تازہ ترین
پاكستان وزیراعظم کا کفایت شعاری اقدامات کااعلان؛وفاقی کابینہ تن خواہوں،مراعات سے دستبردار
وزیراعظم شہبازشریف نے پاکستا کو درپیش معاشی زبوں حالی سے نمٹنے کے کفایت شعاری کے بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت ان کی کابینہ اپنی تن خواہوں اوردیگرمراعات سے دستبردار ہوگئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کو سالانہ 200 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
میاں شہبازشریف نے بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے ارکان کے ساتھ نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزرا، وزرائے مملکت اور وزیراعظم کے معاونین خصوصی نے رضاکارانہ طورپر اپنی تن خواہوں اور مراعات سے دستبردار ہورنے کا فیصلہ کیا ہے۔اب تمام وزراء اپنے ٹیلی فون، بجلی، پانی اور گیس کے بل خود ادا کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ کابینہ ارکان کے زیراستعمال تمام لگژری گاڑیاں واپس لی جا رہی ہیں اور ان کی نیلامی کی جائے گی۔جہاں ضرورت ہو گی، وہاں وزراء کو سکیورٹی کے لیے صرف ایک گاڑی مہیا کی جائے گی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ وفاقی وزراء اندرون ملک یا بیرون ملک سفرکے لیے اب اکانومی کلاس استعمال کریں گے۔معاون عملہ کواب سرکاری دوروں پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ کابینہ ارکان غیر ملکی دوروں میں فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام نہیں کریں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وزارتوں، محکموں اور ذیلی محکموں کے موجودہ اخراجات میں 15 فی صد کمی کی جائے گی۔متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسراس فیصلے کی روشنی میں اپنے بجٹ میں ضروری تبدیلیاں کریں گے۔جون 2024 تک لگژری اشیاء کی خریداری پرمکمل پابندی رہے گی۔اگلے سال جون تک ہرقسم کی نئی گاڑیاں خریدنے پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ سرکاری افسروں کو صرف ’’لازمی دورے‘‘کرنے کی اجازت ہوگی۔نیز وزارتوں کے سینیرافسروں کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کو واپس لے لیا جائے گا۔نیز اب سرکاری افسروں کو سکیورٹی کی گاڑیاں بھی نہیں دی جائیں گی۔ وزیرداخلہ کے زیرنگرانی ایک کمیٹی صورت حال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس ٹو کیس کی بنیاد پرسکیورٹی گاڑیاں مہیّاکرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرے گی۔
انھوں نے زور دے کرکہا کہ کابینہ کا کوئی بھی رکن یا سرکاری افسرلگژری گاڑی استعمال نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ سفری اخراجات کو کم کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ کو فروغ دیا جائے گا۔وفاقی سطح پرکوئی نیا محکمہ نہیں بنایا جائے گا۔ اگلے دو سال تک کوئی نیا انتظامی یونٹ، ڈویژن یا سب ڈویژن تشکیل نہیں دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ایک “سنگل ٹریژری اکاؤنٹ” قائم کیا جائے گا اوروزارت خزانہ نے اس سلسلے میں کام شروع کر دیا ہے۔گیس اور بجلی کی بچت کے لیے موسم گرما میں صبح ساڑھے سات بجے دفاتر کھولنے کا مشورہ قبول کر لیا گیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو ایک سے زیادہ پلاٹ الاٹ نہیں کیا جائے گا،اس پر کل سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ برطانوی دورکے کئی ایکڑ پر محیط سرکاری مکانات ہیں جہاں،اعلیٰ انتظامی عہدے دار اور پولیس افسراور وزراء رہائش پذیرہیں جبکہ لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے سورہے ہیں۔وزیرقانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس زمین پر ٹاؤن ہاؤسز کی تعمیر کے منصوبے کا مسودہ تیار کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ کھانے کے حوالے سے سرکاری تقریبات میں صرف ایک ڈش کی اجازت ہوگی۔اسلام آباد کی تمام وزارتوں، وزیراعظم ہاؤس اوروفاقی کابینہ میں صرف ایک ڈش ہوگی۔ اگر یہ چائے کا وقت ہے، تو صرف چائے اور بسکٹ پیش کیے جائیں گے۔تاہم انھوں نے کہا کہ اس پابندی کا اطلاق غیر ملکی مہمانوں اور معززین پر نہیں ہوگا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان اقدامات پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے گا اورنئے مالی سال کے بجٹ کے وقت “اضافی اقدامات” کیے جائیں گے۔
وفاقی کابینہ اور میں چیف جسٹس آف پاکستان،چاروں صوبوں کی عدالتوں اور وزرائے اعلیٰ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے اداروں اور حکومتوں میں بھی اسی طرح کے اقدامات پر عمل درآمد کریں۔
حکومت کے توانائی کے تحفظ کے منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ آج سے ہم مرکز اور صوبوں کو یہ پیغام دیں گے کہ اگر اس پرعمل درآمد میں مزید تاخیر ہوئی تو ہم بڑی مارکیٹوں اورخریداری مالوں میں بجلی کی ترسیل منقطع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
کابینہ ڈویژن کے انتظامی کنٹرول میں آنے والے محکمہ توشہ خانہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی کو بھی 300 ڈالر سے زیادہ مالیت کے سرکاری تحائف رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بھی اعلان کیا کہ توشہ خانہ ریکارڈ کو عام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ ایک عوامی ریکارڈ ہے۔ہرایک کو اس کے بارے میں جاننے اورپوچھنے کا حق ہے۔ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان اقدامات سے سالانہ 200 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات
پریس کانفرنس کے آغاز میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے منی بجٹ منظور کیا ہے جس کے تحت بڑی کارپوریشنوں پر نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں تاکہ عام آدمی کو ‘کسی حد تک’ مہنگائی سے بچایا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاملات “آخری مرحلے” میں ہیں اور امید ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور یہ معاملات چند دنوں میں حل ہوجائیں گے لیکن اس سے مزید مہنگائی ہوگی۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی قریباً تمام شرائط پوری کر دی ہیں۔
انھوں نے آئی ایم ایف معاہدے کے بعد آنے والے وقت میں مشکلات کا اندازہ لگاتے ہوئے قوم کو یقین دلایا کہ حکومت اس دوران میں ملک کی رہنمائی کرے گی۔
اس سے قبل وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے مقابلے میں صرف ایک یا دو چیزیں باقی رہ گئی ہیں اور پاکستان جلد ہی عالمی قرض دہندہ کے ساتھ معاہدہ کرے گا۔
انھوں نے ملک کی معاشی بدحالی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل وقت میں مراعات یافتہ افراد کی قربانیوں کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ حکومتی مشینری کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں سیاسی چہرہ اور افسرشاہی کا چہرہ شامل ہے اور صوبائی حکومتوں کے تمام ارکان اس انتہائی مشکل وقت میں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کریں جس کی اشد ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ درآمدی افراط زر، آئی ایم ایف کی شرائط اور سابقہ حکومت کے اقدامات سمیت مختلف وجوہ کی بناپرملک کو اس وقت معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
وزیراعظم نے قوم پر زور دیا کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں اور آگے بڑھنے کا فیصلہ کریں۔انھوں نے کہا کہ قوم حکومت کی طرف تنقیدی اور سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی ہے اور تسلیم کیا کہ یہ نہ تو آسان ہے اور نہ ہی مذاق ہے کہ موجودہ حکومت فیصلے کرنے میں ایک ساتھ کھڑی ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کوشش کررہی ہے لیکن عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ‘ذاتی مثال سے قیادت’ اوراب اسے دکھانے کا وقت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں آج کھڑے ہو کر چیلنج کو قبول کرنا ہے اور دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط قوم ہے اور حکومت ان چیلنجوں کے مقابلے میں ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہے۔
انھوں نے اس بات کا اعتراف کیاکہ تنگ دستی اور سادگی کے اقدامات سے افراط زر کا بوجھ کم نہیں ہوگا لیکن ان سے کم سے کم اس ناراضی کو کم کیا جاسکے گا جوگذشتہ 75 سال سے جو کچھ ہو رہا ہے،اس کی وجہ سے لوگوں کے اندرپائی جاتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان اقدامات سے عوام کو احساس ہوگا کہ حکومت، سیاست دانوں اور بیوروکریسی نے دل کی گہرائیوں سے قربانی کا جذبہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔آج وقت آگیا ہے کہ آپ کھڑے ہوں اور اس چیلنج کو قبول کریں اور خدا کے نام پر، پاکستان کے نام پر ایسا کریں۔آئیے اس میں تاخیر نہ کریں اور اپنی خوش حالی کو شرمندہ نہ کریں۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کو پاکستان کے ایجنڈے کا پلیٹ فارم نہیں بننے دیں گے: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے سے متعلق قرارداد منظور کیے جانے کے چند گھنٹے بعد اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے پیر کو کہا کہ بی جے پی اسمبلی کو ان کے بقول پاکستان کے ایجنڈے کے لیے پلیٹ فارم نہیں بننے دے گی۔
سینئر بی جے پی لیڈر نے کہا کہ پارٹی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کی حمایت کرتی ہے، لیکن اسمبلی سے منظور قرارداد میں دفعہ 370، دفعہ 35 اے اور 1953 سے قبل کی آئینی پوزیشن کے حوالوں کی سخت مخالفت کرتی ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے قرارداد منظور کی۔
ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شرما نے کہا کہ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے تک محدود رہتی تو بی جے پی اس کا خیرمقدم کرتی۔
انہوں نے کہاکہ ’’بی جے پی محض مخالفت برائے مخالفت نہیں کرتی۔ ہم ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں ہیں۔ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کے نام پر پیش کی جاتی تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے۔‘‘
شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور اپوزیشن کے لیے حکومت کی ہر تجویز کی مخالفت کرنا ضروری نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس ایوان سے غریب عوام کو بہت سی توقعات ہیں۔ اسمبلی کا یہ پانچواں دن ہے اور کئی ایسے مسائل ہیں جن پر اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ اپوزیشن ہر معاملے کی مخالفت کرے۔‘‘
تاہم، انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر ان کے بقول ایسے مسائل دوبارہ اٹھانے کی کوشش کا
الزام لگایا جو پہلے ہی طے ہوچکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
اچن میں 361 کروڑ روپے کا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ ٹینڈر کے مرحلے میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے پیر کو قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ سری نگر کے اچن میں مجوزہ 800 ٹن یومیہ (ٹی پی ڈی) مربوط سالڈ ویسٹ مینجمنٹ (آئی ایس ڈبلیو ایم) پروجیکٹ، جس کی تخمینی لاگت 361 کروڑ روپے ہے، فی الحال ٹینڈر کے مرحلے میں ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ کا قلمدان بھی سنبھالتے ہیں، نے جاری خزاں اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات میں رکن اسمبلی مبارک گل کے سوال کے جواب میں یہ اطلاع دی۔
وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ ابھی تک کسی ایجنسی یا ٹھیکیدار کو یہ پروجیکٹ الاٹ نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ فی الحال ٹینڈر کے عمل سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ پروجیکٹ میں روزانہ 800 ٹن کچرے کو پروسیس کرنے کی صلاحیت ہوگی اور اس کی مدت 25 سال مقرر کی گئی ہے، جس میں تعمیراتی کام کے لیے 24 ماہ شامل ہیں۔
مجوزہ مربوط پروجیکٹ میں کمپوسٹنگ سہولیات، بایو-سی بی جی پلانٹ، میٹریل ریکوری فیسیلٹیز (ایم آر ایف)، ریفیوز ڈیریوڈ فیول (آر ڈی ایف) سہولت، سائنسی سینیٹری لینڈ فل، ٹرانسفر اسٹیشنز، لیچیٹ مینجمنٹ انفراسٹرکچر اور دیگر ماحولیاتی بنیادی سہولیات شامل ہوں گی۔
دریں اثنا، ایوان کو بتایا گیا کہ نئے مربوط پروجیکٹ کے شروع ہونے تک سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کی جانب سے اچن میں میونسپل کچرے کے سائنسی انتظام، ماحولیات کے تحفظ اور پرانے جمع شدہ کچرے کی صفائی کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یواین آئی۔ طا۔
جموں و کشمیر
کپواڑہ میں اسکارپیو کھائی میں جا گری، پانچ افراد ہلاک، سات زخمی
سری نگر، شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ٹنگڈھر علاقے میں پیر کو ایک اسکارپیو گاڑی سڑک سے پھسل کر دریا میں جا گری، جس کے نتیجے میں نو ماہ کے شیر خوار بچے سمیت پانچ افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ حادثہ لائن آف کنٹرول کے قریب اس وقت پیش آیا جب اسکارپیو گاڑی ٹیٹوال سے سمیری کی جانب جارہی تھی۔ راستے میں گاڑی سڑک سے پھسل گئی اور نیچے جا کر کشن گنگا دریا میں جا گری۔
حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت محمد ادریس (30)، حمزہ (نو ماہ)، سعیدہ بیگم (28)، شبیر احمد (50)، سمیری کے تمام رہائشی، اور ٹیٹوال کے رہائشی راجہ ارشد (30) کے طور پر ہوئی ہے۔
حادثے میں ڈرائیور سمیت چھ دیگر مسافر زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال (ایس ڈی ایچ) ٹنگڈھر منتقل کیا گیا، جہاں سے پانچ زخمیوں کو مزید بہتر علاج کے لیے اعلیٰ طبی مرکز منتقل کرنے کی سفارش کی گئی۔
پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 281 اور 125(a) کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ حادثے میں لوگوں کی جان جانے سے ’’شدید رنجیدہ‘‘ ہیں اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور ضلعی انتظامیہ کو انہیں بہترین ممکنہ علاج فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے کرناہ-ٹنگڈھر علاقے میں پیش آنے والا ایک المناک واقعہ قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور مرحومین کی روح کے سکون اور غم زدہ خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی قوت عطا ہونے کے لیے دعا کی۔
عمر عبداللہ نے ضلعی انتظامیہ اور طبی حکام کو زخمیوں کو بہترین ممکنہ علاج اور تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے حکام سے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو بھی کہا۔
جیل میں قید رکن پارلیمنٹ اور عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے رہنما انجینئر رشید نے بھی اس المناک سڑک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
پارٹی کے ترجمان انعام النبی نے حکام سے اپیل کی کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو ہر ضروری مدد فراہم کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حادثے کے بعد کسی بھی متاثرہ خاندان کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان5 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان5 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
