تازہ ترین
پرسکون نیند کے لیے یہ غذائیں کھائیں
خبراردو: کیا آپ کو روز رات میں سونے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے؟ آپ کی راتیں جاگتے ہوئے اور دن تھکن، سستی اور غنودگی میں گزرتا ہے؟ تو پھر آپ کو اپنی نیند کو بہتر بنانے کے لیے ان غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیئے۔
ماہرین طب کا کہنا ہے کہ ہم نیند کی کمی کا شکار اس وقت ہوتے ہیں جب ہمارے اعصاب پرسکون نہیں ہوپاتے۔ پرسکون اعصاب ہی اچھی نیند لانے کا سبب بنتے ہیں اور اعصاب کو پرسکون رکھنے کے لیے دماغی و جسمانی ورزشیں اور ہلکی پھلکی غذائیں استعمال کی جاسکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ غذائیں شام یا رات سونے سے قبل استعمال کرلی جائیں تو آپ ایک اچھی اور بھرپور نیند سو سکتے ہیں۔
اخروٹ
اخروٹ میں موجود مائنو ایسڈ دماغ میں سیروٹنن اور میلاٹونن نامی مادہ پیدا کرتا ہے جو ہمارے دماغ کو پرسکون بنا کر بہترین نیند لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند لانے والی بعض دواؤں میں مصنوعی طور پر میلاٹونن کی آمیزش کی جاتی ہے۔ لہٰذا ان دواؤں سے بہتر میلاٹونن کا قدرتی ذخیرہ ہے جو اخروٹ کی شکل میں بآسانی دستیاب اور صحت بخش ہے۔
بادام
بادام میں موجود میگنیشیئم دماغی تناؤ کو کم اور سر درد کا علاج کرتا ہے۔ یہ دراصل دماغ اور اعصاب کو پرسکون کرتا ہے۔ یہی نہیں روزانہ بادام کھانا دماغی کارکردگی اور استعداد میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
شکر قندی
اگر آپ رات میں بہترین نیند سونا چاہتے ہیں تو شام میں شکر قندی کھائیں۔ یہ نہ صرف ذائقہ دار ہے بلکہ اس میں موجود کاربوہائیڈریٹس اور وٹامن بی 6 معدے کی تیزابیت کو ختم کرتے ہیں جس کی وجہ سے آپ سو نہیں پاتے۔
گرم دودھ
رات سونے سے قبل ایک گلاس نیم گرم دودھ پینے کے بعد آپ بستر پر لیٹتے ہی نیند کی آغوش میں چلے جائیں گے۔ نہ صرف دودھ بلکہ وہ تمام غذائیں جن میں کیلشیئم موجود ہو جیسے دہی یا پنیر وغیرہ نیند لانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ البتہ ان کے استعمال سے قبل وقت اور موسم کو ضرور مدنظر رکھیں۔ صرف نیم گرم دودھ ہر موسم میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کیلے
کیلے میں پوٹاشیئم اور میگنیشیئم وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو اعصاب اور پٹھوں کو آرام دہ اور ہلکا پھلکا کرتے ہیں جس کے بعد آپ ایک پرسکون نیند سوتے ہیں۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
