تازہ ترین
پاکستانی سپریم کورٹ کا عمران خان کی گرفتاری غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری رہا کرنےکا حکم
اسلام آباد، 11 مئی (یو این آئی)پاکستانی سپریم کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری رہا کرنےکا حکم دے دیا ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سےدوبارہ رجوع کرنےکا حکم دیا ہے جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کو عدالت میں پیش کیا گیا، عمران خان کو 15 گاڑیوں پر مشتمل سکیورٹی قافلے میں سپریم کورٹ لایا گیا، عمران خان کو کمرہ عدالت میں پہنچانےکے بعدکمرہ عدالت کو بند کردیا گیا۔
عمران خان سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر خود چلتے ہوئے کمرہ عدالت تک پہنچے۔
سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیےگئے اور پولیس کی جانب سے عدالت کے باہر سے غیر متعلقہ گاڑیوں کو بھی ہٹادیا گیا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب ایک شخص کورٹ آف لاء میں آتا ہے تو مطلب کورٹ کے سامنےسرینڈر کرتا ہے، ہم سمجھتے ہیں عمران خان کی گرفتاری غیر قانونی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کل کیس کی سماعت کرے، ہائی کورٹ جو فیصلہ کرے وہ آپ کو ماننا ہوگا۔
سپریم کورٹ میں عمران خان کی گرفتاری کو گزشتہ روز چیلنج کیا گیا تھا جس میں پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کی گرفتاری غیر قانونی ہے، ہائیکورٹ کا عمران خان کی گرفتاری قانونی قرار دینے کا حکم کالعدم قرار دیا جائے اور عمران خان کو عدالت کے سامنے پیش کرنےکا حکم دیا جائے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ سماعت کررہا ہے۔
سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ آئے تھے، وہ بائیو میٹرک کرارہے تھے جب رینجرز کمرے کا دروزاہ توڑ کر داخل ہوئی تو انہوں نے عمران خان کے ساتھ بدسلوکی کی اور ان کو گرفتار کر لیا۔
سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کوعمران خان کوساڑھے 4بجے پیش کرنےکا حکم دیا تھا اور کہا تھاکہ کوئی سیاسی رہنما اور کارکن عدالت نہیں آئےگا۔ عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے عمران خان کو سخت سیکورٹی میں سپریم کورٹ لایا گیا ہے۔
عمران خان کو عدالت میں پیش کیا گیا تو اٹارنی جنرل ، آئی جی اسلام آباد بھی سپریم کورٹ میں موجود تھے۔ کمرہ عدالت میں پہنچنے پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، آپ روسٹرم پر آجائیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں آپکی گرفتاری کے بعد تشدد کے واقعات ہورہے ہیں ہم ملک میں امن چاہتے ہیں یہ بات کی جارہی ہے کہ آپ کےکارکنان غصے میں باہر نکلے ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں بتائیں۔
قبل ازیں پاکستانی سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت میں چیف جسٹس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ نیب نے توہین عدالت کی ہے،کسی فرد نے عدالت کےسامنے خود سپردگی کی تو اس کو گرفتار کرنے کا کیا مطلب ہے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ درخواست پر سماعت کرہی ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم میں شامل سینئر وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان ایک کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ آئے تھے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ میں کس کیس میں پیش ہوئے تھے؟
حامد خان نے بتایا کہ عمران خان بائیو میٹرک کے لیے موجودہ تھے جب ان پر دھاوا بولا گیا، رینجرز نے عمران خان کے ساتھ بد سلوکی کی اور پر تشدد طریقے سے انہیں گرفتار کرلیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت دائر ہوئی لیکن سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی، جو مقدمہ مقرر تھا وہ بھی دیکھ لیتے ہیں۔
وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ بائیو میٹرک کے بغیر درخواست دائر نہیں ہوسکتی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہی بات ہے کہ عمران خان عدالت کے احاطہ میں داخل ہوچکے تھے، کسی کوانصاف کے حق سے کیسے محروم رکھا جاسکتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کا احترام ہوتا ہے، کورٹ کی پارکنگ سے نیب نے ایک ملزم کو گرفتار کیا تھا، عدالت نے اس گرفتاری کو واپس کروایا تھا جس کے بعد نیب نے یقین دہانی کرائی تھی کہ احاطہ عدالت سےگرفتاری نہیں کریں گے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کتنے لوگوں نے عمران خان کو گرفتار کیا؟ وکیل عمران خان نے بتایا کہ 80 سے 90 افراد نے گرفتار کیا۔
انہوں نے کہا کہ 90 رینجرز اہلکار احاطہ عدالت میں داخل ہوئے تو عدالت کی کیا توقیررہی؟ کسی بھی فرد کو احاطہ عدالت سے کیسے گرفتار کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں عدالت میں توڑ پھوڑ کرنے پر وکلا کے خلاف کارروائی کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی فرد نے عدالت کےسامنے سرینڈر کردیا تو اس کو گرفتار کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کوئی شخص بھی آئندہ انصاف کے لیے خود کو عدالت میں محفوظ تصور نہیں کرے گا، گرفتاری سے قبل رجسٹرار سے اجازت لینی چاہیے تھی۔
وکیل شعیب شاہین نے بتایا کہ عمران خان کی گرفتاری کے وقت عدالتی عملے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ وارنٹ کی قانونی حیثیت نہیں اس کی تعمیل کا جائزہ لیں گے، عدالت کے سامنے سرینڈر کرنے کے عمل کو سبوتاژ نہیں کیا جاسکتا۔
وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان پر حملہ ہوا، ان سے سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی اٹارنی جنرل آف پاکستان کو طلب کرتے ہیں، وارنٹ کی تعمیل کیسے ہوئی سب سے اہم ہے، ہر کسی کو عدالت کے اندر تحفظ ملنا چاہیے۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ نیب نے تو ہین عدالت کی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہر کوئی چاہتا ہے دوسرا قانون پر عمل کرے، یہ عدالتوں کے احترام کا طریقہ کار نہیں۔
دنیا
ایران کے وزیر خارجہ عراقی کی قطری ثالثوں سے ملاقات، امریکہ کا جوہری معاملہ حل کیے بغیر معاہدے سے انکار
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقی نے نیویارک میں قطری ثالثوں سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز پر بات چیت کی ہے، جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ حل کیے بغیر جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
عراقی نے پیر کو ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ قطری ثالث ملاقات میں زیر بحث آنے والی تجاویز امریکہ کے سامنے پیش کریں گے اور انہیں امید ہے کہ واشنگٹن کا حتمی جواب منگل تک موصول ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا، ”ہم نے خیالات اور ایران کی شرائط پوری کرنے کے لیے حل تلاش کرنے اور ان شرائط پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات کی۔ ان کے پاس کچھ تجاویز تھیں اور ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ وہ انہیں امریکی فریق کے سامنے بھی پیش کریں گے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ جواب کا انتظار کرنے کے لیے نیویارک میں قیام کریں گے، عراقی نے کہا کہ وہ چند گھنٹوں میں تہران روانہ ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا، ”جب بھی قطریوں کے پاس کوئی جواب ہوگا، وہ جانتے ہیں کہ اسے ہم تک کیسے پہنچانا ہے۔”
عراقی نے ان ملاقاتوں کو قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے جاری پیغامات کے تبادلے کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ایران کی جانب سے اپنی تجویز پیش کیے جانے کے بعد یہ رابطے ”زیادہ سنجیدہ شکل” اختیار کر گئے ہیں۔
ایران نے جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنی تجویز پیش کی تھی، جس میں امریکہ سے ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے، پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عراقی کے مطابق ان اقدامات کو چار یا پانچ دن کے اندر مکمل کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے اور ساتویں روز ایران کے جوہری پروگرام سمیت حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے ”ناقابل قبول” قرار دیا تھا۔
الجزیرہ سے بات کرنے والے امریکی عہدیدار نے کہا کہ بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔
عہدیدار نے مذاکرات کو ”مثبت اور تعمیری” قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ حل کیے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ٹرمپ جوہری معاملے میں پیش رفت کے بدلے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہیں۔
عہدیدار نے کہا، ”ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جوہری معاملات پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہے، تاہم فریقین اب بھی وعدوں پر عمل درآمد کے وقت اور اس معاملے پر اختلاف رکھتے ہیں کہ پہلے کون سا فریق کون سا قدم اٹھائے گا۔”
امریکی عہدیدار نے ایران کے بارے میں شکوک کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تہران نے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کی اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے۔ تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے لبنان پر اسرائیلی حملے روکنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہ کرکے اور آبنائے ہرمز کے متبادل بحری راستے قائم کرنے کی کوشش کرکے خود اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ع ا۔
ہندوستان
سیتا رمن نے دوحہ میں نیپال، سعودی عرب کے وزرائے خزانہ کے ساتھ دوطرفہ اہمیت کی حامل میٹنگیں کیں
نئی دہلی/ دوحہ، وزیرِ خزانہ محترمہ نِرملا سیتا رمن نے قطر کے اپنے دورے کے دوران نیپال کے وزیرِ خزانہ سوَرن واگلے کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
محترمہ سیتا رمن دوحہ میں ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی سالانہ میٹنگ کے سلسلے میں وہاں گئی ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ اس میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن نے اتوار کے روز نیپال کے وزیرِ خزانہ مسٹر واگلے کے ساتھ ایک الگ میٹنگ کی۔ دونوں وزراء نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہوئی دونوں کے درمیان دوبارہ ہوئی اس ملاقات پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے نئی دہلی میں ہوئی پچھلی میٹنگ کے دوران ہوئی بات چیت کو آگے بڑھانے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔
میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن اور مسٹر واگلے نے نیپال میں حال ہی میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد بحالی اور اصلاحات کے موضوع پر نیپال کے اندازے اور ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا۔ ساتھ ہی، دونوں نے اس مشکل وقت میں ہندوستان جو بھی مدد دے سکتا ہے، اس کی باریکیوں پر کام کرنے کے لیے دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان مسلسل بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزراء نے نئی دہلی میٹنگ میں شروع کیے گئے پروجیکٹوں کی پیش رفت پر بھی بات چیت کی اور مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یو ٹی آئی-این پی آئی لنکج کو جلد شروع کرنے اور استعمال کرنے پر بھی بات چیت ہوئی، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند پہل ہے۔
محترمہ سیتا رمن نے اے آئی آئی بی کے بورڈ آف گورنرز کی دوحہ کانفرنس کے دوران سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے بھی ملاقات کی۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان کی مضبوط معاشی کارکردگی اور بہتر ہوتے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے سیتا رمن کو مبارکباد دی اور سعودی معیشت پر اپنی رائے رکھی۔
محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ سعودی عرب ہندوستان کا قابلِ اعتماد اور اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ ساتھ ہی، انہوں نے دفاع، سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر، تعلیم، ثقافت اور لوگوں کے درمیان باہمی تبادلے جیسے کئی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان جامع شراکت داری کا ذکر کیا۔ دونوں وزراء نے ہند- سعودی عرب دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (بی آئی ٹی) پر بات چیت کے کامیاب اختتام کا خیر مقدم کیا۔ اس سے دوطرفہ سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد ڈھانچہ ملے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا۔ مسٹر الجدعان نے کہا کہ سعودی عرب اس کے جلد نافذ ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ سعودی عرب کے دوران ظاہر کیے گئے نقطۂ نظر کو یاد کرتے ہوئے، دونوں وزراء نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے پر تبادلۂ خیال کیا۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان سے سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرنے میں گہری دلچسپی دکھائی۔
محترمہ سیتا رمن نے اسی دوران سوئٹزرلینڈ کے سفیر اور اے آئی آئی بی میں اس کے نمائندے گورنر پریکشتروں لازیری سے بھی الگ سے ملاقات کی۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
خواتین کو گھر میں بند کرکے رکھنے میں نہیں، مجرموں پر کارروائی ہے حل : راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے خواتین کی سکیورٹی کےتعلق سے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں گھر میں بند کرکے رکھنا حل نہیں ہے بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانے اور خواتین کے خلاف جرائم کرنے والوں کو سزا دینے کی ضرورت ہے۔
مسٹر گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ ملک بھر میں خواتین سڑکوں پر چلنے کے دوران ہراسانی اور عصمت دری کے واقعات سے خوفزدہ ہیں اور حکومت کا جواب ہے کہ انہیں گھر میں رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام متاثرہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے اور مجرم کو بچاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حل خواتین کو گھر کے اندر رکھنا نہیں، بلکہ سڑکوں کو محفوظ بنانا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والی مردانہ ذہنیت کا سامنا کرنا اور حملہ کرنے والوں کو تیزی سے اور بغیر کسی استثنیٰ کے سزا دینا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہزاروں طلبہ اور نوجوان خواتین کی سکیورٹی کے مطالبے کے حق میں سڑکوں پر ہیں۔ انہوں نے ملک بھر کی زیادہ سے زیادہ نوجوان خواتین، خاص طور پر جین زی سے بڑی تعداد میں آگے آنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ حکومت خواتین کے درد کے تئیں بہری ہے اور دباؤ پڑنے پر ہی سنے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرہ جمہوری حق ہے اور وہ اس کے ساتھ پوری طرح کھڑے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
