کھیل
پی ای ایف آئی اسٹیٹ ایتھلیٹک میٹ :ابھیک ہالدار اور رمجھم کماری بہترین ایتھلیٹ قرار
نئی دہلی، دو روزہ پی ای ایف آئی اسٹیٹ ایتھلیٹک میٹ 2025 کا انعقاد ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی کے باوقار جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں شاندار اور کامیاب انداز میں ہوا اس تقریب کا اہتمام فزیکل ایجوکیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا نے فٹ انڈیا موومنٹ اور ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، حکومت دہلی کے اشتراک سے کیا تھا ملک بھر سے 1,500 سے زیادہ ایتھلیٹس نے 70 سے زیادہ ٹریک اور فیلڈ ایونٹس میں اپنی ایتھلیٹک صلاحیتوں، نظم و ضبط اور جذبے کا مظاہرہ کیا۔
اس مقابلے نے نہ صرف کھیلوں کے نئے ٹیلنٹ کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا بلکہ ہندوستان کے مشن اولمپکس 2026 اور 2036 کی جانب ایک طاقتور قدم کے طور پر بھی کام کیا۔ شرکاء کے جوش و خروش، نظم و ضبط اور بہترین کارکردگی نے یہ ظاہر کیا کہ ہندوستان کے نوجوان کھلاڑی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ملک کا نام روشن کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
ابھیک ہلدار کو ان کی شاندار کارکردگی پر لڑکوں کے زمرے میں بہترین ایتھلیٹ کا ایوارڈ دیا گیا، جبکہ لڑکیوں کے زمرے میں چترا سنگھ رانا کو بہترین ایتھلیٹ قرار دیا گیا۔ مزید برآں، انڈس ویلی اسکول، نوئیڈا کو سب سے زیادہ تعداد میں شرکت کرنے والوں کے لیے زیادہ سے زیادہ شرکت کی ٹرافی سے نوازا گیا۔
اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے، سکریٹری، اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (SAI)، مسٹر وشنو کانت تیواری نے کہا کہ SAI کی طرف سے یہ اقدام یقینی طور پر ہندوستانی ایتھلیٹکس کے مستقبل کو تشکیل دے گا۔ اس پلیٹ فارم نے بہت سے باصلاحیت کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، جو مستقبل کے بین الاقوامی مقابلوں، خاص طور پر اولمپکس میں ہندوستان کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ اس طرح کے ایونٹس نہ صرف کھیلوں کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں بلکہ نوجوانوں میں فٹنس اور نظم و ضبط کے کلچر کو بھی تقویت دیتے ہیں۔
مسٹر راکیش مشرا، صدر، انڈین امیچور باکسنگ ایسوسی ایشن، جو اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے، نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی اے ایف آئی کے اس اقدام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہندوستان نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی شناخت اور ان کی حوصلہ افزائی کے ذریعے ہی کھیلوں کی سپر پاور بننے کے اپنے ہدف کو حاصل کر سکتا ہے۔
مسٹر نیتھن جوش، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا، مسٹر ونے سنگھ، ڈائریکٹر، شیاما پرساد مکھرجی فاؤنڈیشن، ڈاکٹر اے کے۔ اپل، چیئرمین پی اے ایف آئی، اور ڈاکٹر تریبھون رام نارائن، سکریٹری، آرگنائزنگ کمیٹی اس موقع پر موجود تھے۔
اپنے خطاب میں، ڈاکٹر پیوش جین نے کہا، “فزیکل ایجوکیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا (PEFI) کا مقصد ہندوستان کے کونے کونے میں کھیلوں اور جسمانی تعلیم کو ایک عوامی تحریک بنانا ہے۔ اس ایتھلیٹک میٹ کے ذریعے، ہم نہ صرف نئے ٹیلنٹ کی شناخت کر رہے ہیں بلکہ انہیں ایک منظم تربیت اور رہنمائی کا پلیٹ فارم بھی فراہم کر رہے ہیں۔ منتخب کھلاڑیوں کو مزید تربیت فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ CSR پروگرام کے تحت ہندوستان کی نمائندگی کر سکیں،
دو روزہ ایونٹ کے اختتام پر تمام جیتنے والوں کو میڈلز، اسناد اور خصوصی اعزازات سے نوازا گیا۔ مہمانوں نے SFI اور ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، حکومت دہلی کی اس مشترکہ کوشش کی تعریف کی، جس نے دارالحکومت کے کھیلوں کے منظر نامے میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ قومی کھیل پالیسی کے مقاصد کے مطابق یہ ایونٹ نہ صرف کھیلوں کی تعلیم اور فٹنس کلچر کو فروغ دیتا ہے بلکہ نوجوانوں میں کھیلوں کے تئیں مثبت رویہ اور قوم کی تعمیر میں ان کے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
بہترین ایتھلیٹ کا ایوارڈ
انڈر 14 لڑکے – ابھیک ہالدار (3 گولڈ میڈل)
انڈر 14 گرلز – رمجھم کماری (3 گولڈ میڈل)
انڈر 16 لڑکے – راہول راج مہتو (3 گولڈ میڈل)
انڈر 16 گرلز – سنیہا مکوپادھیائے (3 گولڈ میڈل)
انڈر 18 لڑکے – رشبھ کمار (1 گولڈ، 1 سلور، 1 برانز میڈل)
انڈر 18 گرلز – چترا سنگھ رانا (3 گولڈ میڈل)
زیادہ سے زیادہ شرکت کا ایوارڈ
اسکول کیٹیگری – انڈس ویلی پبلک اسکول نوئیڈا
کلب کیٹیگری – ویژن فٹ رننگ کلب
یو این آئی ۔ م ا ع
کھیل
پاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
نشین، (جاپان) ابھیشیک شرما (61)، تلک ورما (ناٹ آؤٹ 51) اور شیوم دوبے (27 رن/2 وکٹ) کی شاندار کارکردگی کی بدولت ہندوستان نے ہفتہ کو ایشیائی کھیل 2026 کی کرکٹ مقابلے کے فائنل میں روایتی حریف پاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر خطاب اپنے نام کر لیا۔
212 رن کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری پاکستان کی ٹیم کے لیے کپتان صاحبزادہ فرحان اور ماجد صاداقت کی افتتاحی جوڑی نے پہلی وکٹ کے لیے 33 رن جوڑے۔ چوتھے اوور میں واشنگٹن سندر نے صاحبزادہ فرحان (10) کو آؤٹ کرکے ہندوستان کو پہلی کامیابی دلائی۔ اگلے ہی اوور میں اکشر پٹیل نے عثمان خان (3) کو آؤٹ کردیا۔ پاکستان کی تیسری وکٹ ساتویں اوور میں ماجد صاداقت (23) کے طور پر گری۔ اس کے بعد حسن نواز اور صائم ایوب کی جوڑی نے پاکستان کی اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 87 رن جوڑ کر پاکستان کی میچ میں واپسی کرائی۔ 15ویں اوور میں شیوم دوبے نے صائم ایوب (29) کو آؤٹ کرکے اس شراکت داری کا خاتمہ کیا۔ 18ویں اوور میں واشنگٹن سندر نے عبدالصمد (9) کو آؤٹ کرکے پاکستان کو پانچواں جھٹکا دیا۔ اس دوران حسن نواز نے ایک سرا سنبھالے رکھتے ہوئے تیزی سے رن بنائے۔
شیوم دوبے نے انہیں میچ کی آخری گیند پر وکٹ کیپر سنجو سیمسن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا۔ انہوں نے 51 گیندوں میں 5 چوکے اور 7 چھکوں کی مدد سے 96 رن کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی ٹیم مقررہ 20 اوور میں 6 وکٹ پر 192 رن ہی بنا سکی اور مقابلہ 19 رن سے ہار گئی۔ہندوستان کی جانب سے شیوم دوبے، واشنگٹن سندر اور اکشر پٹیل نے 2-2 وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے پہلے آج یہاں ابھیشیک شرما (61) اور تلک ورما (ناٹ آؤٹ 51) کی جارحانہ نصف سنچری اننگز کی بدولت ہندوستان نے پاکستان کو جیت کے لیے 212 رن کا ہدف دیا تھا۔ ہندوستانی کپتان شریئس ایئر نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلے بازی کے لیے اتری ہندوستانی ٹیم کو تیسرے اوور کی پہلی گیند پر وائبھو سوریہ ونشی (15) کے طور پر پہلا جھٹکا لگا۔ اگلے ہی اوور میں سنجو سیمسن (2) رن بناکر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد کپتان شریئس ایئر نے ابھیشیک شرما کے ساتھ اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 42 رن کی شراکت داری ہوئی۔ آٹھویں اوور میں عرفات منہاس نے ابھیشیک شرما کو اسٹمپ آؤٹ کرکے اس شراکت داری کو توڑا۔ ابھیشیک نے 28 گیندوں میں 3 چوکے اور 7 چھکے لگاتے ہوئے 61 رن کی اننگز کھیلی۔
13ویں اوور میں ایشان کشن (20) رن اور اگلے اوور میں شریئس ایئر (21) رن بناکر آؤٹ ہوئے۔ شیوم دوبے نے 15 گیندوں میں 2 چوکے اور 2 چھکوں کی مدد سے 27 رن بنائے۔ ہندوستان نے مقررہ 20 اوور میں 6 وکٹ پر 211 رن کا چیلنجنگ اسکور کھڑا کیا۔ تلک ورما نے 22 گیندوں میں 3 چوکے اور 4 چھکے لگاتے ہوئے ناٹ آؤٹ 51 رن کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس اور احمد دانیال نے 2-2 وکٹیں حاصل کیں۔ صائم ایوب اور ابرار احمد نے ایک ایک بلے باز کو آؤٹ کیا۔
یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
ڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
سری نگر، موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن جموں و کشمیر نے سری نگر میں ایرانی کپ کے دوسرے دن زبردست حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو مشکل حالات سے نکل کر ’ریسٹ آف انڈیا‘ کے خلاف پہلی اننگز میں 41 رنز کی برتری حاصل کر لی۔
صبح 37 رنز پر چار وکٹ اور لنچ کے بعد 166 رنز پر آٹھ وکٹ کے مشکل مرحلے سے گزرنے والی موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن ٹیم کو تجربہ کار پارس ڈوگرا (75 رنز) اور نمبر 10 پر کھیلنے والے لون ناصر مظفر (58 گیندوں پر جارحانہ 64 رنز) نے سنبھالا اور ٹیم کو 278 رنز تک پہنچا دیا۔
’ریسٹ آف انڈیا‘ کی ٹیم پہلے دن 237 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔ جموں و کشمیر کی برتری حاصل کرنے کی امیدوں کو اس وقت ابتدائی دھچکا لگا جب مکیش چودھری نے اوور نائٹ بلے باز شبھم کھجوریہ اور کامران اقبال کو پہلے ہی پانچ اووروں میں آؤٹ کر دیا۔
اس کے بعد ڈوگرا اور عبدالصمد نے 97 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کو سنبھالا اور لنچ تک جموں و کشمیر کا اسکور 134 رنز پر چار وکٹ تک پہنچا دیا۔ صمد (57 رنز) اس جوڑی میں زیادہ جارحانہ رہے اور وقفے سے عین قبل انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی 12ویں نصف سنچری مکمل کی۔
تاہم لنچ کے بعد ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے واپسی کرتے ہوئے صمد کو آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد کنہیا ودھاون، عابد مشتاق اور ساحل لوٹرا بھی 11 اوور کے دوران آؤٹ ہوگئے۔ 166 رنز پر آٹھ وکٹ گرنے کے بعد بھی جموں و کشمیر 71 رنز پیچھے تھی۔
اس کے بعد ڈوگرا اور مظفر نے نویں وکٹ کے لیے 64 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کا رخ بدل دیا۔
ڈوگرا 75 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، جس کے ساتھ ہی چودھری نے اننگز میں اپنی پانچویں وکٹ حاصل کی، لیکن مظفر نے جارحانہ کھیل جاری رکھا اور آخری وکٹ کے لیے سنیل کمار کے ساتھ 48 رنز جوڑ کر جموں و کشمیر کو برتری دلا دی۔ مظفر بالآخر 64 رنز پر آؤٹ ہوئے اور جموں و کشمیر کی پوری ٹیم 278 رنز پر سمٹ گئی۔ چودھری نے 78 رنز دے کر پانچ وکٹ حاصل کیے، جبکہ آکاش دیپ نے 43 رنز دے کر تین وکٹ لیے۔
جواب میں ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے اسٹمپس تک ایک وکٹ پر 24 رنز بنا لیے تھے اور وہ اب بھی 17 رنز پیچھے تھی۔ سودیپ گھرامی اور سَنَت سانگوان ناٹ آؤٹ تھے، جبکہ سست اوور ریٹ کے باعث 15 اوورز کا کھیل نہیں ہو سکا۔
مختصر اسکور:
ریسٹ آف انڈیا: 237 اور 1/24 (سنیل کمار 1/9)، جموں و کشمیر: 278 (پارس ڈوگرا 75، لون ناصر مظفر 64، عبدالصمد 57؛ مکیش چودھری 5/78، آکاش دیپ 3/43) — 17 رنز پیچھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
رضوان کو این سی سی آئی اے کا پراسس فالو کرنا چاہیے: یونس خان
کراچی، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ وہ بطور کرکٹر محمد رضوان کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم رضوان سے متعلق جاری معاملے پر بات کرتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق یونس خان نے ایک پروگرام میں کہا کہ کرکٹرز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے بڑے نہیں ہوسکتے اور اس معاملے میں محتاط انداز میں گفتگو کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ایک معتبر ادارہ ہے اور محمد رضوان کو متعلقہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ”ہم کسی کے وکیل نہیں ہیں اور نہ ہی ہمیں اس کیس سے متعلق مکمل معلومات ہیں۔”
یونس خان نے کہا کہ محمد رضوان سے متعلق معاملہ ایک سرکاری دورے کے دوران پیش آیا ہے، اس لیے کیس کا نتیجہ سامنے آنے تک اس پر گفتگو میں احتیاط ضروری ہے۔
سابق کپتان نے بتایا کہ ماضی میں انہیں بھی اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کے معاملات تقریباً چار ماہ تک جاری رہے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں محمد رضوان اور امام الحق سے متعلق این سی سی آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
