تازہ ترین
چینی صدر کا دورہ سعودی عرب علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون بڑھانے پر اتفاق ،مشترکہ اعلامیہ جاری
ریاض، 9دسمبر(یواین آئی)چین کے صدر شی کے سعودی عرب کے تین روزہ دورے کے اختتام پر تفصیلی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ جس میں تیل کی ایک مستحکم عالمی مارکیٹ کی اہمیت پر مشترکہ طور پر زور دیا گیا ہے۔ مشترکہ بیان میں روس یوکرین تنازع اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں پر امن حل کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ایران پڑوسی ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔
العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مشترکہ بیان میں یمن اور شام کے سلسلے میں پر امن حل کی کوششوں کی تائید کی گئی اور لبنان کے بحران کے حل کے لیے کوششوں کی بات کی گئی ہے۔۔ چین نے روس یوکرین ، یمن اور شام کے سلسلے میں سعودی عرب کے کردار کی تعریف کی۔ دونوں ملکوں نے علاقائی کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بایمی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کرتے ہئے دو طرفہ سرمایہ کاری منصوبوں اور توانائی اور تجارت کے امور پر اعلی سظح کی دوطرفہ کمیٹی قائم کرنے پر بھی زور دیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے ‘ ایس پی اے ‘ کے مطابق اعلامیے میں چین نے تیل کی مستحکم اور متوازن عالمی منڈی کے لیے مملکت کے کردار اور حمایت کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ چین کو خام تیل کی بڑی اور قابل بھروسہ برآمد کنندہ مملکت کے طور پر بھی سعودی عرب کو سراہا گیا ہے۔مشترکہ اعلامیے میں سعودی عرب اور چین کے درمیان مستقبل میں تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ملکوں اتفاق کیا ہے کہ جوہری توانائی کے پر امن استعمال کے لیے باہمی تعاون میں اضافہ کیا جائے گا۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور صدر شی کے درمیان ملاقات میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی موجود رہے۔ یہ اہم ملاقات الیمامہ محل میں جمعرات کے روز ملاقات ہوئی ۔ اس اعلی ترین ملاقات کے لیے صدر شی سات دسمبرکو بدھ کے روز سعودی عرب پہنچے تھے ۔الیمامہ محل ہو ہونےو الی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور تعاون بڑھانے کے لیے مختلف شعبوں کو زیر بحث لایا گیا۔ اس تعاون کے لیے علاقائی اوربین الاقوامی سطحوں پر ہونے والی پیش رفت کے تناظر کے حوالے سے دیکھا گیا۔
چینی صدر کے دورے کے موقع پر دونوں مملکوں گرین انرجی، گرین ہائیڈروجن ، فوٹو وولٹائک انرجی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کلوڈ سروسزکے شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔فریقین نے 12 معاہدات اور مفاہمتی یادداشتوں پر ہائیڈروجن انرجی ، عدالتی شعبے، چینی زبان کی تعلیم ، ہاوسنگ، ڈائریکٹ انویسٹمنٹ ، ریڈیو ، ٹی وی ، ڈیجیٹل اکانومی ، معاشی ترقی ، سٹینڈرائزیشن ، خبری کوریج ، ٹیکس ایڈمنسٹریشن اور اینٹی کرپشن سے متعلق موضوعات پر دستخط کیے گئے۔علاوہ ازیں’ ایس پی اے ‘ کے مطابق سرکاری اور نجی شعبے میں 9 معاہدوں اور مفاہمت یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ جبکہ دونوں مملکت اور چین کے درمیان دونوں کی نجی کمپنیوں نے 25 معاہدات پر دستخط کیے ہیں۔
چینی صدر نے سعودی عرب کی طرف سے زبردست میزبانی کی تعریف کی اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو دورہ چین کی دعوت دی گئی۔ شاہ سلمان نے یہ دعوت قبول کر لی۔ تاہم شاہ سلمان کے دورہ چین کی تاریخ بعد ازاں دونوں طرف کے مشورے اور سہولت کے مطابق طے کی جائے گی۔
دورے کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں چین کی طرف سے مملکت کی سلامتی و استحکام کے لیے مسلسل حمایت کااظہار کیا گیا۔ نیز سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر مبنی اقدامات کی مخالفت کے عزم کااظہار کیا گیا۔ اس سلسلے میں سعودی عرب میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو ٹارگیٹ کر کے کیے جانے والے اور مملکت کے مفادات پر کیے جانے والے حملوں کی بھی مخالفت کا اندیہ دیا گیا۔ خلیجی ممالک کی سربراہی کانفرنس سے پہلے دونوں طرف سے چین اور خلیجی ممالک کے درمیان سٹریٹجک پارٹنر شپ اور گہرے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔نیز اس پر بھی کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا کہ خلیجی ممالک پلس چین یعنی 6 جمع 1 کے انداز میں خلیجی ممالک اور چین کے معیشت و تجارت کے امور کے وزیر وں کو فورم تشکیل دیا جائے۔
مشترکہ بیان میں تونائی کے شعبے کے لیے انفراسٹرکچر کے امور بھی فوکس میں رہے۔ دونوں طرف سے اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مل کر مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع بھی تلاش کیے جائیں گے۔
یہ مواقع پیٹرو کیمیکلز کے شعبے کے علاوہ بجلی ، پی وی انرجی ۔ ونڈ انرجی سمیت قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے لیے ہم آہنگی ظاہر کی گئی۔دونوں ملکوں نے ہائیڈروجن سے متعلق وسائل کے استعمال ، توانائی کی مستعدی ، توانائی کی مقامی سطح پر پیداوار کے اجزا اور فراہمی توانائی کے لیے اقدامات پر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس تناظر میں سعودی عرب اور چین دونوں نے چین کے ‘ بیلٹ اینڈ روڈ ‘ انیشیٹو کے حوالے سے بھی دو طرفہ تعاون کو گہرا اور مضبوط کرنے پر زور دیا ۔ اس طرح توانائی کے منصوبوں میں بھی دونوں ملک علاقائی سطح کے علاوہ یورپ اور افریقہ میں بھی منصوبے لگانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔علاوہ ازیں مال کی نقل وحمل اور کے لیے دو طرفہ طور پر اتفاق کیا کہ تعاون کو بڑھایا جائے اوراس سلسلے میں فضائی کے علاوہ بحری روابط کو بھی فعال بنایا جائے۔ جبکہ شہریوں کو جدید سفری سہولتیں دینے کے لیے سفری ذرائع بشمول ریلوے کے حوالے سے مثبت انداز میں چیزوں کو دیکھا گیا۔
سعودی عرب کی طرف سے بھی چین کو دعوت دی گئی کہ ملک کے مستقبل میں میگا پارجیکٹس میں اپنی مہارت کے ساتھ شریک ہو۔ نیز چین کے تاجروں کو مملکت میں اپنا علاقائی ہیڈ کوارٹر قائم کرنے کی دعوت دی گئی۔
صدر شی کے دورے کے اختتام سے قبل جاری کردہ مشترکہ بیان میں اعلیٰ سطح کی دو طرفہ مشترکہ کمیٹی کے ذریعے دو طرفہ روابط کو موثر بنانے کے لیے بھی اتفاق کیا گیا ۔ تاکہ تجارتی شعبے میں تعاون کو تزی سے بڑھایا جا سکے۔ اس بات کا بھی ادراک کیا گیا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ایسے منصوبے بھی ہونے چاہییں جو طرفہ تعاون و ترقی اور شراکت کی علامت کے طور پر نظرآنے والے ہوں۔
اس وقت دو طرفہ جاری تجارت کی مشترکہ بیان میں تعریف کی گئی ، جبکہ تیل کے علاوہ دیگر شعبوں کی تجارت کو بڑھانے پر بھی دونوں طرف سے زور دیا گیا۔ مشترکہ بیان نے سعودی عرب اور چین کے درمیان ‘ آٹو موٹوو انڈسٹری ، ان مشینیون کی سپلائی کے تسلسل، نقل و حمل سمیت انفراسٹرکچر اور مینو فیکچرنگ کے امور میں بھی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
خارجہ امور کا شعبہ اگرچہ چین کے صدر کے دورے میں اہم تر سمجھا گیا ہے تام اس مشترکہ بیان میں اس کو بظاہر کم اہمیت دی گئی ہے۔ خارجہ امور کے حوالے سے دونوں ملکوں نے روس اور یوکرین کے درمیان تنازعے کو پرامن طریقوں سے حل کیا جانے پر زور دیا ہے۔ اس موقع پر چین کی طرف سے سعودی عرب کے انسانی بنیادوں پر ادا کیے گئے کردار کی تعریف کی گئی جو روس اور یوکرین کے سلسلے میں پچھلے کئی ماہ سے مملکت ادا کر رہی ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں دونوں ملک اس بات پر متفق نظر آئے کہ باہمی تعاون کو مظبوط کیا جائے تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام کا پر امن حل نکل سکے۔
دونوں نے نے اس بات پر ایران سے اپیل کی کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے ادارے کے ساتھ پرولیفیشن کے حوالے سے تعاون کرے اور اچھے ہمسایوں کی طرح رہتے ہوئے دوسروں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔
یمن کے بارے میں بات کرتے ہوئے چین نے مملکت کی طرف سے جنگ کی خاتمے کے لیے کی گئی کوششوں کو سراہا اور یمن کی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی۔دونوں ملکوں نے یمن کے صدارتی کونسل کی قیادت کی حمایتت پر زور دیا اس پر بھی زور دیا کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ایک مستقل اور جامع سیاسی حل کی طرف بڑھا جاسکے۔
دونوں فریقں نے شام میں بحران کے سییاسی حل کے لیے کوششوں کو مؤثر بنانے پر زور دیا۔ شام میں دیشت گردی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ اور اس کے خصوصی نمائندے کی خدمات کو سراہا۔
لبنان کے تحفظ، استحکام اور اتحاد کو درپیش مسائل پر تشویش ظاہر کی اور لبنان کے بحران کے حل کے لیے اصلاحات، بات چیت اور مشاورت پر زور دیا۔
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عالمی سطح پر تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں: ای آئی اے
ویانا، بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں، اس لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔امریکی حکام نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کم رہنے کی صورت میں تیل اور گیس کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز سعودی عرب، عراق اور کویت سمیت بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق، معمول کے حالات میں روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل، یعنی دنیا کی روزانہ مجموعی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ، اس آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔ ادارہ اسے “تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ” قرار دیتا ہے۔
ای آئی اے کے مطابق اگر آبنائے ہرمز بند ہوجائے تو “اس راستے سے تیل باہر منتقل کرنے کے متبادل راستے بہت محدود ہیں۔”
یہ آبی گزرگاہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تجارت کا بھی تقریباً پانچواں حصہ منتقل کرتی ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت قابل اعتماد نہیں ہوجاتی، تیل اور گیس کی قیمتیں بلند رہیں گی۔ تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنے خام تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران نے خلیج فارس اور اس کے اطراف کے پانیوں میں آلودگی پر معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہرمز سے تجارتی آمدورفت سے فائدہ اٹھانے والے ممالک پر ماحولیاتی نقصان سے نمٹنے کی “قانونی اور اخلاقی دونوں ذمہ داری” عائد ہوتی ہے۔
ایران کے قشم جزیرے کے قریب ایک ساحل پر تیل کی تہہ دیکھی گئی ہے، جبکہ عمان نے کہا ہے کہ پابندیوں کا شکار ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔ اس ٹینکر میں ایک اندازے کے مطابق 8 لاکھ بیرل روسی خام تیل موجود تھا۔
عمان کے مطابق ساحلی پٹی کا 40 کلومیٹر تک کا علاقہ متاثر ہوا ہے اور خدشہ ہے کہ تیل کا اخراج مصیرہ جزیرے تک پہنچ سکتا ہے، جہاں حساس ساحلی ماحولیاتی نظام اور سمندری کچھوؤں کے انڈے دینے کے مقامات موجود ہیں۔
دریں اثنا، نیم فوجی بسیج آرگنائزیشن کے کمانڈر اور پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) سے وابستہ حسین طائب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز “ایران کے کنٹرول اور انتظام میں ہے۔”
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق طائب نے کہا، “آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز اسلامی جمہوریہ کے انتظام اور کنٹرول میں ہے اور ہمارا ملک مکمل تحفظ کے ساتھ اپنے راستے پر آگے بڑھ رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “امریکیوں نے اسلامی انقلاب کی طاقت دیکھ لی ہے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آمدورفت معمول سے بدستور بہت کم، تہران کا امریکہ کو ’غلط اندازے‘ سے خبردار
واشنگٹن/تہران، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت بدستور شدید متاثر ہے اور صرف 14 بحری جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے ہیں۔ یہ صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بار بار اس دعوے کے باوجود برقرار ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور امریکہ اس پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے واشنگٹن پر اس اہم بحری راستے کے حوالے سے “مزید بڑا غلط اندازہ” لگانے کا الزام عائد کیا ہے۔
سمندری انٹیلی جنس کمپنی کپلر کے مطابق 14 بحری جہازوں کی یہ تعداد ہفتے کے اختتام کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر کرتی ہے، تاہم فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل روزانہ تقریباً 120 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے۔
کپلر نے بتایا کہ منگل کو گزرنے والے 11 بحری جہازوں نے ایران کی جانب سے منظور کردہ راستہ استعمال کیا، جبکہ کسی بھی جہاز نے آبنائے کے وسط سے گزرنے والے روایتی راستے کو استعمال نہیں کیا۔
کمپنی نے کہا کہ بحری آمدورفت میں یہ اضافہ “معمول کی صورتحال میں واپسی کا باعث نہیں بنا”، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے آبنائے کے کھلے ہونے کے دعووں کے باوجود آمدورفت اب بھی شدید متاثر ہے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ واشنگٹن کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “ان کا کنٹرول نہیں ہے۔ ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔ یہ ہمارے اختیار میں ہے، اور کسی وقت شاید وہ کچھ کریں، پھر انہیں تباہ کردیا جائے گا۔ اس وقت ہم بہت اچھی پوزیشن میں ہیں۔”
ٹرمپ نے مزید کہا، “امریکہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔ میرے خیال میں ہم اسے برقرار رکھیں گے! ہماری بحری ناکہ بندی کو ہر کوئی ’فولادی دیوار‘ قرار دے رہا ہے اور ایران اس کے بارے میں کچھ نہیں کرسکتا۔”
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کا فوجی بنیادی ڈھانچہ بری طرح تباہ کردیا گیا ہے۔
اس کے بعد ٹرمپ نے ایران کی معیشت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا، “ان کے پاس صرف جعلی خبریں اور 300 فیصد مہنگائی ہے، اور صورتحال مزید خراب ہورہی ہے! ایران صرف باتیں کرتا ہے، عمل نہیں، مشرق وسطیٰ کا غنڈہ اب نہیں رہا۔”
ان کے یہ بیانات اس دعوے کے بعد سامنے آئے کہ امریکی افواج نے آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگوں کی تلاش کا کام مکمل کرلیا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے “کھلی” ہے۔
تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن پر ناقص انٹیلی جنس پر انحصار کرنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ طویل عرصے سے “انٹیلی جنس کی ناکامیوں کے باعث غلط اندازے لگاتا رہا ہے”، جن میں ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔
عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں واشنگٹن کے اقدامات “اس سے بھی بڑا غلط اندازہ” ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، “جعلی خبروں سے بھی بدتر جعلی انٹیلی جنس ہے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
