تازہ ترین
پاکستان میں بھی جمہوریت کا بول بولا ہونا چاہئے/محبوبہ مفتی
سری نگر،(یو این آئی): پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور وہاں بھی جمہوریت کا بول بالا ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سیاسی استحکام ہمارے لئے اچھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وادی میں نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر کے باہر نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب دینے کئے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’پاکستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے جس طرح ہمارے ملک میں جمہوریت کا بول بالا ہے اسی طرح وہاں بھی جمہوریت کا بول بالا ہونا چاہئے‘۔
ان کا کہنا تھا: ’پاکستان کا سیاسی استحکام ہمارے لئے اچھا ہے‘۔پولیس ایڈوائزری کہ جس مکان میں انکاؤنٹر ہوگا وہ سیز ہوگا کے بارے میں پوچھے جانے پر محبوبہ مفتی کا کہنا تھا: ’یہ غلط ہے اس طرح پوری قوم کو سزا دی جا رہی ہے جنگ ملی ٹنٹوں کے ساتھ ہے عام لوگوں کو کیوں سزا دی جا رہی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت خیالات کی جنگ ہے انسان کو بند کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے خیالات کو بند نہیں کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہاں جوانوں کے ساتھ بات چیت نہیں کی جائے گی تب تک ان کی پکڑ دھکڑ سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا بلکہ اس سے لوگ مزید دور ہوں گے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کا اتحاد رائے شماری میں آگے، مگر اکثریت سے بدستور دور
یروشلم، اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایک تازہ رائے شماری میں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والا اتحاد سبقت میں دکھائی دیا ہے، تاہم نہ اسے اور نہ ہی اپوزیشن کو 120 رکنی کنیسٹ میں واضح اکثریت ملنے کا امکان ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی ذیلی ویب سائٹ ’زمان اسرائیل‘ کی جانب سے کرائی گئی رائے شماری کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اپوزیشن لیڈر گادی آئزن کوٹ کی ’یشار‘ پارٹی کو 21، 21 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
رائے شماری میں نیتن یاہو کی حامی جماعتوں کو مجموعی طور پر 53 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ چار یہودی اپوزیشن جماعتیں 49 نشستیں حاصل کرسکتی ہیں۔ دونوں دھڑے حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں سے دور ہیں۔
نیتن یاہو کی مخالفت کرنے والی عرب قیادت والی جماعتوں کو 13 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ یواز ہینڈل اور یارون زیلیخا کی قیادت والے غیر وابستہ دھڑے کو پانچ نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
تازہ نتائج گزشتہ چند ہفتوں میں سامنے آنے والی ان متعدد رائے شماریوں کے بعد آئے ہیں جن میں کئی ماہ تک اپوزیشن سے پیچھے رہنے کے بعد نیتن یاہو کے اتحاد کی حمایت میں اضافہ دکھایا گیا تھا۔ سابقہ سروے میں ’یشار‘ کو لیکوڈ سے کئی نشستوں کی برتری حاصل تھی۔
دیگر جماعتوں میں اپوزیشن کی ’بیاخاد‘ اور ’یسرائیل بیتینو‘ کو 10، 10 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سیفرادی انتہائی قدامت پسند شاس کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔
بائیں بازو کی ’ڈیموکریٹس‘، عرب قیادت والی ’جوائنٹ لسٹ‘ اور اشکنازی انتہائی قدامت پسند ’یونائیٹڈ تورات یہودیت‘ کو آٹھ، آٹھ نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
انتہائی دائیں بازو کی ’اوتزما یہودیت‘ کو چھ، جبکہ ’ریلیجس صہیونزم-زیہوت‘ اور عرب قیادت والی ’راعام‘ کو پانچ، پانچ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ ہینڈل-زیلیخا دھڑے کو بھی پانچ نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اوفر ونٹر کی قیادت والی نیتن یاہو حامی ’پیپلز آف اسرائیل‘ پارٹی کو چار نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رائے شماری میں ووٹروں کے درمیان انتخابات کے نتائج کے حوالے سے وسیع تشویش بھی سامنے آئی۔ نیتن یاہو کے مخالفین میں 88 فیصد نے انتخابی نتائج پر تشویش ظاہر کی، جبکہ ان کے حامیوں میں تقریباً 70 فیصد نے ایسی تشویش کا اظہار کیا۔ مجموعی طور پر 80 فیصد سے زیادہ جواب دہندگان نے نتائج کے بارے میں فکرمندی ظاہر کی۔
یہ سروے 30 ستمبر اور یکم اکتوبر کو یوسی تاتیکا کی ’تاتیکا ریسرچ اینڈ میڈیا‘ نے ’ایجنڈا پینل‘ کے تعاون سے کیا۔ اس میں 500 افراد نے حصہ لیا اور اس میں غلطی کا امکان ±4.4 فیصد بتایا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
گاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
جموں، جموں کے ڈویژنل کمشنر رمیش کمار نے جمعہ کو کہا کہ عدم تشدد کا اصول دنیا کو درپیش کئی تنازعات کے حل کی راہ دکھا سکتا ہے۔
گاندھی جینتی کے موقع پر گاندھی گلوبل فیملی کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے ڈویژنل کمشنر نے کہا کہ 2 اکتوبر ہندوستان کی دو عظیم شخصیات، مہاتما گاندھی اور سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری، کی یوم پیدائش کے طور پر منایا جاتا ہے۔
مہاتما گاندھی کے تحریک آزادی میں اہم کردار کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے نظریات آج کی دنیا میں بھی اپنی معنویت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گاندھی کی سودیشی کی اپیل، ’آتم نربھر بھارت‘ کے تصور میں بھی نظر آتی ہے۔
لال بہادر شاستری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ڈویژنل کمشنر نے کہا کہ ان کا لازوال نعرہ ’’جے جوان، جے کسان‘‘ آج بھی ملک کو تحریک اور قوت فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’جے جوان‘‘ کا جذبہ آج کے نوجوانوں کو منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرے کے خلاف متحد ہونے اور اپنی توانائی ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے صرف کرنے کی ترغیب دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شاستری کی سادگی، دیانت داری اور عوامی خدمت کے لیے ان کی وابستگی قیادت کے لیے آج بھی ایک مستقل مثال پیش کرتی ہے۔
مختلف سرکاری اور نجی اسکولوں کے طلبہ نے ثقافتی پروگرام پیش کیے، جن میں گیت اور تقریریں شامل تھیں۔
ان پروگراموں کے ذریعے دونوں قومی رہنماؤں کی زندگی، نظریات اور خدمات کو اجاگر کیا گیا۔ محکمہ اطلاعات کے فنکاروں نے بھی مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے موسیقی کا پروگرام پیش کیا۔
اس موقع پر خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ ڈاکٹر وی ایس سینتھل کمار، جوائنٹ ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن (جموں، سانبا، کٹھوعہ) انیل سالگوترا، ڈی پی ای او جموں بی ڈی شرما اور لارنس پبلک اسکول کی پرنسپل شوانی جوشی بھی شامل تھے۔
گاندھی گلوبل فیملی کی جانب سے چیئرمین اور بانی رکن ونگ کمانڈر (ریٹائرڈ) ایم ایم جوشی، ویمن ونگ کی صدر ڈاکٹر الکا شرما، نائب صدور ڈاکٹر سمی سیٹھ اور ڈاکٹر رابن گل، جنرل سکریٹری نریش مینی، مشیران وید ورما اور گوپال شرما، کوآرڈینیٹر امیت ورما سمیت دیگر افراد بھی تقریب میں موجود تھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
فرانس میں طلبہ کے احتجاج میں شدت، تقریباً 400 اسکول بند، پولیس سے جھڑپیں
پیرس، فرانس میں عملے کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور اسکولوں کی خراب حالت کے خلاف ہائی اسکول طلبہ کا ملک گیر احتجاج جمعہ کو مزید شدت اختیار کر گیا۔ اس دوران تقریباً 400 اسکول بند رہے اور کئی شہروں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق احتجاج شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 3,000 لائسِی طلبہ کو پولیس حراست میں لیا جا چکا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق صرف جمعرات کو 1,949 طلبہ کو حراست میں لیا گیا۔
گزشتہ ہفتے پیرس کے علاقے سے شروع ہونے والا یہ احتجاج اب ملک بھر میں پھیل گیا ہے اور اس میں تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فرانس 24 کے مطابق وزیر تعلیم ایڈوارڈ گفری نے کہا کہ فرانس کے 3,700 ہائی اسکولوں میں سے تقریباً 400 جمعہ کو بند رہنے کی توقع ہے، جبکہ تقریباً 100 اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پیرس میں دو ہائی اسکولوں کے داخلی راستوں کو آگ لگنے سے نقصان پہنچا، جبکہ بریسٹ میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
اسٹراسبرگ، مارسی، نانٹ اور دیگر شہروں میں بھی پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔
وزیر انصاف ژیرالڈ دارماناں نے پراسیکیوٹرز پر زور دیا ہے کہ مبینہ طور پر طلبہ کی جانب سے کیے گئے نقصانات کے سلسلے میں ان کے والدین کے خلاف دیوانی ذمہ داری کے دعوے دائر کیے جائیں۔
وزیر تعلیم گفری نے بتایا کہ کم از کم 65 ملازمین، جن میں 40 ہائی اسکولوں کے پرنسپل بھی شامل ہیں، زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 170 طلبہ بھی زخمی ہوئے۔ انہوں نے تشدد کو ’’انتہائی پرتشدد عناصر‘‘ کی جانب سے طلبہ تحریک پر قبضہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔
طلبہ نے اسکولوں میں طویل اوقاتِ کار، گنجائش سے زیادہ کلاسیں، اساتذہ کی کمی، عملے کی غیر حاضری اور ناکافی سہولیات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان میں ہیٹ ویو کے دوران کلاس رومز کا حد سے زیادہ گرم ہو جانا بھی شامل ہے۔
طلبہ نے اسکولوں کی بندش کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے اور پولیس پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
فرانس کے 2027 کے صدارتی انتخابات سے قبل احتجاج نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ حکومت نے بائیں بازو کی جماعت ’’فرانس اَن بووڈ‘‘ (ایل ایف آئی) پر طلبہ تحریک کی حوصلہ افزائی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایل ایف آئی کے رہنما مینوئل بومپار نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ’’سازشی نظریات کی طرف جا رہی ہے‘‘۔
وزیر تعلیم گفری جمعہ کو تعلیمی شعبے کی یونینوں اور ہائی اسکول طلبہ کی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے تاکہ بات چیت کا آغاز کیا جا سکے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
