تازہ ترین
چین نے الیکشن میں میری شکست کے لیے کورونا وائرس کو بے قابو ہونے دیا، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ چین کی طرف سے کورونا وائرس کے خلاف اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بیجنگ نومبر کے انتخابات میں شکست کے لیے ’کچھ بھی کرنے کو تیار ہے‘۔
رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ وائرس کے معاملے پر بیجنگ کے لیے نتائج پر وہ متعدد آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ’میں بہت کچھ کرسکتا ہوں‘۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں، چین اور امریکا میں ایک عرصے سے کشیدگی موجود ہے۔
اس سے قبل پیر کو وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم چین سے خوش نہیں ہیں، ہم پوری صورتحال سے خوش نہیں ہیں کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ اس کو جڑ سے روکا جا سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسے تیزی سے روکا جا سکتا تھا اور اسے پوری دنیا میں نہیں پھیلنا چاہیے تھا اور انہیں اس کا ذمے دار ٹھہرانے کے لیے کئی راستے موجود ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا میں اب تک 60 ہزار سے زائد افراد اس وائرس کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
چین کے خلاف ٹیرف کے بارے میں غور کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرہم نے وضاحت نہیں دی اور کہا کہ ’بہت سی چیزیں ہیں جو میں کرسکتا ہوں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہوا ہے‘۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میرے انتخابات میں شکست کے لیے چین کچھ بھی کرے گا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ چین ان کے ڈیموکریٹک مخالف جو بائیڈن کو انتخابات میں جتوانا چاہتا ہے تاکہ تجارت اور دیگر امور میں چین پر ٹرمپ کی جانب سے ڈالا گیا دباؤ کم کیا جاسکے۔
انہوں نے چینی حکام کے بارے میں کہا کہ ’وہ مسلسل عوامی رابطے کو استعمال کرتے ہوئے خود کو معصوم ظاہر کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ امریکی تجارتی خساروں کو کم کرنے کے لیے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ کیے گئے ان کے معاہدے وائرس سے سامنے آنے والے معاشی نقصانات سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے سینیئر حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’لفظی جنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان مارچ کے آخر میں ایک فون کال پر غیر رسمی معاہدہ ہوا تھا جو اب لگتا ہے کہ ختم ہوگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے وعدہ کیا تھا کہ ان کی حکومتیں کورونا وائرس کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گی۔
حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان وائرس کے مرکز اور اس پر ردعمل پر تلخ جملوں کو تبادلہ ہوا ہے۔
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ مشیروں نے براہ راست چینی صدر پر تنقید بند کردی ہے جنہیں امریکی صدر متعدد مرتبہ اپنا ’دوست‘ کہہ چکے ہیں۔
’جنوبی کوریا بہت زیادہ رقم دینے پر راضی‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ جنوبی کوریا دفاعی تعاون کے معاہدے کے لیے امریکا کو مزید رقم کی ادائیگی پر راضی ہوگیا ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ کتنی رقم۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک معاہدہ کرسکتے ہیں، وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، وہ بہت زیادہ رقم ادا کرنے پر راضی ہوگئے ہیں، جنوری 2017 میں جب میں نے یہ عہدہ سنبھالا تھا تو اس کے مقابلے میں وہ بہت زیادہ رقم ادا کر رہے ہیں‘۔
امریکا کے جنوبی کوریا میں تقریبا 28 ہزار 500 فوجیں موجود ہیں، جو 1950-53 کی کوریائی جنگ کے بعد سے وہاں ہیں، یہ جنگ امن معاہدے کے بجائے عارضی صلح پر ختم ہوئی تھی۔
‘چند گورنرز کو بہتر ہونے کی ضرورت ہے‘
ڈونلڈ ٹرمپ امریکی معیشت کو بحال رکھنے کے لیے کمپنیوں اور انفرادی سطح پر بڑی ادائیگیاں کر رہے ہیں جبکہ ریاستوں کے گورنرز کو احتیاط کے ساتھ وائرس میں کمی پر اپنی ریاستیں کھولنے کا کہہ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کورونا وائرس سے قبل ہم بہت زبردست تھے، ہمارے پاس تاریخ کی سب سے بہترین معیشت تھی‘۔
انہوں نے کہا کہ وہ کئی گورنرز سے خوش ہیں جو وائرس کے دباؤ میں بھی کام کر رہے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ چند کو بہتر ہونے کی ضرورت ہے مگر انہوں نے نام بتانے سے انکار کیا۔
ویکسین کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ چیزیں بہتری کی جانب جارہی ہیں‘۔
آدھے گھنٹے کے انٹرویو کے اختتام پر ٹرمپ نے امریکی نیوی کی جانب سے جاری کردہ یو ایف او کی ویڈیو پر ریمارکس پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے حیرت ہے کہ کیا یہ حقیقت ہے، یہ ایک بہترین ویڈیو ہے‘۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان3 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
