تازہ ترین
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدرِ ہند کا خطاب
دفعہ370کی تنسیخ،مودی حکومت کا تاریخ ساز فیصلہ
جموں وکشمیر میں یکساں ترقی کا راستہ ہموار ہوا،شہریت ترمیمی قانون،ایودھیا مسئلے کا عدالتی فیصلہ تاریخی:کوند
سرینگر :صدر ہند رام ناتھ کوند نے دفعہ370 کی تنسیخ،شہریت ترمیمی قانون سے لیکر ایودھیا کے عدالتی فیصلے کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نریندر امودی کی مرکزی حکومت کے فیصلے سے جموں وکشمیر اور لداخ میں یکساں تعمیر وترقی کا راستہ ہموار ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں شہریت ترمیمی قانون نافذ کرنے سے آنجہانی ماتما گاندھی کی خواہش پوری ہوئی جبکہ احتجاج کے نام پر تشدد سے سماج اور ملک کمزور ہوتا ہے۔رام ناتھ کوند نے کہا کہ ایودھیا مسئلے پر عدالتی فیصلے کو ملکی عام عوام نے تسلیم کیا۔کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق صدر ہند رام ناتھ کوند کے خطاب سے پارلیمنٹ کو بجٹ اجلاس2020،جمعہ کو شروع ہوا۔صدر ہند نے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلا س پار لیمنٹ کے مرکزی ہال (سینٹرل ہال) میں جمعہ کی صبح11بجے خطاب شروع کیا۔
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے طویل ترین خطاب کے دوران صدر ہند رام ناتھ کوند نے نریندرا مودی حکومت کی کامیابی کی حصولیابی کا ذکر کرکے ملکی عوام پر زور دیا کہ وہ پُرتشدد مظاہروں سے دور رہیں۔ان کا کہناتھا کہ مودی حکومت کو نئے بھارت کی تعمیر کا منڈیٹ ملا ہے۔صدر ہند رام ناتھ کوند نے دفعہ370 کی تنسیخ،شہریت ترمیمی قانون سے لیکر ایودھیا کے عدالتی فیصلے کو تاریخ ساز قراردیا۔
دفعہ370کی تنسیخ:صدر ہند نے دفعہ 370اور35(اے) کی منسوخی کے پارلیمانی فیصلہ جات کو تاریخی ساز قرار دیا۔انہوں نے مودی حکومت کے فیصلے کی سراہنا کرتے ہوئے کہا ’دفعہ370اورآرٹیکل35اے کی منسوخی سے جموں وکشمیر اور لداخ میں یکساں تعمیر وترقی کیلئے راستہ ہموار ہوا۔جموں وکشمیر کی تقسیم وتشکیل نو کے فیصلے پر مزید بولتے ہوئے صدر ہند نے کہا ’آئین کی دفعہ370اور اسکی ذیلی شق35(اے) کو پارلیمنٹ کی دو۔تہائی اکثریت کیسا تھ منسوخ کرنا نہ صرف تاریخی ہے بلکہ اس فیصلے سے جموں وکشمیر اور لداخ میں یکساں ترقی کیلئے راستہ ہموار ہوا‘۔
شہریت تر میمی قانون:شہریت ترمیمی قانون پر بولتے ہوئے رام ناتھ کو ند نے کہا کہ آہین، پار لیمنٹ سے یہی توقع رکھتا ہے کہ وہ لوگوں کے جذبات، احساسات اور امیدوں کو پورا کر ے گا اور اُنکے لئے (عوام) ضروری قانون بھی بنایا گا جبکہ قومی مفاد کو سب سے بالاتر رکھے گا‘۔ ان کا کہناتھا ’میری حکومت کا یہ واضح موقف ہے کہ باہمی فیصلہ جات اور بحث جمہوریت کو مزید مضبوط بنائے گی۔انہوں نے کہا’وہیں اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ احتجاج کے نام پر تشددسے سماج اور ملک کمزور ہوتا ہے‘۔
صدر ہند نے یہ بات ملک میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاج کے پس ِ منظر میں کہی۔صدر ہند نے جب سی سی اے کو تاریخی قانون سے تعبیر کیا تو اپوزیشن نے ایوان میں صدر کے خطاب میں رخنہ ڈالتے ہوئے (شیم،شیم) یعنی شرمناک،شرمناک کے نعرے لگائے اور بینر وپلے کارڈزدکھائے۔تاہم صدر ہند نے اپوزیشن کے شو ر وشرابہ کے بیچ اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا ’شہریت ترمیمی قانون کو نافذ کرنے سے حکومت نے مہاتما گاندھی کے خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے‘۔
انہوں نے کہا ’میں بہت خوش ہوں کہ بابائے قوم آنجہانی ماتما گاندھی کی خواہش یا خواب سی سی اے سے پورا ہوا،جسے جمہوریت کے مندر کے دونوں ایوانوں نے منظوری دی‘۔ان کا کہناتھا ’اس قانون کو ملک میں لاگو کرنے سے پاکستانی اقلیتوں کو انصاف ملے گا،جنہیں پاکستان میں ظلم کو نشانہ بنایا جارہا تھا اور وہ بھارت میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی برادری کو پاکستاں میں اقلیتوں سے ہورہے غیر انسانی سلوک کا نوٹس لینا چاہئے۔
ایودھیا عدالتی فیصلہ کرتارپور راہداری:صدر ہند رام ناتھ کوند نے ایودھیا مسئلے کے عدالتی فیصلے کو بھی تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا ’بھارتی عوام نے اس فیصلے کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ بالغ نظریہ کا ثبوت پیش کیا۔رام ناتھ کوند نے کہا ’رام جنم بھومی پر عدالتی فیصلے کو جس طرح عوام نے تسلیم اور قبول کیا وہ قابل ستائش ہے‘۔انہوں نے ہند۔پاک کے در میان کرتار پور راہداری کھولنے کے فیصلے کو بھی مودی حکومت کی بڑی کامیابی سے تعبیر کیا۔ان کا کہناتھا کہ حکومت نے یہ گورو نانک دیو جی کے 550ویں پرکاش پارو کے موقع پر لیا۔
انہوں نے مزید کہا’ہندوستان واحد ملک ہے،جہاں حج عمل ڈیجٹل نظام کے تحت ہوتا ہے۔چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی تقرری:صدر رام ناتھ کوند نے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی تقرری یا تعیناتی کے فیصلے پر بولتے ہوئے کہا ’اس عہدے کے قیام سے ہندوستان کی تین افواج کی شاخوں میں مطابقت یا متحدہ عمل پروان چڑھ جائیگا‘۔انہوں نے شدت پسندی کے خلاف حکومتی اقدامات کی بھی ستائش کرتے ہوئے کہا ’حکومت نے شدت پسندی سے نمٹنے کیلئے فورسز کے ہاتھ آزاد رکھے‘۔انہوں نے کہا کہ راجدھانی دہلی میں رہائش پذیر40لاکھ افراد کو مودی حکومت نے اونر شپ(مالکان مکان حقوق) دئے۔ان کا کہناتھا کہ 1731غیر قانونی کالونیوں کو دہلی میں قانونی قرار دیکر لوگوں کے خوابوں کو پورا کیا۔(کےاین ایس)
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا21 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر21 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا21 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا19 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان23 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
