تازہ ترین
چاہ بہار ریلوے منصوبے سے بھارت کا انخلا: پاکستان کے لیے امکانات اور خدشات!
آصف شاہد:
’چین نے بھارت کو چاہ بہار زاہدان ریل منصوبے سے نکال باہر کیا ہے‘۔
چین بھارت سرحدی تصادم کے بعد تہران بیجنگ اسٹریٹجک معاہدے کی روشنی میں اس خبر کو نمایاں اہمیت ملی ہے۔ اس خبر سے فوری طور پر ایک تاثر لیا گیا کہ بھارت چاہ بہار بندرگاہ منصوبے سے باہر ہوگیا ہے۔
اب تک کی صورتحال میں یہ تاثر درست نہیں کیونکہ دی ہندو میں ریل منصوبے سے باہر کیے جانے کی خبر شائع ہونے کے دوسرے دن ایران کی خبر ایجنسی مہر نے خبر دی کہ ایران کے راستے افغانستان کی تیسری ٹرانزٹ کنسائنمنٹ چاہ بہار بندرگاہ سے بھارت کی مندرہ اور جواہر لال نہرو پورٹس کے لیے روانہ کردی گئی ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کی خبر سے یہ واضح ہوگیا کہ اب تک چاہ بہار بندرگاہ سے بھارت مکمل باہر نہیں ہوا۔ بھارت نے 2014ء میں چاہ بہار پر کام شروع کیا اور بندرگاہ کی تعمیر کے لیے 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی۔ دسمبر 2018ء میں بھارت نے چاہ بہار بندرگاہ کا انتظام سنبھالا۔ انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کو 18 ماہ کی لیز ملی تھی جو بعد میں 10 سال کردی گئی۔ ریل منصوبے سے باہر کیے جانے کے بعد اب تک بندرگاہ کے کنٹرول میں تبدیلی یا اس لیز سے متعلق کوئی نئی خبر نہیں آئی۔
چاہ بہار بندرگاہ بھارت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، پاکستان کے ساتھ تعلقات کی خرابی کی وجہ سے بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت بھارت کے لیے اہم ہے اور چاہ بہار بندرگاہ کے کنٹرول کے ساتھ بھارت کو افغانستان تک براہ راست رسائی مل رہی ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ کو افغانستان سے منسلک کرنے کے لیے کئی روڈ اور ریل منصوبے ہیں جن میں زرنج دیلارم روڈ جسے روٹ 606 کا نام بھی دیا گیا ہے وہ بھارت نے بنوائی۔ یہ سڑک قندھار ہرات شاہراہ سے جا ملتی ہے اور وسطی ایشیا تک رسائی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
گلف آف عمان میں ہونے کی وجہ سے چاہ بہار کی اسٹریٹجک اہمیت بھی ہے۔ یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز کے دہانے پر ہے اور گوادر سے صرف 100 میل کی دُوری پر ہے۔ آبنائے ہرمز تیل کی سب سے بڑی گزرگاہ ہے، لیکن ایران سعودی عرب کشیدگی کے دوران بھارت نے چاہ بہار کے کنٹرول کی بنیاد پر آبنائے ہرمز میں بحری گشت بڑھا دیا تھا۔
چاہ بہار زاہدان ریل منصوبے سے بھارت کو نکال باہر کیے جانے کا محرک تہران بیجنگ اسٹریٹجک معاہدہ بتایا جاتا ہے۔ اس اقتصادی اور سیکیورٹی معاہدے کا حجم 400 ارب ڈالر بتایا جا رہا ہے لیکن اس کی تفصیل نیویارک ٹائمز سے لی گئی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس معاہدے کا مسودہ موجود ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ میں ابھی تک یہ معاہدہ پیش نہیں کیا گیا اور چین نے تو اس معاہدے پر لب بھینچ رکھے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت چین ایران میں انفرااسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گا اور 25 سال تک ایران کا تیل خریدے گا۔ ایران میں چین کی دلچسپی کی کئی وجوہات ہیں لیکن ایک وجہ پاکستان میں سی پیک منصوبے میں سست روی بھی ہے۔
2018ء میں پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سی پیک کو کئی دھچکے لگے۔ حکومتی عہدیداروں نے پچھلی حکومت کی مخالفت میں سوچے سمجھے بغیر بیانات داغے اور سی پیک منصوبوں پر دوبارہ مذاکرات کے اعلانات کیے۔ چین بھی اس صورتحال سے پریشان ہوا اور سی پیک سے متعلق منصوبوں پر کام تعطل کا شکار ہوگیا۔
چین نے خطے میں اپنی موجودگی اور اثر برقرار رکھنے کے لیے نئے راستوں کی تلاش شروع کی اور پچھلے سال اگست کے آخر میں ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف کے دورہ بیجنگ کے موقعے پر چین نے ایران کو 400 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش کی۔ اب جو معاہدہ بتایا جا رہا ہے یہ جواد ظریف کے اسی دورے کا ثمر تھا۔
چین نے ایران کے تیل اور گیس کے شعبوں میں 280 ارب ڈالر اور ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر میں 120 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی۔ چین نے امریکا کی نئی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل کی درآمد جاری رکھنے کا بھی وعدہ کیا جبکہ بھارت ایرانی تیل کی خریداری سے ہٹ رہا تھا۔ اہم بات یہ کہ ایران میں چین کے منصوبوں میں چین کی کمپنیوں کا پہلا حق تسلیم کیا گیا ہے، اب اگر چین کی کمپنیاں کسی منصوبے سے خود پیچھے ہٹ جائیں تو اس کے بعد منصوبے کی کھلی بولی ہوسکتی ہے۔ مبیّنہ طور پر چین نے منصوبوں کی سیکیورٹی کے لیے 5 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی بات بھی منوا لی ہے۔
چین کو سی پیک اور گوادر بندرگاہ سے جو فوائد مل سکتے تھے ایران کی اسٹریٹجک لوکیشن اسے تمام تر فوائد مہیا کرتی ہے بلکہ اضافی فائدہ آبنائے ہرمز تک رسائی ہے۔ افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی پاکستان کی طرح ایران سے بھی ممکن ہے۔
چین کا ایران کے ساتھ براہِ راست زمینی راستہ نہیں ہے لیکن ایران کا محل وقوع اسے زیادہ پُرکشش بناتا ہے کیونکہ اس کی وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی ہے اور اگر افغانستان میں امن نہیں ہوتا تب بھی وسطی ایشیا تک براہِ راست رسائی ممکن رہے گی۔
چین کی سرمایہ کاری سے ایران کی معیشت کو سہارا ملے گا، جبکہ ایران کی بندر عباس اور چاہ بہار کے ریل اور روڈ رابطے بڑھیں گے۔ ازبکستان اور قازقستان کے ذریعے ریل رابطے چین اور افغانستان کو ملاتے ہیں اور ستمبر میں 41 کارگو کنٹینرز افغانستان سے چین بھجوائے گئے۔ چین ایران کے ساتھ مال برداری کے لیے ان ریل رابطوں کو بھی استعمال میں لاسکتا ہے۔
تحریکِ انصاف کی حکومت نے سی پیک منصوبے کو تقریباً لپیٹ دیا تھا لیکن پچھلے سال 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی کے بعد پاکستان کو ایک بار پھر چین کی طرف دیکھنا پڑا۔
چین کو فوری قائل کرنا آسان نہیں اسی لیے سی پیک اتھارٹی بنائی گئی اور گوادر میں کام کرنے والی چین کی کمپنیوں کو 23 سال کی ٹیکس چھوٹ کا اعلان کرتے ہوئے سی پیک پر کام تیز کرنے کے اشارے دیے گئے۔
سی پیک اتھارٹی کے قیام اور بعد ازاں اسے خودمختاری دینے کے لیے اس قدر تیزی سے کام کیا گیا کہ پارلیمنٹ سے منظوری کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ابھی تک سی پیک پر کام دوبارہ اس تیزی سے ہوتا نظر نہیں آ رہا جس تیزی سے پچھلی حکومت میں ہو رہا تھا۔ سی پیک پر یہ سُست روی پاکستان کو اقتصادی اور سفارتی حوالوں سے مہنگی بھی پڑسکتی ہے اور ایران خطے میں چین کے پارٹنر کی حیثیت سے پاکستان کی جگہ لے سکتا ہے۔
ایران چین اقتصادی راہداری کے باوجود پاکستان کی اہمیت کم نہیں ہوتی کیونکہ چین کی لائف لائن آبنائے ملاکا ہے۔ اگر بھارت اور امریکا مل کر کسی موقع پر آبنائے ملاکا کو چین کے لیے بند کردیں تو اسے سی پیک اور گوادر کی ضرورت پڑے گی۔ آبنائے ملاکا کے بالکل قریب بھارت کے جزائر انڈیمان نکوبار میں فوجی اڈے موجود ہیں اور لداخ میں حالیہ تصادم کے بعد بھارت نے جزائر انڈیمان نکوبار میں اضافی فورسز تعینات کرنے کے ساتھ وہاں عسکری انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے اور توسیع کا عمل تیز کردیا ہے۔ آبنائے ملاکا میں کوئی ہنگامی صورتحال درپیش ہونے پر چین گوادر بندرگاہ اور سی پیک کو استعمال میں لاکر اپنی سپلائی لائن کھلی رکھ سکتا ہے۔
بھارتی میڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری خلیجی ملکوں میں چین کے تعلقات پر اثر انداز ہوگی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا کیونکہ چین کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پہلے ہی ایسے معاہدے موجود ہیں اور اسٹریٹجک تعاون کے پیرامیٹرز طے کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹیوں کے مذاکرات ہوتے رہتے ہیں۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراک داری کے پیرامیٹرز طے کرنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے شریک چیئرمین سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔
ایران اور چین اسٹریٹجک معاہدے کی ہیڈلائنز جب دنیا بھر کے میڈیا میں شائع ہو رہی تھیں اسی دوران چین اور عرب ریاستوں کے تعاون کے لیے بنائے گئے فورم کا اجلاس جاری تھا۔ اس فورم کا اجلاس ہر 2 سال بعد ہوتا ہے جس میں اگلے 2 سال کے لیے تعاون کے منصوبوں پر بات ہوتی ہے۔
ایران کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدے کے باوجود چین ایران اور عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔ چین عشروں سے جاری عرب ملکوں کے ساتھ شراکت داری کو ایران کے لیے قربان نہیں کرے گا اور تہران بھی اس بات کو سمجھتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ تاثر ہے کہ ایران کے ساتھ تعاون شاید عرب دوستوں کو ناراض کردے گا، لیکن ایسا ہوتا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے پیرامیٹرز طے کرنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے شریک چیئرمین سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں—اے پی
چین کی طرف سے خطے میں اہم اسٹریٹجک معاہدے بھارت کی طرف سے چلی گئی چالوں کا توڑ ہیں۔ بھارت نے بھی چین کے گھیراؤ کی ایک پالیسی وضع کر رکھی ہے اور اس پر عمل پیرا ہے۔
چین نے اگر ہمبنٹوٹا، چٹاگانگ، کولمبو اور جبوتی میں قدم جمائے ہوئے ہیں اور پاکستان اس کا اتحادی ہے تو بھارت بھی بحر ہند میں اہم اسٹریٹجک بندرگاہوں پر فوجی سہولتیں حاصل کرچکا ہے۔
بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے 2018ء میں سنگاپور کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس سے بھارتی بحریہ کو چانگی نیول بیس تک براہِ راست رسائی ملی اور بھارتی بحریہ اس بحری اڈے سے ری فیول اور دوبارہ مسلح ہونے کی سہولیات پاچکی ہے۔ 2018ء میں ہی بھارت نے انڈونیشیا کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے تحت بھارت کو آبنائے ملاکا کے داخلی راستے پر واقع سبانگ پورٹ تک رسائی ملی۔ یاد رہے کہ آبنائے ملاکا چین کے درآمدی تیل کا سب سے بڑا راستہ ہے۔
2018ء میں ہی بھارت نے عمان کے ساتھ معاہدہ کرکے الدقم پورٹ تک رسائی حاصل کی۔ الدقم پورٹ چین کے جبوتی میں بحری اڈے اور گوادر پورٹ کے وسطی حصے میں ہے۔ منگولیا، جاپان اور ویتنام کے ساتھ بھی بھارت کے بحری تعاون کے معاہدے موجود ہیں۔
لیکن ان سب کوششوں کے بعد یہ بات یقینی ہے کہ بھارت چین کا اکیلے گھیراؤ کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے وہ 4 فریقی سیکیورٹی ڈائیلاگ کا بھی حصہ ہے، جس میں بھارت کے علاوہ امریکا، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔
بھارت ایک عرصے سے اس کوشش میں ہے کہ اس 4 فریقی غیر سمی فورم کو باقاعدہ فورم کی شکل دے دی جائے۔ اس 4 فریقی فورم کے رکن آسٹریلیا نے چین کے ساتھ کورونا وائرس کے مسئلے پر تعلقات بگاڑ لیے ہیں اور اس ماہ کے آغاز میں آسٹریلوی وزیرِاعظم نے ملک کے دفاعی بجٹ میں 10 سال کے دوران 40 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے اسے 270 ارب ڈالر تک لے جانے کا فیصلہ سنایا۔ اس اضافے کی وجہ بیان کرتے ہوئے آسٹریلیا نے انڈو پیسفک میں درپیش خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے چین بھارت سرحدی تصادم کا بھی حوالہ دیا۔
آسٹریلوی وزیرِاعظم نے دُور مار میزائل حاصل کرنے کا بھی اعلان کیا تاکہ مستقبل کے تنازعات کا مقابلہ کیا جاسکے۔ آسٹریلوی وزیرِاعظم نے کہا کہ امریکا چین کشیدگی بھی تیزی سے بڑھی ہے۔ کورونا وائرس کی وبا نے اس صورتحال کو مزید بگاڑا ہے اور عالمی سیکیورٹی آرڈر کو انتہائی غیر مستحکم مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔
خطے میں فوجی ماڈرنائزیشن بھی غیر معمولی شرح سے بڑھی ہے۔ دیوارِ برلن کے گرنے اور عالمی معاشی بحران کی وجہ سے آسٹریلیا کو جو سیکیورٹی ماحول میسر تھا وہ اب ختم ہوچکا ہے۔ آسٹریلوی فوجی بجٹ میں امریکی بحریہ سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلوں کی خریداری شامل ہے، اس کے علاوہ آسٹریلیا ہائپر سونک ویپن سسٹم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جو ہزاروں کلومیٹر تک مار کی صلاحیت کا حامل ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ سائبر وار فیئر کے لیے 15 ارب ڈالر رکھے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر کے انتخابات سے پہلے چین پر دباؤ بڑھا رہے ہیں اور آئے روز چین کے خلاف پابندیوں کے اعلانات ہو رہے ہیں۔ ہانگ کانگ کے حوالے سے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، تائیوان کو اسلحہ بیچا جا رہا ہے، جنوبی بحیرہ چین میں چین کی فوجی مشقوں کے دوران امریکی بحریہ کا اسٹرائیک گروپ خطے میں بھیجا گیا اور مائیک پومپیو نے پہلی بار جنوبی بحیرہ چین میں چین کی عملداری کو نہ ماننے کا پالیسی بیان بھی دیا۔ ان حالات میں دنیا ایک بار پھر 2 کیمپوں میں تقسیم ہو رہی ہے اور اس بدلتی صورتحال میں نئے اتحاد بن بھی رہے ہیں اور پرانے بکھر بھی رہے ہیں۔
(ڈان نیوز)
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
