موزمبیق اور تنزانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی کھاد کی 50 سے 60 فیصد ضروریات خلیجی خطے سے پوری ہوتی ہیں۔
دا سلوا کے مطابق بحران کے باعث کھاد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور اس کے استعمال میں کمی آئی ہے، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہونے اور غذائی عدم تحفظ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے ایک مجوزہ طریقہ کار تیار کیا ہے۔ اس کے تحت شپنگ ایجنٹس کھاد کی ترسیل کے لیے درخواستیں رجسٹر کریں گے اور منظوری کے بعد اقوام متحدہ متعلقہ فریقوں اور ریاستوں کے ساتھ رابطہ کرکے بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
ہندوستان
ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام میں زیادہ سے زیادہ انضمام، ڈیجیٹل کاری اور شفافیت پر زور دیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے جمعرات کے روز یہاں ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کی 279ویں سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فوج، بحریہ اور فضائیہ کے مالیاتی نظام کو زیادہ سے زیادہ مربوط کرنے نیز مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے اعداد و شمار کو حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت بتائی۔ انہوں نے کہا کہ روایت سے ہٹ کر بجٹ کا ‘سالانہ جائزہ’ لینے کے بجائے کسی بھی وقت جائزہ لینے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کو ملک کی دفاعی تیاریوں کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اس کے تقریباً تین صدیوں کے تعاون کی ستائش کی۔
وزیرِ دفاع نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے ڈیجیٹل نیز مربوط اکاؤنٹنگ اور ادائیگی کے نظام ‘سکشم’ کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اسے ہندوستانی فوج کے مالیاتی معلومات کے نظام سے جوڑنے سے بجٹ، منظوری اور بلوں سے متعلق معلومات کا ڈیجیٹل تبادلہ ممکن ہوا ہے اور بلوں کا عمل مکمل طور پر بغیر کاغذ ہو گیا ہے۔
انہوں نے سال 26-2025 میں بجٹ کے 100 فیصد اخراجات پر شعبے اور تینوں افواج کی مشترکہ کوششوں کی ستائش کی۔ پنشن سے متعلق شکایتوں کے ازالے کے لیے بات چیت پر مبنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نظام تیار کرنے کی تجویز دیتے ہوئے انہوں نے شکایتوں اور عدالتی معاملات کے جلد تصفیے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع میں زندگی وقف کرنے والوں کے جائز بقایا جات اور سروس حقوق کے معاملات میں نظام مضبوط، غیر جانبدار، حساس اور ذمہ دار ہونا چاہیے۔
مسٹر سنگھ نے مکمل طور پر خودکار محصولات کی خریداری کے نظام ‘سمپورن’ کو جلد نافذ کرنے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر انہوں نے دفاعی مالیاتی معلومات کے نظاموں کے انضمام، دفاعی اخراجات کی نگرانی اور وزارتِ دفاع میں فنڈز کے سنگل اکاؤنٹ کے نظام سے جڑی تین اہم پہل قدمیوں کا بھی آغاز کیا۔
ان میں ‘سکشم’ کو ہندوستانی فوج کے مالیاتی معلومات کے نظام سے جوڑنا، وزارتِ دفاع میں فنڈز کے سنگل اکاؤنٹ کا نظام اور دفاع کے لیے نیا قومی کمپائلیشن سسٹم شامل ہیں۔ نئے کمپائلیشن سسٹم سے بجٹ اور اخراجات کی مزید دقیق نگرانی نیز وزارتِ مالیات، وزارتِ دفاع اور متعلقہ حکام کے لیے تفصیلی رپورٹنگ میں مدد ملے گی۔
تقریب میں ڈیفنس منسٹرز ایکسیلنس ایوارڈز-2026) بھی دیے گئے۔ یہ ایوارڈز دفاعی مالیاتی انتظام میں سدھار، جدت، اہلیت اور شفافیت کے لیے دیے گئے۔ انہوں نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کی تین مطبوعات کا بھی اجراکیا۔ ان میں دفاعی اخراجات پر جامع اعداد و شمار کے کتابچہ-2026، رکشا لیکھا بھارتی اور مارکیٹ انٹیلی جنس رپورٹ 25-2026 شامل ہیں۔
یواین آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا6 days agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
ہندوستان6 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا7 days agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
ہندوستان1 week agoترقی پذیر ممالک کو فیصلہ ساز اداروں میں جگہ دی جانی چاہیے: جے شنکر
