جموں و کشمیر
ڈوڈہ تصادم :کیپٹن اور ایس او جی جوان سمیت پانچ اہلکار جاں بحق، آپریشن کا دائرہ جنوبی کشمیر کے جنگلات تک بڑھایا گیا
جموں، جموں وکشمیر کے ڈوڈہ ضلع کے دیسا جنگلی علاقے میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین خونین تصادم میں فوجی کیپٹن ، ایس او جی جوان سمیت پانچ اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے ایک وسیع العریض جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد کی ہے۔ڈوڈہ میں جاری تلاشی آپریشن کا دائرہ اب جنوبی کشمیر کے جنگلات تک وسیع کیا گیا ہے تاکہ ملی ٹینٹوں کو فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہ ہو سکے۔اطلاعات کے مطابق پیر کی شام آٹھ بجے کے قریب سیکورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد ڈوڈہ کے دیسا جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا۔
ذرائع کے مطابق جوں ہی سلامتی عملے کے اہلکار مشتبہ مقام کے نزدیک پہنچے تو وہاں تاک میں بیٹھے ملی ٹینٹوں نے سیکورٹی فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین ایک گھنٹے تک شدید گولیوں کا تبادلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں فوجی میجر ، ایس او جی جوان سمیت سات اہلکار زخمی ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی ہوئے فوجی آفیسر اور جوانوں کو علاج و معالجہ کی خاطر فوری طورپر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہاں پر تعینات ڈاکٹروں نے فوجی میجر (کیپٹن) سمیت پانچ اہلکاروں کو مردہ قرار دیا۔باوثوق ذرائع کے مطابق زخمی ہوئے مزید دو فوجی جوانوں کی بھی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔نامہ نگار نے بتایا کہ منگل کی صبح سیکورٹی فورسز نے ایک وسیع العریض جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر فرار ہونے کے سبھی راستوں پر پہرے بٹھا دئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ فوج ، پولیس ، پیرا ملٹری فورس اور پیرا کمانڈوز کو جنگلی علاقے کی اور روانہ کیا گیا ہے تاکہ مفرور ملی ٹینٹوں کوجلدازجلد کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔ان کے مطابق کل شام سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین ایک گھنٹے تک دوبدو گولیوں کا تبادلہ جاری رہنے کے بعد دہشت گردوں کا کئی پر اتہ پتہ نہیں چل سکاہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے کئی کلومیٹر جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن کا دائرہ ایک درجن علاقوں تک وسیع کیا ہے۔
نامہ نگار کے مطابق ڈرون کیمروں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے جنگلی علاقے پر نظر گزر رکھی جارہی ہیں جبکہ آس پاس رہائش پذیر لوگوں سے بھی پوچھ تاچھ شروع کی گئی ہے۔دریں اثنا جموں نشین دفاعی ترجمان نے ایکس پر لکھا :’ڈوڈہ کے دیسا جنگلی علاقے میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں کیپٹن سمیت چار فوجی زخمی ہوئے.انہوں کہا کہ زخمیوں کو طبی امداد کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیاتاہم وہاں پر تعینات ڈاکٹروں نے چاروں کو مردہ قرار دیا۔
ادھرجموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ڈوڈہ میں انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران شہید ہونے والے جوانوں کو شاندار الفاظ میں خراج پیش کیا ہے۔انہوں نے تعزیتی گلباری تقریب میں شرکت کی اور عظیم قربانی دینے والے کیپٹن برجیش تھاپا، نائیک ڈِی راجیش، سپاہی بیجندر اور سپاہی اجے کی تربتوں پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔انہوں نے کہا ،”میں ان بہادر وں کو سلام کرتا ہوں جنہوں نے مثالی جرات کا مظاہرہ کیا اورقوم کے لئے عظیم قربانیاں دیں۔ قوم بہادروں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ پوری قوم دکھ کی اِس گھڑی میں شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔“موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے منگل کے روز اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے ‘ایکس’ پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا: ‘ضلع ڈوڈہ میں ہمارے فوجی جوانوں اور جموں و کشمیر پولیس اہلکاروں پر ہوئے بزدلانہ حملے کے بارے میں جان کر بہت دکھ ہوا’۔انہوں نے کہا: ‘میں ملک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے عظیم قربانیاں پیش کرنے والے بہادر جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور ان کے غمزدہ اہلخانہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں’۔
منوج سنہا نے کہا: ‘ہم اپنے جوانوں کی موت کا بدلہ لیں گے اور دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گے’۔انہوں نے کہا: ‘میں لوگوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد رہنے کی اپیل کرتا ہوں’۔ان کا پوسٹ میں مزید کہنا تھا: ‘میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہمیں درست معلومات فراہم کریں تاکہ ہم انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو تیز کرسکیں اور دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو بے اثر کرسکیں’۔
دریں اثنا ڈوڈہ کے دیسا علاقے میں پانچ سیکورٹی فورسز اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد تلاشی آپریشن کا دائرہ جنوبی کشمیر کے جنگلات تک بڑھایا گیا ہے کیونکہ سیکورٹی ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ ملی ٹینٹ جنوبی کشمیر کے جنگلی علاقے کی طرف بھاگ گئے ہیں۔باوثوق ذرائع کے مطابق ڈوڈہ کے دیسا جنگلی علاقے سے جنوبی کشمیر کے پہاڑی علاقوں تک کی مسافت بہت ہی کم ہے جس کے پیش نظر اب پیر پنچال کے اوپری علاقوں میں بھی سیکورٹی فورسز نے تلاشی آپریشن لانچ کیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ فوج ، پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے سینئر آفیسران آپریشن کی از خود نگرانی کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جموں و کشمیر کے ڈوڈہ ضلع میں پیر کی شب دہشت گردوں کے ساتھ تصادم میں چار فوجیوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے منگل کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا ”ڈوڈہ میں انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران فوج کے چار بہادر جوانوں کی ہلاکت سے بہت دکھ ہوا ہے۔ سوگوار خاندانوں سے میری دلی تعزیت۔ ملک فرض کی راہ پر قربانی دینے والے ان فوجیوں کے خاندانوں کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں اور ہمارے فوجی دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔“
مڈبھیڑمیں ایک فوجی افسر سمیت چار جوان شہید ہو گئے ہیں۔قبل ازیں صبح وزیر دفاع نے آرمی چیف جنرل اوپیندر ترویدی سے بات کی تھی اور انسداد دہشت گردی آپریشن کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ میں زلزلے کے دو مسلسل ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے، کشمیر تک لرزش محسوس ہوئی
سری نگر، مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں جمعرات کی صبح چار گھنٹے کے اندر زلزلے کے دو جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت بالترتیب 5.5 اور 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلے کا پہلا جھٹکا صبح 6 بج کر 5 منٹ پر محسوس کیا گیا، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز لیہہ-لداخ کے علاقے میں 36.881 ڈگری شمالی عرض البلد اور 74.402 ڈگری مشرقی طول البلد پر زمین کی سطح سے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔
اس کے تقریباً چار گھنٹے بعد، صبح 9 بج کر 54 منٹ پر دوسرا جھٹکا محسوس کیا گیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
ان دونوں زلزلوں کے جھٹکے کشمیر اور لداخ کے مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ فی الحال اس واقعے میں کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان یا کسی کے ہلاک و زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر21 hours agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
