تازہ ترین
پوری ریاست کے لوگ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کیلئے کھڑے ہو جائیں:انجینئر رشید
خبراردو: عوامی اتحاد پارٹی کے صدر انجینئر رشید نے اضافی فورسز کی تعیناتی سے متعلق سرکاری حلقوں سمیت مخلف حلقوں کی جانب سے پھیلائی جارہی افواہوں کو تشویشناک بتاتے ہوئے اس سلسلے میں نئی دلی کو اپنا موقف واضح کرنے کیلئے کہا ہے.
آج یہاں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر رشید نے اس بات کو ششدر کردینے والا بتایا کہ نئی دلی مسئلہ کشمیر کے حل کی بجائے جموں کشمیر میں اضافی فورسز کو تعینات کرکے یہاں کے لوگوں کو خوفزدہ کر رہی ہے. انجینئر رشید نے تاہم کہا کہ کشمیریوں کو ڈرانے کی کوشش کرنے والوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ کشمیریوں نے گزشتہ تیس سال کے دوران بدترین حالات کا مقابلہ کرنا سیکھا ہے لہٰذا اگر نئی دلی نے دفعہ 370 یا 35A کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو وہ اپنے مفادات کی قبر خودنے کے سوا کچھ حاصل نہیں کرسکتی ہے. انہوں نے کہا کہ یہ دونوں دفعات جموں کشمیر کے عوام کے لئے کوئی رعایت نہیں ہے بلکہ یہ ان وعدوں اور آئینی ضمانتوں کا حصہ ہیں کہ جو خود نئی دلی نے کشمیریوں کو دی ہوئی ہیں. انہوں نے کہا ” یہ بات بھی ذہن میں رکھنے والی ہے کہ جموں کشمیر کو حاصل جن آئینی ضمانتوں کو لیکر ہنگامہ برپا ہے وہ فقط اسی ایک ریاست کو نہیں دی گئی ہیں.
نئی دلی آگ سے کھیل رہی ہے اور وہی سب کرنا چاہتی ہے کہ جو نام نہاد سخت گیر اور بنیاد پرست اسے کرتے دیکھنا چاہتے ہیں. مرکزی سرکار اور حکمران جماعت بی جے پی کے مذکورہ بالا دفعات کو فقط زیر بحث لانے سے بھی ان لوگوں کی دلیل تسلیم شدہ بنتی ہے کہ جو آئین ہند کے اندر مسئلہ کشمیر کا حل نہیں دیکھتے ہیں “. انجینئر رشید نے مزید کہا کہ اس طرح کے معاملات پر غیر ضروری بحث و مباحثہ کی حوصلہ افزائی کر کے نئی دلی در اصل خود اپنی اس دعویداری کو جھٹلا رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو آئین ہند کے دائرے میں حل کیا جاسکتا ہے. انہوں نے کہا” اتنا ہی نہیں بلکہ نئی دلی کے اس رویہ سے جموں کشمیر میں مین سٹریم سیاست کے مواقع ختم ہوتے ہیں اور ان لوگوں کے راستے بند ہوجاتے ہیں کہ جو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کی بات کرنے والے ہیں “. انجینئر رشید نے کہا کہ اگر اضافی فورسز کو امن و قانون کے لئے لایا جارہا ہے تو پھر اس دعویداری کا کیا کہ کشمیر کے حالات ٹھیک ہو رہے ہیں اور ملی ٹینسی میں کمی آرہی ہے. انجینئر رشید نے کہا کہ جب جب کشمیر میں اضافی فورسز کی تعیناتی ہوگی ریاست میں بحالی امن کی دعویداریاں ڈھکوسلہ ثابت ہوتی رہیں گی. انہوں نے کہا کہ نریندر مودی، امت شاہ اور راجناتھ سنگھ کو اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ انکے پاس کشمیریوں کو پیش کرنے کے لئے کیا ہے کہ جو وہ گاہے گاہے انہیں مذاکرات کے لئے آمادہ ہونے کیلئے کہتے رہتے ہیں.
عوامی اتحاد پارٹی کے صدر نے کہا کہ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے مین اسٹریم کے سیاستدان ننگا ہوجائیں گے اور انکی جگہ ہمیشہ کیلئے ختم سمجھی جانی چاہئے. انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھاجپا لیڈر شیو راج سنگھ چوہان نے افواہوں کو رد کردیا ہے تاہم مرکزی سرکار کو ٹھوس اور با ضابطہ وضاحت دیکر بے چینی کو دور کرنا چاہیے. انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں موجودہ بے چینی اور ابہام کی صورتحال ہندوستان کیلئے جشن منانے کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ اس پر ہند مخالف عناصر خوب خوشیاں مناتے ہونگے. انجینئر رشید نے کہا کہ جموں اور لداخ کے لوگوں کو دفعات مذکورہ کو کشمیریوں کا مسئلہ نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ انہیں ان دفعات کی اصل اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے کسی بھی پروپیگنڈہ کا شکار ہونے َے بچنا چاہئے. انہوں نے کہا “حیرت ہے کہ کشمیریوں پر قومی مفاد کے خلاف ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے لیکن نئی دلی کی وعدہ خلافی پر کوئی بات نہیں کرتا. وقت وقت کی ہندوستانی حکومتوں نے الحاق کی شرائط کو توڑا ہے لجک. افسوس اس بات کا ہے کہ کشمیریوں پر پاکستان کے پراکسی ہونے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے. دلی والوں کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ مہاراجہ یا الحاق کے لوازمات سے وابستہ رہنے والے کسی اور نے پاکستان سے اجازت نہیں مانگی تھی اور نہ ہی دستاویز الحاق میں وہ شقیں پاکستان نے شامل کروائی تھیں کہ جن پر ابھی ہنگامہ کیا جارہا ہے”.
نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور دیگر جماعتوں کو نئی دلی کے گناہوں میں شریک بتاتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ ان جماعتوں نے ہمیشہ دلی کے منصوبوں کو عملانے کا کام کیا ہے جس کے لئے ان سبھی کو ریاستی عوام سے معافی مانگنی چاہیے. تاہم انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اختلافات کو بھول کر ان سبھی کے اتحاد کا تقاضا کرتے ہیں کہ جو واقعی دفعہ 370 اور 35 A کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں. انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان دفعات کا تحفط مذہب، زبان، ذات اور دیگر عصبیتوں سے بالا ہوکر جموں کشمیر کے سبھی باشندوں کیلئے مساوی اہمیت کا حامل ہے لہٰذا سبھی کو ایک ہوکر ان دفعات کے خلاف ہونے والی سازشوں کے مقابلہ کیلئے تیار ہونا چاہئے.انجینئر رشید نے سرکار کی طرف سے سرینگر گالف کلب کو عام لوگوں کیلئے کھولنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے سرکار سے کہا ہے کہ اگر اس کی نیت صاف ہے تو اسے چاہئے کہ جموں گالف کلب کو بھی عام لوگوں کیلئے اسی طرح کھولا جائے۔
کرپشن کے متعلق گورنر انتظامیہ کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کیلئے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ اگر چہ ہر کشمیری کرپشن کے خلاف جہاد میں سرکار کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہے لیکن جس طرح سے صرف چند اشخاص کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس سے یہ بات عیاں ہے کہ کشمیری سیاستدانوں کی اعتباریت کو ختم کرنا چاہتی ہے۔
انجینئر رشید نے کہا کہ نئی حد بندی کے بارے میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر 2026تک ایسا کرنے میں قانونی پیچیدگیاں حائل ہیں تو اسمبلی انتخابات کے بعد مناسب طریقے سے اسمبلی کے اندر ترامیم کے بعد از سر نو حدبندی کی شروعات کی جا سکتی ہے۔ انجینئر رشید نے مغربی پاکستانی رفیوجیوں کو مہمان قرار دیتے ہوئے اس بات کو دہرایا کہ وہ کسی بھی قیمت پر ریاست کے شہری نہیں بن سکتے اور انہیں ہر حال میں واپس مغربی پاکستان اپنے اپنے گھروں کو بھیجنے کے اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
