جموں و کشمیر
پاکستان گئے مقامی ملی ٹینٹوں کی جائیدادیں منسلک کی جارہی ہیں ،ایل او سی پر پولیس اہلکار وں کو بھی تعینات کرنے کا فیصلہ لیا گیا : پولیس سربراہ
جموں، جموں وکشمیر کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ یونین ٹریٹری کے مختلف حصوں سے جو ملی ٹینٹ پناہ لینے کے لئے پاکستان چلے گئے ہیں ان کی جائیداد کو منسلک کیا جارہا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے ملی ٹینٹوں کی ایک فہرست ہے جو پاکستان چلے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان ملی ٹینٹوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہیں کیونکہ یہ لوگ سرحد پار بیٹھ کر دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ان باتوں کا اظہار پولیس چیف نے راجوری میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے مختلف حصوں سے جو ملی ٹینٹ پاکستان چلے گئے ہیں ان کی جائیداد کو منسلک کیا جارہا ہے۔پولیس سربراہ نے کہاکہ ہمارے پاس دہشت گردوں کی ایک فہرست ہے جو جموں وکشمیر کے پشتینی باشندے ہیں اور پناہ لینے کی خاطر پاکستان فرار ہوگئے۔ مذکورہ دہشت گرد وں پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے کیونکہ وہ پاکستانی زیر قبضہ کشمیر میں بیٹھ کر دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔
دلباغ سنگھ نے کہاکہ سرگرم جنگجووں پر کوئی رحم نہیں کیا جائے گا اور وہ واپس آنے کی کوشش کریں تو انہیں مار گرایا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی زیر قبضہ کشمیر میں مقیم دہشت گرد جموں وکشمیر میں ملی ٹینسی کو پھر سے فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔پولیس چیف نے ایک سوال کے جواب میں کہا:’ راجوری اور پونچھ رینج میں 9سے 12دہشت گرد سرگرم ہیں جن میں سے زیادہ تر غیر ملکی ہیں اور ان میں سے تین جنگجووں کو تصادم آرائیوں کے دوران ہلاک کیا گیا‘۔
انہوں نے کہاکہ باقی ملی ٹینٹوں کا سراغ لگانے کی خاطر پونچھ اور راجوری اضلاع میں یومیہ ملی ٹینٹ مخالف آپریشنز لانچ کئے جاتے ہیں اور ہمیں پورا یقین ہے کہ انہیں بھی بہت جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ریاسی میں جاری تصادم میں ایک ملی ٹینٹ مارا گیا جبکہ اس کے ساتھی کی تلاش تیسرے روز بھی جاری ہے۔راجوری اور پونچھ اضلاع میں سرگرم ملی ٹینٹوں کے خلاف کامیاب آپریشنز کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں پولیس سربراہ نے کہاکہ سیکورٹی فورسزکے اہلکار دن رات کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کا سراغ لگانے کی خاطر مختلف علاقوں میں آپریشنز جاری ہے۔
ان کے مطابق سرحد کے اس پار سے راجوری اور پونچھ اضلاع میں دہشت گردی کو پھر سے بڑھاوا دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن ان کے منصوبوں کو ناکام بنایا جائے گا۔ولیج ڈیفنس کمیٹیوں(وی ڈی سی) کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہاکہ وی ڈی سی ممبران دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کی خاطر کلیدی کردا ر ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ولیج ڈیفنس کمیٹیوں کو مزید فعال کرنے کی خاطر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔دراندازی کے بارے میں پولیس سربراہ نے کہاکہ ایل او سی پر امسال جتنی بھی کوششیں کی گئیں انہیں ناکام بنایا گیا۔ ۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ سیکورٹی جائزہ میٹنگوں کے دوران فیصلہ لیا گیا ہے کہ اب کنٹرول لائن پر فوج کے ساتھ جموں وکشمیر پولیس کے اہلکار بھی تعینات رہیں گے تاکہ سرحد پر سیکورٹی گرڈ مزید مضبوط ہو سکے۔
منشیات کے کاروبارکو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے پولیس سربراہ نے کہاکہ اس پار سے منشیات کی کھیپ اس طرف بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے تاہم ڈرون کے ذریعے کی جانے والی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ سرحد کے نزدیک رہائش پذیر چند افراد جو منشیات کو اس طرف لانے کی سازش کا حصہ ہے ان کی شناخت کی جارہی ہیں اور بہت جلد انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے گا۔
یو این آئی- ارشید بٹ-ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا20 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر20 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان22 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا20 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا24 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا24 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا24 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
