تازہ ترین
ویڈیو: ڈاکٹر شاہ فیصل’’مستقبل کے سیاستدان‘‘
رضوان سلطان:
وادی لولاب سے تعلق رکھنے والے ۳۵ سالہ ڈاکٹر شاہ فیصل نے جیسے ۲۰۰۹ میں بھارت میں آئی اے ایس امتحان میں ٹاپ آنے کے بعد خبروں کی زینت بن گئے تھے ، آج اسی ایڈمنسٹریٹیو سروس کو خیرباد کہنے کی وجہ سے میڈیا میں ان کی چرچا ہو رہی ہے ۔
کچھ روز قبل ہی ہاروڈ کنیڈی سکول سے واپس آئے شاہ فیصل فیصل نے ۹ جنوری کو ایک فیس بک پوسٹ کے ذریعے استعفی دے دیا ۔ اور اس استعفیٰ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ کشمیر میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور بھارت میں میں آباد ۲۰ کروڑ مسلمانون کو غیر اہم بنانے اور گمنامی کی طرف دھکیلنے اور انہیں بنیاد پرست ہندتوا طاقتوں کی طرف سے عملاََ دوسرے درجے کے شہری بنانے کی مہم کے خلاف استعفیٰ دیتا ہوں ‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ استعفیٰ بھارت میں ریزرو بنک آف انڈیا ، سی بی آئی ، این آئی اے جیسے قومی عوامی اداروں کو غیر فعال بنانے اور انہیں سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوششوں کے خلاف بھی ہے ۔‘‘
اسکے بعد دلی کی ایک ویب پورٹل میں کیا گیا کہ شاہ فیصل این سی کو جوائن کرنے والے ہیں اور بارہمولہ کی پارلیمانی سیٹ سے اگلے آنے ولاے انتخابات میں حصہ لیں گے ۔
پھر کیا تھا نوجوانوں نے کمنٹ کرنے شروع کئے اور اس پوسٹ پر پچیس سو سے زائد کمنٹ کرنے والوں میں سے زیادہ تر یوزرس نے شاہ فیصل کو مشورہ دیا کہ وہ یا تو اپنی پارٹی بنائے ، یا پھر بیوروکریسی میں ہی رہے ، موجودہ جماعتوں میں شمولیت کا مشورہ نہ کے برابر رہا ۔
اسکے بعد شاہ فیصل نے ان قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کرنے لئے جمعہ کو سرینگر میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس بلا کر صاف کہہ دیا کہ وہ اگلے آنے والے انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن فی الحال کسی جماعت میں شامل نہیں ہو نگے ۔ کچھ نے انہیں حریت پسند جماعت میں شامل ہونے بھی کہا تھا ، شاہ فیصل نے اس پر کہا کہ انہوں نے سید علی گیلانی کی جماعت میں پہلے شامل ہونے کا سوچا تھا لیکن وہاں کیا کروں گا وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیتے ۔
لیکن کہیں نوجوانوں کی بے چینی ختم ہونے کے بجائے بڑھ ہی گئی کیوں کہ ان کی طرف سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ۔ بلکہ اب وہ آج سے نوجوانوں سے صلہ مشورہ کرنے کے بعد ہی اپنا فیصلہ لیں گے ۔
شاہ فیصل کے اس استعفیٰ اور سیاست میں قدم رکھنے کے فیصلے پر سب سے پہلے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’’ شاہ فیصل کا استعفیٰ ، بیوروکریسی کو نقصان سیاست کو فائدہ ، ۔ میر واعظ عمر فاروق نے ٹویٹ میں شاہ فیصل کے ہلاکتوں کے خلاف احتجاجاََ استعفیٰ دینے کو خوش آئید قراردے کر کہا کہ امید ہے ہلاکتوں کے خلاف شاہ فیصل کا ردعمل انہیں بہتر سیاسی فیصلہ لینے میں مدد دے گا ۔محبوبہ مفتی نے شاہ فیصل کے خلاف نا زیبہ زبان استعمال کرنے کو غلط قرار دے کر کہا کہ ہمیں اسکے جزبات کی قدر کرنی چاہیے ۔، میرا ساتھ شاہ فیصل کے ساتھ ہے ۔انجینئر رشید نے شاہ فیصل کو اے آئی پی میں شامل ہونے کا مشورہ دے ڈالا کیوں کہ ان کے مطابق باقی جماعتوں کا ریکارڈ ٹھیک نہیں ۔
ادھر دلی سے کانگریس کے سینر لیڈر پی چدمبرم نے شاہ فیصل کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مستعفی ہونا بد قسمتی ہے ان کے بیان کا ہر لفظ درست ہے اور پوری دنیا فیصل کے غم وغصے کا نوٹس لے گی ۔
لیکن ممبر پارلیمنٹ نذیر احمد لاوے کچھ اور سوچ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ شاہ کا سیاست میں آنا محض بہانا ہے اصل میں باہر کہیں سیٹل ہونا چاہتے ہیں ۔محبوب مخدومی جنہوں نے کچھ روز قبل ان کے ساتھ ایک مضمون بھی لکھا تھا ، انہوں نے شاہ فیصل کے فیصلے کو احمقانہ قرار دے کر کہا کہ میں نے پوری کوشش کی کہ انہیں اس گٹر میں نہ جانے دوں ۔ اور میں ہر ایک سے کہتا ہوں وہ انہیں شراکتداروں کیساتھ جانے سے روکے ۔
کچھ کا یہ ماننا ہے کہ شاہ فیصل کا این سی کے ساتھ جوائن کرنا طے تھا ۔ لیکن انہوں نے پہلے کشمیری عوام کی اس پر ریکشنز دیکھنے کے بعد شائد اپنا فیصلہ روکا ۔
شاہ فیصل اس پہلے کہیں بار خبرو ں میں رہ چکے ہیں ۔ ۲۰۱۶ میں بر ہان وانی کے جانبحق ہونے کے بعد دلی کے کہیں میڈیا چینلز کی طرفسے شاہ کی برہان کیسا تھ تصویر دیکھنانے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’ میڈیا کا ایک حصہ ایک بار پھر اپنے روایتی خونخوار طریقہ اپناتے ہوئے جھوٹ پھیلا رہا ہے ۔ لوگوں کو صرف بانٹنے اور زیادہ نفرت پھیلانے میں لگے ہیں ۔
گزشتہ سال شاہ فیصل نے بڑھتی عصمت دری پر ایک ٹویٹ میں ریپستان لفظ کا استعمال کیا ۔جس کے بعد مرکز نے ریاستی حکومت کو ان کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا ۔عمر عبداللہ نے شاہ کا دفاع کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ لگتا ہے ڈپارٹمنٹ آف پرسنل ٹریننگ شاہ فیصل کو سیول سروس سے باہر کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔
بہرحال اب شاہ فیصل نے نوجوانوں کیساتھ مشورہ کرنے بعد ہی فیصلہ لینے کو کہا ہے ۔ شاہ فیصل کو حریت پسند جماعتیں، این سی ، کوئی اور علاقائی جماعت ، اپنی پارٹی بنانی چاہیے یا آزاد امید وار کے طور آنا چاہیے ۔
یا پھر وہ آئی اے ایس آفیسر ہی ٹھیک تھے ۔ آپ ہمیں کمنٹ بکس میں ضرور بتائیں ۔
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ہندستان اور لائبیریا نے خلیجی خطے اور اس کے آس پاس کے علاقوں نیز بحیرہ اسود میں گزشتہ چند دنوں میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہوئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندستان کے مستقل مشن نے جمعرات کی دیر رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سمندری تجارت متاثر ہوتی ہے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ ایسے افعال کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دونوں ملکوں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی۔
ہندستان اور لائبیریا نے کہا ہے کہ وہ ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور ملاحوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
ہندستان اور لائبیریا نے حملوں میں جان گنوانے والے ملاحوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندستان اور لائبیریا نے گزشتہ ماہ سمندری جہازوں اور ملاحوں کی سکیورٹی کے لیے دوست ممالک کے گروپ ایس 4 کی شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ عام لوگ امریکی فوج کے ایک سابق میجر کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کو دیکھ سکیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ندال حسن کو دی جانے والی سزائے موت کی ‘لائیو اسٹریمنگ’ کی جائے گی۔ حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 نہتے امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
مانا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں دی جانے والی پہلی عوامی سزائے موت ہوگی۔ موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا کہ اس کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ “جدید دور میں غیر معمولی” ہے اور یہ “قانونی طور پر غیر یقینی صورتحال” والا معاملہ ہے۔
ہیگسیتھ نے کہا، “ہم یہ بات یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، تاکہ یہ عوامی ہو۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔”
پینٹاگن نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ حسن کو سزائے موت دے گا، جو 60 سے زائد برسوں میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ہیگسیتھ نے کنزرویٹو ٹی وی چینل ‘ریئل امریکاز وائس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو “فوجیوں کے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔”
جب ہیگسیتھ سے پوچھا گیا کہ کیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: “کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اسے 3 دسمبر کو دیکھیں گے۔”
پینٹاگن کے ترجمان شان پارنیل نے پیر کو کہا تھا کہ وزیر دفاع نے اس کی سفارش کی تھی اور ٹرمپ نے اسے منظوری دے دی ہے۔ بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں تبصرہ مانگا ہے کہ کیا ٹرمپ لائیو اسٹریم کے ذریعے عوامی سطح پر سزائے موت دیے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ سال 17 ممالک میں 2,700 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، لیکن صرف دو ممالک نے ہی اسے عوامی طور پر انجام دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں گیارہ اور افغانستان میں چھ افراد کو عوامی طور پر سزائے موت دی گئی تھی۔
امریکی فوج کے سکریٹری نے منگل کو بتایا کہ یہ سزا 3 دسمبر کو ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں دی جائے گی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد فائرنگ اسکواڈ سے دی جانے والی یہ پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ورجینیا کے امریکی فوج کے ماہرِ نفسیات حسن نے عدالت میں اعتراف کیا کہ امریکی فوجی اڈے پر ہوئے اب تک کے سب سے مہلک غیر جنگی حملے میں وہی بندوق بردار تھا۔
گولی باری 5 نومبر 2009 کو ایک بھیڑ بھاڑ والی میڈیکل عمارت میں ہوئی تھی، جہاں تعینات ہونے والے فوجی طبی معائنے اور ویکسین کا انتظار کر رہے تھے۔
عدالت میں حسن نے “کسی بھی غلطی” کے لیے معافی مانگی۔ 2013 میں اپنے کورٹ مارشل کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ مسلمانوں اور افغانستان میں طالبان کا دفاع کر رہے تھے۔
فوجی قانون کے مطابق، فوجی سزائے موت کے لیے امریکی صدر کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے لیے اپیل کی جائزہ کارروائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جس میں ایک ہائی کورٹ فیصلے کی جانچ کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اس کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ لیتی ہے۔
ملز نے کہا کہ حسن کے لیے اپیل کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اپنی سزا اور سزا پر نظرثانی کے لیے فیڈرل کورٹ میں اپیل کریں گے، جس سے شاید سزائے موت پر روک لگ سکتی ہے۔ اس لیے، ملز نے کہا کہ اگر سزائے موت دی جاتی ہے تو انہیں حیرت ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ٹرمپ انتظامیہ کا فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کو لائیو اسٹریم کرنے کا خیال صرف توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ہونے کا امکان کم ہے، اور اس سے انصاف ملنے کی تو کوئی امید ہی نہیں ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
