دنیا
چین کے شہر شانزی میں مٹی کے تودے گرنے سے دو افراد کی موت، 16 لاپتہ
بیجنگ، چین کے شانزی صوبے کے دارالحکومت ژیان کے مضافاتی علاقے میں جمعہ کی شام موسلا دھار بارشوں کے باعث مٹی کے تودے گرنے سے دو افراد کی موت ہو گئی اور 16 دیگر لاپتہ ہو گئے۔ مقامی افسران نے یہ اطلاع دی۔
ژیان میونسپل ایمرجنسی مینجمنٹ حکام کے ذرائع نے بتایا کہ حادثہ چانگ آن ضلع کے مضافات میں واقع لوانزن ٹاؤن شپ کے ایک گاؤں میں شام 6 بجے کے قریب پیش آیا۔
انہوں نے کہا کہ لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے سے دو مکانات کے ساتھ ساتھ سڑکیں، پل اور بجلی کی سپلائی منقطع ہو گئی ہے۔ امدادی کارکنوں نے اب تک پھنسے چار افراد کو بچا لیا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
کولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا نے پیر کے روز آنے والے 7.4 شدت کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 265 ہو گئی ہے، جب کہ کم از کم 3,494 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 496 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری عمارتوں اور سفارتی مشنز پر قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔
پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 07:34 بجے چوکو صوبے کے شہر سان ہوزے ڈیل پلمار کے قریب 107 کلومیٹر کی گہرائی میں آنے والا یہ زلزلہ، گزشتہ ایک صدی کے دوران کولمبیا میں آنے والا سب سے مہلک زلزلہ بن گیا ہے۔
ایمرجنسی ٹیموں نے پریرا اور کالی جیسے بڑے شہروں میں بھاری مشینری، کھوجی کتوں اور انسانی زنجیروں کا استعمال کرتے ہوئے دن رات کام کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔”
نیشنل یونٹ فار ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ (یو این جی آر ڈی) کی جانب سے جاری کردہ نقصانات کی تشخیصی رپورٹ کے مطابق، زلزلے میں 9,215 مکانات تباہ اور 45,457 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے ملک میں قومی سطح پر آفت (ڈیزاسٹر) کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
یو این جی آر ڈی کے ڈائریکٹر ڈیوڈ سانتیاگو تامایو نے سخت آپریشنل معیارات کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت چار شراکت دار ممالک: امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے آنے والی تکنیکی ریسکیو ٹیموں کو ترجیح دے گی۔
زلزلے کے اثرات مرکزِ زلزلہ کے قریب دیہی علاقوں میں انتہائی شدید تھے۔
مقامی ایمرجنسی یونٹس نے ویلے ڈیل کاؤکا کے شہر ال کائرو میں رپورٹ کیا ہے کہ وہاں کے شہری انفراسٹرکچر کا 80 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے اور مقامی عمارتوں کا تقریباً 10 فیصد حصہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
مسقط، عمان کے ماحولیاتی حکام نے کہا ہے کہ تباہ حال آئل ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا خام تیل ملک کے ساحل تک پہنچ گیا ہے، جس سے مرکزی ساحلی علاقے میں 40 کلومیٹر تک ساحلی پٹی آلودہ ہو گئی ہے۔
عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق جون میں عمان کے ساحل کے قریب پھنسنے کے بعد سے خام تیل خارج کرنے والے ٹینکر کا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ تیل کے مسیرہ جزیرے کے جنوبی ساحل تک بھی پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ جزیرہ عمان کے ساحل سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ہے اور وہاں مزید 10 سے 20 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی اتھارٹی نے کہا کہ خصوصی ٹیمیں آلودگی کی نگرانی، صورتحال کا جائزہ لینے اور تیل کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترجیح ان علاقوں کو دی جا رہی ہے جو ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ حساس ہیں۔
عمانی حکام کے مطابق اس ہفتے کے آغاز تک تیل کا پھیلاؤ تقریباً 400 مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا تھا، جبکہ تیل کا زیادہ ارتکاز ہالانیات جزائر کے اطراف میں ہے۔ یہ علاقہ سمندری حیات کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے میرین ریزرو کا حصہ ہے، جہاں سمندری کچھوؤں اور دیگر آبی حیات کے مسکن موجود ہیں۔
تاہم ماحولیاتی تنظیم گرین پیس سمیت بعض اداروں کا کہنا ہے کہ تیل کا پھیلاؤ عمانی حکام کے اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ گرین پیس نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ایک غیر معمولی ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
کیرولین بیزینگی 8 جون کو عمان کے ال ہالانیات جزائر کے قریب ناکارہ ہو گیا تھا، جب عملے نے ممکنہ دھماکے کی اطلاع دی تھی۔ واقعے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔
مغربی حکومتوں کے مطابق یہ ٹینکر روس کے اس نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ تھا جس کے ذریعے روسی تیل کی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ روس کے یوکرین پر 2022 کے حملے کے بعد اس کے تیل پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
2001 میں تعمیر کیا گیا یہ ٹینکر اس وقت یورپی یونین، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اور یوکرین کی پابندیوں کی زد میں ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹینکر میں موجود تقریباً 8 لاکھ بیرل خام تیل کا اخراج ایک بڑے پیمانے کی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن سکتا ہے۔ لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیل کے اخراج کے ماہر کرسٹوفر ڈیلیا نے اسے ایک خاصا بڑا تیل کا اخراج قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی یا پابندیوں سے بچنے والے ٹینکروں کے معاملے میں صفائی کے اخراجات کی ذمہ داری طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے آلودگی کی صورت میں متاثرہ علاقوں کی صفائی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے ’بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘ ہیں: وزیراعظم
بیروت، لبنان کی حکومت نے ملک کے جنوبی علاقوں میں گھروں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے، جبکہ جنگ بندی کی صورت حال مسلسل کمزور ہوتی جارہی ہے۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے بدھ کو کہا کہ اسرائیل کے “حملے، دراندازیاں، مسماری اور گھروں کی منظم تباہی بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں اور قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔”
سلام نے اسرائیل کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ اس کی جانب سے تباہ کیے گئے دیہات فوجی مقامات تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ “کسی بھی منطق پر پورا نہیں اترتا اور ان دیہات کو تباہ کرنے، ان کے رہائشیوں کو بے گھر کرنے اور انہیں واپس آنے سے روکنے کے لیے بطور جواز استعمال نہیں کیا جاسکتا۔”
سلام کا یہ بیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے جنوبی لبنان کے دورے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ کاٹز نے کہا تھا کہ اسرائیلی فورسز وہاں “زیر زمین بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہیں” اور “تمام گھروں کو تباہ کر رہی ہیں۔”
کاٹز نے الگ سے کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام یا غزہ میں زیر قبضہ علاقوں سے انخلا نہیں کرے گی۔ اسی روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے بدھ کو الجزیرہ کو بتایا کہ واشنگٹن “تمام فریقوں سے توقع کرتا ہے کہ وہ اس فریم ورک کے مطابق عمل کریں جس پر انہوں نے اتفاق کیا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے “واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان میں اس کے کوئی علاقائی عزائم نہیں ہیں۔”
5 اگست کو اسرائیل نے منصوری قصبے پر حملے کیے تھے۔ اسرائیل نے الزام عائد کیا تھا کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مجدل زون کے قریب دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا۔
اسرائیلی فوج نے منصوری کے رہائشیوں کو انخلا کا حکم دیا، جو کئی ہفتوں میں اس نوعیت کا پہلا حکم تھا۔ اسی دوران ایک دوسرے حملے میں ایک شخص ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ اگلے روز اسرائیلی حملے میں برج الشمالی میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا۔
حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی اس نے اس واقعے پر براہ راست کوئی عوامی بیان جاری کیا ہے۔
2 مارچ کو لبنان بھی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہوگیا، جب ایران نواز حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر حملے کیے۔
اگرچہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی روکنے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی 17 اپریل کو نافذ ہوئی تھی، تاہم اسرائیلی فورسز نے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور جنوبی لبنان کے درجنوں دیہات پر قبضہ برقرار رکھا ہے۔
مکمل انخلا کے لیے بھی کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔
حالیہ مشروط جنگ بندی کی بنیاد جون میں واشنگٹن میں طے پانے والے ایک فریم ورک معاہدے پر ہے۔ اس کے تحت اسرائیلی فورسز کو مقبوضہ لبنانی علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرنا تھا، جبکہ لبنانی فوج ان کی جگہ تعینات ہوتی۔ یہ عمل محدود “پائلٹ زونز” سے شروع ہونا تھا اور اس کے بدلے حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جانا تھا۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے امریکہ کی ثالثی میں اب تک سات ادوار کے مذاکرات ہوچکے ہیں، جن میں چار واشنگٹن اور تین روم میں ہوئے۔
حزب اللہ، جو ان مذاکرات کا فریق نہیں ہے، کہہ چکا ہے کہ وہ دریائے لیتانی کے جنوب سے پیچھے ہٹ جائے گا، تاہم دریا کے شمال میں اپنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق مارچ سے اسرائیلی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں 4,333 افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جو ملک کی تقریباً پانچویں آبادی کے برابر ہیں۔
جنگ بندی کے باضابطہ طور پر نافذ ہونے کے بعد بھی موسمِ گرما کے دوران یہ اعداد و شمار مسلسل بڑھتے رہے ہیں۔
واشنگٹن میں دو امریکی سینیٹروں نے لبنان کے لیے پانچ سال کے دوران 1.2 ارب ڈالر کے سکیورٹی امدادی پیکیج کی تجویز پیش کی ہے۔ اس امداد کے ایک حصے کو ریاست کی جانب سے ہتھیاروں پر اجارہ داری قائم کرنے اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں پیش رفت سے مشروط کیا گیا ہے۔
یہ امدادی پیکیج ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے بعد لبنان کا استحکام اب بھی ایک غیر حل شدہ سیاسی اور عسکری کشمکش سے جڑا ہوا ہے، جس میں فی الحال کمی کے بہت کم آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
