تازہ ترین
ٹیرر فنڈنگ معاملہ: یاسین ملک اور دیگر کے خلاف 18اپریل کو الزامات طے کئے جائیں گے/این آئی اے
سری نگر،(یو این آئی): قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی خصوصی عدالت کشمیری علیحدگی پسند لیڈر یاسین ملک اور دیگر کے خلاف 18اپریل کو باضابط طور پر الزامات طے کرئے گی۔بتادیں کہ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے یاسین ملک اور دیگر کے خلاف مبینہ طورپر ملی ٹینٹ فنڈنگ کیس میں گرفتار کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ کشمیری علیحدگی پسند لیڈران جن میں شبیر احمد شاہ، یاسین ملک، مسرت عالم، سابق ایم ایل اے انجینئر رشید، تاجر ظہور شاہ وٹالی، بٹہ کراتے، آفتاب احمد شاہ، اوتار احمد شاہ، نعیم خان، بشیر احمد بٹ عرف پیر سیف ا للہ اور کئی دیگر شامل ہیں ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے، مجرمانہ ساز ش اور دیگر الزامات کے تحت بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
این آئی اے کے خصوصی جج پروین سنگھ نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا، ”دستاویزی ثبوتوں اور گواہوں کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ افراد پاکستان کی رہنمائی اور فنڈنگ کے تحت دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ قریبی وابستگی رکھتے ہیں“۔دریں اثنا قومی تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق بہت ساری ملی ٹینٹ تنظیمیں بشمول لشکر طیبہ، حزب المجاہدین، جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ، جیش اور دوسری تنظیمیں آئی یس آئی اور پاکستان کی مدد سے جموں وکشمیر میں امن و امان کو درہم برہم کرنے اور سیکورٹی فورسز و عام شہریوں کو کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔
این آئی اے کا مزید کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ آل پارٹیز حریت کانفرنس اور دوسری ذیلی تنظیمیں عام لوگوں کو تشدد کے لئے اکسانے کا کام کر رہے تھے خاص طور پر نوجوانوں کو ہڑتال اور سیکورٹی فورسز پر پتھر بازی کرانے کی خاطر بھی اْنہیں ترغیب دے رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ اس کا واحد مقصد جموں وکشمیر کے لوگوں میں حکومت ہند کے تئیں عدم اطمینان پیدا کرنا مقصود تھا۔
این آئی اے کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ علیحدگی پسند جموں وکشمیر میں جاری دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت اور بد امنی کو ہوا دینے کے لئے تمام ممکنہ ذرائع سے فنڈز اکھٹا کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ علیحدگی پسندوں کو پاکستانی انتظامیہ اور پاکستان میں قائم ملی ٹینٹ تنظیموں اور مقامی عطیات سے بھی فنڈز مل رہے تھے۔
دنیا
فرانس میں طلبہ کے احتجاج میں شدت، تقریباً 400 اسکول بند، پولیس سے جھڑپیں
پیرس، فرانس میں عملے کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور اسکولوں کی خراب حالت کے خلاف ہائی اسکول طلبہ کا ملک گیر احتجاج جمعہ کو مزید شدت اختیار کر گیا۔ اس دوران تقریباً 400 اسکول بند رہے اور کئی شہروں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق احتجاج شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 3,000 لائسِی طلبہ کو پولیس حراست میں لیا جا چکا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق صرف جمعرات کو 1,949 طلبہ کو حراست میں لیا گیا۔
گزشتہ ہفتے پیرس کے علاقے سے شروع ہونے والا یہ احتجاج اب ملک بھر میں پھیل گیا ہے اور اس میں تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فرانس 24 کے مطابق وزیر تعلیم ایڈوارڈ گفری نے کہا کہ فرانس کے 3,700 ہائی اسکولوں میں سے تقریباً 400 جمعہ کو بند رہنے کی توقع ہے، جبکہ تقریباً 100 اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پیرس میں دو ہائی اسکولوں کے داخلی راستوں کو آگ لگنے سے نقصان پہنچا، جبکہ بریسٹ میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
اسٹراسبرگ، مارسی، نانٹ اور دیگر شہروں میں بھی پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔
وزیر انصاف ژیرالڈ دارماناں نے پراسیکیوٹرز پر زور دیا ہے کہ مبینہ طور پر طلبہ کی جانب سے کیے گئے نقصانات کے سلسلے میں ان کے والدین کے خلاف دیوانی ذمہ داری کے دعوے دائر کیے جائیں۔
وزیر تعلیم گفری نے بتایا کہ کم از کم 65 ملازمین، جن میں 40 ہائی اسکولوں کے پرنسپل بھی شامل ہیں، زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 170 طلبہ بھی زخمی ہوئے۔ انہوں نے تشدد کو ’’انتہائی پرتشدد عناصر‘‘ کی جانب سے طلبہ تحریک پر قبضہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔
طلبہ نے اسکولوں میں طویل اوقاتِ کار، گنجائش سے زیادہ کلاسیں، اساتذہ کی کمی، عملے کی غیر حاضری اور ناکافی سہولیات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان میں ہیٹ ویو کے دوران کلاس رومز کا حد سے زیادہ گرم ہو جانا بھی شامل ہے۔
طلبہ نے اسکولوں کی بندش کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے اور پولیس پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
فرانس کے 2027 کے صدارتی انتخابات سے قبل احتجاج نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ حکومت نے بائیں بازو کی جماعت ’’فرانس اَن بووڈ‘‘ (ایل ایف آئی) پر طلبہ تحریک کی حوصلہ افزائی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایل ایف آئی کے رہنما مینوئل بومپار نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ’’سازشی نظریات کی طرف جا رہی ہے‘‘۔
وزیر تعلیم گفری جمعہ کو تعلیمی شعبے کی یونینوں اور ہائی اسکول طلبہ کی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے تاکہ بات چیت کا آغاز کیا جا سکے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کمر توڑ مہنگائی سے عوام کو کب نجات دلائے گی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ مہنگائی صرف بازار کے اعداد و شمار میں نہیں بڑھ رہی ہے بلکہ اس کا اثر ہر متوسط طبقے اور غریب خاندان کے باورچی خانے میں محسوس کیا جا رہا ہے اور حالات یہ ہو گئے ہیں کہ تہواروں کے موسم میں باورچی خانے کا بجٹ تین مہینوں میں 25 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔
کانگریس کے ے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ ایک خبر میں ایک گھریلو خاتون نے بتایا ہے کہ ان کی آمدنی صرف 35,000 روپے ہے اور اتنی محدود آمدنی میں باورچی خانے کا خرچ سنبھالنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیرِ اعظم نریندر مودی کو احساس ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں خاندان اپنے گھر کا بجٹ کیسے سنبھال رہے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ارہر کی دال 105 روپے سے بڑھ کر 140-150 روپے فی کلو، مونگ 95 روپے سے 120 روپے، چاول 42-45 روپے سے 53-55 روپے اور سرسوں کا تیل 165 روپے سے 190 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں غذائی مہنگائی 5.95 فیصد رہی۔ پیاز 48.27 فیصد، ادرک 73.82 فیصد اور لہسن 43.60 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ دال، مصالحے، سبزیاں اور تیل سمیت ضروری اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے سے عام خاندان متاثر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گھریلو بچت میں کمی آ رہی ہے اور خاندانوں پر قرض بڑھ رہا ہے۔ عام خاندان کے سامنے سوال صرف بڑھتے ہوئے اخراجات کا نہیں، بلکہ گھٹتی ہوئی بچت اور محدود آمدنی میں گھر چلانے کا بھی ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ حکومت کے لیے یہ محض اعداد و شمار ہو سکتے ہیں، لیکن عوام کے لیے یہ ہر ماہ بگڑتا ہوا گھریلو بجٹ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس کمر توڑ مہنگائی سے اہل وطن کو کب نجات ملے گی۔
یواین آئی۔الف الف
کھیل
رضوان کو این سی سی آئی اے کا پراسس فالو کرنا چاہیے: یونس خان
کراچی، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ وہ بطور کرکٹر محمد رضوان کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم رضوان سے متعلق جاری معاملے پر بات کرتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق یونس خان نے ایک پروگرام میں کہا کہ کرکٹرز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے بڑے نہیں ہوسکتے اور اس معاملے میں محتاط انداز میں گفتگو کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ایک معتبر ادارہ ہے اور محمد رضوان کو متعلقہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ”ہم کسی کے وکیل نہیں ہیں اور نہ ہی ہمیں اس کیس سے متعلق مکمل معلومات ہیں۔”
یونس خان نے کہا کہ محمد رضوان سے متعلق معاملہ ایک سرکاری دورے کے دوران پیش آیا ہے، اس لیے کیس کا نتیجہ سامنے آنے تک اس پر گفتگو میں احتیاط ضروری ہے۔
سابق کپتان نے بتایا کہ ماضی میں انہیں بھی اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کے معاملات تقریباً چار ماہ تک جاری رہے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں محمد رضوان اور امام الحق سے متعلق این سی سی آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
-
جموں و کشمیر7 days agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
