تازہ ترین
پی ڈی پی کی قیادت والی حکومت میں پلوامہ اور شوپیان نے سخت اذیتیں جھیلیں:غلام احمد میر
خبراردو: کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے جنوبی کشمیر میں پارٹی کی کامیابی کو یقینی بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت میں آتے ہی لوگوں پر ظلم و تشدد کے سلسلے کو بند کیا جائےگا۔ انہوں نے بتایا کہ سابق مخلوط حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے نتیجے میں جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیان سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بہت کچھ برداشت کیا۔
کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر جنوبی کشمیر کے کھریو، پانپور، لدھو، ستپوکھری اور لیت پورہ علاقوں میں کئی عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا کہ جنوبی کشمیر میں پارٹی کی جیت یقینی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے عوام نے پی ڈی پی اور این سی کی دوغلی اور موقعہ پرست سیاست کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ اگر حکومت ملی تو جنوبی کشمیر کے عوام کو سکون کی زندگی فراہم کریں گے اور یہاں برسوں سے جاری خون ریزی اور معصوم لوگوں کے ساتھ زیادیتوں کو سلسلہ فوری طور پر بند کردیں گے۔
انہوںنے بتایا کہ پی ڈی پی اور این سی نے انتھک کوشش کرتے ہوئے جنوبی کشمیر میں سیاسی فائدہ سمیٹنے کی خاطر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن اب یہاں ایسے حالات نہیں رہے کیوں کہ عوام اب سیاسی طور پر بالغ ہوچکی ہے۔ این سی اور پی ڈی پی والے اب زیادہ دیر تک لوگوں کے جذبات سے کھیل نہیں سکتے۔
جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کے دوران کانگریس صدر غلام احمد میر نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ جنوبی کشمیر میں پارٹی کی جیت یقینی ہے کیوں کہ لوگوں نے ایک مرتبہ پھر کانگریس جیسی سیکولر پارٹی پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ جنوبی کشمیر میں پارلیمانی انتخابات کے اب تک ہوئے دو مرحلوں میں لوگوں نے کانگریس اُمیدوار کے حق میں اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔
انہوں نے شوپیان اور پلوامہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ این سی اور پی ڈی پی کے کھوکھلے نعروں کے بہکاوے میں نہ آئیں جنہوں نے مشترکہ طور پر ریاست میں بی جے پی اور آر ایس ایس جیسی کشمیر دشمن پارٹیوں کے ہاتھ مضبوط کئے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے 2014میں اہم اور حساس معاملات سے متعلق لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے بعد میں یہاں فرقہ پرست قوتوں کو مکمل راہ داری فراہم کی اور ابھی بھی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دونوں پارٹیوں نے لداخ میں بی جے پی کو درپردہ حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہاں کے سیکولر ووٹوں کو تقسیم کیا جائے۔
غلام احمد میر کے مطابق جنوبی کشمیر کے عوام نے پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کو کلی طور پر مسترد کردیا ہے حالانکہ دونوں پارٹیاں عوام کو دوبارہ شیشے میں اُتارنے کی خاطر نت نئے حربے آزمارہے ہیں لیکن وہ تاحال اس میں ناکام ہوچکے ہیں اور انتخابات میں بھی وہ منہ کی کھائیں گے۔کانگریس پارٹی ہی اصل میں عوامی خواہشات اور جذبات کی امین ہے۔ ہم ہمیشہ پی ڈی پی، این سی اور بی جے پی جیسی جماعتوں کے درپردہ عزائم کو بے نقاب کرتے رہیں گے جو ووٹوں کی خاطر یہاں کے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہیں۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے بتایا کہ میں پلوامہ اور شوپیان کے لوگوں کے دکھ اور درد کو سمجھ سکتا ہوں جنہوں نے پی ڈی پی ، بی جے پی کی سابق مخلوط حکومت میں کافی کچھ سہا اور برداشت کیا۔انہوں نے بتایا کہ یہاں کے لوگوں نے پی ڈی پی کی قیادت والی حکومت کا سوتیلا سلوک بھی دیکھا اور مرکزی حکومت کی تاناشاہی کا بھی آنکھوں سے مشاہدہ کیا جو کشمیری عوام کی بہتری کے بجائے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل پر ہی نظریں جمائے ہوئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ کانگریس پارٹی بی جے پی اور آر ایس ایس کے مکروہ عزائم کو ہر سطح پر ناکام بنائے گی اور انہیں ریاستی عوام کے جذبات کےساتھ کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔اس موقعے پر عوامی جلسوں سے حاجی عبدالرشید ڈار، عثمان مجید، گلزار احمد وانی، فاروق اندرابی، ہلال احمد شاہ اور محمد اقبال میر نے بھی خطابات کئے۔
جموں و کشمیر
اپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے بدھ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو 1953 سے پہلے کی صورت حال اور دفعہ 370 کی بحالی سے جوڑ کر اسے ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام لگایا اور حال ہی میں اختتام پذیر 7 روزہ خزاں اجلاس کو جموں و کشمیر کے عوام کے لیے ’بدقسمت‘ قرار دیا۔
7 روزہ اجلاس کے اختتام کے بعد صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے سوال کیا، ’’ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کے ساتھ 1953 سے پہلے کی صورت حال اور دفعہ 370 کی بحالی کو جوڑ کر اسے سبوتاژ کرنے کا حق آپ کو کس نے دیا؟‘‘ مسٹر شرما نے کہا کہ بی جے پی ریاستی حیثیت کی بحالی کی حمایت کرتی ہے، لیکن اس مطالبے کو 2019 میں کی گئی تبدیلیوں سے پہلے موجود آئینی انتظامات کی بحالی سے جوڑنے کی مخالفت کرتی ہے۔
اسمبلی نے بی جے پی ارکان کے زبردست احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور کی۔ بی جے پی ارکان نے سابقہ خود مختاری اور خصوصی حیثیت سے متعلق قراردادوں کے حوالوں پر اعتراض کیا تھا۔ مسٹر
شرما نے قرارداد کی حمایت کرنے پر کانگریس سے بھی سوال کیا اور اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو اسے ایوان میں پیش کرنے کی اجازت دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اخلاقی بنیادوں پر اسپیکر سے استعفیٰ دینے کا بی جے پی کا مطالبہ بھی دہرایا۔
نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ عبداللہ کی سیاسی وراثت کا حوالہ دیتے ہوئے شرما نے 1953 سے پہلے کے دور اور الگ آئین و پرچم کے سابقہ مطالبے کا ذکر کیا اور سوال کیا کہ موجودہ ریاستی حیثیت کی بحالی کی بحث میں اس معاملے کو شامل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر کے لیے الگ آئینی انتظام کی واپسی کی کسی بھی تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خطے کا آئینی ڈھانچہ ہندوستان کے آئین کے دائرے میں ہی رہنا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے جموں و کشمیر کے سیکولر اور جامع کردار پر بھی زور دیا اور کہا کہ یہ خطہ ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں، شیعوں، سنیوں، گجروں، پہاڑیوں، دیگر پسماندہ طبقات اور مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا گھر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذہبی آبادی کی بنیاد پر الگ آئین یا پرچم کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا اور زور دیا کہ جموں و کشمیر کا کردار ’جامع‘ رہا ہے۔
حکومت کے کام کاج کا ذکر کرتے ہوئے شرما نے خزاں اجلاس کو ’بدقسمت‘ قرار دیا اور الزام لگایا کہ اس میں معاشرے کے مختلف طبقات سے متعلق مسائل پر توجہ نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے عوام اس اجلاس کا انتظار کر رہے تھے اور امید کر رہے تھے کہ اس سے کچھ اچھی خبر سامنے آئے گی۔ میں ان 7 دنوں کو عوام کے لیے بدقسمت سمجھتا ہوں۔‘‘ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے اجلاس کو ’ثمر آور‘ قرار دیے جانے پر بھی سوال اٹھایا۔
شرما نے کہا کہ بی جے پی نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں، معاہدے پر کام کرنے والے ملازمین، یومیہ اجرت والے کارکنوں، این ایچ ایم اور این وائی سی کارکنوں، آشا اور آنگن واڑی کارکنوں، جی آر ایس اور تکنیکی معاونین، کیمپا کارکنوں اور پانی کی جانچ کرنے والی لیبارٹریوں کے ملازمین کے مسائل اٹھائے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اجلاس کے دوران بی جے پی ارکان کی جانب سے بار بار مطالبات اٹھائے جانے کے باوجود حکومت ان مسائل پر تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہی۔
انہوں نے کہا، ’’پہلے ہی دن ہم نے حکومت سے ان مسائل پر جواب مانگا تھا جو ہر ضلع صدر مقام پر عوام نے اٹھائے تھے۔ ہم نے پورے دن جواب مانگا، لیکن حکومت نے ان مسائل کا جواب نہیں دیا۔‘‘
بی جے پی لیڈر نے حکومت پر صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ملازمین کی کمی دور کرنے میں بھی ناکام رہنے کا الزام لگایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جموں و کشمیر میں تقریباً 13,000 ڈاکٹروں اور طبی معاون عملے کی کمی برقرار ہے اور حکومت بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کا مناسب استعمال کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مسٹر شرما نے مزید دعویٰ کیا کہ تقریباً 4.25 لاکھ افراد اب بھی پینے کے پانی کی سہولت سے محروم ہیں۔
انہوں نے ’وعدے بمقابلہ کارکردگی‘ کے عنوان سے ایک دستاویز بھی جاری کی، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اس میں عمر عبداللہ حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں اور صحت، روزگار اور پینے کے پانی سمیت مختلف شعبوں میں اس کی کارکردگی کے درمیان فرق کی تفصیل دی گئی ہے۔
شرما نے دعویٰ کیا کہ حکمراں نیشنل کانفرنس کے ارکان بھی حکومت کے کام کاج سے مطمئن نہیں ہیں۔
ریزرویشن سے متعلق مسائل پر انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور وہ عدالت میں زیرِ غور معاملے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی حیثیت واپس دینے کے مطالبے پر بی جے پی کا موقف واضح ہے، لیکن اسے 2019 سے پہلے کے آئینی انتظام کی بحالی سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے اسپیکر نے حکومت کو 15 دن میں کار پالیسی کو حتمی شکل دینے کی ہدایت دی
سری نگر، نئی کار پالیسی کو حتمی شکل دینے میں طویل تاخیر کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے بدھ کو حکومت کو ہدایت دی کہ پالیسی کو 15 دن کے اندر حتمی شکل دے کر نافذ کیا جائے۔
یہ ہدایت وزیر ٹرانسپورٹ ستیش شرما کی جانب سے کار پالیسی سے متعلق صورت حال کی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ ضروری بین المحکماتی مشاورت کرے گا اور پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے مطلوبہ کارروائی مکمل کرے گا۔
اسپیکر نے 24 ستمبر کو جموں و کشمیر اسمبلی کے خزاں اجلاس کے دوران نئی کار پالیسی کی تشکیل میں طویل تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ وزیر کو جاری اجلاس میں اس معاملے پر صورت حال کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔
اسپیکر نے کہا، ’’نئی کار پالیسی کو 15 دن کے اندر حتمی شکل دے کر نافذ کیا جانا چاہیے۔ اس معاملے کو مزید زیرِ التوا نہیں رہنے دیا جا سکتا۔ سرکاری وسائل کے غلط استعمال سے متعلق شکایات سنگین تشویش کا معاملہ ہیں اور سرکاری گاڑیوں کے حق اور استعمال سے متعلق واضح اور تازہ ترین قواعد کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔‘‘
اسپیکر نے کہا کہ مقررہ حق سے زیادہ متعدد سرکاری گاڑیوں کا استعمال سرکاری وسائل کا غلط استعمال قرار دینے میں وہ ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ معاملہ سرکاری افسران کے خلاف نہیں ہے، جنہیں مقررہ قواعد کے تحت جائز طور پر حاصل گاڑیاں اور سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔
اسپیکر نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ معاملے کی اہمیت کے باوجود یہ تقریباً 5 سال سے ایک محکمہ سے دوسرے محکمہ کے درمیان گردش کر رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر سرکاری وسائل کے مناسب اور دانش مندانہ استعمال سے متعلق خدشات کے پیش نظر پالیسی کو جلد حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسپیکر نے کہا کہ حکومت اصولی طور پر نئی کار پالیسی متعارف کرانے کی ضرورت پہلے ہی تسلیم کر چکی ہے اور سوال کیا کہ تجویز کو بار بار مختلف محکموں کے درمیان منتقل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے، جس میں معاملے کو دوبارہ محکمہ خزانہ کو بھیجنا بھی شامل ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سرکاری عہدیداروں کے لیے گاڑیوں کے حق کو ایک جامع پالیسی کے تحت واضح طور پر متعین کیا جانا چاہیے اور معاملے کو حتمی شکل دینے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
24 ستمبر کو اسپیکر راتھر نے افسران کی جانب سے متعدد سرکاری گاڑیوں کے مسلسل استعمال پر وزیر ٹرانسپورٹ شرما سے سخت سوالات کیے تھے۔ یہ معاملہ سوالیہ وقفے کے دوران بی جے پی کے رکن اسمبلی رنبیر سنگھ پٹھانیا نے اٹھایا تھا، جنہوں نے جاننا چاہا تھا کہ کیا حکومت تمام محکموں میں ’’ایک افسر، ایک گاڑی‘‘ کی پالیسی نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
راتھر نے یکم ستمبر کو ان کے دفتر کو موصول ہونے والی رپورٹ پر کارروائی میں تاخیر پر بھی سوال اٹھایا اور ان افسران کو الگ الگ گاڑیاں فراہم کیے جانے پر بھی اعتراض کیا جو 2 محکموں کا اضافی چارج سنبھال رہے ہیں۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
ہندوستان
ہندوستان پر 100 فیصد امریکی برآمدی ڈیوٹی کے خدشے کے درمیان مودی اور ٹرمپ نے کی ٹیلی فون پر بات چیت
نئی دہلی، روس-ایران پابندیوں کے قانون کے تحت امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر مجوزہ 100 فیصد برآمدی ڈیوٹی کے تعلق سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تبادلۂ خیال کے درمیان وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز بات چیت کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔
اس بات چیت کے بعد مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
انہوں نے کہا، “صدر ٹرمپ کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی۔ ہم نے تجارت، دفاع، توانائی، اہم ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں اپنے باہمی تعاون کا جائزہ لیا۔ ہم اپنی ‘جامع اسٹریٹجک شراکت داری’ کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر متفق ہوئے۔ ہم نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا، جن میں عالمی امن اور سکیورٹی کو فروغ دینے کے لیے جاری کوششیں بھی شامل ہیں۔”
وزیرِ اعظم کے دفتر نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ہند-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے تئیں اپنے عزم کو دہرایا اور دونوں ممالک کے لوگوں کے فائدے کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے قریب رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ امریکی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور شدہ یہ قانون امریکی صدر کو روس سے خام تیل یا قدرتی گیس خریدنے والے سرفہرست پانچ ممالک پر 100 فیصد تک برآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا6 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
