تازہ ترین
پی وی سندھو کے کیریئر کا ٹرننگ پوائنٹ
سندھو نے کہا کہ جب میں نے کھیلنا شروع کیا تو میں اچھا کھیل رہی تھی لیکن یہ کھیل بین الاقوامی سطح کا نہیں تھا۔ میں پہلے راؤنڈ یا کوالیفائنگ راؤنڈ میں ہار جاتی تھی۔
خبراردو:-
عالمی چمپین ہندوستانی بیڈ منٹن کھلاڑی پی وی سندھو نے کہا ہے کہ اولمپک چمپیئن لی زوئی روئی کو 2012 میں شکست دینا ان کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوا اور اس نے ان کے حوصلے کو کافی حد تک بڑھایا۔ سندھو نے یہ انکشاف آن لائن چیٹ شو ‘ان اسپورٹ لائٹ’ میں ٹیبل ٹینس پلیئر مدیت دانی کے ساتھ گفتگو میں کیا۔
سندھو نے کہا کہ میرے لئے اہم موڑ تب آیا جب میں نے 2012 میں لی زوئی روئی کو شکست دی۔ وہ اس وقت اولمپک چمپیئن تھیں اور میں نے انہیں چائنا ماسٹرز کے کوارٹر فائنل میں شکست دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ زوئی روئی کو شکست دینے کے بعد ان کا اعتماد بہت بڑھ گیا تھا اور اس نے انہیں پہلے سے کہیں زیادہ محنت کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ایک سال بعد انہوں نے ورلڈ چمپین شپ میں کانسی کا پہلا تمغہ جیتا۔
25 سالہ سندھو 2016 کی ریو اولمپک چاندی کا تمغہ جیت چکی ہیں اور 2019 میں انہیں ہندوستان کی پہلی عالمی چمپیئن بیڈ منٹن کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے ورلڈ چمپئن شپ میں مجموعی طور پر پانچ تمغے حاصل کیے ہیں جن میں دو کانسی، دو چاندی اور ایک سونے کا تمغہ شامل ہے۔
سندھو نے کہا کہ جب میں نے کھیلنا شروع کیا تو میں اچھا کھیل رہی تھی لیکن یہ کھیل بین الاقوامی سطح کا نہیں تھا۔ میں پہلے راؤنڈ، کوالیفائنگ راؤنڈ میں ہار جاتی تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ مجھے بہتر کھیلنا چاہیے اور پھر میں نے سخت محنت کرنا شروع کردی۔ سندھو نے کہا کہ میں شکست پر افسردہ ہوتی تھی اور میں سوچتی تھی کہ میں کیا غلطیاں کررہی ہوں۔ میں کسی دوسرے کی طرح محنت کر رہی تھی۔ لیکن اولمپک چمپیئن کھلاڑی کو شکست دینے سے مجھے اعتماد ملا اور میرے کھیل میں بہتری آنے لگی۔
اولمپک سونے کے تمغہ جیتنے والے توفیق ہدایت کے بیک ہینڈ اور دو بار کے اولمپک چمپئن لین ڈین کے کھیل کے انداز سے سندھو نے کہا کہ جب ریو میں چاندی جیتنے کے بعد حیدرآباد پہنچنے پر ایک مداح نے انہیں اپنی ایک ماہ کی تنخواہ سونپ دی۔ دنیا کے ساتویں نمبر کی کھلاڑی نے کہا کہ یہ دل کو چھونے والا واقعہ تھا اور آج بھی مجھے یہ اچھی طرح سے یاد ہے۔ میں نے انہیں خط لکھا اور کچھ رقم بھی ارسال کی۔
سندھو کورونا وائرس کے وبا کے وقت اپنے گھر میں تربیت حاصل کر رہی ہیں اور وہ اپنے کنبہ کے ساتھ بھی اچھا وقت گزار رہی ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے کچھ نئی چیزیں بھی سیکھ لیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کچھ نئی چیزیں سیکھ رہی ہوں، جیسے آج کل میں پینٹنگ کرتی ہوں۔ میں کھانا پکانا اور بیکنگ بھی کر رہی ہوں۔ یہ واقعی بہت دلچسپ ہے کیونکہ اس سے قبل میری زندگی میں صرف بیڈمنٹن تھا لیکن اب میں مختلف چیزیں سیکھ رہی ہوں جو تخلیقی ہے۔(قومی آواز)
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
